جموں و کشمیر
این آئی اے عدالت کا سخت اقدام، اشتعال انگیز پروپیگنڈا کیس میں تین ملزمان کے خلاف اعلانِ اشتہاری جاری
سری نگر، جموں و کشمیر میں ملک مخالف سرگرمیوں کی روک تھام کے تحت ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے خصوصی این آئی اے عدالت سری نگر نے پولیس اسٹیشن کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر کی جانب سے درج مقدمہ ایف آئی آر نمبر 07/2020 میں ملوث تین ملزمان کے خلاف دفعہ 82 تعزیراتِ ہند کے تحت باقاعدہ اعلانِ اشتہاری جاری کر دیا ہے۔
یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار ہوئے اور عدالتی کارروائی سے مسلسل فرار اختیار کیے ہوئے ہیں۔
یہ کیس اُس وقت سامنے آیا جب قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات سے یہ انکشاف ہوا کہ بعض عناصر اندرون و بیرونِ وادی بیٹھ کر ایک منظم اور سوچی سمجھی سازش کے تحت فرقہ وارانہ مبالغہ آرائی، دشمن ملک کی زبان میں پروپیگنڈا، گمراہ کن بیانیہ اور علیحدگی پسندانہ مواد سوشل میڈیا پر پھیلا رہے تھے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ عناصر خود کو صحافی، فری لانسر اور نیوز پورٹل کے نمائندے ظاہر کرتے تھے، جبکہ حقیقت میں وہ فیس بک، ایکس اور واٹس ایپ جیسی پلیٹ فارمز کو ہتھیار بنا کر جعلی، مبالغہ آرائی پر مبنی اور سیاق و سباق سے ہٹ کر مواد نشر کرتے تھے۔ اس گمراہ کن ڈیجیٹل مہم کا مقصد عوام کو مشتعل کرنا، سڑکوں پر بدامنی پھیلانا، املاک کو نقصان پہنچانا اور انتظامی نظام کو درہم برہم کرنا تھا۔
سی آئی کے نے ملوثین کی شناخت مبین احمد شاہ ولد مرحوم علی محمد شاہ، ساکن ڈاک والی کالونی، جوار نگر سری نگر،عزیزالاحسن آشی عرف ٹونی آشی ولد نذیر احمد آشی، ساکن ڈاک والی کالونی، جواہر نگر سری نگر اور رفعت وانی دختر غلام محمد وانی، ساکن ترہگام، ضلع کپواڑہ کے بطور کی ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ افراد بھارت کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف بیانیہ پھیلا رہے تھے اور جھوٹے، اشتعال انگیز اور من گھڑت بیانات کے ذریعے عوامی نظم و نسق کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔
گرفتاری کے وارنٹس جاری ہونے کے باوجود تینوں ملزمان مسلسل روپوش ہیں جس پر خصوصی عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے دفعہ 82 سی آر پی سی کے تحت انہیں 31 جنوری 2026 سے قبل عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدم تعمیل کی صورت میں دفعہ 83 کے تحت جائیداد کی قرقی سمیت مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سی آئی کے کے مطابق تینوں ملزمان اشتہاری قرار دیے جانے کے باوجود بیرونِ ملک یا پوشیدہ مقامات سے سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور اشتعال انگیز اور فتنہ انگیز مواد پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کا مقصد وادی میں بڑے پیمانے پر بدامنی اور تشدد بھڑکانا ہے۔
کاؤنٹر انٹیلی جنس نے واضح کیا ہے کہ قوم دشمن پروپیگنڈا اور علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی فرد کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی اور ایسے عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ۔ایف اے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
