تازہ ترین
ویڈیو: وادی کشمیر میں داعش کی موجودگی کی حقیقت ؟
رضوان سلطان:
۲۸ دسمبر ۲۰۱۸ کو جمعہ کے روز وادی کشمیر میں ایک ایسا واقع رونما ہوا جس سے کشمیریوں میں شدید غم و غصے پیدا ہوا وہیں ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ۔
دراصل سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز جسے ہی ختم ہوئی اور مسجد میں چند لوگ ہی موجود تھے اور ایسی دوران ہی کچھ نقاب پوش نوجوان داعش کا جھنڈا لہراتے ہوئے مسجد میں گھس آئے جن میں سے ایک نے منبر پر چڑھ کر داعش کے حق میں نعرے بازی شروع کی اور ساتھیوں نے اسکی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وایرل کر دی ۔ اس نازیبا حرکت کے خلاف تما م دینی سیاسی سماجی جماعتوں نے شدید مذمت کی ۔
سید علی شاہ گیلانی نے کہا ’’ یہ صرف کشمیر کی مقامی جدو جہد کو عالمی دہشت گرد گروپوں کیساتھ جوڑنے کی ایک مذموم کوشش کی گئی ۔
میر واعظ عمر نے مسجد کے منبر کی توہین کے خلاف ایک احتجاجی مارچ کے دوران کہا نقاب پوش جوجوانون کی طرف سے مسجد کی توہین کے پیچھے سرکاری ایجنسیوں کا ہاتھ ہے ۔
کشمیر میں آئی ایس آئی ایس کی حقیقت :
اگر دیکھا جائے کشمیر میں داعش کے جھنڈے لہرانے کب سے شروع ہوئے تو سب سے پہلے جولائی ۲۰۱۴ میں سرینگر میں ہی جمعہ نما ز کے بعد نمودار ہوئے ۔ اس کے بعد اسی سال اکتوبر میں میں اسی طرح سے ایک بار پھر جمعہ کے بعد جب جھنڈے لہرائے گئے میڈیا کی نظریں ان جھنڈوں پر پڑ گئیں ۔ تب کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ریاست میں داعش کی موجود گی کو سرے سے نکارتے ہوئے کہا کہ یہ محض چند بے وقوف نوجوانوں کا کام ہے ۔ دوسری طرف پولیس جب ان جھنڈوں کو بنانے والے درزی تک پہنچی تو تفتیش کے دوران درزی یہ انکشاف ہوا کہ جس چینل پر داعش کے جھنڈے دیکھائے گئے اصل میں اسی چینل کے ایک رپورٹر نے ان جھنڈوں کے بنانے کا آرڈر دیا تھا ۔اور تب سے لے کر اب جھڈے لہرانے کا سلسلہ بدستور جاری ر ہا ۔
۲۰۱۵ میں پولیس نے ۱۰ داعش جھڈے لہرانے والے نوجوان گرفتار کئے اور تحقیقات کے بعد پولیس نے بتایا کہ یہ صرف فورسز کو پریشان کرنے کیلئے ایسا کر رہے ہیں ، ان کا آئی ایس آئی سے کوئی تعلق نہیں ۔ سرینگر کے نوہٹہ علاقے میں داعش کے جھنڈے کے جمعہ لہرانے کے واقعات کو دیکھتے ہوئے ۲۰۱۶ جنوری میں سید علی گیلانی نے نوجوانوں سے داعش کے جھنڈے نہ لہرانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ اینٹی اسلامی گروپ اور قاتلوں کا گروپ ہے ۔اور یہ اسلام کی کسی بھی صورت میں راہنمائی نہیں کرتے ۔
حریت راہنماؤں کی اپیل کے باوجود داعش کے جھنڈے لہرانے کا سلسلہ مزید بڑھتا اور اور پہنچ گیا عسکریت پسندوں کی لاشو ں پر ۔ سب سے پہلے بارہ جوالئی ۲۰۱۷ کو بڈگام جھڑپ میں جاں بحق ہوئے حزب گروپ کے عسکریت پسند سجاد گلکار کی لاش کو داعش کے جھنڈے سے لپیٹا گیا ۔
اور اسکے بعد نومبر میں ایک اور سرینگر سے تعلق رکھنیو الے عسکریت پسند مغیس احمد کی لاش پر بھی داعش کا ہی جھنڈا لپیٹا گیا ۔
مغیس کا تعلق انصار غزو ۃ الہند سے بتایا گیا ۔ اور اس گورپ کے سربراہ تب کے حز ب کمانڈر زاکر موسی ہیں جنہوں نے ۱۲ مئی ۲۰۱۷ کو ایک آڈیو مسیج کے ذریعے انہوں نے حریت لیڈران کے لالچوک میں سر قلم کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔لیکن ذاکر موسی کے اس بیان پر حزب نے خود کو الگ کر دیا ۔
اور اسکے اگلے ورز ہی ذاکر موسی ایک اور آڈیو کلپ وائرل ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں ، میرا حریت لیڈران کے سر قلم کرنے کا مطلب نہیں تھا بلکہ ان کے لئے جو سیکولرزم کیلئے کام کرتے ہیں ، حزب کو چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ گیلانی صاحب کے خلاف نہیں ۔وہیں اسی سال اگست میں ذاکر موسی نے ایک اور آڈیو کے ذریعے کہا کہ ان کا داعش سے کوئی تعلق نہیں ۔
مئی ۲۰۱۷ میں انصار غزوہ الہند کو بنانے کے بعد اب تک ان کے گروپ کے ۱۵ سے زائد عسکریت پسند ہلاک ہو ئے ہیں جن میں ان کے ڈپٹی صالح محمو بھی شامل ہیں ۔
پولیس کے مطابق اب ذاکر موسی کے گروپ میں صرف چار افراد بچے ہیں ، جس کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مدد ۔ اس گروپ کے زیادہ تر جاں بحق جنگجوؤں کا تعلق ترال علاقے سے بتایا گیا ہے کشمیر میں آئی ایس آئی ایس کی موجودگی کو خارج کرتے ہوئے وزیر مملکت ہنس راج گنگا رام آہیر نے کہا تھا کہ یہ صرف کچھ شرپسندوں کی طرف سے داعش اور پاکستان کے جھنڈے لہرانے تک محدود ہے ۔
وہیں اسی سال پولیس ڈی جی پی نے بھی کہا کہ وادی میں داعش کا وجود بڑا نہیں محدود ہے لیکن نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف اکسایا جا رہا ہے ۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
