جموں و کشمیر
دہشت گردی سے روابط کی پادائش میں پانچ سرکاری ملازمین برطرف
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے دہشت گردی سے روابط رکھنے کے الزامات ثابت ہونے پر ایک بڑے ایکشن کے تحت مختلف محکموں کے پانچ سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی منظوری کے بعد یہ کاروائی عمل میں لائی گئی، جسے وادی میں دہشت گردی کے ایکو سسٹم کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق برطرف کیے گئے ملازمین میں ایک سرکاری استاد، لیبارٹری ٹیکنیشن، اسسٹنٹ لائن مین، محکمہ جنگلات کا فیلڈ ورکر اور محکمہ صحت کا ڈرائیور شامل ہے۔ ان تمام افراد پر مختلف دہشت گرد تنظیموں، خصوصاً لشکرِ طیبہ اور حزب المجاہدین سے وابستگی، مدد، رابطے یا سہولت کاری کے سنگین الزامات ثابت ہوئے۔
ذرائع کے مطابق محمد اسحاق، جو 2013 میں استاد کے طور پر مستقل ہوئے تھے، پاکستان سے سرگرم لشکرِ طیبہ کمانڈر ابو خبیب کے ساتھ رابطے میں تھے۔ حکام نے بتایا کہ اسحاق کو 2022 میں ڈوڈہ میں ایک پولیس افسر کے قتل کی منصوبہ بندی کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں اسلحہ سمیت گرفتار کیا۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق وہ اپنے پیشے کا غلط استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو گمراہ کرتا اور دہشت گردی کی جانب دھکیلتا تھا۔ حتیٰ کہ جیل میں بھی وہ قیدیوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرتا رہا۔
طارق احمد، جو اننت ناگ کے بجبہاڑہ اسپتال میں تعینات تھا، اپنے چچا امین بابا، سابق حزب ڈویژنل کمانڈر، سے متاثر ہو کر ابتدائی عمر ہی سے حزب کے قریب رہا۔ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ 2005 میں امین بابا کے پاکستان فرار ہونے میں طارق نے اہم کردار ادا کیا، حتیٰ کہ وہ اسے اٹاری-واگھا بارڈر تک چھوڑ کر آیا۔ بعد میں طارق کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کے پختہ شواہد ملے جس پر اس کی برطرفی عمل میں لائی گئی۔
محکمہ پی ایچ ای میں اسسٹنٹ لائن مین بشیر احمد میر کو 2021 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس کے گھر پر چھاپے میں دو دہشت گرد مارے گئے اور اسلحہ برآمد ہوا۔ وہ طویل عرصے سے لشکر کو رہائش، رسد اور نقل و حرکت میں مدد فراہم کرتا رہا تھا۔
محکمہ جنگلات کے فاروق احمد پر بھی طاریق احمد کی طرح امین بابا کے پاکستان فرار میں اہم کردار نبھانے کا الزام ثابت ہوا۔ اس نے سرکاری شناختی کارڈ کا غلط استعمال کرتے ہوئے متعدد چیک پوسٹوں کو پار کیا۔ وہ ایک سابق ایم ایل اے کے ساتھ بھی رابطے میں تھا جو مبینہ طور پر حزب کے ہمدرد تھے۔
محکمہ ہیلتھ کے ڈرائیور محمد یوسف نے حزب ہینڈلرز کے ساتھ روابط قائم کیے اور انہی کے کہنے پر اسلحہ، رقم اور دیگر مواد پہنچانے کا کام انجام دیتا رہا۔ جولائی 2024 میں اس کی گاڑی سے پستول، گولیاں، ایک گرینیڈ اور پانچ لاکھ روپے کی رقم برآمد ہوئی، جو ایک دہشت گرد تک پہنچائی جانی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری محکموں میں چھپے ایسے عناصر قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ان کے خلاف کارروائی مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ملازمین جو دشمن ملک کے مفادات کو فروغ دیتے ہیں، انہیں کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مزید کارروائیاں بھی متوقع ہیں۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
