جموں و کشمیر
کشمیر: یوم جمہوریہ سے قبل سیکورٹی انتہائی سخت، انتظامیہ کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کیلئے پوری طرح مستعد
سری نگر، یوم جمہوریہ کی آمد سے قبل جموں و کشمیر کےموسم گرما کے دارالحکومت سرینگر میں سیکورٹی کے بھرپور انتظامات کئے گئے ہیں۔ شہر میں گزشتہ چند دنوں سے جو سرگرمی دیکھی جا رہی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس، سیول انتظامیہ اور مختلف سیکیورٹی ایجنسیاں کسی بھی ممکنہ خطرے یا تخریب کاری کو روکنے کے لیے پوری طرح چوکس اور سرگرم ہیں۔ سڑکوں پر نمایاں موجودگی، جگہ جگہ ناکہ بندی، گاڑیوں کی تفصیلی جانچ، رات کے وقت مسلسل گشت، حساس علاقوں میں اضافی نفری کی تعیناتی اور سینئر افسران کے اچانک معائنے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہر کو ایک مضبوط حفاظتی حصار میں بدل دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق یوم جمہوریہ ایک ایسا قومی ایونٹ ہے جس کے دوران نہ صرف سیکورٹی خدشات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ تخریب کار عناصر بھی سرگرمی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے شہر بھر میں ایک جامع سیکیورٹی پلان نافذ کیا گیا ہے،جس کے تحت سری نگر کو مختلف سیکورٹی زونز میں تقسیم کر کے وہاں خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں نہ صرف ناکہ بندی کے ذریعے گاڑیوں کی جانچ کرتی ہیں بلکہ پیدل گشت کے ذریعے گلی کوچوں اور بازاروں میں بھی صورتِ حال پر نظر رکھتی ہیں۔
شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر خصوصی ناکے قائم کیے گئے ہیں جہاں شناختی دستاویزات کی جانچ، گاڑیوں کے اندرونی حصوں کی تلاشی اور سامان کی اسکیننگ کی جاتی ہے۔ اس عمل کو وقت طلب ضرور قرار دیا گیا ہے لیکن پولیس کے مطابق یہ اقدامات عوام کی سلامتی اور تقریب کے پرامن انعقاد کے لیے ناگزیر ہیں۔ کئی مقامات پر پولیس کے ساتھ پیراملٹری فورسز کی مشترکہ ٹمیں بھی سرگرم نظر آرہی ہیں، جو کسی بھی مشکوک حرکت کا فوری پتہ لگانے کے لیے جدید آلات اور نگرانی کے نظام سے لیس ہیں۔
رات کے وقت گشت کو خاص طور پر اس سال مزید بڑھایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق رات کی تاریکی میں تخریبی سرگرمیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اس لیے خصوصی پیٹرولنگ ٹیموں نے مختلف علاقوں میں گشت کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ نیم شب سے لے کر صبح تک گشت جاری رہتا ہے اور کئی مقامات پر پولیس کی تیز رفتار موبائل یونٹس بھی تعینات کی گئی ہیں۔ کئی علاقوں میں جامہ تلاشی کے ساتھ ساتھ اچانک ناکے بھی لگائے جاتے ہیں جہاں چند منٹ کے لیے پورا ٹریفک روک کر گاڑیوں اور راہگیروں کی فوری تلاشی لی جاتی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف نگرانی کا دائرہ بڑھاتے ہیں بلکہ ممکنہ مشکوک عناصر کو متنبہ بھی کرتے ہیں کہ شہر اس وقت انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ہے۔
سینئر پولیس افسران خود بھی مختلف علاقوں کا معائنہ کرتے ہیں تاکہ سیکورٹی ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کی موجودگی، موثر انتظامات اور کسی بھی کمزوری کا بروقت جائزہ لیا جا سکے۔ ان معائنوں کے دوران افسران ماتحت عملے کو تازہ ہدایات دیتے ہیں اور زمینی صورتحال کے مطابق حکمت عملی میں تبدیلی یا بہتری بھی لاتے ہیں۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ پولیس کی اولین ترجیح یومِ جمہوریہ کی سرکاری تقریب کا مکمل امن و امان کے ساتھ انعقاد ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہداف بالکل واضح ہیں: شہر میں پرسکون ماحول، عوامی حفاظت، سیکیورٹی فورسز کی چوکس موجودگی اور ہر ممکن خطرے کا تدارک۔
حساس علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی موجودگی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ شہر کے کچھ مخصوص علاقوں میں ماضی کے واقعات اور موجودہ انٹیلی جینس ان پٹس کو دیکھتے ہوئے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ کچھ مقامات پر خفیہ وردی والے اہلکار بھی گشت کرتے نظر آتے ہیں تاکہ کسی بھی غیر معمولی حرکت یا مشکوک فرد کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی بھی مزید سخت کردی گئی ہے۔ شہر میں موجود ہزاروں کیمروں کے ذریعے ملنے والی لائیو فیڈ کو پولیس کنٹرول روم میں بیٹھے ماہرین چوبیس گھنٹے مانیٹر کررہے ہیں، جبکہ حساس مقامات پر ڈرون نگرانی بھی جاری ہے۔
سیکورٹی انتظامات صرف زمینی نگرانی تک محدود نہیں ہیں بلکہ تکنیکی حوالے سے بھی انتظامیہ نے بہترین اقدامات کیے ہیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ، کھوجی کتے اور ٹیکنیکل ٹیمیں شہر کے مختلف علاقوں میں اہم عمارتوں، پلوں، بازاروں اور تقریب کے مقامات کا باقاعدہ معائنہ کر رہی ہیں۔ یہ ٹیمیں یومِ جمہوریہ سے قبل کئی بار حساس مقامات کی کلیئرنس کرتی ہیں تاکہ کسی بھی خطرے کا احتمال باقی نہ رہے۔
پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ چیکنگ اور تلاشی کے عمل میں مکمل تعاون کریں۔ پولیس کے مطابق عمومی طور پر ایسے مواقع پر کچھ شہری وقت ضائع ہونے کی شکایت کرتے ہیں تاہم اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت کی جانے والی سیکیورٹی کارروائیاں براہ راست عوامی سلامتی سے جڑی ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر انہیں کوئی مشکوک شخص یا سرگرمی نظر آئے تو فوراً قریبی پولیس اسٹیشن یا پولیس کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔ عوامی تعاون نہ صرف مجموعی سیکیورٹی کو مضبوط بناتا ہے بلکہ تخریب کار عناصر کے لیے سرگرمی دکھانے کے امکانات کو بھی انتہائی محدود کر دیتا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق یومِ جمہوریہ کی مرکزی تقریب کے لیے بھی بھرپور تیاریاں جاری ہیں جو روایتی تزک و احتشام کے ساتھ منائی جائے گی۔ اس تقریب میں اہم سرکاری افسران، حکومتی نمائندے، سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ اہلکار، معزز شہری اور طلباء کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ پریڈ، ثقافتی پروگرام، پرچم کشائی اور دیگر سرگرمیوں کے لیے انتظام کرنے والے محکموں کے درمیان قریبی رابطہ قائم ہے۔ تمام محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ تقریب کے روز اپنی ذمہ داریوں کو نہایت پیشہ ورانہ انداز میں نبھائیں اور عوام کو سہولت پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔
شہر میں اس وقت جو ماحول دکھائی دے رہا ہے وہ یومِ جمہوریہ کے انعقاد سے پہلے روایتی لیکن انتہائی مضبوط سیکیورٹی تیاریوں کی جھلک ہے۔ چاہے وہ بازاروں میں پیدل گشت ہو، سڑکوں پر ناکے ہوں، رات کے وقت پولیس کی گاڑیوں کی سائرن بجاتی موجودگی ہو، یا حساس مقامات پر اضافی نفری کے ساتھ چوکس اہلکار— ہر منظر اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ سرینگر اس وقت ایک منظم سیکیورٹی دائرے میں ہے جس کا مقصد عوام کا تحفظ اور قومی تقریب کا پُرامن انعقاد یقینی بنانا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ کے دن کی ضرورتوں کے مطابق ہر طرح کے حفاظتی انتظامات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے ہیں اور شہر میں کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام یونٹس الرٹ موڈ پر ہیں۔ پولیس کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں یومِ جمہوریہ کے موقع پر سیکورٹی خطرات کے باوجود تقریب انتہائی پرامن رہی ہے اور اس مرتبہ بھی وہی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر سرینگر میں یوم جمہوریہ سے قبل جو سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں وہ نہ صرف معمول سے زیادہ سخت ہیں بلکہ کئی حوالوں سے گزشتہ برسوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حالات کے تقاضوں کے مطابق ہیں اور ان کا مقصد عوام کو ایک محفوظ، پُرسکون، منظم اور قومی اہمیت کے حامل اس دن کی خوشیاں بے خوفی کے ساتھ منانے کا ماحول فراہم کرنا ہے۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 15 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان اور جنوبی کشمیر و سری نگر میں اس کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد 22 سالہ محمد لطیف بٹ وادی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہوگیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بٹ اس وقت کشمیر میں سرگرم واحد زندہ مقامی عسکریت پسند ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ 20 سے 30 پاکستانی شہری اور آپریٹو اب بھی وادی کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
پوسٹر میں کہا گیا ہے، ’’مذکورہ شخص کے ٹھکانے کے بارے میں قابل اعتماد اطلاع رکھنے والے کسی بھی شخص سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھریوان چدر گاؤں کا رہنے والا بٹ مبینہ طور پر 2025 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ اس سال 2 جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا، جب اسے شوپیاں میں ایک نگرانی والے کیمرے میں لشکر کے ایک اور آپریٹو ذاکر احمد گنائی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اس کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں گنائی مارا گیا، جبکہ بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس نے بٹ پر گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو 22 جولائی کو اننت ناگ کے ایک مصروف بازار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
نو دن بعد کولگام کے کِلم گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں پہلگام حملے کے بعد وادی میں یہ پہلے عسکری حملے تھے جن کی اطلاع ملی۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں 3500 سے زائد مشتبہ بالائے زمین کارکنوں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کو حراست میں لیا گیا۔
بٹ نے اشموجی کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد اس نے بیچلر ڈگری کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج، کولگام میں داخلہ لیا۔
تاہم، اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔ 2025 کے اوائل میں انڈرگراؤنڈ جانے سے قبل اس نے مختصر عرصے تک شیشے لگانے والے کاریگر (گلیزیئر) کے طور پر کام کیا تھا۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ گنائی نے بٹ کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نومبر 2025 میں خود کو کشمیر ریوولیوشنری آرمی (کے آر اے) کہنے والی ایک تنظیم نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ بٹ اس کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کے آر اے دراصل لشکر طیبہ کا استعمال کیا جانے والا ایک فرضی نام یا پراکسی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
