جموں و کشمیر
کشمیر میں بھاری برفباری: نایاب جنگلی جانور بستیوں کا رخ کرنے لگے
سری نگر، وادی کشمیر میں شدید سردی اور پہاڑی علاقوں میں بھاری برفباری کے باعث نایاب جنگلی جانوروں کا رہائشی علاقوں کا رخ کرنا ایک خطرناک مگر قدرتی رجحان بن چکا ہے۔ تازہ واقعے میں ایک نایاب مادہ کشمیری مشک ہرن اور ایک جنگلی بکرے کو مقامی لوگوں اور وائلڈ لائف محکمے کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں محفوظ طریقے سے ریسکیو کر لیا گیا، جس کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید سردیاں جنگلی حیات کو انسانی بستیوں کے قریب لانے کا سبب بن رہی ہیں۔
محکمہ وائلڈ لائف کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ مادہ مشک اننت ناگ کے ویری ناگ گاؤں میں اس وقت دکھائی دیا، جب بالائی علاقوں میں ہونے والی شدید برفباری کے بعد اسے خوراک اور محفوظ راستوں کی تلاش نے نیچے کی جانب آنے پر مجبور کر دیا۔ مقامی لوگوں نے ہرن کے اچانک نمودار ہونے پر فوراً محکمے کو اطلاع دی۔ وائلڈ لائف پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرکے جانور کو بحفاظت قابو میں لیا اور بعد میں اسے پہلگام کے منی زو منتقل کر دیا گیا۔
کشمیری مشک ہرن کو عالمی سطح پر انتہائی نایاب اور ’خطرے سے دوچار انواع‘ میں شامل کیا گیا ہے، جس کے تحفظ کے لیے مستقل کوششیں جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس جانور کا انسانی بستیوں کے قریب آنا نہ صرف قدرتی مسکن میں خلل کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ شدید موسم میں خوراک کی کمی کا بھی اشارہ ہے۔
اسی دوران شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے اوڑی علاقے میں ایک جنگلی بکرے کو بھی مقامی لوگوں نے اس وقت بچایا، جب وہ خطرے کے عالم میں سکھدر گاؤں کی رہائشی بستی میں داخل ہو گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ بکری کے پیچھے آوارہ کتوں کا ایک گروہ تھا، جس سے بچنے کے لیے وہ سیدھا انسانی آبادی میں جا گھسا۔ محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق مقامی لوگوں نے نہایت بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بکرے کو محفوظ کیا، جس کے بعد محکمے نے اسے بارہمولہ ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا اور صحت یابی کے بعد اسے پہلگام وائلڈ لائف رینج میں بھیجا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق کشمیر مشک ہرن اور کشمیر مارخور دونوں صرف وادی کشمیر میں پائے جاتے ہیں، جن میں مارخور کو ’نیئر تھریٹنڈ‘ جبکہ مشک ہرن کو ’کریٹیکلی اینڈینجرڈ‘ کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شدید سردی کے دوران خوراک کی کمی اور برف کی گہری تہہ جانوروں کو نچلے علاقوں میں آنے پر مجبور کرتی ہے۔
سال 2023 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق قاضی ناگ نیشنل پارک میں مارخور کی آبادی 221 ریکارڈ کی گئی، جب کہ ہرپورہ اور تتہ کوٹی وائلڈ لائف سنچری میں ان کی تعداد نہایت کم دیکھی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ مارخور کے مسکن قاضی ناگ نیشنل پارک جہلم کے کنارے لائن آف کنٹرول سے متصل علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ ہرپورہ سنچری شوپیاں کے پیر پنجال رینج میں اور تتہ کوٹی پونچھ ضلع میں واقع ہے۔
وادی میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سرگرم محکموں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت دیکھ کر فوری طور پر وائلڈ لائف کنٹرول روم کو مطلع کریں اور کسی بھی جانور کے قریب جانے یا خود ریسکیو کی کوشش سے گریز کریں، تاکہ نہ جانوروں کو خطرہ ہو نہ انسانی جانوں کو۔
یو این آئی، ارشید بٹ،
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
