ہندوستان
دہشت گردی مشترکہ خطرہ ہے، اسے برداشت نہ کرنے کی پالیسی کو عالمی سطح پر اپنانے کی ضرورت: جے شنکر
نئی دہلی، وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے دہشت گردی کو مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے اور دہشت گردی کو ہرگز برداشت نہ کرنے کی پالیسی کو عالمی سطح پر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ تبدیلی کے دور سے گزر رہی عالمی نظام کا اثر مغربی ایشیا میں زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے اور قربت کے پیش نظر ہندوستان بھی اس سے فطری طور پر متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے جامع منصوبہ آگے بڑھانا آج ایک مشترکہ ترجیح بن چکا ہے۔
ڈاکٹر جے شنکر نے ہفتہ کو یہاں ہند–عرب وزرائے خارجہ کی دوسری میٹنگ میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہر طرح کی دہشت گردی دونوں خطوں کے سامنے ایک مشترکہ خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی خاص طور پر ناقابل قبول ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ معاشروں کو اپنے دفاع کا حق ہے اور وہ فطری طور پر اس کا استعمال کریں گے۔
دہشت گردی سے مل کر نمٹنے اور اسے بالکل برداشت نہ کرنے کی پالیسی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ “یہ ضروری ہے کہ ہم اس عالمی لعنت سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کریں۔ دہشت گردی کو بالکل برداشت نہ کرنا ایک اٹل اور عالمگیر معیار ہونا چاہیے۔”
عالمی ہلچل کے دور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ میٹنگ ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب عالمی نظام مختلف وجوہات سے تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور اس میں سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی اور آبادیاتی پہلو سب شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں یہ کہیں زیادہ واضح ہے جہاں گزشتہ ایک سال میں منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے۔ اس کا اثر فطری طور پر ہم سب پر پڑتا ہے، اور ہندوستان پر بھی، جو اس خطے کے قریب ہے۔ بڑی حد تک اس کے مضمرات ہندوستان اور عرب ممالک کے تعلقات کے لیے بھی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں مغربی ایشیا میں کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کا اثر نہایت وسیع رہا ہے۔ ان میں سے کئی کی گونج خطے سے باہر تک سنائی دی ہے۔ خاص طور پر غزہ کی صورتحال بین الاقوامی برادری کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس اکتوبر میں شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس کے نتیجے میں نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 منظور ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے جامع منصوبہ آگے بڑھانا آج ایک مشترکہ ترجیح بن چکا ہے۔ مختلف ممالک نے اس امن منصوبے پر انفرادی یا اجتماعی طور پر پالیسی اعلانات کیے ہیں۔ یہی وہ وسیع تناظر ہے جس میں ہم خطے کے چیلنجوں اور امکانات پر غور و فکر کر رہے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ہندستان سے اولمپک کے مختلف شعبوں میں اپنی شرکت کو وسعت دینے اور 2036 کے اولمپکس کے لیے ایتھلیٹوں کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کھیل کا وژن صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں کھیلوں اور نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانے کے ایک بڑے مشن کا حصہ ہے۔
کھیلو انڈیا ڈائیلاگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کھیلوں، نوجوانوں کی قیادت، فٹنس، شہری ذمہ داری اور قومی تعمیر پر ملک گیر بحث کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر کے نوجوانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
کھیلوں کے قومی دن 2026ء کی تقریبات کے حصے کے طور پر ‘میرا یووا بھارت'(مائی بھارت ) کے ذریعہ منعقدہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ہندستان کے کھیلوں کے سفر سے جڑنے، اپنی امنگوں کا اشتراک کرنے اور ملک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیالات پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ہر ضلع کے دو کالجوں کے طلبہ کی شرکت کے ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ہندستان کے وسیع تر کھیلوں کے وژن کو اجاگر کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “جب میں کھیلوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر میں ہندستان کی کھیل کی صلاحیت اور نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ لانے کی مہم ہے۔”
بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک نے تاریخی طور پر اولمپکس میں شامل تقریباً نصف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا ہے۔
انہوں نے کہا، “دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں جن میں ہم حصہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کھیلوں میں بھی بہترین کارکردگی حاصل کرنی ہوگی۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اولمپک کے متعدد شعبوں میں ہندستان کی عدم موجودگی نے ملک کے لیے تمغوں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے اور انہوں نے ملک کے کھیلوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے منظم کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “اولمپکس میں شامل مختلف کھیلوں میں سے ہندستانی ٹیمیں تقریباً نصف میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمغوں کی بڑی تعداد کے لیے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ یہ دہائیوں سے جاری ہے۔”
جاری ۔ یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
