تازہ ترین
ہیف شوپیان خونریز جھڑپ: 3حزب جنگجو جاں بحق، چار فوٹو جرنلسٹ زخمی ،مکمل رپورٹ
خبراردو:
پہاڑی ضلع شوپیان کے ہیف شرمال علاقے میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین گھماسان کی لڑائی میںآئی پی ایس آفیسر کے بھائی سمیت 3مقامی جنگجو جاں بحق جبکہ فوج کا ایک اہلکار طرفین کی فائرنگ میں زخمی ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ جھڑپ کے آغاز کے ساتھ ہی ملحقہ علاقوں سے نوجوانوں اور خواتین کی مختلف ٹولیوں نے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی غرض سے فوج و فورسز پر سنگ باری کرنے کے علاوہ جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی تاہم فورسز نے مظاہرین کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں آنسو گیس کے گولے اور پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4فوٹو جرنلسٹ زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ ادھر ضلع بھر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شام دیر گئے تک فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں۔ اس دوران امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے علی الصبح ہی شوپیان کے مضافات میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردئے جبکہ جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی ضلع بھر میں ہڑتال کیفیت کا مشاہدہ کیا گیا جسکے نتیجے میں عوامی، کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ ادھر حزب المجاہدین نے معرکے میں جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شمس الحق سمیت تین عسکریت پسندوں نے ظلم وجبر کے آگے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔

شوپیان کے ہیف شرمال علاقے میں منگلوار کی علی الصبح اُس وقت افرا تفری کا عالم بپا ہوا جب یہاں فوج و فورسز کی بھاری جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی۔معلوم ہوا ہے کہ فوج کی44آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے منگل صبح کو ضلع کے ہیف شرمال نامی گاؤں میں موجود وسیع رقبے پر پھیلے میوہ باغ کا محاصرہ کیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فوج اور فورسز کو مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ یہاں میوہ باغ میں 2سے 3جنگجوؤں نے پناہ لے رکھی ہے جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے علی الصبح گاؤں کا کڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے تمام راستوں پر فورسز کی اضافی ٹکڑیوں کو تعینات کردیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ محاصرہ اس قدر سخت کیا گیا تھا کہ گاؤں کے اندرون و بیرون راستوں پر فورسز اہلکاروں کے دستوں کو الرٹ رکھا گیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ گڑ بڑ کے ساتھ بروقت نپٹا جاسکے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہیف شرمال کے اندرونی اور بیرونی راستوں پر فوج اور ٹاسک فورس کے اہلکاروں کو جدید ہتھیاروں کے ساتھ تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا جبکہ گاؤں کی تمام گلی کوچوں اور نکڑوں پر کیسپر گاڑیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ ادھر فورسز نے جونہی گاؤں میں موجود وسیع رقبہ اراضی پر پھیلے میوہ باغات کا تنگ کیا اور یہاں تلاشی آپریشن کے لیے داخل ہوگئے تو اسی اثنا میں باغ میں موجود جنگجوؤں کی جمعیت نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے سخت فائرنگ کی جس کے بعد فورسز نے بھی جنگجوؤں کی فائرنگ کا جواب دیا۔ معلوم ہوا کہ منگل کی 12بجے تک گاؤں میں وقفے وقفے سے فائرنگ جاری تھی جس دوران جنگجوؤں کی فائرنگ سے ایک اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا جسے یہاں موجود دیگر فورسز اہلکاروں نے ہٹاکر ہسپتال منتقل کردیا جہاں اُس کا علاج و معالجہ جاری ہے۔
اس دوران دوپہر کے ساتھ ہی فورسز اہلکاروں نے حتمی کارروائی کرنے کا فیصلہ لیتے ہوئے میوہ باغ کے ارد گرد گھیرا تنگ کردیا اور جنگجوؤں کے مشتبہ ٹھکانے پر شدید گولہ باری کی۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس دوران گاؤں میں گولیوں کی گن گرج اور گولوں کی آوازیں کافی دیرتک سنائی دیں جس کے نتیجے میں علاقہ سہم گیا۔ادھر طرفین کی گولہ باری میں ٹھہراؤ آنے کے بعد فورسز اہلکاروں نے جونہی مشتبہ ٹھکانے کے ارد گرد تلاشی کارروائی شروع کی تو یہاں 3جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ جونہی مشتبہ ٹھکانے کے ارد گرد فورسز اہلکاروں نے تلاشی لی تو یہاں 3جنگجوؤں کی لاشیں برآمد کی گئیں جن کی شناخت عامر احمد بٹ عرف ابو حنظلہ ساکن چڑی پورہ شوپیان، ڈاکٹر شمس الحق منگنو عرف برہان ثانی ولد محمد رفیق منگنو ساکن دراگڈ شوپیان اور شعیب شاہ ولد غلام رسول شاہ ساکن شرمال شوپیان کے بطور ہوئی۔پولیس کے مطابق مارے گئے جنگجوؤں کی تحویل سے اسلحہ و گولہ باروداور قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ میں جاں بحق جنگجو ڈاکٹر شمس الحق جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے سے پہلے گورنمنٹ کالج زکورہ سرینگر سے بی یو ایم ایس کی ڈگری حاصل کررہا تھا۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ مہلوک جنگجو کا بھائی انعام الحق 2012بیچ کے آئی پی ایس آفیسر ہیں جو فی الوقت شمالی ہندوستان میں تعینات ہیں۔
ادھر جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی علاقے اور مضافات میں نوجوانوں اور خواتین کی مشترکہ ٹولیوں نے فورسز اہلکاروں پر چہار سو پتھراؤ کیا جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ مظاہرین نے فورسز اہلکاورں پر شدید سنگ باری کرنے کے علاوہ اسلام، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں زور دار نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرنا چاہی۔ علاقے میں پیدا شدہ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کی خاطر آنسو گیس کے درجنوں گولے داغنے کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں علاقہ بھر میں سراسیمگی کی کیفیت رونما ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے والے 4فوٹو جرنلسٹ زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوٹو جرنلسٹوں کے چہروں پر اُسوقت پیلٹ چھروں کی بارش ہوئی جب وہ جائے جھڑپ کے نزدیک فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی عکس بندی میں مشغول تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے وسیم اندرابی، روزنامہ رائزنگ کشمیر کے نثار الحق، کشمیر ایسنس کے جنید گلزار اور خبررساں ادارے اے این این کے برہان میر شامل ہیں۔
ادھر جھڑپ میں مارئے گئے آئی پی ایس آفیسر انعام الحق کے بھائی ڈاکٹر شمس الحق سے متعلق سابق پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ’’شمس الحق کو مین اسٹریم میں واپس لانے کے لیے اُسکے بھائی ، اہل خانہ اور پولیس کی طرف سے کافی سنجیدہ کوششیں کی گئیں تاہم آج وہ اپنے برے انجام کو پہنچ گیا‘‘۔ادھر جھڑپ کے اختتام پذیر ہونے کے بعد ہی علاقے بھر میں شام دیر گئے تک مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں ۔ ادھر امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور افواہ بازی پر لگام کسنے کے لیے انتظامیہ نے منگل کی صبح سے ہی ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ اس دوران جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی ہیف شرمال اور مضافات میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں عوامی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ احتجاجی ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بھی بری طرح سے متاثر رہی۔
ادھر حزب المجاہدین نے جھڑپ میں جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شمس الحق سمیت تین عسکریت پسندوں نے ظلم وجبر کے آگے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء اپنے گرم گرم خون سے تحریک آزادی کی آبیاری کر رہے ہیں اور شہداء کا یہ مقدس لہو ان شااللہ رنگ لائے گا اور دشمن کشمیر نے عنقریب نکلنے پر مجبور ہوجائے گا۔ حزب سربراہ سید صلاح الدین نے اپنے پیغام میں بتایا کہ شہداء کشمیری قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں اور آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بھی ہیں جن کی قربانیوں کے ساتھ نہ سودابازی ہوگی اور نہ کسی کو سودا بازی کرنے کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر یوں کی طرف سے دی جانے والی قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے ،یہ قوم صدیوں سے قربانیاں پیش کر رہی ہے اور کشمیر میں آج چوتھی نسل ہے جو بے سروسامانی کے عالم میں ایک بڑی طاقت کا مقابلہ کر کے دشمن کے دانت کھٹے کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں سے آزادی کی منزل قریب ہوگی۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
