تازہ ترین
ہیف شوپیان خونریز جھڑپ: 3حزب جنگجو جاں بحق، چار فوٹو جرنلسٹ زخمی ،مکمل رپورٹ
خبراردو:
پہاڑی ضلع شوپیان کے ہیف شرمال علاقے میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین گھماسان کی لڑائی میںآئی پی ایس آفیسر کے بھائی سمیت 3مقامی جنگجو جاں بحق جبکہ فوج کا ایک اہلکار طرفین کی فائرنگ میں زخمی ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ جھڑپ کے آغاز کے ساتھ ہی ملحقہ علاقوں سے نوجوانوں اور خواتین کی مختلف ٹولیوں نے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی غرض سے فوج و فورسز پر سنگ باری کرنے کے علاوہ جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی تاہم فورسز نے مظاہرین کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں آنسو گیس کے گولے اور پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4فوٹو جرنلسٹ زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ ادھر ضلع بھر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شام دیر گئے تک فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں۔ اس دوران امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے علی الصبح ہی شوپیان کے مضافات میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردئے جبکہ جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی ضلع بھر میں ہڑتال کیفیت کا مشاہدہ کیا گیا جسکے نتیجے میں عوامی، کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ ادھر حزب المجاہدین نے معرکے میں جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شمس الحق سمیت تین عسکریت پسندوں نے ظلم وجبر کے آگے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔

شوپیان کے ہیف شرمال علاقے میں منگلوار کی علی الصبح اُس وقت افرا تفری کا عالم بپا ہوا جب یہاں فوج و فورسز کی بھاری جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی۔معلوم ہوا ہے کہ فوج کی44آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے منگل صبح کو ضلع کے ہیف شرمال نامی گاؤں میں موجود وسیع رقبے پر پھیلے میوہ باغ کا محاصرہ کیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فوج اور فورسز کو مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ یہاں میوہ باغ میں 2سے 3جنگجوؤں نے پناہ لے رکھی ہے جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے علی الصبح گاؤں کا کڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے تمام راستوں پر فورسز کی اضافی ٹکڑیوں کو تعینات کردیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ محاصرہ اس قدر سخت کیا گیا تھا کہ گاؤں کے اندرون و بیرون راستوں پر فورسز اہلکاروں کے دستوں کو الرٹ رکھا گیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ گڑ بڑ کے ساتھ بروقت نپٹا جاسکے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہیف شرمال کے اندرونی اور بیرونی راستوں پر فوج اور ٹاسک فورس کے اہلکاروں کو جدید ہتھیاروں کے ساتھ تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا جبکہ گاؤں کی تمام گلی کوچوں اور نکڑوں پر کیسپر گاڑیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ ادھر فورسز نے جونہی گاؤں میں موجود وسیع رقبہ اراضی پر پھیلے میوہ باغات کا تنگ کیا اور یہاں تلاشی آپریشن کے لیے داخل ہوگئے تو اسی اثنا میں باغ میں موجود جنگجوؤں کی جمعیت نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے سخت فائرنگ کی جس کے بعد فورسز نے بھی جنگجوؤں کی فائرنگ کا جواب دیا۔ معلوم ہوا کہ منگل کی 12بجے تک گاؤں میں وقفے وقفے سے فائرنگ جاری تھی جس دوران جنگجوؤں کی فائرنگ سے ایک اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا جسے یہاں موجود دیگر فورسز اہلکاروں نے ہٹاکر ہسپتال منتقل کردیا جہاں اُس کا علاج و معالجہ جاری ہے۔
اس دوران دوپہر کے ساتھ ہی فورسز اہلکاروں نے حتمی کارروائی کرنے کا فیصلہ لیتے ہوئے میوہ باغ کے ارد گرد گھیرا تنگ کردیا اور جنگجوؤں کے مشتبہ ٹھکانے پر شدید گولہ باری کی۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس دوران گاؤں میں گولیوں کی گن گرج اور گولوں کی آوازیں کافی دیرتک سنائی دیں جس کے نتیجے میں علاقہ سہم گیا۔ادھر طرفین کی گولہ باری میں ٹھہراؤ آنے کے بعد فورسز اہلکاروں نے جونہی مشتبہ ٹھکانے کے ارد گرد تلاشی کارروائی شروع کی تو یہاں 3جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ جونہی مشتبہ ٹھکانے کے ارد گرد فورسز اہلکاروں نے تلاشی لی تو یہاں 3جنگجوؤں کی لاشیں برآمد کی گئیں جن کی شناخت عامر احمد بٹ عرف ابو حنظلہ ساکن چڑی پورہ شوپیان، ڈاکٹر شمس الحق منگنو عرف برہان ثانی ولد محمد رفیق منگنو ساکن دراگڈ شوپیان اور شعیب شاہ ولد غلام رسول شاہ ساکن شرمال شوپیان کے بطور ہوئی۔پولیس کے مطابق مارے گئے جنگجوؤں کی تحویل سے اسلحہ و گولہ باروداور قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ میں جاں بحق جنگجو ڈاکٹر شمس الحق جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے سے پہلے گورنمنٹ کالج زکورہ سرینگر سے بی یو ایم ایس کی ڈگری حاصل کررہا تھا۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ مہلوک جنگجو کا بھائی انعام الحق 2012بیچ کے آئی پی ایس آفیسر ہیں جو فی الوقت شمالی ہندوستان میں تعینات ہیں۔
ادھر جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی علاقے اور مضافات میں نوجوانوں اور خواتین کی مشترکہ ٹولیوں نے فورسز اہلکاروں پر چہار سو پتھراؤ کیا جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ مظاہرین نے فورسز اہلکاورں پر شدید سنگ باری کرنے کے علاوہ اسلام، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں زور دار نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرنا چاہی۔ علاقے میں پیدا شدہ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کی خاطر آنسو گیس کے درجنوں گولے داغنے کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں علاقہ بھر میں سراسیمگی کی کیفیت رونما ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے والے 4فوٹو جرنلسٹ زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوٹو جرنلسٹوں کے چہروں پر اُسوقت پیلٹ چھروں کی بارش ہوئی جب وہ جائے جھڑپ کے نزدیک فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی عکس بندی میں مشغول تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے وسیم اندرابی، روزنامہ رائزنگ کشمیر کے نثار الحق، کشمیر ایسنس کے جنید گلزار اور خبررساں ادارے اے این این کے برہان میر شامل ہیں۔
ادھر جھڑپ میں مارئے گئے آئی پی ایس آفیسر انعام الحق کے بھائی ڈاکٹر شمس الحق سے متعلق سابق پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ’’شمس الحق کو مین اسٹریم میں واپس لانے کے لیے اُسکے بھائی ، اہل خانہ اور پولیس کی طرف سے کافی سنجیدہ کوششیں کی گئیں تاہم آج وہ اپنے برے انجام کو پہنچ گیا‘‘۔ادھر جھڑپ کے اختتام پذیر ہونے کے بعد ہی علاقے بھر میں شام دیر گئے تک مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں ۔ ادھر امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور افواہ بازی پر لگام کسنے کے لیے انتظامیہ نے منگل کی صبح سے ہی ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ اس دوران جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی ہیف شرمال اور مضافات میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں عوامی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ احتجاجی ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بھی بری طرح سے متاثر رہی۔
ادھر حزب المجاہدین نے جھڑپ میں جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شمس الحق سمیت تین عسکریت پسندوں نے ظلم وجبر کے آگے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء اپنے گرم گرم خون سے تحریک آزادی کی آبیاری کر رہے ہیں اور شہداء کا یہ مقدس لہو ان شااللہ رنگ لائے گا اور دشمن کشمیر نے عنقریب نکلنے پر مجبور ہوجائے گا۔ حزب سربراہ سید صلاح الدین نے اپنے پیغام میں بتایا کہ شہداء کشمیری قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں اور آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بھی ہیں جن کی قربانیوں کے ساتھ نہ سودابازی ہوگی اور نہ کسی کو سودا بازی کرنے کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر یوں کی طرف سے دی جانے والی قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے ،یہ قوم صدیوں سے قربانیاں پیش کر رہی ہے اور کشمیر میں آج چوتھی نسل ہے جو بے سروسامانی کے عالم میں ایک بڑی طاقت کا مقابلہ کر کے دشمن کے دانت کھٹے کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں سے آزادی کی منزل قریب ہوگی۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
