تازہ ترین
کشمیریوں کا خون بہانا جگموہن کا مشغلہ بن چکا تھا: ساگر
خبراردو:
نیشنل کانفرنس جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر نے سانحہ گاؤکدل میں جاں بحق ہوئے افراد کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے سانحات کے زخم کشمیریوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے سابق گورنر جگموہن پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کا خون بہانا اُن کامشغلہ بن چکا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر نے پارٹی کے سینئر لیڈران اور انچارج حلقہ انتخاب کے ایک اجلاس سے خطاب کے دوران سانحہ گاؤ کدل میں جاں بحق ہوئے افراد کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے بتایاکہ گاؤ کدل سانحہ ایک ایسا زخم ہے جس کی یادیں کشمیریوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤکدل ، بجبہاڑہ، ہندوارہ، کپوارہ، صفاکدل ، ٹنگہ پورہ اور حول جیسے درجنوں قتل عاموں کے زخم ہمیشہ تازہ رہیں گے اور یہاں کے عوام جگموہن اور اُس کے پشت پناہوں کی ساجھیداری میں ہوئے بے گناہوں کے قتل عام، انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں اور نوجوانوں کی نسل کشی کو کبھی بھی نہیں بھول سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے دشمن آج کتنے ہی عوام دوستی کے جھوٹے نعرے بلند کریں لیکن ان کا ماضی جمہوریت کی بیخ کنی، کشمیر دشمنی اور بے گناہوں کے خون سے پُر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 28برس قبل 19جنوری 1990جان بوجھ قاتل جگموہن کو جموں وکشمیر کا گورنر بنا ڈالا، جبکہ اُس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اُس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ سے بار بار تاکید کی کہ جگموہن کو جموں وکشمیر کا گورنر نامزد نہ کریں کیونکہ ڈاکٹر صاحب جگموہن کی مسلم دشمن چہرے سے بخوبی واقف تھے۔
لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جگموہن کو ہی یہاں کا گورنر بنایا گیا، جس پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے احتجاجاً وزارتِ اعلیٰ کی کرسی کو لات مار دی اور مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی جگموہن نے دور درشن پر کشمیری قوم کیخلاف کھلے عام صاف الفاظ میں اعلان جنگ کیا اور اگلے ہی روز یعنی 21جنوری 1990کو گاؤکدل میں معصوم اور بے گناہ لوگوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کرا کے اس بات کا صاف اشارہ دے دیا کہ اسے کس کام کیلئے یہاں تعینات کیا تھا۔ اور پھر 25جنوری کو ہندوارہ اور 27جنوری کو کپوارہ میں ایسے ہی بے گناہوں کا قتل عام کیا اور کشمیریوں کا خون بہانا جگموہن کیلئے معمول بن گیا۔
علی محمد ساگر نے کہا کہ 28برس گزر جانے کے باوجود بھی گاؤکدل جیسے قتل عاموں کے زخم یہاں کے لوگوں کے دلوں میں ہرے ہیں اور وہ اس بات سے بھی باخبر ہیں کہ یہ سب کچھ کس کی ایما پر ہورہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شمال سے لیکر جنوب اور مشرق سے لیکر مغرب تک جموں وکشمیر میں خون کی ایسی ہولی کھیلی گئی، جس سے انسانیت کی روح کانپ جاتی ہے۔ وقت دبے پاؤں گزر گیا، 28برس بیت گئے، لیکن کشمیریوں کے یہ زخم آج بھی تر و تازہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2016کے بعدسے 1990کے مظالم دہرائے گئے اور کئی جگہوں پر ماضی کے ریکارڈ بھی مات گئے۔ افسوس کہ کشمیریوں کی سسکیاں ،چیخ و پکار اور آہ و زاری اُن کے کانوں تک نہ پہنچی جو آج جمہوری نظام ، عوام دوستی اور کشمیر دوستی کے دم بھر رہے ہیں۔ظالم نہایت اطمینان اور طنطنے سے کھلے عام دندناتے پھر رہے تھے ،عوام کو تاریکیوں میں دھکیلا جارہا تھا، انسانی حقوق کی پامالیوں کے تمام ریکارڈ مات ہورہے تھے لیکن کشمیریوں سے ہمدردی جتلانے والے انسانیت سوز کارناموں کے عیوض اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے۔علی محمد ساگر نے کہا کہ جگموہن اور اُس کے پشت پناہوں نے ہی ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیری سے پنڈتوں کو نکالا جن میں سے بیشتر آج بھی بیرونِ وادی در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
