تازہ ترین
کشمیریوں کی جدوجہد مبنی بر حق؛ ہر صورت میں جاری رکھا جائے گا: میر واعظ
خبراردو:
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے حکومت ہندوستان کی طرف سے فوجی قوت کے بل پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی پالیسی کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کے بل کر نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے انہیں انتہائی اقدام اُٹھانے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اندرون و بیرون ریاست کی جیلوں میں سالہا سال سے بند سیاسی قیدیوں کے تئیں سیاسی انتقام گیری کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو جرم بے گناہی کی پاداش میں پابند سلاسل کرتے ہوئے انہیں مختلف نوعیت کے اذیت ناک مراحل سے گزار کر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل عوام کے بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہندوستان مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی خاطر فوجی قوت اور دھونس و دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی غیر حقیقت پسندانہ پالیسی کو عملاتے ہوئے نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند نوجوانوں کو مختلف ذریعے سے ٹارچر کررہا ہے اور انہیں انتہائی اقدام اُٹھانے کے لیے مجبور کر رہا ہے۔ بھارت کی طرف سیمسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی پالیسی کو غیر حقیقت پسندانہ اور ضد ار ہٹ دھرمی سے عبارت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی نوجوان نسل کو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرکے عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے اورگزشتہ دنوں بارہمولہ ،شوپیان اور بڈگام میں جو خونین سانحات پیش آئے ان سے ہر کشمیری کا دل چھلنی ہوکر رہ جاتا ہے ۔حریت چیرمین نے کہا کہ حکومت ہندوستان کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ وہ طاقت اور تشدد کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہمارے نوجوان جو اس قوم کے معمار ہیں اپنے سلب شدہ حقوق کی بازیابی کیلئے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں اور دوسری طرف جموں وکشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں اور عقوبت خانوں میں سالہا سال سے مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کو کالے قوانین کے تحت پابند سلاسل کرکے بغیر کسی جرم اور بلا کسی جواز کے ان کی مدت قید کو طول دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں بند یہ لوگ کوئی پیشہ ور مجرم یا ڈاکو نہیں بلکہ ایک عظیم نصب العین کے شیدائی ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان لوگوں کو نہ تو وقت پر تاریخ ہائے پیشیوں میں عدالتوں میں پیش کیا جارہا ہے اور نہ ان قیدیوں کے تئیں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جارہا ہے گویا ان لوگوں کوJustice Delayed is Justice Denied کا شکار بنایا جا رہا ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ بھارت کی سپریم کورٹ کے ان احکامات کے باوجود کہ ان قیدیوں کو اپنے گھروں کے نزدیکی جیلوں میں رکھا جائے۔ حکومت ہندوستان اپنی ہی اعلیٰ عدالت کے احکامات کو یکسر نظر انداز کرکے اور قیدیوں کے حوالے سے مسلمہ عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ان قیدیوں کو دور دراز کی بھارتی ریاستوں کی جیلوں میں مقید رکھا گیا ہے اور ان میں سے بیشتر ایسے قیدی ہیں جو مدتوں سے جیلوں میں رہنے کے باعث مختلف جسمانی بیماریوں کا شکار ہو گئے ہیں اور اس طرح ان قیدیوں کو شدید سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔میرواعظ نے جموں وکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید سیاسی قیدیوں کی تفصیلات بتا تے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد قاسم فکتو ادھمپور جیل میں 26 سال سے ، جاوید احمد خان تہاڑ جیل نئی دہلی میں22 سال، محمد ایوب خان المعروف محمود ٹوپی والا تہاڑ جیل نئی دہلی میں24 سال سے، مرزا نثار حسین جے پور راجستھان جیل 22 سال سے ،لطیف احمد وازہ جے پور راجستھان جیل 22 سال سے، علی محمد بٹ جے پور راجستھان 22 سال سے ، عبدالغنی گونی جے پور راجستھان جیل22 سال سے، غلام قادر بٹ امپھالا جیل24 سال سے، ڈاکٹر محمد شفیع خان ہیرا نگر جیل 13 سال سے، فیروز احمد خان تہاڑ جیل دہلی16 سال سے، پرویز احمد میر تہاڑ جیل دلی16 سال سے، مقصود احمد بٹ کورٹ بلوال جیل جموں12 سال سے، بلال احمد کوٹہ بنگلور سینٹرل جیل13 سال سے، غلام محمد بٹ کورٹ بلوال جیل جموں17 سال سے، محمد اسلم گجر ممبئی جیل 13 سال سے، محمد ایوب میر14سال سے،محمد ایوب ڈار سینٹرل جیل سرینگر 18 سال سے، شوکت احمد خان سینٹرل جیل سرینگر11 سال سے، نذیر احمد شیخ کورٹ بلوال جموں18 سال سے، فاروق احمد شیخ کورٹ بلوال جموں11 سال سے، محمد عباس وانی کورٹ بلوال جیل12 سال سے، شیخ عمران سینٹرل جیل سرینگر15 سال سے، برکت علی خان سینٹرل جیل سرینگر16 سال سے، عبدالحمید تیلی سینٹرل جیل سرینگر13 سال، محمد اقبال خان سینٹرل جیل سرینگر16 سال سے، محمد صادق گجر سینٹرل جیل سرینگر17 سال سے، سائیں محمد گجر سینٹرل جیل سرینگر16 سال سے، مہندیا گجر سینٹرل جیل سرینگر16 سال سے، اشفاق احمد پال کورٹ بلوال جموں15 سال سے، ڈاکٹر غلام محمد بٹ تہاڑ جیل دہلی8 سال سے، محمد اسلم وانی تہاڑ جیل دلی 7 سال سے، مسرت عالم بٹ کورٹ بلوال جیل میں کبھی ان کو رہا کیا جاتا ہے کبھی گرفتار اور کل ملا کر25 سال سے جیل میں ہے، مظفر احمد راتھر کورٹ بلوال جموں10 سال سے، بشیر احمد بابا گجرات جیل 9 سال سے، مظفر احمد ڈار تہاڑ جیل11 سال سے، محمد شفیع شاہ تہاڑ جیل9 سال سے، ڈاکٹر وسیم تہاڑ جیل10 سال سے، مشتاق احمد لون تہاڑ جیل6 سال سے مقید ہیں۔ اس کے علاوہ NIA اور ED کی جانب سے گرفتار کئے گئے کشمیری سیاسی نظر بندوں کو جن میں شبیر احمد شاہ، ایڈوکیٹ شاہدالاسلام،ڈاکٹر غلام محمد بٹ، الطاف احمد فنٹوش، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار ، شاہد یوسف ، تاجر ظہور وٹالی، محترمہ آسیہ اندرابی، محترمہ فہمیدہ صوفی اور محترمہ ناہیدہ نسرین شامل ہیں کو دلی کے تہاڑ جیل میں مقید رکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ لا تعداد ایسے قیدی ہیں جو جموں وکشمیر اور بھارت کی دیگر ریاستوں کی جیلوں میں کئی سالوں سے جرم بے گناہی کی پاداش میں اذیتوں کا نشانہ بنائے جارہے ہیں۔انہوں نے حکومت ہندوستان کی جانب سے ان قیدیوں کے تئیں روا رکھی جارہی ظلم و جبر کی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے حقوق بشر کے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے وفود ان جیلوں میں روانہ کریں اور ان قیدیوں کی حالت زار کا جائزہ لیکر ان کے تئیں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالیں۔ میرواعظ نے 1990ء میں کپوارہ اور ہندوارہ میں اورپیش آئے خونین سانحات میں شہید کئے گے افراد کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج تک کشمیر میں ان گنت خونین سانحات پیش آئے لیکن اب تک نہ کسی واقعہ کی تحقیقات ہوئی اور نہ کسی متاثر کو انصاف ملا۔ انہوں نے 1998 میں وندہامہ گاندربل میں پیش آئے خونین سانحہ جس میں نا معلوم افراد کے ہاتھوں 23 کے قریب کشمیری پنڈتوں کو قتل کیا گیا کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس خونین سانحہ کی اب تک نہ کوئی غیر جانبدارانہ تحقیقات عمل میں لائی گئی اورنہ اس سانحہ میں ملوث مجرموں کو سزا دی گئی۔
انہوں نے اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جدوجہد مبنی برحق ہے اور یہ جدوجہد اپنے منطقی انجام تک ہر سطح پر جاری و ساری رکھی جائیگی۔جنوری کو اٹانومی سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر سے چھینی گئی اندرونی خودمختاری کی بحالی سے ہی 26جنوری کی تقریب کو منانے کا مقصد پورا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بچی کچی خود مختاری کو بھی سلب کرنے کے لیے مزید راستے ڈھونڈے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین ہند کے تحت جہاں ملک کے تمام مذاہب اور طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مذہبی اوراظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہواوہیں اسی آئین میں جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری کا اندراج بھی ہوا، لیکن موجودہ دور میں بھارت کی اقلیتوں کی مذہبی آزادی سلب کی جارہی ہے، لوگوں سے اظہارِ رائے کا حق چھینا جارہا ہے اور جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن پر شب خون مارنے کے مزید راستے ڈھونڈے جارہے ہیں، ایسے میں 26جنوری کی تقریبات میں جمہوریت اور آئین کی رکھوالی کے بلند بانگ دعوے کرنا لوگوں کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگریز سامراج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد جموں وکشمیر نے آزاد ہندوستان کیساتھ مشروط الحاق کیا اور اس مشروط الحاق کو بھارت کے آئین میں شامل کرکے ہماری ریاست کو خصوصی درجہ حاصل ہوا۔
ڈاکٹر کمال نے کہا کہ 26جنوری کے موقعے پر ہم اُن شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک کا آئین مرتب کیا اور اس آئین میں جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری کو آئینی شکل دی۔ انہوں نے کہا کہ 26جنوری منانے کا مقصد اُسی صورت میں پورا ہوسکتا ہے جب طاقت کے بلبوتے پر جموں وکشمیر سے چھینی گئی اندرونی خودمختاری کو واپس بحال کیا جائے گا۔ 9اگست 1953کے بعد سے لیکر آج تک ریاست کی خصوصی پوزیشن کیساتھ ہوئی ہر ایک چھیڑ چھیڑغیر آئینی اور غیر جمہوری ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ آج ہی قومی یوم رائے دہندگان بھی منا رہے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ووٹ پرچی کا حق نیشنل کانفرنس کی کوششوں اور کاوشوں کی ہی دین ہے۔ نیشنل کانفرنس کے متوالوں اور جانثاروں کی بدولت ہی جموں وکشمیر میں جمہوریت کا بول بالا ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر برصغیر میں ایسی واحد ریاست تھی جہاں 18سال کی عمر میں ہی ووٹ پرچی کا حق حاصل ہوتا تھا جبکہ بھارت میں لوگوں کو یہ حق 21سال کی عمر میں حاصل ہوتا تھا۔ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے 18سال کی عمر ووٹ پرچی کا حق اس لئے سے دیا تھا کیونکہ وہ روشن اور تابناک مستقبل میں نوجوانوں کے رول کی اہمیت بخوبی سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور برصغیر کے دیگر ممالک نے بعد میں جموں وکشمیر کے آئین سے ترغیب لیکر نہ صرف ووٹ ڈالے کی عمر 18سال کی بلکہ پنچایت راج کا قیام بھی عمل میں لایا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
