تازہ ترین
امریکہ، طالبان مذاکرات میں مثبت پیش رفت
خبراردو:
امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ امریکا اور طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات میں ’’مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے، مگر مکمل اتفاق نہیں ہوا۔
یہ بات انہوں نے اپنی ٹوئیٹس میں کہی ہے جن میں ان کا کہنا تھا کہ چھ روزہ مذاکرات کے بعد ’’بات چیت کے لئے افغانستان جا رہا ہوں‘‘۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ دوحہ میں طالبان سے ملاقاتیں مفید رہیں؛ اور اہم معاملات پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ مذاکرات کا حالیہ دور گزشتہ ادوار سے بہت اچھا رہا، اور، بات چیت کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے جلد مذاکرات کا آغاز کریں گے۔
اس سے قبل آنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان افغانستان میں موجود امریکی افواج کے “محدود اور مشروط” انخلا کے منصوبے پر اتفاقِ رائے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات سے واقف ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ فوجی انخلا کے عوض طالبان نے امریکہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کو مستقبل میں امریکہ یا کسی دوسرے ملک کے خلاف افغانستان کی سر زمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔
ایک ٹوئیٹ میں زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ ’’چھ روز دوحہ میں رہنے کے بعد میں صلاح مشورے کے لیے افغانستان جا رہا ہوں۔ یہاں ہونے والی ملاقاتیں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ نتیجہ خیز تھیں۔ ہم نے اہم معاملات میں خاصی پیش رفت حاصل کی‘‘۔
1/3 After six days in Doha, I'm headed to #Afghanistan for consultations. Meetings here were more productive than they have been in the past. We made significant progress on vital issues.
— U.S. Special Representative Zalmay Khalilzad (@US4AfghanPeace) January 26, 2019
ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر میں جاری مذاکرات میں میزبان ملک کے علاوہ پاکستان کے نمائندے بھی موجود تھے۔ مذاکرات میں شریک امریکی وفد کی قیادت امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کی۔
اپنی ٹوئیٹس میں خلیل زاد کا کہنا تھا کہ تمام امور پر اتفاق رائے ہونا لازمی ہے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا کچھ حتمی نہیں ہوگا۔ سب باتوں پر اتفاق میں افغانوں کے مابین مذاکرات اور جامع جنگ بندی شامل ہے۔ مذاکرات کرانے کے لئے قطرحکومت کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر خصوصی طور پر قطر کے نائب وزیر اعظم، وزیر خارجہ کی شمولیت پر شکریہ ادا کیا۔
زلمے خلیل زاد کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب طالبان اور امریکا کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں17 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے پر معاہدہ طے پائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس ہیں کہ فریقین افغانستان سے غیر ملکی افواج کے پرامن انخلا پر متفق ہوگئے ہیں۔
اس حوالے سے افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’’ایجنڈا کے مطابق، اس ملاقات میں غیر ملکی افواج کے انخلا سمیت دیگر اہم ایشوز پر بات چیت کی گئی ہے۔ لیکن بہت سے معالات انتہائی حساس ہیں جن پر جامع بات چیت کی ضرورت ہے۔ اس لیے، حل طلب معاملات آئندہ ہونے والے اجلاس میں طے کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے فریقین اپنی قیادت سے مشاورت بھی کرسکیں گے۔‘‘
افغان طالبان نے واضح کیا ہے کہ ’’غیرملکی افواج کے انخلا پر معاہدہ ہونے تک دیگر معاملات پر بات ہونا ناممکن ہے‘‘۔
ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے قطر میں گزشتہ چھ روز سے جاری مذاکرات کے بعد ہوا ہے۔ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے قطر میں گزشتہ چھ روز سے جاری مذاکرات کے بعد ہوا ہے۔ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کر رہے تھے۔
اس سے قبل، ذرائع نے بتایا تھا کہ اگر کوئی غیر متوقع صورتِ حال پیدا نہ ہوئی تو فریقین افغانستان سے امریکہ کے فوجی انخلا پر اتفاقِ رائے کا باضابطہ اعلان ہفتے اور پیر کے درمیان کسی وقت کردیں گے۔
اطلاعات کے مطابق سمجھوتے کے تحت طالبان نے افغانستان میں جنگ بندی پر بھی اتفاق کیا ہے۔ تاہم فوجی انخلا اور جنگ بندی دونوں کا دائرہ “محدود اور مشروط” ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محدود اور مشروط فوجی انخلا اور جنگ بندی کے نتیجے میں فریقین کو زیادہ خطرہ مول لیے بغیر صورتِ حال کے جائزے اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ ممکن ہے کہ طالبان کے ساتھ طے پانے والے حتمی معاہدے کا اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کریں جو امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن ختم ہونے کے بعد جلد ہونے کا امکان ہے۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی انخلا اور جنگ بندی، دونوں “محدود اور مشروط” ہوں گے
ایک اور ٹوئیٹ میں، سفیر خلیل زاد نے حکومت قطر کا شکریہ ادا کیا ہے؛ بقول اُن کے، ’’جس نے تعمیری رابطہ کرکے مذاکرات کے اس دور کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کیا؛ خاص طور پر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ، الثانی کی ذاتی دلچسپی پر اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘
ایک مزید ٹوئیٹ میں اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’ہم حاصل ہونے والی پیش رفت کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور بات چیت فوری طور پر آگے بڑھاتے ہیں۔ کئی معاملے ایسے ہیں جن پر سیر حاصل بات ہونی ہے۔ جب تک سب باتوں پر اتفاق رائے ہو تب تک کچھ بھی طے نہیں ہوتا۔ اور سب چیزوں میں جو بات لازم ہے وہ یہ ہے کہ اس میں افغانوں کے مابین مکالمہ اور مربوط جنگ بندی ہو‘‘۔
2/3. Will build on the momentum and resume talks shortly. We have a number of issues left to work out. Nothing is agreed until everything is agreed, and “everything” must include an intra-Afghan dialogue and comprehensive ceasefire.
— U.S. Special Representative Zalmay Khalilzad (@US4AfghanPeace) January 26, 2019
طالبان نے جنگ بندی سے متعلق معاہدہ ہونے کی میڈیا رپورٹس کی تردید کی اور کہا ہے کہ ’’کابل انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات اور جنگ بندی کے معاہدہ کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے‘‘۔
دوسری جانب، ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے ’رائٹرز‘ کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’پاکستان نے افغان طالبان اور امریکی حکام سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے سہولت کار کا کام کیا۔ ہم نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاکر اپنا ہدف پالیا ہے‘‘۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’’افغان طالبان دوحہ میں حالیہ امریکی قیادت میں مذاکرات سے پاکستان کو نہیں نکال رہے، اس عمل میں طالبان کے متعدد گروپس اور اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ اس لیے رابطےمیں وقت لگتا ہے اور پاکستان کے لیے وقت اور جگہ کے لیے کوئی ترجیح نہیں تھی، ایک گروپ یا پارٹی رابطے سے ہٹتی ہے تو نتیجاً شیڈول یا جگہ میں تبدیلی ہوسکتی ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ’’ملاقاتوں سے ہونے والی پیشرفت سے تمام چیزوں کا تعین ہوگا۔ امن مذاکرات پر پیشرفت دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج پر منحصر ہے۔ یہ بات ابھی یقینی نہیں کہ طالبان افغان حکومت کو مذاکرات میں شامل کرتے ہیں یا نہیں۔ کیا بات چیت ہوتی ہے؟ یہ عمل کیسے آگے بڑھتا ہے، انحصار ہونے والی ہر ملاقات کی پیشرفت پر ہے۔‘‘
رواں ہفتے ہی افغان صدر اشرف غنی نے پہلی بار زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں جاری مذاکراتی عمل پر کھلے عام تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری ‘عالمی اقتصادی فورم’ کے ایک اجلاس سے خطاب میں صدر غنی نے عندیہ دیا تھا کہ ان کی حکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج کو مسترد بھی کرسکتی ہے۔
وی او اے
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
