تازہ ترین
ریٹلے پاور پروجیکٹ NHPCکو دینا بڑی غلطی ہوگی: عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ریتیلے پاؤر پروجیکٹ کو این ایچ پی سی کو سپرد کرنے کی منصوبہ بندی کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ریاست جموں وکشمیر کی معاشی ترقی پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے گورنر ستیہ پال ملک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست کے انتظامی اُمور پر اپنی توجہ مرکوز کریں اور آنے والے اسمبلی و پارلیمانی انتخابات سے متعلق ماحول کو سازگار بنانے میں اپنا رول ادا کرے اور ریاست سے جڑے باقی ماندہ اُمور عوامی حکومت پر چھوڑ دیں۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور ریاست کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے حلقہ انتخاب خانیار میں پارٹی کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریٹلے پاور پروجیکٹ کو این ایچ پی سی کو سپرد کرنے سے ریاست کی معیشی ترقی پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہونگے۔انہوں نے کہا کہ گورنر انتظامیہ کی طرف سے 850میگاواٹ پاور پروجیکٹ کو این ایچ پی سی کے سپرد کرنے کے اقدام سے ریاست کے اقتصادی مفادات کو زبردست دھچکا پہنچے گا۔ ریاست اس پروجیکٹ کو سٹیٹ سیکٹر پروجیکٹس کے تحت مخصوص انداز میں چلا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر انتظامیہ کا کام ریاست میں عام انتخابات کیلئے سازگار ماحول بنانا ہے، لوگوں کو ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جس میں صاف و شفاف الیکشن کا انعقاد ہو۔گورنر انتظامیہ کو ریاست کے باقی ماندہ کام عوامی منتخبہ حکومت کیلئے چھوڑ دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹلے پاور پروجیکٹ کو این ایچ پی سی کے سپرد کرنا گورنر صاحب کی بہت بڑی غلطی ہوگی۔اس فیصلے کو ابھی ٹال دیا جانا چاہئے، یہ فیصلہ گورنر صاحب کے دائرہ اختیار میں نہیں، یہ فیصلہ لوگوں کی چُنی ہوئی سرکار کر سکتی ہے۔ نیشنل کانفرنس کی حکومت بنی تو ہم ریٹلے کے پاور پروجیکٹ کو ہرگز این ایچ پی سی کو نہیں دینگے، ہم نے اپنی حکومت میں یہ پروجیکٹ شروع کیا تھا اور انشاء اللہ ہم اس پر دوبارہ کام کروائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ پاور پروجیکٹ واپس لانا تو دورکی بات پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت نے ریاست میں ایک میگاواٹ پاور کیلئے کام شروع نہیں کیا اُلٹا جن پروجیکٹوں پر کام جاری تھا وہ بھی روک دیا گیا۔ ’’پی ڈی پی نہ صرف پاور پروجیکٹوں کو واپس لانے میں ناکامی ہوئی بلکہ یہ جماعت پورے ایجنڈا آف الائنس میں ناکام ہوئی، وہ اس لئے ہوا کیونکہ ایجنڈا آف الائنس صرف عوام کو گمراہ کرنے کیلئے تھا ،محبوبہ مفتی نے خود اس بات کو تسلیم کیا کہ بی جے پی کے ساتھ 2016میں اس لئے ہاتھ ملایا تاکہ وہ اپنی پارٹی پچا سکیں، جب اُن کے ارادے صحیح نہیں تھے تو نتیجہ بھی صحیح نہیں ہوگا۔ اُن کا ارادہ پاور پروجیکٹس واپس لانے کا نہیں تھا، اُن کا ارادہ اس ریاست کو بچانے کا نہیں تھا، اُن کا ارادہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا نہیں تھا،اُن کا ارادہ صرف اور صرف اپنی جماعت کو ٹوٹنے سے بچانے کا تھا ۔اُن کی جماعت کی آج کیا حالت ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔‘‘وقت پر الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ پی ڈی پی اور بھاجپا مل کر درپردہ طور پر الیکشن کو مؤخر کرانے کی بھر پور کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
جموں وکشمیر میں وقت پر الیکشن کرانا مودی حکومت کیلئے ایک چیلنج ہے کیونکہ ریاست میں1996کے بعد کسی بھی اسمبلی الیکشن میں دیر نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ4سال سے مرکز اور ریاست میں قائم حکومتوں کی وجہ سے جموں وکشمیر کے عوام کو زبردست مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پارٹی سرینگر کے لوگوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہے۔ ٹریفک دباؤ، رہائشی مسائل، صحت و صفائی کے مسائل، گلی کوچوں اور سڑکوں کی خستہ حالی اور سب سے بڑے پر بے روزگاری کے مسائل نے سرینگر کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ وقت کی ضرورت ایک ایسی ترقیاتی پالیسی اختیار کرناہے جس میں تعمیر و ترقی بھی ہو اور اور ماحولیاتی توازن بھی برقرار رکھا جائے۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہاکہ پی ڈی پی اور بھاجپا کی مخلوط حکومت کی پالیسیاں شہر سرینگر کے تاجروں، دستکاروں، ہنرمندوں اور چھوٹے صنعت کاروں کیلئے نقصان دہ ثابت ہوئیں۔ جی ایس ٹی کے اطلاق سے کاریگر اور ہنرمند طبقہ بری طرح متاثر ہوا ، یہاں تک کہ اس طبقہ کے لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے حکومت میں آکر عوام دشمنی اور کشمیر دشمنی کا اصلی چہرہ دکھایا۔ شہر سرینگر میں کرفیو کلچر کو عام کیا۔ آئے روز بندشوں، کرفیو اور قدغنوں سے یہاں کے لوگوں کو زبردست نقصان پہنچا۔ پی ڈی پی حکومت کے مظالم کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ نمازِ عید پر قدغن لگائی گئی اور تاریخی جامع مسجد کو مہینوں تک مقفل رکھاگیا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
