تازہ ترین
مودی کے دورہ سے چند گھنٹے قبل قریشی کا گیلانی سے ٹیلی فونک رابطہ، موجودہ صورتحال پر کیا تبادلہ خیال
خبراردو:
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سنیچر شام کو حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی گیلانی سے ٹیلی فونک رابطہ کرتے ہوئے کشمیر کی موجودہ سنگین اور ناگفتہ بہ صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی جس دوران قریشی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ریاست جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کی طرف سے جاری تحریک کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے گا اور مسئلہ کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کی پاس شدہ قرار دادوں کو عملانے کے لیے ہر ممکن کوشش کو بروئے کار لائے گا۔
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے سنیچر شام کو حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی گیلانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان کشمیر کی موجودہ صورتحال زیر بحث رہی۔اس دوران حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے حر کہا کہ دنیا کے نقشے پر پاکستان کے نام سے ایک ایسی مملکت وجود میں آگئی، جس نے مسلمانوں کو فرقہ پرستوں کے رحم وکرم پر رہنے کے بجائے ایک ٹھکانا فراہم کیا اور انہیں سر اٹھاکر جینے کا حوصلہ بخشا۔ پاکستان کی سا لمیت اور استحکام کے لیے دُعا کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ کشمیری قوم کے لیے بھی پاکستان کی اہمیت اور افادیت کسی بھی طور کم نہیں ہے۔ یہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے، جو ان کے حقِ خودارادیت اور مطالبۂ آزادی کی کھل کر نہ صرف حمایت کرتا ہے، بلکہ ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی مدد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے ایک مضبوط پاکستان اولین ضرورت ہے اور اس لیے کشمیر کے ہر فرد کے دل میں اس ملک کے ساتھ محبت ہے اور وہ اس کے استحکام کے لیے دُعا کرتا ہے۔حریت (گ) چیرمین نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک اہم فریق ہے اور اس مسئلے کا حتمی حل پاکستان کی شمولیت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے، لہٰذا اس ملک کو جرأت اور حوصلے کے ساتھ اپنا موقف آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس میں کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی ان کے سفارت خانے موجود ہیں ان کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مزید فعال اور متحرک بنانے اور جموں کشمیر میں ہورہے سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں سے عالمی دنیا کو باخبر کرانے کی ضرورت کو اُجاگر کیا۔ گیلانی نے کہا کہ جموں کشمیر کی بیشتر آزادی پسند قیادت کو جیلوں اور گھروں میں محصور کردیا گیا ہے۔ ان کو بین الاقوامی دنیا تو دور اپنے لوگوں سے بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، اس لیے پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جموں کشمیر کی جدوجہدِ آزادی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر راہ عامہ کو ہموار بنانے اور جموں کشمیر میں بھارت کی قابض افواج کے ہاتھوں ہورہے مظالم کو اُجاگر کرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔
گیلانی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اس کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ناگزیر ہے اور یہ ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ نظریۂ پاکستان کی حفاظت کے لیے اپنا رول ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مضبوط اور مستحکم ہو تو ہی ہم جیسے مظلوموں کی مدد کرسکتا ہے۔ ہم اُمید رکھتے ہیں کہ وہاں کے لوگ بحیثیت مجموعی طور جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ اپنی نظریاتی سرحدوں کی بھی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے پاکستان، ایران اور افغانستان کے ساتھ اچھے اور خوشگوار تعلقات کی بحالی پر بھی زور دیا اور کہا کہ یہ برادر مسلم ممالک ایک دوسرے کے نزدیک آئیں تو ان کے کئی اندرونی اور بیرونی مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے اور اس کے پورے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے پاکستان کو دنیا کے تمام مسلم ممالک سے بہتر اور برادرانہ تعلقات قائم کرنے کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ممالک ایک جگہ پر جمع ہوگئے تو وہ مسلم ممالک جو اس وقت مظلومیت کے شکار بنائے گئے ہیں کے مسائل کو حل کرنے میں کارآمد ثابت ہوں گے۔
اس موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ نے حریت چیرمین کو یقین دلایا کہ پاکستان کی حکومت بھارت کی جارحیت اور جموں کشمیر کے عوام کے خلاف ظلم وجبر اور بربریت کے خلاف موثر آواز بلند کریں گے۔ اس دوران پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ جموں کشمیر کے مظلوم عوام کی حقِ خود ارادیت کی تحریک کو سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر اپنی مدد جاری رکھے گا اور اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنی سیاسی اور سفارتی کوششوں میں تیزی لائے گا۔خیال رہے پاکستان نے یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے بیرون مملک کئی اہم پروگرامات کو حتمی شکل دی ہے جس دوران پاکستان سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے ، وادی میں فورسز اہلکاروں کی طرف سے حقوق انسانی کی پامالیوں پر عالمی توجہ مبذول کرانے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن اور پائیدار حل کے لیے عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس سلسلے میں 5فروری سے ہی مختلف پروگرام منعقد ہورہے ہیں جن میں سر فہرست پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی برطانوی پارلیمنٹ میں اہم پروگرام سے خطاب بھی کریں گے۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
