تازہ ترین
ویڈیو:شاہ فیصل کی پہلی عوامی ریلی کشمیر سیاسی مسئلہ: ہندوپاک افہام و تفہیم کے ذریعے حل تلاش کریں، شیر آیا شیرآیا کے نعرے بھی گونجے
خبراردو:
سابق آئی اے ایس آفیسر ڈاکٹر شاہ فیصل نے سرحدی ضلع کپوارہ میں پبلک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیا اور برصغیر کی دو نیوکلیائی قوتوں ہندوستان اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ افہام و تفہیم کے ذریعے اس دیرینہ مسئلے کا حل تلاش کریں۔ ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے بڑی بڑی قربانیاں پیش کررہے ہیں لیکن بیرون ریاست سیاستدان اس کو مالی پیکیج سے مشروط قرار دیتی ہے۔ انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران میں ریاست میں جاری ظلم و تشدد سے اکتاہٹ محسوس کررہا تھا اور بالآخر میں نے عوام کو راحت پہنچانے اور ان کے مسائل و مشکلات کو دور کرنے کی خاطر غلاظت سے پر سیاست میں کودنے کافیصلہ کیا۔
سرحدی ضلع کپوارہ کے سیاحتی استقبالیہ مرکز پر سوموار کو لوگوں کو ہجوم اُمڈ آیا جب یہاں حال میں بیوروکریسی کو خیربادکہنے والے ڈاکٹر شاہ فیصل وارد ہوئے اور یہاں عوام کے ایک جم غفیر سے خطاب کیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق آئی اے ایس آفیسر ڈاکٹر شاہ فیصل نے سرحدی ضلع کپوارہ میں اپنے پہلی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس دیرینہ مسئلے کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کریں۔ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ کشمیر ایک دیرینہ سیاسی متنازعہ مسئلہ ہے لہٰذا اس کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کو میز پر آکر افہام و تفہیم سے اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ سابق آئی اے ایس آفیسر نے بتایا کہ کشمیر میں جاری قتل و غارت گری، ظلم و تشدد اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں نے مجھے بیوروکریسی سے الگ ہونے کے لیے مجبور کیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں گزشتہ دس برسوں سے ریاست کے غیر یقینی حالات کا عینی شاہد ہوں اور اس دوران یہاں عوام پر فورسز اہلکاروں کی جانب سے ڈھائے جارہے مظالم نے میرے قلب و ذہن پر مفنی ڈالے لہٰذا میں تب سے ہی ایک ہیجانی کیفیت سے گزر رہا تھا۔ میں نے اگر بیوروکریسی سے علیحدگی اختیار کی تو اس کی بڑی اور اہم وجہ ریاست جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں، نوجوانوں کا قتل عام اور عوام الناس پر ڈھائے جارہے مظالم ہے۔
ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ آج کی تاریخ میں ہمارے نوجوان اس حل طلب کی طرف اقوام عالم کی توجہ مبذول کروانے کی خاطر اپنی جانیں قربان کررہے ہیں، ہمارے پی ایچ ڈی اسکالر اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مارا جارہا ہے۔ کشمیری عوام کشمیر مسئلہ کے حل کے لیے بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں تاہم سیاستدان اور کشمیر دشمن میڈیا یہاں کو حالات کو دوسرے ہی رنگ میں پیش کررہے ہیں۔ ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کو مالی پیکچ سے مشروط قرار دیا جارہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کشمیری نوجوان 500روپے کے عوض سنگ بازی کرتا ہے۔ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ میں نے ملک بھر میں اقلیتی طبقوں پر ہورہے ظلم و تشدد اور ماردھاڈ کے خلاف اپنی آواز کو بلند کیا۔ میں نے پوری دنیا میں اس ظلم و نا انصافی کے خلاف علم اُٹھائی کیوں کہ اس طرح کی فرقہ وارانہ صورتحال کو برداشت کرنے کا متحمل نہیں تھا۔’ڈاکٹر شاہ فیصل قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ کے نعروں کے بیچ سابق آئی اے ایس آفیسر نے بتایا کہ میں گزشتہ دس برسوں سے اس غیر یقینی صورتحال سے گزرا ہوں اور میں اس بات پر فکر مند تھا کہ میں کیسے عوام کی خدمت کروں تاکہ اُن کے مسائل اور مشکلات کو دور کرسکوں۔
انہوں نے بتایا کہ میں ایک سینئرآئی اے ایس آفیسر کے عہدے پر تعینات تھا تاہم لوگوں کے ساتھ ہورہی ظلم و زیادتی کی آگ میرے دل میں ہر وقت شعلے مارتی رہتی تھی اور میں اپنے عوام کے ساتھ ہورہی ناانصافی کو نظر انداز نہیں کرسکتا تھا۔ڈاکٹر شاہ فیصل کے مطابق بہت سارے لوگوں نے مجھے مشورہ دیا کہ سیاست غلاظت ہوتی ہے لہٰذا اس سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔ میں یہاں پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اگر سیاست واقعی غلاظت ہے تو ہمیں کلی طور پر اس سے اجتناب کرنا چاہیے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے کیوں کہ ہمارے سروں پر جو سیاست دان مسلط ہوچکے ہیں جن کا ضمیر عوام پر ہورہی ناانصافیوں کے خلاف بات کرنا مناسب نہیں سمجھتے، لیکن اچھے سیاست دانوں کی عدم موجودگی میں لوگوں کو چار و ناچار ایسے سیاست دانوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ میں نے یہاں کی غیر یقینی صورتحال ، کرپشن زدہ معاشرہ اور قتل و غارت گری کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا تھا کہ میں امریکہ میں ہی باقی زندگی صرف کروں گا اور وہاں سے ہی اپنے لوگوں کے حق میں بات کروں گا لیکن جب میں نے اپنے عوام کی مشکلات اور مسائل سے جانکاری حاصل کی تو میں اپنے عوام کے درمیان واپس لوٹنے پر مجبور ہوا۔ آج کی تاریخ میں جب کپوارہ کا کوئی باشندہ سرینگر جاتا ہے تو اُسے وہاں پر گوجر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ہمارے سرحدی ضلع کپوارہ میں زچگی کا کوئی جدید ہسپتال موجود نہیں ہیں ، اسی لیے یہاں سے سرینگر کا رخ کرنے والے بیماروں کو وہاں گھنٹوں لائن میں رہ کر مایوس ہی واپس لوٹنا پڑتا ہے۔یہی حال سرکاری دفاتر کا ہے ، اپنے جائز مطالبات کو حل کرنے کے لیے فائل کو ایک ٹیبل سے دوسرے ٹیبل تک لے جانے کے لیے رشوت کا سہارا لینا پڑتا ہے اور تب جاکر کہی کام بن پاتا ہے، لہٰذا ان تمام مسائل و مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں عوام اور اپنے درمیان حائل دیوار ’’بیوروکریسی‘‘ کو ختم کردوں اور اس طرح میں نے سرکاری نوکری سے استعفیٰ دے کر سیاست میں آگیا۔ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ جب میں آئی اے ایس آفیسر تھا تب اننت ناگ یا خطہ پیر پنچال سےتعلق رکھنے والے لوگ مجھ تک نہیں پہنچ پاتے تھے البتہ اب میں سماج کے سبھی طبقوں سے گل مل کر اُن کے مسائل و مشکلات سے واقفیت حاصل کرتا ہوں۔ٕٔ
وادی میں ترقیاتی ڈھانچے کی عدم موجودگی پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ یہاں کرپشن کا دور دورہ ہے، یہاں پر سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کررہی ہیں۔ ہمارے پاس اتنے آبی ذخائر موجود ہیں لیکن پھر بھی ہمیں بجلی کا رونا رونا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں محکمہ بجلی میں ایم ڈی کے عہدے پر تعینات تھا تو اُس وقت بیرونی کمپنیوں نے میرے ساتھ بات کی اور کہا کہ ہم یہاں سرمایہ کاری کرکے بجلی شعبہ کو بلندیوں تک پہنچائیں گے لیکن ریاست کی متنازعہ تقدیر نے انہیں ایسا کرنے سے پیچھے رکھا۔ڈاکٹر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ ہماری کشمیر یونیورسٹی، سکمز، جھیل ڈل ہیں لیکن وہ انتہائی حستہ حالی کا رونا رورہے ہیں اور ہم اس تباہی کا بس خاموشی سے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ خیال رہے ڈاکٹر شاہ فیصل کی ریلی میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو بڑے جوش و خروش کے ساتھ ’’دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیاشیر آیا‘ ‘ کے نعرے بلند کررہے تھے۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
