تازہ ترین
کشمیر میں انسانی خون کا زیاں بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ: گیلانی
خبراردو:
حریت چیرمین سید علی گیلانی نے لتر پلوامہ کے معرکے میں جاںبحق ہوئے عسکریت پسند کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے جموں کشمیر میں انسانی خون کی ارزائی رُکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
جموں کشمیر میں جو بھی خون خرابہ ہورہا ہے اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت کے حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے جو مسئلہ کشمیر کو اس کے جمہوری اور تاریخی پسِ منظر کی روشنی میں حل کرنے کے بجائے صرف اور صرف بندوق اور بارود سے حل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے جنوبی کشمیر کو قابض افواج اور ایس او جی کی جانب سے پلوامہ کے کئی دیہات میں لوگوں کے گھروں پر چھاپے ڈالنے اور 9نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی آمرانہ کارروائی کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تلاشی کارروائیوں کے نام پر عام لوگوں کے خلاف شدید بغض اور اشتعالی کارروائیوں کو روا رکھنا انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا عکاس ہے۔
گیلانی نے کہا کہ بھارت نے جموں کشمیر کے لوگوں کے حقِ آزادی کو جبری طور پر چھین لیا ہے ، جس کے لیے یہاں کے عوام بالعموم اور نوجوان بالخصوص عظیم اور بے مثال قربیان پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرفروش کشمیری قوم کی مظلومیت اور محکومیت ختم کرنے کے لیے اپنی عزیز جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں اور ہم پر ذمہ داری ڈالتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کی لاج رکھتے ہوئے حصولِ مقصد تک جدوجہد کو ہر قیمت پر اور ہر صورت میں جاری وساری رکھیں۔ گیلانی نے کہا کہ جموں کشمیر کی غیر یقینی سیاسی صورتحال اور عدمِ استحکام کی وجہ سے قیمتی انسانی زندگیاں بھینٹ چڑھ رہی ہیں اور اس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکمرانوں پر عائد ہوجاتی ہے، جو کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کا احترام کرنے کے بجائے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں اور اس خطے پر طاقت کے زور پر اپنا جبری قبضہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
حریت چیرمین نے کہا کہ بھارت کے غیر حقیقت پسندانہ رویہ کی وجہ سے جموں کشمیر میں قیمتی انسانی زندگیوں کا اتلاف برابر جاری ہے اور جبری فوجی قبضے کے خلاف ہمارے نوجوان آئے دن سرفروشی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے پلوامہ میں قابض افواج اور ایس او جی کی طرف سے نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے لیے لوگوں کو رات کے اندھیرے میں اپنے گھروں سے باہر نکالنے کے لیے مجبور کرنے، انہیں شدید نوعیت کے خوف وہراس کے ماحول میں دھکیل دینے، سرِعام معصوم لوگوں کی مارپیٹ اور تذلیل کرنے اور معصوم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے فرقہ پرست ارباب اقتدار کے سامنے ریاستی عوام کو تیسرے درجے کے شہری قرار دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حریت پسند عوام کا واحد قصور یہ ہے کہ انہوں نے بھارت کے جبری قبضے کو کبھی قبول نہیں کیا ہے اور نہ ہی وہ آئندہ ایسا کرنا اپنے حاشیۂ خیال میں بھی لاسکتے ہیں، البتہ تعجب اس بات پر ہے کہ بھارت زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ انکار کررہا ہے اور ہماری حقِ خودارادیت کی تحریک کو دبانے کے لیے اپنی اندھی طاقت کا بے تحاشا استعمال کرتا ہے۔
ادھر حریت چیرمین نے معروف کالم نویس زیڈ جی محمد کے برادر غلام حسن زاہد ، کشمیر نیوز سرویس کے مدیر اعلیٰ محمد اسلم بٹ کے والد خواجہ محمد سبحان بٹ اور جامع مسجد کشتواڑ کے امام وخطیب مولانا قاضی غلام نبی کے انتقال پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت کے لیے دُعا کی۔ انہوں نے غمزہ خاندانوں اور لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ ان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
