تازہ ترین
جموں میں مسلمانوں پر حملے گہری سازش :جماعت اسلامی
خبراردو:
جماعت اسلامی نے جموں مسلمانوں پر حملوں کو گہری سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں جموی مسلمانوں کو ڈرانے اور خوفزدہ کرنے اور اُن کے جان و مال کو نقصان پہنچانے کی خاطر وہاں کی فرقہ پرست قوتوں نے جس طرح کا ماحول کھڑا کرکے چن چن کر مسلمان بستیوں اور مساجد کو اپنا نشانہ بنایا اور اس لاقانونیت اور صریح غنڈہ گردی کو رُکوانے کے بجائے وہاں کی پولیس نے تماشائی کا جو رول ادا کیا وہ ہر صورت میں قابل مذمت ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں کے سنگھاسن اقتدار پر براجمان لوگ کھل کر مسلم دشمنی کامظاہرہ کررہے ہیں۔
پولیس کی نظروں کے سامنے درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش کرکے خاک میں تبدیل کیا گیا اور مسلمانوں کی بستیوں اور مساجد کو پتھر بازی کا نشانہ بنایا گیا لیکن پولیس بلوائیوں کو رکوانے کے بجائے انہیں فساد برپا کرنے کی کھلی چھوٹ دیتے نظر آتی ہے۔ کئی مقامات پر اپنی جائیداد کی حفاظت کی خاطر جمع مسلمانوں کی بھیڑ کو بھگانے کی خاطر پولیس کو اُن پر آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ سینکڑوں بلوائیوں پر مشتمل پرتشدد بھیڑ کو رکوانے کی خاطردوچار پولیس والے ہی نظر آئے اور وہ بھی ہاتھ جوڑ جوڑ کر ان بلوائیوں کو واپس جانے پر رضامند کرنے کی کوششیں کرتے نظر آرہے تھے۔
سوشل میڈیا پر یہ ساری تصویریں اور ویڈیوز موجود ہیں جو جموں پولیس کے گھناؤنے رول پر واضح ثبوت پیش کررہے ہیں۔ یہاں کی چند اقتدار پرست سیاسی پارٹیوں نے جس طرح جموں بند کال کی حمایت کی اُس سے وہ کھلے طور بے نقاب ہوگئیں اور یہاں کے عوام پر واضح ہوگیا کہ ان مفاد پرست سیاستدانوں نے جموں وکشمیر میں بسنے والی اکثریتی آبادی کے تحفظ یا مفادات سے کوئی لین دین نہیں ہے، وہ صرف کسی بھی طریقے سے اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونا چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر‘ جموں میں مسلم کش دھنگوں میں وہاں کی پولیس کے گھناؤنے اور جانبدارانہ رول کی کڑی مذمت کرنے کے علاوہ اُن سیاستدانوں کے رول پر بھی اظہار افسوس کرتی ہے جنہوں نے اس مسلم کش بند کی حمایت کرکے اپنے آپ کو مزیدبے نقاب کیا۔ نیز کشمیر چیمبر آف کامرس کو اپنے گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے تاکہ جموں کے فرقہ پرست قوتوں کی طرف سے باربار کشمیر مخالف کارروائیوں کا مؤثر توڑ کیا جاسکے۔
ایک طرف جموں کے کاروباری لوگ اربوں کھربوں روپے کا مال کشمیریوں کو فروخت کرکے اپنے سرمایہ میں اضافہ کررہے ہیں اور اپنا معیار زندگی بلند کررہے ہیں لیکن دوسری طرف جب بھی ان کو موقعہ ملتا ہے تو کشمیری مسلمانوں کے سینوں میں چھرا گھونپنے میں کوئی پس وپیش نہیں کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہاں کی حقیقی عوامی قیادت کے ساتھ ساتھ سیول سوسائٹی اور دانشور طبقے کو بھی ایک منظم اور مؤثر حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے یک جٹ ہوکر آگے آنا چاہیے تاکہ جموں اور یہاں پر موجود فرقہ پرست قوتوں کی ہر گھناؤنی چال کو بروقت ناکام و نامراد بنایا جاسکے۔اس کے علاوہ شمالی ہند کے مختلف علاقوں میں علی الخصوص تعلیمی اداروں میں کشمیری مسلمان طلبا اور تجار پر جس طرح منظم حملے کرائے گئے اس کے پس پردہ بھارت کی فرقہ پرست قوتیں کار فرما ہیں۔کئی مقامات پر کشمیری طلبا کو گھسیٹنے اور ان پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا گیا جو انتہائی افسوسناک اور قابل صد مذمت کارروائی ہے۔
جماعت اسلامی جموں وکشمیر‘ مقامی پولیس کو ان واقعات سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کرتی ہے جو اپنے لوگوں پر تشدد ڈھانے کے لیے ہر وقت مستعد رہتے ہیں اور اُن پر ہورہے ظلم کے خلاف انہیں آواز بلند کرنے کا کوئی جمہوری اور پرامن موقعہ فراہم کرنے کے لیے بھی آمادہ نہیں ہے۔ ان کو جموں میں کام کرنے والی ہم منصب پولیس کے رول سے سبق لینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کم از کم اپنے لوگوں سے جن کی وہ اولاد ہیں اور جن میں اُن کو رہنا بسنا ہے، منصفانہ سلوک کریں۔جماعت اسلامی جملہ انسانی حقوق کے تحفظ کی علمبردار تنظیم ہے کیوں کہ وہ اُس دین کی داعی جماعت ہے جس نے بھٹکے ہوئے انسان کو دوبارہ انسانیت کی راہ دکھائی اور عدل و انصاف کا بول بالا کیا۔ اس لیے جماعت اسلامی جموں وکشمیر‘ ہندوپاک کی حکومتوں پر زور دیتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں سے مل کر دیرینہ انسانی مسئلے کا ایک ایسا حل تلاش کریں جو یہاں کے عوام کی خواہشات کا آئینہ دار ہو اور عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کے عین مطابق ہو۔ اس مسئلے کے حل کے تلاش سے ہی اس خطے میں دائمی امن قائم ہوسکتا ہے۔ دریں اثنا ملی کاز کے پیش نظر جماعت اسلامی جموں وکشمیر‘ کشمیری تاجروں، سرکاری ملازمین اور ٹرانسپورٹروں کی طرف سے دئے گئے پرامن احتجاجی پروگرام کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
