تازہ ترین
جموں میں کرفیو ، کشمیر میں ہڑتال ، راجستھان میں 4طالبات ادارے سے بے دخل ، مکمل رپورٹ
خبراردو:
سرمائی راجدھانی جموں میں اتوار کو مسلسل تیسرے روز کرفیو کا نفاذ سختی سے جا ری رہاجس دوران علاقے میں پولیس اور فورسز کی بھاری نفری کو چپے چپے پر چوکنارکھا گیا۔اس دوران علاقے میں امن قانون کی صورتے حال کو بر قرار رکھنے کے لئے کسی کو بھی گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
تاہم حکام نے بتایا اہم خدمات چلانے والے لوگوں کو انتظامیہ کی جانب سے خصوصی کرفیو پاس فراہم کرنے کے بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی اجازت دی جا رہی تھی ۔ ادھر جانی پور علاقے میں سخت سیکورٹی کے باوجود حلات پر تناو رہے جس دوران یہاں رہائش پزیر کشمیریوں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ اس دوران حکام نے بتایا علاقے میں سیکورٹی کو کرفیو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ علاقے میں کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش نہ آئے۔ انہوں نے مذید بتایا علاقے میں حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی علاقے میں کسی نرمی یا کرفیو ہٹانے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے تاہم معلوم ہوا کہ علاقے میں اتوار کو بھی کرفیو میں کسی قسم کی نرمی کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ اس دوران جموں کے مختلف علاقوں میں رہائش پزیر لوگوں جن میں خاص کر عارزی طور رہائش اختیار کرنے والے لوگوں کے گھروں میں غذائی اجناس اور بچوں کے لئے دود اور ادویات می شدید قلت پیدا ہوئی ہے جس کے نتیجے میں مزکورہ لوگ خوف کے مارے گھروں سے باہر نکلنے میں بھی زبردست خوف محسوس کر رہے ہیں۔
ادھر وادی کشمیر میں جموں کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بیرون وادی میں کشمیریوں پر حملواور انہیں خوف ذدہ کرنے کے خلاف کشمیر کی سب سے بڑے تجارتی انجمنوں کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو چکچیرس فیڈریشن اور کشمیر اکنامک ائیلانس نے سنیچر کو کشمیر بند کی کال دی تھی جس کے نتیجے میں پوری وادی میں سخت ہڑتال جا ری رہی اور تمام دکانیں اور کار باری ادارے بند رہنے کے علاوہ سڑکوں سے ٹرانسپوٹ غائب رہا۔ ہڑتال کے دوران یہاں تمام نجی کار باری ادارے مکمل بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری صفر کے برابر رہی ہے ۔ ادھر وادی کشمیر کے شہر سرینگر کے حساس مقامات کے ساتھ ساتھ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ ،شوپیان ،اننت ناگ،پلوامہ،اونتی پورہ ،ترال ،پانپور، کوگام ،قاضی گنڈ ، بڈگام ،گاند بل ،کپوارہ ،ہندوارہ،سوپور،بارہمولہ ،بانڈی پورہ میں علاقوں سے نامہ نگاروں نے جو اطلاعات فراہم کی ہے ۔ ان کے مطابق یہاں مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمولات کی زندگی بری طرح متاثر رہی ہے ۔ جبکہ اکثر مقامات پر فورسز کی اضافی نفری کو امن و قانون کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے تعینات رکھا گیا ۔ اس دوران وادی کے کسی بھی علاقے سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے ۔
ادھر بیرون ریاستوں میں کاروی باری افراد جن میں خاص کر طلباء اور مختلف علاقوں میں کام کر رہے لوگوں پر حملوں اور خوف ذدہ کرنے کی کاروائیاں برابر جاری ہے ۔ادھرراجھستان ایک غیر سرکاری یونیورسٹی ’نیشنل انسٹچوٹ آف میڈیکل سانسز ‘میں زیر تعلیم 4کشمیری طالبات کو پلوامہ حملے کے سلسلے میں اپنے کمنٹس تحریر کرنے کی پاداش میں ادارے سے معطل کر کے بے دخل کر دیا گیا۔ ایک قومی اخبار میں شائع رپوٹ کے مطابق معطل شدہ طالبات میں تلوین منظور ،اقراء،ظہرا نذید اور عظمی نذیر شامل ہیں جو مختلف شعبہ جات میں زیر تربیت ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ چاروں کشمیری طالبا ت کی جانب سے وٹس اپ چیٹ وائرل ہوا ہے جس کے بعد ادارے میں زیر تعلیم کچھ طلباء اور عام شہری سنیچر کے روز مزکورہ طالبات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے جس کے بعد انہیں ادارے سے بے دخل کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا چاروں کشمیری طالبات کمپس میں موجود نہیں ہیں اور ان کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں ۔ادھر چند واجی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نے بتایا کمپس میں احتجاج کی اطلاع کے بعد پولیس پارٹی کو یہاں روانہ کیا گیا تاہم انہوں نے بتایا علاقے میں حالات کنڑول میں ہیں ۔جبکہ پولیس میں اس بارے میں طالبات کے خلاف کیس درج کے لرنے کے حوالے سے کسی نے کوئی شکایت نہیں کی ہے ۔اور ناہی کوئی ایف آئی درج کیا گیا۔ادھر ملک کے مختلف ریاستوں سے کشمیری طلبا کو اشیاء فراہم نہ کرنے اور انہیں مزکورہ علاقے چھوڈنے کی دہمکیاں مسلسل مل رہی ہیں ۔ادھر کچھ طلبا نے بتایا ہم وادی واپس لوٹنا چاہتے ہیں تاہم جموں میں کرفیو اور ہوائی کرائیوں میں اضافے کی وجہ سے انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔انہوں نے بتایا خراب حالات کے بعد ان کی تعلیم بھی متاثر ہوئی ہے ۔
ادھر وادی سے باہر جموں یا بیرون ریاست میں اس وقت مقیم لوگوں کے افراد خانہ اور والدین شدید ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہوئیں ہیں ۔ ادھر ریاستی انتظامیہ نے ملک طلباء اور کشمیر سے باہر مقیم لوگوں کے لئے خصوصی ہیلپ لائن نمبرات جاری کئے ہیں تاکہ ضرورت مند لوگ کسی بھی وقت پولیس کے یا انتظامیہ کے ساتھ رابطہ قائم کر سکیں گے ۔ خیال رہے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے لتتہ پورہ اونتی پورہ میں شرینگر جموں شاہراہ پر جنگجوؤں کے خود کش حملے میں 49سی آر پی ایف اہلکارہلاک ہوئے جس دوران 30سے زیادہ زخمی ہوئے ۔جس کے بعد پورے ہندوستان میں واقعے پر مذمت کر کے مہلوکین کے رشتہداروں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔
اس دوران جموں میں ’جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ‘نے جموں بند کی کال دی تھے جس دوران یہاں جمعہ کے روز تشدد بھڑک اٹھا ۔جس میں بلوائیوں نے سینکڑوں کشمیریوں کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کیا اور ان میں بعض کو آگ کے حوالے کیا۔جبکہ کئی مقامات پر مسلم اکثر یتی علاقوں میں پتھراو اور حملے بھی کئے ہیں۔ اس دوران علاقے میں مذہبی بھائی چارے کو نقصان پہنچانے اور لاکھوں کی املاک کو راکھ کرنے کے بعد کرفیو کا نٖاز عمل میں لایا ہے جو اس رپوٹ کو مکمل کرنے تک جاری تھا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
