تازہ ترین
ہندوارہ : جنگجوؤں کی دوبارہ فائرنگ سے سے سی آر پی ایف انسپکٹر اور ایس او جی اہلکار ہلاک، 5فوجی اہلکار زخمی
خبراردو:
سرحدی قصبہ لنگیٹ کے کھانو باباگنڈ علاقے میں فوج اور فورسز نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو کڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو تلاش کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ معلوم ہوا کہ فوج کی 22آر آر، 92بٹالین سی آر پی ایف اور جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے خصوصی دستوں نے کھانوباباگنڈ علاقے کا جنگجوؤں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد کڑا محاصرہ عمل میں لایا۔ فوج و فورسز نے اس موقعے پر گاؤں کے اندرون و بیرون راستے کو مکمل طور پر سیل کرتے ہوئے فرار کے تمام ممکنہ راستوں پر کڑے پہرے بٹھاتے ہوئے یہاں فورسز کی بھاری نفری کو تعینات کردیا۔
ذرائع نے بتایا کہ محاصرے کے دوران فورسز نے علاقے میں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا تاہم 5گھنٹے تک جاری تلاشی آپریشن کے دوران فورسز کو کوئی بھی سراغ ہاتھ نہیں لگا۔ انہوں نے بتایا کہ جونہی طویل وقفے کے بعد تلاشی پارٹی مشتبہ مقام کے نزدیک پہنچ گئی تو یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پر خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔ معلوم ہوا کہ فورسز نے بھی مورچہ سنبھالتے ہوئے جنگجوؤں کی فائرنگ کا جراب دیا اور اس طرح علاقے میں باضابطہ طور پر جھڑپ شروع ہوئی۔
معلوم ہوا کہ شبانہ مسلح تصادم آرائی کے دوران گاؤں میں گولیوں اور سماعت شکن دھماکوں کی آوازیں سنی گئی جس کے نتیجے میں آبادی گھروں میں سہم کر رہ گئی تاہم صبح ہوتے ہی باباگنڈ اور متصل علاقوں سے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ معلوم ہوا کہ مظاہرین نے علاقے میں تعینات فورسز اہلکاروں پر شدید خشت باری کرنے کے ساتھ ساتھ جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی شروع کی۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے فورسز اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے کے علاوہ اسلام ، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں بھی زور دار نعرے لگائے جبکہ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی شروع کرنے کی کوشش کی تاہم یہاں موجود اہلکاروں نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان شدید جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر فورسز اہلکاورں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے۔ معلوم ہوا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں 5نوجوان زخمی ہوئے جنہیں علاج و معالجے کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ جبکہ زخمیوں میں ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا ہے .
جبلاک میڈیکل آفیسر لنگیٹ نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ فورسز کارروائی میں 5نوجوان زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 2کو معمولی چوٹیں آئی تھی اور انہیں ابتدائی مرہم پٹی کے بعد گھروں کو روانہ کردیا گیا تاہم زخمیوں میں سے 3نوجوانوں کے چہرے اور دیگر اعضا میں پیلٹ پیوست ہوئے ہیں جنہیں علاج و معالجے کی خاطر ڈسٹرکٹ ہسپتال ہندوارہ منتقل کیا گیا ہے۔
ادھر ذرائع نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے جنگجوؤں کی نقل و حرکت کو مسدود کرنے کی خاطر دوران شب ہی علاقے میں جنریٹر نصب کرتے ہوئے روشنی کا انتظام کیا۔ادھر فورسز نے دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ جھڑپ کے دوران 2عدم شناخت جنگجوؤں کو جاں بحق کردیا گیا تاہم جونہی جائے جھڑپ پر فورسز اہلکارجنگجوؤں کی لاشوں کو حاصل کرنے کی غرض سے آگے بڑھے تو یہاں زندہ جنگجوؤں نے فوج پر شدید فائرنگ کرتے ہوئے سی آر پی ایف انسپکٹر سمیت ایس او جی اہلکار کو موقعے پر ہی ہلاک کردیا۔ ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں کی دوبارہ فائرنگ کے نتیجے میں سی آر پی ایف کی 92بٹالین سے وابستہ پنٹو نامی انسپکٹر اور ایس او جی ہندوارہ سے تعلق رکھنے والے نصیر احمد گولیاں لگنے سے لقمہ اجل بن گئے۔
انہوں نے بتایا کہ طرفین کے درمیان دوبارہ شروع ہوئی فائرنگ کے نتیجے میں فوج کے 5اہلکار بھی بری طرح سے زخمی ہوگئے جنہیں علاج و معالجے کی خاطر فوجی ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔ادھر علاقے میں آخری اطلاعات موصول ہونے تک طرفین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔ادھر جھڑپ میں عام شہریوں کی جانیں تلف ہونے کے پیش نظر پولیس نے عوام کے نام ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں جائے جھڑپ کے قریب جانے سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی۔
پولیس کا کہنا تھا کہ طرفین کی گولی باری کے نتیجے میں عین ممکن ہے کہ جائے جھڑپ کے ارد گرد کوئی بارودی شل پھٹنے سے رہ گیا ہو لہٰذا جب تک نہ فورسز اہلکار جائے جھڑپ کو بارودی مواد سے مکمل طور پر صاف کریں گے تب تک عوام یہاں آنے سے پرہیز کریں۔اس دوران علاقے میں جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں معمول کی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ معلوم ہوا کہ جمعہ کو دن بھر باباگنڈ اور مضافاتی علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں تجاری، عوامی، کاروباری اور غیر سرکاری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں پر بھی ٹریفک کی نقل و حمل بری طرح سے متاثر رہی۔ ادھر انتظامیہ نے ضلع بھر میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور بے لگام افواہ بازی کی روک تھام کے لیے ضلع بھر میں تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
