تازہ ترین
لوک سبھا انتخابات : شیڈول جاری؛ضابطہ اخلاق نافذ،پارلیمانی و اسمبلی انتخابات علیحدہ علیحدہ؛ سیاسی پارٹیوں کا اظہار افسوس
خبراردو:

رواں سال منعقد ہورہے لوک سبھا انتخابات سے متعلق حتمی شیڈول کو جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اتوار کو انتخابی عمل سے متعلق تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے تمام قیاس آرائیوں سے پردہ اُٹھایا۔ چیف الیکشن کمشنر سنیل ارورا نے نئی دہلی میں پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ملک بھر میں رواں برس منعقد ہورہے لوک سبھا انتخابات 11اپریل 2019سے شروع ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کی تمام ریاستوں بشمول جموں وکشمیر میں لوک سبھا انتخابات 7مرحلوں میں منعقد ہوں گے جس دوران رائے دہندگان اپنی رائے کا جمہوری طریقے پر استعمال کرتے ہوئے منتخب اُمیدواروں کو میدان میں لائیگی۔انتخابات سے متعلق شیڈول کو جاری کرنے کے دوران چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا نے واضح کیا کہ شیڈول کو جاری کئے جانے کے ساتھ ہی ملک بھر میں انتخابات سے متعلق ضابطہ اخلاق نافذ ہوگیا ہے۔ای سی آئی نے سماجی رابطہ سائٹ فیس بک کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کی تشہیر الیکشن سے 48گھنٹے بند ہونی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ 7مرحلوں پر محیط انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد 23مئی 2019کو انتخابات کے نتائج ظاہر کئے جائیں گے۔چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا سنیل ارورا کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے کے دوران 11اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ 18اپریل 2019کو دوسرے مرحلا شروع کیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ 23اور 29اپریل کو بالترتیب تیسرے اور چوتھے مرحلے کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ پانچوے، چھٹے اور ساتوے مرحلے کے لیے بالترتیب 12,6اور 19مئی کو ووٹنگ عمل میں لائی جائیگی۔ادھر چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کی 6پارلیمانی نشستوں پر4مرحلوں میں انتخابات منعقد کرائے جائیں گے جہاں بالترتیب 23, 18, 11اور 29اپریل کوووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ 23مئی 2019کو ووٹوں کی گنتی عمل میں لائے جائیگی۔
الیکشن کمشنر آف انڈیا کاکہنا تھا کہ اندھرا پردیش، سکم، اروناچل پردیش اور اُریسہ میں اسمبلی و پارلیمانی انتخابات ایک ساتھ منعقد ہوں گے تاہم ریاست جموں وکشمیر میں سیکورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کو ایک ساتھ منعقد کرانا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے حال ہی میں ریاست جموں وکشمیر کا دورہ کرتے ہوئے یہاں گورنر ستیہ پال ملک کی قیادت والی انتظامیہ، سیاسی جماعتوں اور سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ریاست کی سیاسی و سیکورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تاہم جو رپورٹ ہمیں سیکورٹی ذرائع نے فراہم کی اُس اعتبار سے فی الوقت لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کو ایک ساتھ منعقد کرانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی مجموعی سیکورٹی صورتحال گھمبیر اور پرتناؤ ہے لہٰذا فی الوقت صرف لوک سبھا انتخابات کو ہی منعقد کیا جائیگا۔
ادھر ریاست کی مین اسٹریم پارٹیوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کو علیحدہ علیحدہ منعقد کرانے کے فیصلے پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ نیشنل کانفرنس، کانگریس ، بی جے پی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ ریاست کی سبھی سیاسی جماعتیں انتخابات کے لیے تیار تھی تاہم الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے اس طرح کا فیصلہ آنا جمہوری اقدار کی کھل کھلا پامالی ہے۔ مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں کا ما ننا ہے کہ اگرالیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق ریاست جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات سے متعلق حالات سازگار نہیں ہے تو لوک سبھا انتخابات کے لیے حالات کیسے ٹھیک ہے؟.
ادھر خفیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے لوک سبھا انتخابات سے متعلق شیڈول کو جاری کردینے کے نتیجے میں اسمبلی انتخاب کا انعقاد کھٹائی میں پڑگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی سرکار موجودہ صورتحال میں پے در پے لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی انتخابات کو منعقد کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
ذرائع نے بتایا کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاست میں لوک سبھا انتخابابات کے انعقاد سے اسمبلی انتخابات ایک سال کے لیے ٹل گئے ہیں اور سرکار سال 2020میں اب اسمبلی انتخابات کو منعقد کریگی۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
