تازہ ترین
ویڈیو:اگرریاستی پارلیمانی انتخابات ممکن تو اسمبلی انتخابات کیوں نہیں؟
خبراردو:
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آخر کار ملک میں لوک سبھا انتیخابات کے انعقاد کا اعلان کر ہی دیا ۔ پورے ملک میں 11اپریل سے سات مرحلوں میں انتخابات کرائے جائے گے ارو نتائج 23 مئی کو سامنے آئے گے ۔
جبکہ ریاست جموں کشمیر میں بیک وقت اسمبلی و پارلیمانی انتخابات کو کرانے کی خبروں کے بیچ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اسمبلی انتخابات کو نہ کرانے کا اعلان کر دیا اورن ابھی صرف 6 پارلیمانی نشستوں کے لئے پانچ مراحل میں 11 اپریل سے انتخابات ہونگے ،۔
الیکشن کمیشنر آف انڈیا سنیل اروڑہ نے اسمبلی انتخابات کے متعلق کہا کہ ریاست میں حالیہ تشدد کے واقعات اور سلامتی سے متعلق دیگر باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ۔
ریاستی چیف الیکٹورل افسر شیلندر کمار نے ای سی آئی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں سیکورٹی وجوہات کی بناء پر اسمبلی و پارلیمانی انتخابات ایک ساتھ نہیں کرائے جا سکتے ۔ پارلیمانی چناؤ کے برعکس اسمبلی انتخابات میں زیادہ سیکورٹی انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے اور امیدواروں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے ۔
لیکن دوسری طرف ریاستی سیاسی پارٹیاں جو اسمبلی انتخابات کے بس دن گن رہی تھی ، نے اس فیصلے پر کافی برہمی کا اظہار کا اظہار کرتے ہوئے سیدھے وزیر اعظم مودی پر حملہ بولا ۔سب سے پہلے ریاست کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہیں ٹویٹس کے زریعے مودی کو نشانہ بناتے ہوئے وقت پر اسمبلی انتخابات منعقد کرنے میں ناکامی کے تناظر میں لکھا کہ پی ایم مودی نے ، پاکستان ، حریت ، اور عسکریت پسندوں کے سامنے خود سپردگی کر لی ہے.،
این سی صدر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ریاست کی سبھی پارٹیاں ایک ساتھ لوک سبھا و اسمبلی انتکات کرانے کے حق میں ہیں ۔ مودی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کیلئے ریاست میں حالات موافق ہیں لیکن ریاستی انتخابات کیلئے نہیں.
پی ڈپی پی صدر محبوبہ مفتی نیکہا کہ جموں کشمیر میں صرف لوک سبھا انتخابات کرانے کا فیصلہ مودی حکومت کی خراب سوچ ہے ، عوام کو حکومت نہیں چننے دینا جمہوریت کے اصولوں کے منافی ۔
کانگریس کے غلام احمد میر نے مرکز کی طرف سے ریاست کی صورتحال کو سنبھالنے میں ناکامی کا خمیازہ اسے قرار دیا ۔
سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ اگر حالات خراب ہیں تو لوک سبھا ا نتخابات کیسے ہونگے ۔
ادھر بی ایس پی صدر مایاوتی نے مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا عام انتخابات کے ساتھ نہ کرانا مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے ۔
اسمبلی انتخابات کے پھر سے ملتوی کئے جانے پر مرکزی سرکار پر کہیں سوالات کھڑے ہو رہے ہیں ، کہ اگر گونر انتظامیہ بلدیاتی و پنچایتی انتکابات پر امن طریقے میں انعقاد کرا سکتی ہے تواسمبلی انتخابات کیوں نہیں ، جبکہ مودی نے تب گورنر کو ان انتخابات کے کامیاب انعقاد کیلئے مبارکباد بھی دی تھی ۔
دوسری طرف بھاجپا جنرل سیکرٹری رام مادھو نے کہا کہ بھاجپا بھی بیک وقت انتخابات کے حق میں تھی لیکن ای سی نے مختلف پہلوؤں پر نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا اور پارٹی اس فیصلے کو قبول کرتی ہے ۔
اب الیکشن کمیشن نے اسمبلی انتخابات کو کرانے کیلئے خاص مبصرین کی تین رکنی کیمٹی تشکیل دی ہے جو ریاست کی زمینی صورتحال کو دیکھ کر کمیشن کو رپورٹ پیش کریں گے کہ آیا یہاں پر انتخابات کرائے جا سکتے ہیں یا نہیں ۔
ان میں 1977 بیچ کے آئی اے ایس آفیسر ڈاکٹر نور محمد ، سنہ 82ء بیچ کے آئی اے ایس آفسر ونود زتشی ، اور سنہ 72ء کے آئی پی ایس افسر اے ایس غل شامل ہیں ۔
سیاسی پارٹیوں کی تنقید کے بیچ گزشتہ روز ای سی آئی نے چنے گئے تین خاص مبصریین کے ساتھ ۲ کگھنٹے کی میٹنگ کی ، جس میں انہیں جلد از جلد ریاست کا دورہ کرنے کی درخواست کی گئی ۔
وہیں اگر ریاست میں صدارتی راج کے چھ مینوں میں انتخابات نہیں کرائے گئے تو صدر رول کو مزید چھ مینہوں کیلئے بڑھایا جائے گا ۔
ریاست میں یہ آٹھویں بار مختلف وجوہات کی بناء پر سرکار نہ سکنے کی وجہ سے صدر راج نافظ کیا گیا ۔
سب سے زیادہ عرصے کے لئے ریاست میں نوے کی دہائی میں شروع ہوئے شورش کی وجہ سے جنوری1990 سے لے کر 1996 تک سات سال کیلئے صدر راج نافظ رہا تھا ۔،
اب دیکھنے وا؛لی بات ہو گی کہ کیا الیکشن کمیشن آف انڈیا اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر کے اسمبلی انتخابات کو پارلیمانی انتخابات کیساتھ یا ان کے آس پاس ہی کرائے گی یا نہیں؟.
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے رکشا بندھن پر عوام کو مبارکباد دی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو رکشا بندھن کے موقع پر عوام کو دلی مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ یہ ۔تہوار تمام شہریوں کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے رکشا بندھن کو محبت اور مضبوط انسانی رشتوں کی علامت قرار دیا۔
مسٹر مودی نے کہا، ’’رکشا بندھن پر دلی مبارکباد۔ یہ تہوار آپ سب کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔‘‘
وزیر اعظم نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ لوگوں کے درمیان محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کے رشتے مضبوط اور پائیدار رہیں گے۔
انہوں نے کہا، ’’محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کا دھاگا ہمیشہ اٹوٹ رہے، یہی میری دلی خواہش ہے۔‘‘
رکشا بندھن، جسے عام طور پر راکھی کے نام سے جانا جاتا ہے، پورے ہندستان میں محبت، خیال اور تحفظ کے رشتے کی عکاسی کرنے والے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے، خاص طور پر بھائی بہن کے درمیان۔
بہنیں روایتی طور پر اپنے بھائیوں کی کلائی پر راکھی کے نام سے معروف مقدس دھاگا باندھتی ہیں، جبکہ بھائی اپنی بہنوں کی مدد اور حفاظت کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔
یہ تہوار خاندانوں اور برادریوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، جہاں لوگ تحائف، مٹھائیاں اور مبارکباد کا تبادلہ کرتے ہوئے محبت، اعتماد، اتحاد اور باہمی احترام کی پائیدار اقدار کا جشن مناتے ہیں۔
یو این آئی، ایم جے
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
