تازہ ترین
مختلف پارٹیوں کی الیکشن کمیشن کے وفد سے ملاقات،این سی، سی پی آئی (ایم)، پی ڈی ایف اور ڈی پی این کا بائیکاٹ
خبراردو:
ریاست جموں وکشمیر کے دورے پر آئے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے سہ رکنی وفد کے ساتھ علاقائی سیاسی جماعتوں میں سے بعض نے دوری اختیار کرتے ہوئے بائیکاٹ کی راہ اختیار کی تاہم کانگریس، پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس اور بی جے پی نے وفد کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کرتے ہوئے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ساتھ اسمبلی انتخابات کو جلد منعقد کرانے پر زور دیا۔ ملاقاتیں کرنے والی سیاسی پارٹیوں نے وفد پر واضح کیا کہ اگر لوک سبھا انتخابات کے حوالے سے ریاست میں حالات سازگار ہے تو اسمبلی انتخابات کے لیے حالات ٹھیک کیوں نہیں؟سہ رکنی کمیشن میں سابق آئی اے آفسر ونود زتشی، نور محمد اور سابق آئی پی ایس آفسر اے ایس گل شامل ہیں جنہیں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ریاست کی زمینی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے اور یہاں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ گورنر انتظامیہ سے ملاقات کرنے اور حالات سے آگہی حاصل کرنے کے لیے بھیجا ہے تاہم اس دوران مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے ملا جلا ردعمل دکھا یا ہے جس دوران چند سیاسی پارٹیوں نے وفد کے ساتھ ملنے سے بائیکاٹ کیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ جن سیاسی پارٹیوں نے سہ رکنی وفد کے ساتھ ملاقات نہیں کی ان میں نیشنل کانفرنس، سی پی آئی (ایم)، پی ڈی ایف اور ڈی پی این شامل ہیں تاہم پی ڈی پی ، کانگریس اور بی جے پی کے وفود نے مبصرین کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہوئے انہیں زمینی صورتحال سے آگاہی فراہم کرنے کے علاوہ ریاست میں اسمبلی انتخابات کو جلد منعقد کرانے پر زور دیا۔ذرائع سے معلوم ہوا کہ کانگریس، پی ڈی پی، پی سی اور بھاجپا نے وفد کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کرکے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کو ایک ساتھ منعقد کرانے پر زور دیا۔ادھر کانگریس کی جانب سے سینئر لیڈر تاج محی الدین اور ایم ایل اے بانڈی پورہ عثمان مجید کی سربراہی میں وفد نے مبصرین کے ساتھ ملاقات کی جبکہ پی ڈی پی کے وفد جس کی قیادت سابق ایم ایل اے سونہ وار محمد اشرف میر اور سابق ایم ایل اے بتہ مالو نور محمد کررہے تھے نے بھی الیکشن کمیشن آف انڈیا کے وفد کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے انہیں اپنی رائے سے آگاہ کیا۔
اس دوران پیپلز کانفرنس کے وفد جس میں عبدالغنی وکیل اور جنید عظیم متو شامل تھے نے وفد کو ریاست میں لوک سبھا کے ساتھ ساتھ اسمبلی انتخابات کو بھی فوری طور پر منعقد کرائے جانے کا مطالبہ کیا۔ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی کے اعلیٰ سطحی وفد جس میں آصف مسعودی اور ایم ایم وار شامل تھے نے بھی کمیشن کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے انہیں ریاست کی مجموعی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے یہاں لوک سبھا اوراسمبلی انتخابات کو ایک ساتھ منعقد کرانے پر زور دیا۔کشمیرنیوز سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے پی ڈی پی لیڈر محمد اشرف میر کا کہنا تھا کہ پارٹی کا ایک وفد الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہوا جس دوران انہیں اسمبلی الیکشن کو فوری طور پر منعقد کرانے پر زور دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے پہلے ہی کمیشن پر واضح کردیا ہے کہ ریاست میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کو ایک ساتھ منعقد کرایا جانا چاہیے۔ادھر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکرٹری عثمان مجید کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی سے ایک وفد نے آج الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا جس دوران کمیشن کو ریاست کی مجموعی صورتحال سے آگاہی فراہم کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ وفد نے کمیشن پر واضح کردیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حال ہی میں لیے گئے فیصلے سے ریاستی عوام بہت ناراض ہے۔وفد کو بتایا گیا کہ اسمبلی انتخابات کو مؤخر کرنے سے لوگوں کے قلب و ذہن میں مختلف شکوک نے جنم لیا ہے، لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ریاست میں لوک سبھا انتخابات کے لیے حالات سازگار ہے تو اسمبلی انتخابات سے متعلق حالات خراب کیسے ہوسکتے ہیں؟ ہم نے کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ریاست میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات جون سے قبل ہی ایک ساتھ منعقد ہونے چاہیے ۔
اس دوران پیپلز کانفرنس کے وفد نے بھی ملاقات کرتے ہوئے ریاست میں اسمبلی انتخابات کو فوری طور پر منعقد کرانے پر زور دیا۔ اس دوران سابق مخلوط حکومت میں ساجھے دار جماعت بھاجپا کے جنرل سیکرٹری اشوک کول نے بتایا کہ پارٹی کا اعلیٰ سطحی وفد آصف مسعودی اور ایم ایم وار نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے اس بات کو دہرایا کہ ریاست میں اسمبلی الیکشن کو فوری طور پر منعقد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی نے اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر اسمبلی الیکشن کو منعقد کرانے پر زور دیا ۔ اشوک کول کا کہنا تھا کہ پارلیمانی انتخابات ہوں یا اسمبلی ، بی جے پی میدا میں تیار ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حتمی فیصلہ لینے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کو ہے اور وہ جو بھی فیصلہ لیتے ہیں پارٹی اُس کو کھلے دل سے قبول کرے گی۔
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
