پاکستان
ویڈیو: پاکستان کی کالعدم جماعتوں کے خلاف کارروائیاں :کیا عالمی دبائو کی وجہ سے ؟
خبراردو:
عالمی دباؤ کے بیچ پچھلے ایک ہفتے سے پاکستانی حکومت نے کالعدم جماعتوں کے خلاف پورے ملک میں کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور اس کے تحت پاکستانی حکومت نے مختلف کالعدم جماعتوں کے180 مدرسوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے ، جبکہ 150 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق انہوں نے مزید دیگر جماعتوں کے 34 سکول 160 دواخانے180 سے زائد ایمبولینس پانچ ہسپتال اور کہیں دفاتر کو اپنے قبضے میں کر لیا ہے .
جبکہ حافظ سعید کی جماعت الدعوہ نامی کالعدم تنظیم کے پاکستان میں300 مدرسے چل رہے ہیں ، اور اس تنظیم کا لاہور میں ہیڈکوارٹر،اسکی فلاح انسانیت تنظیم کو بھی اپنے قبصے میں کر لیا ہے ،۔
۹ گیارہ حملوں کے بعد پاکستان نے لشکر طیبہ اور جیش محمد پر پابندی عائد کر دی تھی، لشکر طیبہ نے نام بدل کر جماعت الدعوہ رکھ دیا۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کا لشکر طیبہ کیساتھ کوئی تعلق ہے ،یہ ایک الگ جماعت ہے ،۔
جیش محمد کے بانی مولانا مسعود اظہر کے بھائی کو بھی حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے ، جبکہ مسعود اظہر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہیں2016 سے ہی سرکار نے حفاظتی تحویل میں رکھا ہے تا ہم اس دوران بھی وہ اپنے حامیوں کے لئے آڈیو پیغام جاری کرتے رہتے ہیں ۔
بھارت نے جماعت الدعوہ پر الزام ہے کہ اسی گروپ نے 2001 پارلیمنٹ اور 2008 کے ممبئی حملے کروائے ۔ اسکے بعد اسی سال اقوام متحدہ نے اس جماعت کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر پابندی عائد کر دی تھی ۔
پاکستان نے اگر چہ 2002 میں ان دو بڑی کالعدم جماعتوں پر پابندی عائد کر دی تھی ، تاہم پاکستان ان کی سرگرمیوں پر روک لگانے میں ناکام ثابت ہو ا جس کی وجہ سے پاکستان فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی لسٹ میں گرے لسٹ میں چلا گیا ہے ۔
پاکستان نے گزشتہ سا ل ان جماعتوں کو مین سٹریم میں لانے کے لئے انتخابات میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا تھا ، جس میں جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید نے ایک نئی سیاسی جماعت بنا کر سیاست میں آئے تھے ، لیکن وہ کوئی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئے ،۔وہیں حکومت ان جماعتوں پر سیدھے ہاتھ ڈالنے پر بھی کترا رہی ہے کہ کہیں ان کی طرف سے جوابی تشددکی کارروائیاں نہ کی جائے .
جیش اور جماعت الدعوہ دونوں ریاستی حامی تصور کی جاتی ہیں ، اگر چہ حافطٖ سیعد کی جماعت سے جوابی کاروائی کا امکان کم ہے تاہم جیش محمد ایسی کارروائیاں کر سکتی ہے ،2002 میں بھی جب جیش پر پابندی عائد کی گئی تھی تو اس جماعت سے الگ ہو جانے والے ایک گروہ نے پرویز مشرف کو ہلاک کرنے کی ناکام کوشش کی تھی ۔
اب سوال ہے کہ کہ کیا واقعی پاکستان عالمی دباؤ کی وجہ سے ان گروپوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے ؟
پاکستان کے وزیر داخلہ شہر یار آفریدی نے کہا کہ یہ کارروائیاں کسی بیروانی دبائو کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومت نے پہلے سے ہی نیشنل ایکشن پلان کے تحت منصوبہ بنایا تھا ۔دوسری طرف فروری میں فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی لسٹ کی گروپ جائزہ میٹنگ ہوئی جس میں پاک فائنانس سیکریٹری عارف احمد خان کی سربراہی میں پاکستان کی ایک ٹیم نے حصہ لیا ۔ جس کے بعد ہی پاکستان نے ان جماعتوں پرپابندی عائد کرتے ہوئے اساسے ضبط کئے ہیں ۔ اور ان جماعتوں کو ہائی رسک زمرے میں رکھا گیا ہے ، اور اب FATF پاکستان کی ان گروپوں کے خلاف کاروائی پر مارچ ،مئی اور آخر پر جون میں جائزہ لے گی ، کہ آیا پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر کیا جائے یا یا بلیک لسٹ میں ہی رکھا جائے ۔
ادھر عمران خان نے ان کاروائیاں کے بعد کہا تھا کہ پاکستان کو کسی بھی دہشت گرد سرگرمی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا ۔
جبکہ دوسری طرف بھارت ان کارروائیوں سے مطمئن نہیں دیکھائی دے رہا ۔ وزرات خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ نیے پاکستان کو چائیے کہ وہ نئی سوچ کیساتھ ان تنظیموں کے خلاف کاروائی کرے ۔
اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ ان کارروئیاں کے نتائج کیا بر آمد ہوتے ہیں ۔
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
