تازہ ترین
جنوبی کشمیر کے عوام نے محبوبہ مفتی کے سیاسی آنسوؤں کا بہت خمیازہ بھگتا : عمر عبداللہ
خبراردو:
ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ ہم ایک آواز میں بات کریں، جب ہم کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا سیاسی حل ہونا چاہئے تو ہمیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ، ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ایک سازش کے تحت ہمیں ٹولیوں میں بانٹا جاتا ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے آج ڈاک بنگلہ اننت ناگ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کے این ایس کو موصولہ بیان کے مطابق اس موقعے پر جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سٹیٹ سکریٹری سکینہ ایتو، شمالی زون صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری، ضلع صدر اسلم آباد الطاف احمد کلو اور پیر محمد حسین کے علاوہ کئی لیڈران موجو دتھے۔ اجتماع میں سابق جسٹس سید توقیر احمد اور پی ڈی پی کے سابق جنرل سکریٹری غلام رسول ملک نے باضابطہ طور پر نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی اور دونوں کا پارٹی میں خیر مقدم کیا گیا۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’’میں جمہوریت کیخلاف نہیں ، مجھے یہ غلطی فہمی نہیں ہے کہ صرف نیشنل کانفرنس کو ہی اقتدار کی کرسی سنبھالنے کا حق ہے ، لیکن یہ نئی جماعتیں صرف کشمیر کیوں آرہی ہیں ، جموں اور لداخ میں ایسا رجحان کیوں نہیں ، وہاں کے لوگ کو بھی جمہوری حق حاصل ،وہاں جب لڑائی ہوتی ہے تو سیدھے دو یا تین جماعتوں میں ہوتی ہے لیکن وادی میں دس پندرہ جماعتوں میں مقابلہ آرائی ہوتی ہے، کوشش یہی ہوتی ہے کہ جنوبی کشمیر میں کوئی ایک جماعت آئے، وسطی کشمیرمیں دوسری جماعت جیتے اور شمالی کشمیر میں تیسری پارٹی جیت حاصل کرے، تاکہ ہم بکھر جائیں اور ہماری آواز میں کوئی وزن نہ رہے۔ نیشنل کانفرنس کے بانی شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے اپنی قید حیات میں ہی اس کی پیش گوئی کی تھی اور کہا تھا کہ مرکز میرے مرنے کے بعد یہاں کے لوگوں کی آواز کو تقسیم کرنے کیلئے گلی گلی لیڈر بنائے گا۔ ‘‘
نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم ایک ہی لگام کو پکڑیں اور اُن تمام سازشوں کو ناکام بنائیں جس کے ذریعے ہمیں بانٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہی والی سابق حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ان لوگوں نے یہاں حالات اتنے خراب کئے ہیں کہ اننت ناگ پارلیمانی نشست کے انتخابات 3مراحل میں ہیں جبکہ کئی ریاستوں میں، جہاں 20تیس پارلیمانی نشستیں ہیں، ایک ہی دن ووٹنگ ہے۔حالات اس قدر خراب کئے گئے ہیں کہ یہاں تین دن ووٹنگ ہوگی، 2016، 2017اور 2018میں تو یہاں اس نشست کے ضمنی انتخابات بھی نہیں کر پائے اور لوگوں کو فیصلہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے کہا ’’ الیکشن کا بگل بج گیا ہے، جس الیکشن کی ہم اُمید کررہے تھے وہ نہیں ہوئے لیکن پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں، وقت آگیا ہے کہ ہم دوبارہ حساب کتاب نکالیں، سب سے پہلے ذہن میں جو سوال آتا ہے وہ یہ ہے کہ جنوبی کشمیر کے ووٹروں نے 2002سے لگاتار پی ڈی پی بھر پور حمایت دی اور وفا کی، کیا پی ڈی پی نے یہاں کے لوگوں کیساتھ وفا کی؟جنوبی کشمیر کے حالات دیکھ کر ایسا بالکل بھی نہیں لگتا‘‘۔ پی ڈی پی کے عوام سے کئے گئے تمام وعدوں کو سراب قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’’گولی نہیں بولی،امن، مفاہمت، مصلحت، ہیلنگ ٹچ اور دیگر طرح طرح کے تمام نعرے کھوکھلے نکلے، پی ڈی پی کی حکومت جنوبی کشمیر کے عوام کیلئے ایک ڈراونا خواب ثابت ہوئی، سب سے زیادہ کریک ڈاؤن جنوبی کشمیر میں دیکھنے کو ملتے ہیں، سب سے زیادہ زیادتیوں جنوبی کشمیر میں ہوئیں، سب سے زیادہ پی ایس اے کا اطلاق اور گرفتاریاں جنوبی کشمیر میں ہوئیں، سب سے زیادہ خون خرابہ جنوبی کشمیر میں ہورہا ہے، سب سے زیادہ بنکر جنوبی کشمیر میں بنائے گئے، سب سے زیادہ ٹیئر گیس، پیلٹ اور گولیوں کا استعمال جنوبی کشمیر میں ہوا۔ کیا یہی سب دیکھنے کیلئے پی ڈی پی والوں کو عوام نے ووٹ دیئے تھے؟۔مختلف تنظیموں نے بھی الیکشن میں پی ڈی پی کا اندرونی ساتھ دیا،کچھ کا ہم نام لیتے ہیں اور کچھ کا ہم نام بھی نہیں لیتے، کیا یہ تنظیمیں اپنا محاصبہ کرینگی؟۔
محبوبہ مفتی کے مگرمچھ کے آنسوؤں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’آنسو بہانا انہیں اقتدار کھونے کے بعد یاد آتے ہیں، محبوبہ جی آج ہر بات پر ہمدردی، افسوس اور آنسو بہاتی ہے لیکن 2016میں جب نوجوان گولیوں کے شکار بنائے جارہے تھے ، اُس وقت کسی کو یہ آنسو نظر نہیں آئے، جب یہاں اندھا دھند گرفتاریاں اور مظالم جاری تھے تب محبوبہ جی نے کسی کیساتھ ہمدردی نہیں کی، تب تو موصوفہ کہتی تھی کہ جو لڑکے گولیوں کا شکار ہوئے وہ ٹافی اور دودھ لانے نہیں گئے تھے ، اقتدار کے نشے میں دُھت موصوفہ نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ فوجی اور فورسز کی بندوقیں صرف دکھانے کیلئے نہیں ہوتیں بلکہ استعمال کرنے کیلئے بھی ہوتی ہیں،اس کے برعکس تب محبوبہ جی کی آنکھوں سے آنسو نکلے ہوتے تو وہ سب کے دلوں کو چھو جاتے لیکن تب ایسا نہیں ہوا ۔ آج موصوفہ آنسو بہارہی ہیں، یہ آنسو الیکشن کے آنسو ہیں، ان آنسوؤں کی سیاسی قیمت ہوتی ہے۔ جنوبی کشمیر کے لوگوں نے ان سیاسی آنسوؤں کا بہت خمیازہ بھگتا ہے، خدارا دوبارہ غلطی نہ دہرانا‘‘۔ نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ محبوبہ مفتی آج حالات کی خرابی کا رونا رو رہی ہیں، آج محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے، گرفتاریاں نہیں ہونی چاہئیں، لیکن شائد بھول جاتی ہیں کہ یہ سب کو اُن کی اپنی ہی حکومت کی ہی دین ہے۔این آئی اے کارروائیوں پر واویلا کرنے پر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو لتاڑتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ میں اُس وقت حیران ہوا جب میں نے اخبار میں شاہد الاسلام کی رہائی کیلئے محبوبہ مفتی کی اپیل دیکھی، ’’محبوبہ جی وہ تو آپ کے دورِ اقتدار میں گرفتار ہوئے، تب آپ نے ہمدردی کیوں نہیں کی تب گرفتار کی اجازت کیوں دی؟ آج جب میرواعظ مولانا عمر فاروق صاحب کیخلاف این آئی اے والے تحقیقات کررہے ہیں، اُن کو پوچھ تاچھ کیلئے دلی بلایا جارہا ہے، تو محبوبہ جی پھر ناراض ہوئیں اور کہا کہ یہ غلط ہے، یہ نہیں ہونا چاہئے، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کون سا کیس ہے تو پتہ چلتا ہے کہ 2017کا کیس ہے، جب محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ تھیں، تب محبوبہ جی نے ان کیخلاف کیس دائر کرنے کی اجازت کیوں دی ؟ تب اپنا اثر و رسوخ کیوں نہیں استعمال کیا؟‘‘۔
پی ڈی پی کی طرف سے جماعت اسلامی پر پابندی کیخلاف واویلا کو محض فریب کاری قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’جماعت اسلامی پر پابندی عائد ہوئی، اُس کی شروعات کہاں سے ہوئی، جب آپ (پی ڈی پی )نے یہاں بی جے پی لاکر حکومت بنائی، ہم نے تو روکنے کی کوشش کی تھی، 2014الیکشن کے بعد ہم مفتی صاحب سے کہا تھا کہ بھاجپا کو لانا ریاست کیلئے بہت نقصان دہ ثابت ہوگا، ہم نے غیر مشروط حمایت دینے کا وعدہ اور اعلان کیا لیکن مفتی صاحب نے ہمارا نہیں مانا اور بھاجپا کیساتھ گل مل گئے، وہ دن اور آج کا دن حالات آپ کے سامنے ہیں۔‘‘ عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے خود تسلیم کیا کہ 2016میں انہوں نے اپنی جماعت کو بچانے کیلئے بھاجپا کیساتھ الحاق کیا، اب اس بات کا کیا بھروسہ ہے کہ محبوبہ مفتی پھر ایک بار اپنی جماعت کو بچانے کیلئے بھاجپا کیساتھ اتحاد نہ کر بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ پی ڈی پی اور بھاجپا میں آج بھی برابر تال میل ہے، حکومت چھن جانے کے بعد بھی پی ڈی پی نے راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین کے انتخاب میں غیر حاضر رہ کر بھاجپا کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جماعت پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟کیا جنوبی کشمیر کا ووٹر دوبارہ نریندر مودی کو مدد کرنے کیلئے تیار ہے، کیا جنوبی کشمیر کے لوگ پھر سے سنگ پریوارکے ہاتھ مضبوط کرنے آگے آئیں گے؟
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
