تازہ ترین
نوجوان کی حراستی ہلاکت کے خلاف کل مکمل ہڑتال کی جائے: جے آر ایل
خبراردو:
مشترکہ مزاحمتی قیادت نے بھارتی تفتیشی ایجنسی این آئی اے اور ایس او جی کی جانب سے کچھ عرصہ قبل پوچھ تاچھ کی غرض سے حراست میں لئے گئے اونتی پورہ کے نوجوان رضوان اسعد پنڈت کی تفتیش کے دوران المناک موت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کھلی سرکاری دہشت گردی کی بھر پور مذمت کی ہے۔مذکورہ نوجوان جو پیشے سے ایک استاد تھا کو چند روز قبل حراست میں لیا گیا تھا اور دوران تفتیش اس کو شدید جسمانی اذیتوں سے گذارا گیا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکا۔
مشترکہ قیادت نےنوجوان رضوان احمد پنڈت کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کی زیر حراست ہلاکت کا سانحہ کوئی کشمیر میں اس نوعیت کا اکیلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی سرکاری فورسز کی حراست میں کئی کشمیری نوجوانوں کو شہادت کے درجے پر فائز کیا گیا ہے جس سے اُن لاتعداد زیر حراست مزاحمتی ،سیاسی قائدین اور کارکنوں کی سلامتی کے بارے میں شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں جو کشمیر اور بیرون کشمیر کی جیلوں میں مقید ہیں۔قیادت نے این آئی اے اور ایس او جی کی جانب سے کی جانے والی اس حراستی کیخلاف 20؍ مارچ2019بروز بدھوار‘ کو پورے جموں کشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال، جمعرات21 مارچ کو زندگی کے تمام مکاتب فکر بشمول تاجر برادری، وکلاء، سول سوسائٹی اور جملہ شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اس قتل ناحق کیخلاف بھر پور احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ22مارچ جمعتہ المبارک کو کشمیر کی تمام چھوٹی بڑی مساجد، آستانوں، خانقاہوں،اور امام باڑوں میں اس قتل ناحق،سرکاری سطح پر خوف و دہشت کا ماحول برپا کرنے، ایس او جی اور این آئی اے کی جانب سے مزاحمتی قائدین، کارکنوں اور معزز شہریوں اور نوجوانوں کیخلاف خوفناک مہم جوئی کیخلاف بھر پورصدائے احتجاج بلندکیا جائیگا۔
قیادت نے کہاکہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی سے اب کوئی بھی فرد بشر محفوظ نہیں رہا ہے۔ ایک طرف بدنام زمانہ SOG کی جانب یہاں کے سیاسی کارکنوں کو ایس او جی کیمپوں اور تھانوں میں بلا کر شدید طور ہراساں کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی آڑ میں یہاں کی مزاحمتی قیادت اور سیاسی کارکنوں کو من گھڑت اور فرضی کیسوں اور الزامات کے تحت گرفتار کرنے اور انہیں ہراساں و پریشان کرنے کی خوفناک مہم شروع کی گئی ہے۔قائدین نے کہا کہ مزاحمتی قیادت ہو یا سیاسی کارکن، بزرگ دینی شخصیات ہوںیا دینی جماعتیں یا مساجد کے اِمام صاحبان ، عام نوجوانوں ،طلباء غرض ہر ایک مکتبہ فکر سے وابستہ لوگوں کو خوف و دہشت کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور شہر و گام گرفتاریوں اور ہراسانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور پورے کشمیر کو ایک پولیس ا سٹیٹ میں تبدیل کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ قائدین نے کہا کہ کشمیری عوام کو ہر سطح پر آج جس طرح شدید طور ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ کشمیری عوام کے تئیں حکومت ہندوستان کے خوفناک منصوبوں اور عزائم کو ظاہر کررہا ہے۔قائدین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تاریخ اور تحریک کے اس نازک مرحلے پرہر سطح پر بھر پوراتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور ہزاروں شہیدوں کے خون سے مزین تحریک آزادی کو جس طرح دبانے کیلئے سرکاری سطح پر مختلف حربے اور ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں اور قائدین اور کارکنوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے اْس کا پوری ہمت اور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرکے تحریک مزاحمت کے تئیں اپنی بھر پور وابستگی اور استقامت کا مظاہرہ کریں۔
اس دوران قائدین نے شوپیاں ،ترال، پلوامہ اور دیگر علاقوں میں پولیس اور سرکاری فورسز کی جانب سے نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ اور انہیں گرفتار کرکے انہیں تھانوں میں بند کئے جانے کے عمل کو فورسز کی جارحیت قرار دیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی ہے۔وادی بھر میں جاری پکڑ دھکڑ، گرفتاریوں کے چکر نیز پیر و جوانوں پر بے دریغ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے نفاذ کو جمہوریت کشی سے تعبیر کرتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ آج وادی کے طول و عرض میں آواز خلق کو دبانے کا جو سلسلہ دراز تر کردیا گیا ہے وہ جمہوری، اخلاقی،انسانی اور تہذیبی اقدار کی صریح بیخ کنی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، آئی سی آر سی ،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن و کونسل اور دوسرے اداروں سے کشمیری اسیروں اور مظلوموں کی دادرسی کیلئے اقدامات اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ عالمی برادری اگر کشمیریوں کو انصاف دلانے میں ناکام ہوئی تو مظلوم انسانیت کا اس پر سے اعتماد اٹھ جائے گا ۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
