تازہ ترین
24گھنٹوں کے دوران وادی میں 4 خونریز معرکہ آرائیاں،12سالہ کمسن سمیت 6جنگجو جاں بحق،ہتھیاراور قابل اعتراض مواد ضبط
خبراردو
گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کلنترہ، وارپورہ، حاجن اور شوپیاں میں الگ الگ معرکہ آرائیوں میں 6جنگجو جاں بحق ہوگئے جبکہ عسکریت پسندوں کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او ڈنگی وچھ سمیت 3فورسز اہلکار زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق فوج کی29آر آر، جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری نے بدھوار شام کو کلنترہ کنڈی بارہمولہ کا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔ اس دوران اگر چہ فورسز نے شام دیرگئے تک کئی رہائشی مکانات کی تلاشی مکمل کرلی تاہم موسم کی خراب صورتحال اور رات کی تاریکی کے پیش نظر جنگجو مخالف آپریشن کو جمعرات کی صبح تک ملتوی کیا گیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ فوج ، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے کنڈی کلنترہ علاقے کا کڑا محاصرہ عمل میں لایا جس دوران یہاں تلاشی کا سلسلہ شروع کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فورسز نے علاقے میں جونہی تلاشی کارروائی میں تیزی لائی تو یہاں موجود جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی۔اس دوران جمعرات کی شام دیر گئے فوج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں جیش محمد سے وابستہ 2عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا گیا ۔ معلوم ہوا کہ جھڑپ کے نتیجے میں آرم پورہ سوپور کا رہنے والا جنگجو آمر رسول کبو ولد غلام رسول اپنے غیر ملکی ساتھی سمیت جاں بحق ہوگیا۔ ادھر پولیس نے جنگجو کی نعش کو قانونی لوازمات کے بعد لواحقین کے حوالے کردیا جس کے بعد بارہمولہ اور سوپور کے متعدد علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد آرم پورہ پہنچ چکی تھی جنہوں نے مہلوک جنگجو کی نماز جنازہ میں شرکت کرتے ہوئے انہیں پرنم آنکھو ں سے سپرد لحد کردیا۔ کے این ایس نمائندے سیدفیاض کے مطابق جنگجو کی ہلاکت کے مابعد سوپور اور مضافاتی علاقوں میں جمعہ دن بھر تناؤ کی صورتحال برقراررہی تاہم جونہی آمر رسول کی نعش آبائی علاقے آرم پورہ پہنچائی گئی تو یہاں کہرام مچ گیا جس کے بعد نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اسلام اور آزادی کے نعروں کے بیچ جنگجو کی میت کو مقامی قبرستان تک پہنچایا جہاں انہیں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔ نمائندے کے مطابق 20سالہ آمر رسول 5ماہ قبل آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد جنگجوؤں کی صف میں شامل ہواتھا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں دن بھر خشت باری کے واقعات رونما ہوئے جس دوران فورسزا ہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے آنسو گیس کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 3نوجوان عادل مشتاق ، عرفان مشتاق ولد مشتاق احمد ساکنان آرم پورہ کے علاوہ عادل احمد ساکن آرم پورہ پیلٹ لگنے سے بری طرح زخمی ہوگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ہوئے نوجوانوں کو علاج و معالجے کی خاطر ڈسٹرکٹ ہسپتال بارہمولہ منتقل کیا گیا۔ ادھر میر محلہ حاجن میں بھی گزشتہ روز سے فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ جمعہ کی دوپہر کو 2غیر ملکی جنگجوؤں اور ایک کمسن لڑکے کی ہلاکت پر اختتام پذیر ہوئی۔
معلوم ہوا کہ فوج و فورسز نے جنگجوؤں سے متعلق اطلاع موصول ہونے کے بعد میر محلہ بستی کا سخت محاصرہ کرتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز اہلکاروں نے میر محلہ نامی بستی کے تمام اندرونی و بیرونی راستوں کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے یہاں جگہ جگہ فورسز کے اضافی دستوں کوتعینات کیا۔ اس دوران مشتبہ مکان کے نزدیک پیش قدمی کرنے کے ساتھ ہی یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر خود کار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ شروع کی جس کے بعد علاقے میں گن گرج کا سلسلہ شروع ہوا۔اگر چہ پولیس ذرائع نے جمعرات کی شام دیر گئے میڈیا کو بتایا کہ علاقے میں اب تک ایک جنگجو کو جاں بحق کردیا گیا ہے تاہم طرفین میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جائے جھڑپ کے نزدیک مقامی آبادی کو فورسز نے محفوظ مقامات کی جانب منتقل کردیا تاہم ابھی بھی نزدیکی مکان میں 12برس کا کمسن لڑکا پھنسا ہوا ہے۔ علاقے میں آخری اطلاعات موصول ہونے تک طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ جاری تھا۔اس دوران جمعہ کی صبح سے جائے جھڑپ پر طرفین کے مابین شدید گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے مکان کا گھیراؤ تنگ کرتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ معلوم ہوا کہ جمعہ کی دوپہر کو یہاں طرفین کے درمیان گولیوں کا سلسلہ تھم گیا جس کے بعد ہی فورسز اہلکاروں نے یہاں ملبے کی تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس دوران پولیس نے ملبے سے 2غیر ملکی جنگجوؤں کی لاشیں برآمد کی۔
ایس ایس پی بانڈی پورہ نے ہلاک شدہ جنگجوؤں کی شناخت علی اور عبید ساکنان پاکستان کے طور پر بتائی۔انہوں نے بتایاکہ مارے گئے جنگجوؤں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔ اس دوران پولیس نے بتایا کہ جائے جھڑپ پر مکان میں یرغمال بنائے گئے کم عمر لڑکے کو جنگجوؤں نے جاں بحق کردیا۔ معلوم ہوا کہ 12سالہ عاطف گزشتہ روز سے ہی مکان میں پھنسا ہوا تھا تاہم اس دوران موصوف کو کوئی راہ داری نہ مل سکی۔معلوم ہوا کہ جائے جھڑپ سے تینوں لاشیں مسخ شدہ حالت میں پولیس نے برآمد کرلی جبکہ فورسز نے یہاں ملبے سے 2اے کے 47رائفلیں بھی برآمد کیں۔ادھر پہاڑی ضلع شوپیان کے گڈاپورہ رتنی پورہ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے علاقے کا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشیوں کا آغاز کیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز اہلکاروں کو یہاں 2سے3جنگجوؤں کے چھپے بیٹھنے کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی جس کے بعد علاقے کے ارد گرد سخت پہرا عمل میں لاتے ہوئے فورسز کی بھاری کمک کو علاقے میں تعینات کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ صبح 3بجے کے ساتھ ہی علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور صبح 7:40تک وقفے وقفے سے طرفین کے درمیان گولیوں کا سلسلہ چلتا رہا۔
اس دوران فوج نے سماجی رابطہ سائٹ پر میڈیا کو اطلاع فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ گڈاپورہ علاقے میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین جھڑپ جاری ہے تاہم ابھی تک 1جنگجو کو جاں بحق کردیا گیا ہے۔اس دوران گڈاپورہ سے متصل رتنی پورہ علاقے میں اُس وقت تشدد بھڑک اُٹھا جب یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کرنے کے علاوہ فورسز اہلکاروں پر خشت باری کا سلسلہ شروع کیا۔ نمائندے نے بتایا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطر فورسز اہلکاروں نے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغنے کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب مظاہرین زخمی ہوئے جن میں سے ایک نوجوان کی گردن پر گولی پیوست ہونے سے انہیں مزید 2زخمیوں کے ہمراہ سرینگر منتقل کیا گیا۔اس دوران سوپور کے وار پورہ نامی بستی میں گزشتہ روز سے فوج اور جنگجوؤں کے مابین معرکہ آرائی جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سوپور کے وارپورہ علاقے میں جمعرات کی دوپہر فوج کی 22آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی نے علاقے کا کڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فورسز اہلکارں نے جونہی علاقے میں تلاشی کارروائی کا سلسلہ شروع کیا تو مشتبہ مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی جس کے بعد علاقے میں جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوا۔پولیس نے بتایا کہ ممکنہ طور پر علاقے میں 1سے 2جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جنہیں ڈھونڈ نکالنے کی خاطر ہی وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھپے بیٹھے جنگجوؤں میں سے چوٹی کا کمانڈر بھی بتایا جاتا ہے۔اس دوران جمعرات کی شام یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی کی جانب ایک ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں جائے جھڑپ کے نزدیک پولیس افسر سمیت اُن کا ذاتی محافظ زخمی ہوگیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ زخمی پولیس افسر ایس ایچ او ڈنگی وچھ مدثر گیلانی اور اُن کے ذاتی محافظ جاوید احمد کو علاج و معالجے کی خاطر سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔ادھر مذکورہ علاقوں میں عوامی احتجاج کو غیر مؤثر بنانے اور بے لگام افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے انتظامیہ نے تلاشی آپریشن شروع ہونے کے ساتھ ہی موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا۔ معلوم ہو اکہ کلنترہ ، وارپورہ، حاجن اورشوپیان میں فوج اور فورسز کی جانب سے کارڈن اینڈ سیرچ آپریشن عمل میں لاتے ہی انتظامیہ نے موبائل انٹرنیٹ پر لگام کس لی جس کے ساتھ ہی یہاں مواصلاتی بریک ڈاؤن کے تنیجے میں طلبا اور تجار پیشہ افراد کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
