تازہ ترین
24گھنٹوں کے دوران وادی میں 4 خونریز معرکہ آرائیاں،12سالہ کمسن سمیت 6جنگجو جاں بحق،ہتھیاراور قابل اعتراض مواد ضبط
خبراردو
گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کلنترہ، وارپورہ، حاجن اور شوپیاں میں الگ الگ معرکہ آرائیوں میں 6جنگجو جاں بحق ہوگئے جبکہ عسکریت پسندوں کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او ڈنگی وچھ سمیت 3فورسز اہلکار زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق فوج کی29آر آر، جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری نے بدھوار شام کو کلنترہ کنڈی بارہمولہ کا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔ اس دوران اگر چہ فورسز نے شام دیرگئے تک کئی رہائشی مکانات کی تلاشی مکمل کرلی تاہم موسم کی خراب صورتحال اور رات کی تاریکی کے پیش نظر جنگجو مخالف آپریشن کو جمعرات کی صبح تک ملتوی کیا گیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ فوج ، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے کنڈی کلنترہ علاقے کا کڑا محاصرہ عمل میں لایا جس دوران یہاں تلاشی کا سلسلہ شروع کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فورسز نے علاقے میں جونہی تلاشی کارروائی میں تیزی لائی تو یہاں موجود جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی۔اس دوران جمعرات کی شام دیر گئے فوج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں جیش محمد سے وابستہ 2عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا گیا ۔ معلوم ہوا کہ جھڑپ کے نتیجے میں آرم پورہ سوپور کا رہنے والا جنگجو آمر رسول کبو ولد غلام رسول اپنے غیر ملکی ساتھی سمیت جاں بحق ہوگیا۔ ادھر پولیس نے جنگجو کی نعش کو قانونی لوازمات کے بعد لواحقین کے حوالے کردیا جس کے بعد بارہمولہ اور سوپور کے متعدد علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد آرم پورہ پہنچ چکی تھی جنہوں نے مہلوک جنگجو کی نماز جنازہ میں شرکت کرتے ہوئے انہیں پرنم آنکھو ں سے سپرد لحد کردیا۔ کے این ایس نمائندے سیدفیاض کے مطابق جنگجو کی ہلاکت کے مابعد سوپور اور مضافاتی علاقوں میں جمعہ دن بھر تناؤ کی صورتحال برقراررہی تاہم جونہی آمر رسول کی نعش آبائی علاقے آرم پورہ پہنچائی گئی تو یہاں کہرام مچ گیا جس کے بعد نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اسلام اور آزادی کے نعروں کے بیچ جنگجو کی میت کو مقامی قبرستان تک پہنچایا جہاں انہیں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔ نمائندے کے مطابق 20سالہ آمر رسول 5ماہ قبل آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد جنگجوؤں کی صف میں شامل ہواتھا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں دن بھر خشت باری کے واقعات رونما ہوئے جس دوران فورسزا ہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے آنسو گیس کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 3نوجوان عادل مشتاق ، عرفان مشتاق ولد مشتاق احمد ساکنان آرم پورہ کے علاوہ عادل احمد ساکن آرم پورہ پیلٹ لگنے سے بری طرح زخمی ہوگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ہوئے نوجوانوں کو علاج و معالجے کی خاطر ڈسٹرکٹ ہسپتال بارہمولہ منتقل کیا گیا۔ ادھر میر محلہ حاجن میں بھی گزشتہ روز سے فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ جمعہ کی دوپہر کو 2غیر ملکی جنگجوؤں اور ایک کمسن لڑکے کی ہلاکت پر اختتام پذیر ہوئی۔
معلوم ہوا کہ فوج و فورسز نے جنگجوؤں سے متعلق اطلاع موصول ہونے کے بعد میر محلہ بستی کا سخت محاصرہ کرتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز اہلکاروں نے میر محلہ نامی بستی کے تمام اندرونی و بیرونی راستوں کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے یہاں جگہ جگہ فورسز کے اضافی دستوں کوتعینات کیا۔ اس دوران مشتبہ مکان کے نزدیک پیش قدمی کرنے کے ساتھ ہی یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر خود کار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ شروع کی جس کے بعد علاقے میں گن گرج کا سلسلہ شروع ہوا۔اگر چہ پولیس ذرائع نے جمعرات کی شام دیر گئے میڈیا کو بتایا کہ علاقے میں اب تک ایک جنگجو کو جاں بحق کردیا گیا ہے تاہم طرفین میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جائے جھڑپ کے نزدیک مقامی آبادی کو فورسز نے محفوظ مقامات کی جانب منتقل کردیا تاہم ابھی بھی نزدیکی مکان میں 12برس کا کمسن لڑکا پھنسا ہوا ہے۔ علاقے میں آخری اطلاعات موصول ہونے تک طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ جاری تھا۔اس دوران جمعہ کی صبح سے جائے جھڑپ پر طرفین کے مابین شدید گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے مکان کا گھیراؤ تنگ کرتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ معلوم ہوا کہ جمعہ کی دوپہر کو یہاں طرفین کے درمیان گولیوں کا سلسلہ تھم گیا جس کے بعد ہی فورسز اہلکاروں نے یہاں ملبے کی تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس دوران پولیس نے ملبے سے 2غیر ملکی جنگجوؤں کی لاشیں برآمد کی۔
ایس ایس پی بانڈی پورہ نے ہلاک شدہ جنگجوؤں کی شناخت علی اور عبید ساکنان پاکستان کے طور پر بتائی۔انہوں نے بتایاکہ مارے گئے جنگجوؤں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔ اس دوران پولیس نے بتایا کہ جائے جھڑپ پر مکان میں یرغمال بنائے گئے کم عمر لڑکے کو جنگجوؤں نے جاں بحق کردیا۔ معلوم ہوا کہ 12سالہ عاطف گزشتہ روز سے ہی مکان میں پھنسا ہوا تھا تاہم اس دوران موصوف کو کوئی راہ داری نہ مل سکی۔معلوم ہوا کہ جائے جھڑپ سے تینوں لاشیں مسخ شدہ حالت میں پولیس نے برآمد کرلی جبکہ فورسز نے یہاں ملبے سے 2اے کے 47رائفلیں بھی برآمد کیں۔ادھر پہاڑی ضلع شوپیان کے گڈاپورہ رتنی پورہ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے علاقے کا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشیوں کا آغاز کیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز اہلکاروں کو یہاں 2سے3جنگجوؤں کے چھپے بیٹھنے کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی جس کے بعد علاقے کے ارد گرد سخت پہرا عمل میں لاتے ہوئے فورسز کی بھاری کمک کو علاقے میں تعینات کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ صبح 3بجے کے ساتھ ہی علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور صبح 7:40تک وقفے وقفے سے طرفین کے درمیان گولیوں کا سلسلہ چلتا رہا۔
اس دوران فوج نے سماجی رابطہ سائٹ پر میڈیا کو اطلاع فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ گڈاپورہ علاقے میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین جھڑپ جاری ہے تاہم ابھی تک 1جنگجو کو جاں بحق کردیا گیا ہے۔اس دوران گڈاپورہ سے متصل رتنی پورہ علاقے میں اُس وقت تشدد بھڑک اُٹھا جب یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کرنے کے علاوہ فورسز اہلکاروں پر خشت باری کا سلسلہ شروع کیا۔ نمائندے نے بتایا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطر فورسز اہلکاروں نے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغنے کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب مظاہرین زخمی ہوئے جن میں سے ایک نوجوان کی گردن پر گولی پیوست ہونے سے انہیں مزید 2زخمیوں کے ہمراہ سرینگر منتقل کیا گیا۔اس دوران سوپور کے وار پورہ نامی بستی میں گزشتہ روز سے فوج اور جنگجوؤں کے مابین معرکہ آرائی جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سوپور کے وارپورہ علاقے میں جمعرات کی دوپہر فوج کی 22آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی نے علاقے کا کڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فورسز اہلکارں نے جونہی علاقے میں تلاشی کارروائی کا سلسلہ شروع کیا تو مشتبہ مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی جس کے بعد علاقے میں جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوا۔پولیس نے بتایا کہ ممکنہ طور پر علاقے میں 1سے 2جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جنہیں ڈھونڈ نکالنے کی خاطر ہی وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھپے بیٹھے جنگجوؤں میں سے چوٹی کا کمانڈر بھی بتایا جاتا ہے۔اس دوران جمعرات کی شام یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی کی جانب ایک ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں جائے جھڑپ کے نزدیک پولیس افسر سمیت اُن کا ذاتی محافظ زخمی ہوگیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ زخمی پولیس افسر ایس ایچ او ڈنگی وچھ مدثر گیلانی اور اُن کے ذاتی محافظ جاوید احمد کو علاج و معالجے کی خاطر سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔ادھر مذکورہ علاقوں میں عوامی احتجاج کو غیر مؤثر بنانے اور بے لگام افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے انتظامیہ نے تلاشی آپریشن شروع ہونے کے ساتھ ہی موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا۔ معلوم ہو اکہ کلنترہ ، وارپورہ، حاجن اورشوپیان میں فوج اور فورسز کی جانب سے کارڈن اینڈ سیرچ آپریشن عمل میں لاتے ہی انتظامیہ نے موبائل انٹرنیٹ پر لگام کس لی جس کے ساتھ ہی یہاں مواصلاتی بریک ڈاؤن کے تنیجے میں طلبا اور تجار پیشہ افراد کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
