تازہ ترین
ویڈیو: شہلا رشید:” لال سلام سے درودوسلام تک”
رضوان سلطان:
ریاست جموں کشمیر کی ستم ضریفی یہ ہے کہ یہاں ہر دور میں وادی سے ہی ہر رنگ میں اپنے آپ کو کشمیر کا مسیحا قرار دینے والے افراد نے کشمیر یوں پر حکم رانی کی ۔ یہ کہہ کر کہ وہ اس مسلے کشمیر کا حل کروائے گے ۔ حل تو کوئی نہیں کر پایا لیکن لوگوں کو بیو قوف بنا کراپنے لئے دولت جمع کرنے میں یہ افراد ضرور کامیاب ہوئے.
اب ہوا بدلے گی نعرے کیساتھ سابق بیوروکریٹ اور آئی اے ایس ٹاپر رہے شاہ فیصل نے جموں کشمیر پیپلز مومنٹ پارٹی بنا ڈالی ۔
اوراس کی لانچنگ تقریب میں سرینگر سے ہی تعلق رکھنے والی شہلا رشید شورہ شامل ہوئیں ۔
شہلا رشید کی تقرر پر بات کرنے سے پہلے ان کے ماضی پر نظر ڈالتے ہیں ۔
شہلا رشید 2015 میں تب خبروں میں آئی جب وہ جے این یو میں کوئی چناؤ جیتنے والی پہلی کشمیری طالبہ بنی ۔
پھر اسکے بعد 2016 میں جے این یو میں مبینہ طور ملک مخالف نعرے لگانے کے الزام میں سٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کو گرفتار کیا گیا ، جس کے خلاف شہلا رشید کی قیادت میں ایک بڑا احتجاج کیا گیا ۔آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسیشن ،، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ لننسٹ ) کا طلبہ دھڑا ہے۔
احتجاجی مظاہروں کے دوران شہلا رشید کی قیادت میں لال سلام کے نعرے بھی خوب بلند کئے گئے ۔
2013 میں کشمیر میں پراگاش کے نام سے پہلا لڑکیوں کا راک بینڈ بنا ، جسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔ جس کے بعد یہ بینڈ بند ہوا ۔ شہلا رشید نے ان لڑکیون کے حق میں ایک مہم بھی چلائی تھی .
فورسز کی طرف سے ڈھال بنائے جانے والے فاروق ڈار کے ساتھ بھی وہ احتجاجی مظاہرے کرتے دیکھی گئی ۔
ریاست کی سیاست میں قدم رکھنے کیلئے شاہ فیصل کی طرح شہلا آئی اے اے آفیسر تو ہیں نہیں لیکن انہوں نے جگہ بنانے کیلئے پہلے سے ہی آپنے آپ کو کشمیریوں کے دلوں میں ان چیزوں سے جگہ بنانے کی کوشش کی ۔
اب شہلا رشید، شاہ فیصل کی ٹیم میں شامل ہوگئی ، اور خطاب بھی کیا ، سب سے پہلے انہوں لال سلام نعرے کے بجائے اب درود پڑھا ۔
دورود کے بعد انہوں نے ہمیں ترقی چاہیے لیکن عزت کے ساتھ سر اٹھا کر۔اسکے بعد وہ کہتی ہیں کہ دلی میں ایک قانون لاگو ہوتا اور سرینگر میں دوسرا ، قانون ایک ہی لاگو ہونا چاہیے دلی میں بھی اور کشمیر میں بھی ۔
شہلا کہتی ہیں کہ انکی پارٹی مسلہ کشمیر کے حل کیلئے راہ ہموار کریں گے . وہ پارٹی پر سو ایف آئی آر برداشت کریں گے لیکن لوگوں پر نہیں ۔
سیاست داں بننا کوئی غلط بات نہیں لیکن کشمیر میں جو بھی بنا اس نے لوگوں کو مسلہ کشمیر حل کرنے کا وعدہ دیا اور وہ بھی پر امن طریقے سے ۔
لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے شہلا رشید کا لوک سبھا انتخابات لڑنا لگ بھگ طے ہے ، کل اگر وہ جیت جاتی ہیں تو حلف ہندوساتی آہین کے تحت ہی لینا ہے ۔ ادھر جموں کشمیر آئین بھی کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کی بات کر رہا ہے تو یہ مسلہ کشمیر کی بات کیا کر رہے ہیں ۔
ادھر جے این یو میں شہلا کہہ رہی ہیں کہ ہم پورے ملک کو دیکھائے گے کہ ہم سب سے بڑے دیش بھگت ہیں ۔
دلی میں یہ دیش بھگت بن جاتے ہیں اور کشمیر میں آکر انہیں مسلہ کشمیر یاد آتا ہے ۔
بھارت کشمیر کو اٹوٹ انگ تسلیم کرتا ہے . پاکستان سے اس پے بات کرنا ہی نہیں چاہتا ہے ۔
تو یہ لیڈران کہہ رہے ہیں کہ یہ راہ ہموار کریں گے ۔ اگر یہ آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہیں اور بھارت کو اپنا ملک تسلیم بھی کرتے ہیں تو بھارتی خارجہ پالیسی میں ان کا کیا کام ۔
شہلا کہتی ہیں کہ سرینگر اور دلی میں ایک ہی قانون نافظ ہونا چاہییے تو کیا مسلہ کشمیر دونوں جگہوں پر ایک ہی قانون نافظ ہونا ہے.
شہلا رشید کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کمنٹ میں ضرور بتائیں ۔
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
