تازہ ترین
’’پی ڈی پی اقتدار میں آکر عوام دشمن جماعت ثابت ہوئی‘‘: عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوموار کو الیکشن ریلیوں کے حوالے سے وسطی کشمیر کے بیروہ اور ٹنگمرگ علاقوں میں عوام جلسوں سے خطاب کیا۔ اس موقعے پر این سی نائب صدر عمر عبداللہ نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے پارلیمانی انتخابات کیلئے وادی کی تینوں نشستوں سے ایسے اُمیدوار کھڑے کئے ہیں جو پارلیمنٹ میں جاکر صحیح معنوں میں یہاں کے عوام کی ترجمانی کرسکے، نہ کہ پی ڈی پی کے ممبران پارلیمان کی طرح جنہوں نے کبھی کشمیریوں کی بات کرنے کی زہمت گوارا نہیں کی ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی والے آج پھر سے عوام سے ووٹ مانگنے نکلے ہیں ، لیکن پہلے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ان لوگوں نے ریاست کا کیا حال کیا۔ ’’محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ وہ بھاجپا کیساتھ دوبارہ ہاتھ نہیں ملائیں گی، خدارا مجھے بتایئے ہم آپ کی بات پر یقین کیسے کریں؟آپ نے تو یہی بات 2014میں بھی کی، ہر ایک انتخابی جلسے میں کہا کہ بی جے پی کو روکنے کیلئے پی ڈی پی کو جتوانا ضروری ہے اور کشمیر کے لوگ آپ کی ان باتوں میں بہہ گئے اور آج اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ’’ ہم نے اُس وقت مرحوم مفتی محمد سعید کے سامنے دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ مفتی مرحوم جس راستے پر آپ جارہے ہیں وہ ریاست کو تباہی کی اور لے جائیگا، خدارا بھاجپا کیساتھ اتحاد مت کیجئے، ہم آپ کو وزیر اعلیٰ بننے کیلئے غیر مشروط حمایت دینگے، ہمیں کوئی چیز نہیں چاہئے ، آپ 6سال ریاست کو چلایئے۔‘‘ لیکن افسوس کی بات ہے کہ پی ڈی پی والوں نے اس وقت کہا کہ نیشنل کانفرنس والوں کی جیب خالی ہے اور کانگریس والے ہمیں کچھ نہیں دے سکتے۔ مرحوم مفتی نے کہا کہ ہم بی جے پی سے سیلاب زدگان کیلئے ریلیف لائیں گے، بے روزگاروں کیلئے روزگار لائیں گے، ہسپتالوں کیلئے ڈاکٹر اور سکولوں کیلئے ٹیچر لائیں، حریت سے بات کرنی ہے، ہمیں افسپا ہٹانا ہے، ہمیں پاکستان کیساتھ بات کرنی ہے اور بھاجپا ہمیں بجلی پروجیکٹ واپس دیگی۔ آج ہم سوال پوچھے ہیں کہ کون سا پاور پروجیکٹ واپس آیا؟ کون بے روزگار نوجوان روزگار لے کے بیٹھا ہے؟ کس سیلاب زدہ کو اضافی ریلیف ملا( جس ریلیف کا تعین ہماری حکومت نے کیا اس کے علاوہ کچھ نہیں ملا، معاملہ وہیں ٹھپ ہوا)، افسپا ہٹانے کی بات تو دور پی ڈی پی حکومت نے یہاں این آئی اے کی کارروائیوں میں اشتراک کیا، فوجی انخلاء کی بات کرنے والوں نے یہاں پیلٹ گن سے کتنے نوجوان نابینا بناڈالے۔ حریت کیساتھ بات تو دور کی بات آج ان کا قافیہ حیات رنگ کرکے رکھ دیا گیاہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی آئے روز این آئی اے کی کارروائی کیخلاف بیان بازی کررہی ہیں لیکن محبوبہ مفتی یہ نہیں کہتی ہیں کہ یہ سارے کیس اُن کے ہی دورِ حکومت میں لگے۔ ’’جس کیس کے تحت میرواعظ عمر فاروق،شبیر شاہ اور محمد یاسین ملک بند ہیں ، اُن کی اجازت کس نے دی ؟محبوبہ مفتی آج کس بات پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہیں؟جب آپ کی حکومت میں یہ سب کیس دائر ہورہے تھے تب آپ نے منہ نہیں کھولا۔ تب تو آپ مودی جی کی تعریفیں کرتی نہیں تھکتی تھیں،آپ نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ ’جو واجپائی نے نہیں کیا وہ مودی کریں گے۔‘ جی ہاں!جو واجپائی نے ریاست کا بیڑا غرق نہیں کیا وہ مودی صاحب نے کر ڈالا۔1996کے بعد سے آج تک یہاں کبھی الیکشن میں تاخیر نہیں ہوئی لیکن مودی نے الیکشن مؤخر کر ہی ڈالے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ مودی سے ملنے کے بعد محبوبہ مفتی نے کہاکہ جو مانگا وہ ملا ،جو نہیں مانگا وہ بھی ملا، جو مانگنا باقی ہے وہ بھی ملا ۔’’محبوبہ جی عوام کو بتایں کہ کیا ملا؟ہمارے قبرستان بھرے، ہمارے نوجوان مارے گئے، جب لوگوں نے پوچھا کہ نوجوان کیوں مررہے ہیں تو آپ نے کہاکہ یہ کیا ٹافی لانے گئے تھے؟یہ کیا دودھ لانے گئے تھے؟ جب آپ سے کہا گیا کہ فورسز کی زیادتیاں بند کروائے، تب آپ نے کہا کہ فوج اور سی آرپی ایف کے بندوق دکھانے کیلئے نہیں بلکہ استعمال کرنے کیلئے ہوتیں ہیں ، اور آج آپ مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہیں۔ ‘‘عمر عبداللہ نے کہا کہ میرے دورِ حکومت میں این آئی اے نے صرف ایک کارروائی کی اور اُس میں بھی سرحد پار سے گھر واپس لوٹ رہا کپوارہ کا لیاقت باعزت بری ہوا۔ لیاقت کو یو پی کی پولیس نے گرفتار کرکے ملی ٹنٹ جتلایا اور دلی پولیس کے حوالے کردیا اور اُسے تہاڑ جیل بھیجنے کی تیاریاں کی جارہی تھیں۔
ہم نے دلی میں این آئی اے کے ذریعے اُس کی تحقیقات کروائی اور اُسے بے گناہ ثابت کروایا۔ آج لیاقت صاحب آپنے گاؤں میں کہیں آزاد گھوم رہے ہونگے۔نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ ’’ہم طاقتوں کے سامنے نہیں جکتے ہیں، ہم دھوکہ نہیں دیتے، ہم اُن میں سے نہیں جو حکومت میں رہ کر ملی ٹینٹوں کو مارتے ہیں اور حکومت جانے کے بعد اُن کے گھر جاکر مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔ہمارے دور میں جب حالات خراب ہوجاتے ہیں ہم اُن سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرے دور میں بھی حالات خراب ہوئے۔ ہمیں ان خراب حالا ت کا اتنا افسوس ہوا کہ ہم نے دوبارہ ایسے حالات رونما نہیں ہونے دیئے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ نیشنل کانفرنس اور جماعت اسلامی کی ٹکر رہی ہے، لیکن ہم نے جماعت اسلام کیخلاف ظلم ہونے نہیں دیا، اُن پر پابندی لگنے نہیں دی، ہم نے یہ بہانہ نہیں بنایا کہ جب تک جماعت اسلامی پر پابندی نہیں لگتی تب تک حالات ٹھیک نہیں ہونگے،ہم نے 2014میں سب سے کامیاب الیکشن کروائے، اُس وقت جماعت اسلامی پر پابندی نہیں تھی۔اُن کا کہنا تھا کہ ’’جمعیت اہل حدیث کا ایک سینئر ممبر مشتاق احمد ویری بنا کسی وجہ کے 24فروری سے گرفتار ہیں، سننے میں آرہا ہے کہ جمعیت اہل حدیث کیخلاف بھی کارروائی ہوگی۔عمر عبداللہ نے بتایا کہ میں حیران ہوں کی ایسا کیوں کیا جارہا ہے، ہم نے کئی موقعوں پر ان لوگوں کیساتھ کام کیا ہے۔ اللہ مولانا شوکت صاحب کو مغفرت کرے، مجھے یاد ہے 2010میں جب حالات خراب ہوئے تھے، انہوں نے کہاکہ ’’جناب ہماری اور آپ کی سیاسی سوچ نہیں ملتی ہے، لیکن یہاں خون خرابہ ہوتے ہوئے ہم نہیں دیکھ سکتے، ہم حالات سازگار بنانے میں آپ کا ہاتھ بٹائیں گے ، اس لئے جب ایسی جماعتوں کیخلاف کارروائی ہوتی ہے تو ہم آواز اُٹھاتے ہیں ۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
