تازہ ترین
عسکری کارروائیوں سے محفوظ رہنے کیلئے آئی ای ڈی پروف گاڑیوں کیساتھ ساتھ 30سیٹوں پر مشتمل گاڑیاں خریدنے کا منصوبہ
خبراردو:
وادی کشمیر میں جنگجوؤں کی طرف سے کئے جانے والے خود کش حملوں سے تحفظ حاصل کرنے کی خاطر سی آر پی ایف آنے والے دنوں میں بارودی سرنگوں سے محفوظ گاڑیوں کو حاصل کرنے کیساتھ ساتھ 56سیٹنوں کے بجائے 30سیٹوں والی گاڑیوں کو ہی استعمال کرکے نقصان سے بچنے کی حتی المقدور کوشش کرے گی۔نیم فوجی دستوں پر مشتمل 65بٹالین جو فی الوقت وادی کشمیر میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور یہاں جنگجو مخالف آپریشنوں میں اپنا رول ادا کررہی ہے ، آنے والے دنوں میں اپنے بم ڈسپوزل اسکوارڑ میں بھی اضافہ کرنے جارہی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے یہ نیا اقدام 14فروری 2019کو لیت پورہ میں ہوئے خود کش حملے کے بعد احتیاطی طور پر اُٹھایا ہے۔ خیال رہے سرینگر جموں شاہراہ پر لیت پورہ کے مقام پر جنگجوؤں نے بارود سے بھری گاڑی کو سی آر پی ایف کی کانوائے سے ٹکرایا تھا جسکے نتیجے میں 49اہلکار موقعے پر ہی ہلاک ہوئے جبکہ درجنوں دیگر اہلکار حملے میں بری طرح سے زخمی ہوگئے ۔سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل آر آر بٹناگر نے بتایا کہ ہم وادی کشمیر میں بارودی سرنگ مخالف اقدامات کو بڑھانے جارہے ہیں۔
اس سلسلے میں ہم بارودی سرنگوں سے محفوظ گاڑیوں اور بلٹ پروف گاڑیوں کو کشمیر بھیج رہے ہیں۔ڈی جی کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ مشکل ہے کہ ہم بڑی بڑی گاڑیوں کو کشمیر منگائیں اسی لیے ہم صرف 30سیٹوں پر مشتمل بیولٹ پروف گاڑیوں کو کشمیر بھیج دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی آر پی ایف جو گاڑیاں اپنے اہلکاروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے خریدنے جارہی ہے وہ اعلیٰ معیار کی ہے اور بہ آسانی گولیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اس قسم کی بیولٹ پروف گاڑیاں شمالی بھارت کے نکسلواد علاقوں میں فورسز کو دی گئی ہے جبکہ ریاست جموں وکشمیر میں بھی اس قسم کی معیاری گاڑیاں چند تعداد میں بھیجی جاچکی ہے۔اس قسم کی 4پیہیوں کی گاڑیوں میں 6اہلکار ایک ساتھ سفر کرسکتے ہیں۔
ڈی جی بٹناگر کا کہنا تھا کہ چھوٹی گاڑیاں بڑی گاڑیوں کی بہ نسبت زیادہ محفوظ رہ سکتی ہے کیوں کہ ان کی ساخت بارود اور گولیاں برداشت کرنے کے لیے ہی بنائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پلوامہ کے لیت پورہ علاقے میں جنگجوؤں نے جس گاڑی کو نشانہ بنایا تھا وہ 57سیٹوں پر مشتمل تھی اور اس طرح کی گاڑیوں میں بارودی مواد اور گولیاں برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ہے۔ادھر دفاعی ذرائع نے بتایا کہ بڑی گاڑیوں میں اگر بارودی مواد اور گولیوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھی جاتی ہے تو ایسے میں گاڑی کا انجن اس کی رفتار پر اثر انداز ہوتا ہے کیوں کہ گاڑی میں بارود مخالف پلیٹیں لگ جانے کے نتیجے میں گاڑی پر ضرورت سے زیادہ وزن رہتا ہے۔ ڈی جی سی آر پی ایف آر آر بٹناگر کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ لیا ہے کہ ہم وادی کشمیر میں تعینات 65بٹالین کو فی کس بم کو کھوجنے اور ڈسپوزل اسکوارڈ فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جن بٹالین کو پہلے ہی ایسے اسکوارڈ فراہم کئے جاچکے ہیں ان سے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ انہیں ٹیم مزید نفری فراہم کی جائے تاکہ آئی ای ڈیز کی بروقت کھوج اور انہیں ناکارہ بنانے میں زیادہ سے زیادہ مدد مل جائے۔اس موقعے انہوں نے بتایا کہ پونے شہر میں قائم آئی ای ڈی اسکول میں بم ڈسپوزل کی تربیت کو حاصل کرنے سے متعلق سیٹوں میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اہلکاروں کو تربیت فراہم کی جائے۔بٹناگر کا کہنا تھا کہ ان بیلٹ پروف گاڑیوں میں اہلکار کو صرف گولیوں سے تحفظ فراہم کیا جائے گا تاہم جس قسم کا حملہ لیت پورہ میں ہوا اس سے تحفظ حاصل کرنا ناممکنات میں سے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگر جنگجوؤں کی طرف سے فائرنگ کی جاتی ہے تو ایسی گاڑیوں میں سوار اہلکار خود کو محفوظ تصور کرسکتے ہیں تاہم لیت پورہ خود کش حملے کی متانت اور کشش کو دیکھتے ہوئے ایسی گاڑیاں پھر بھی غیر محفوظ ہیں۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
