تازہ ترین
ویڈیو: سرکار کا فرمان؛ ہفتے میں دو روز کے لئے شاہراہ سویلین ٹریفک کےلئے بند
رضوان سلطان:
ریاستی سرکار نے کشمیر کی تاریخ کا سب سے حیران کن اور غیر معمولی حکم نامہ جاری کیا ہے سرکار کی جانب سے ایک ایساحکم نامہ جس نے تمام سیاسی و علیحدگی جماعتوں کو چونکا دیا ہے ۔
دراصل ریاستی سرکار کے داخلہ سیکر ٹری کی طرف سے جمعرات کو جاری کئے گئے حکمنامے میں بتایا گیا ہے کہ ادھم پور سے بارمولہ تک صبح چار بجے سے شام پانچ بجے تک بدھ اور اتوار کے روزکسی بھی سویلین ٹریفک کو ہائی وے پر چلنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ اس کا مقصد فورسز گاڑیوں انتخابات کے دوران بغیر کسی رکاوٹ کے بغیر اپنی منزل تک پہنچے ۔لیکن اس حکم نامے کی تمام سیاسی و حریت پسند جماعتوں نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کی مانگ کی ہے ۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اسے تغلقی فیصلہ قرار دے کر مودی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے کشمیر میں مسائل کے انبار کھڑے کر دئے ہیں ۔اور جب آپ لوگ حکومت کرنے میں ناکام ہوئے تو آپ نے سڑکوں کو بند کرنا شروع کیا ۔
پارٹی صدر فاروق عبداللہ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کرگل جنگ کید وران بھی اسطرح کا فیصلہ نہیں لیا۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اپنے ردعمل کرتے ہوئے کہا کہ نئی دلی کو کشمیری نہیں بلکہ کشمیر کی سر زمین سے سروکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری جمہوری حکومت میں رہتے ہیں یہاں کوئی بھی مارشل لاء نہیں ہے ۔کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق ریاستی وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے حکومت سے کہا کہ وہ جموں سرینگر شاہراہ کے حوالے سے عوام دوست حکمت عملی مرتب کریں ،حکومت ایسا کوئی حل ڈھونڈے کہ آدھے دن سڑک سیکورٹی فورسز اور آدھے دن عام لوگوں کیلئے کھلی رہے ۔سجاد لون نے کہا کہ حکومت کواپنے لئے ایک فوجی شناخت تخلیق نہیں کرنی چاہیے ۔اور فوجی ضروریات کو ہمیشہ شہری ضروریات کے ماتحت یا تابع رہنا پڑے گا ۔
سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ حکام کو دوسرا متبادل راستہ تلاش کرنا چاہیے تاکہ فورسز کی نقل و حمل میں خلل نہ پڑے ۔ شاہ فیصل نے کہاکہ اسرائیل سے لائی گئی پالیسیاں کشمیر کو فلسطین بنا دیں گی۔
حریت کانفرنس چےئر مین سید علی شاہ گیلانی نے اسے عامرانہ حکم نامہ قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ۔
میر واعظ عمر نے اسے عوام مخالف قرار دے کر کہا کہ اس سے لوگوں میں بد گمانی پیدا ہو گی ۔کے سی سی آئی نے اسے غیر جمہوری عمل قرار دیا۔
اب لوگوں کے شدید ردعمل کے بعد صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں ، طلاب ، سیاحوں اور دیگر ایمرجنسی کے معاملات سے متعلق جانچ کے بعد انہیں شاہراہ پر آمدو رفت کی اجازت ہو گی ۔
پلوامہ حملے کے بعد وادی کے دورے پر آئے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ اب ہائی وے پر فورسز کانوائے کے دوران سویلین ٹریفک کو روکا جائے گا ۔ ۲۷۰ کلو میٹر سرینگر جموں نیشنل ہائی وے واحد راستہ جو ریاست کو ملک کے دوسری ریاستوں سے جوڑتا ہے ۔ اور اشیاء خوردونوش بھی وادی اسی راستے سے پہنچائی جاتی ہیں ۔
دوسری اہم بات یہی واحد راستہ جو سرینگر کو شمالی اور جنوبی اظلاع سے ملاتا ہے اور یہ راستہ وادی کے دس اضلاع میں سے پانچ اضلاع کے بیچ سے گزرتا ہے ۔ اس سے پہلے بھی اگر چہ کانوائے کے دوران کچھ منٹوں کیلئے سویلن ٹریفک کو رکنا پڑتا تھا ، وہیں ۹۰ کی دہائی وادی میں فورسز پر بڑھتے جنگجو حملوں کے دوران بھی ہائی وے کھلا ہی تھا ۔
اب ہائی وے کے دو روز بند رہنے سے کیا اثرات مرتب ہونگے ؟
اعدادوشمار کے مطابق ہائی وے پر دس ہزار گاڑیاں ہر گھنٹے چلتی ہیں ۔جن میں چھوٹی گاڑیاں بھی شامل ہیں ۔
بدھ کو اب پورا دن ہائی وے بند رکھنے کا مطلب بہت سارے سرکاری ونجی ادارے ، بنک ، سکول اور کالج جیسے اداروں پر کافی اثر پڑ سکتا ہے ۔
جبکہ دوسری طرف ہائی پر آنے والے بڑے ہسپتال جن میں ڈسٹرکٹ ہسپتال بارمولہ ، ٹرومہ ہسپتال پٹن ، سکمز ہسپتال بمنہ شامل ہیں کو جانے والے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
لوگوں کے پاس صرف ٹرین ایک متبادل بچا ہے ، جس سے وہ دوسرے اظلاع کیلئے جا سکتے ہیں ۔
اب اگلے آنے والے دنوں میں پتہ چل پائے گا کہ ان اقدامات سے زمینی سطح پر کیا اثرات مرتب ہو تے ہیں ۔
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
