تازہ ترین
جموں وکشمیر کا اڑھائی اضلاع کا مسئلہ ہے تو شاہراہ پر پابندی اور اسمبلی الیکشن میں تاخیر کیوں؟: عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے منگلوار کو شمالی کشمیر کے سمبل علاقے میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا عظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ موصوف کشمیر کے معاملے میں گمراہ کن بیانات کا سہارا لے کر عوام کو اصل صورتحال سے بے خبر رکھ رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ مرکز میں بیٹھے حکمران آج بھی سچ بولنا پسند نہیں کرتے، میں آج اُس وقت حیران ہوا جب میں نے ٹیلی ویژن پر انٹرویو دیتے ہوئے ہندوستان کے وزیر اعظم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جموں وکشمیر میں کوئی مسئلہ ہی نہیں اور یہ اڑھائی اضلاع کا مسئلہ ہے۔ میں نریندر مودی سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ اگر جموں وکشمیر کا مسئلہ صرف اڑھائی اضلاع کا مسئلہ ہے تو پھر ادھمپور سے لیکر اوڑی تک شاہراہ دو دن کیلئے بند کیوں رکھی جاتی ہے؟اگر جموں وکشمیر کا مسئلہ صرف اڑھائی اضلاع کا مسئلہ ہے تو پھر یہاں پر اسمبلی الیکشن کیوں نہیں کرائے جارہے ہیں؟ ہمیں اپنی جمہوری حکومت سے محروم کیوں رکھاجارہا ہے اور ہمیں اُن کے لوگوں کے بلبوتے کیوں رکھا گیا ہے جو جموں میں بیٹھ کر شاہی فرمان جاری کرتے ہیں؟ مسئلہ اڑھائی اضلاع کا ہے تو پھر باقی جگہوں سے افسپا منسوخ کیوں نہیں کیا جارہا ہے؟عمرعبداللہ نے بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ مرکز جموں وکشمیر کے زمین حقائق سے متعلق خود کو اور ملک کے لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں پارلیمنٹ میں ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو وہاں جموں وکشمیر کی آواز بنیں اور یہاں کی زمینی صورتحال اور عوامی اُمنگوں کی ترجمانی کرسکے۔
2014میں ہماری ریاست سے جو نمائندے گئے وہ ہماری نمائندگی نفی برابر نہیں کرسکے اور بارہمولہ سے گئے رکن پارلیمان نے تو اُس وقت حد کی پار کردی جب اُس نے دلی جاکر کہا کہ کشمیری نوجوانوں دو عدد کُرتے پجامے کیلئے بندوق اُٹھاتا ہے اور یہ باتیں پی ڈی پی ممبر پارلیمنٹ نے وزیر اعظم کے سامنے کہیں۔ اب اگر آپ کا نمائندہ ہی آپ کی صحیح ترجمانی نہ کرپا یا تو غیروں سے ہم کیا اُمید رکھ سکتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ آج کے انتخابات میں بھی کچھ لوگ مختلف قسیم کے لبادے اوڑھ کر اور مختلف نشان لیکر آر ایس ایس اور بھاجپا کے خاکوں میں رنگ بھر رہے ہیں، پی ڈی پی اور پی سی ان میں پیش پیش ہے،ہم ایسی جماعتوں اور عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی سیاسی گاڑی جھوٹ کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ آج یہ عناصر ہر بات پر بیان بازی، مذمت، ملامت اور ہمدردی کرتے نظر آرہے ہیں لیکن جب یہ لوگ بھاجپا کیساتھ مخلوط اتحاد میں تھے تب ان لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا، 2016کے بعد جب یہاں کے عوام کو بد سے بدترین مظالم ڈھائے جارہے تھے ، تب یہ لوگ خاموش تھے۔
جب یہاں مسلسل ہلاکتیں ہورہی تھیں تب یہ خاموش تھے۔ جب پیلٹ گنوں سے ہزاروں لوگ زخمی، اپاہج اور نابینا ہورہے تھے ، تب ان لوگوں کے منہ سے آہ تک نہیں نکلی۔ جب یہاں ایک ساتھ 15ہزار نوجوان گرفتار کئے گئے تب ان کی آواز نہیں نکلی۔ بس جونہی کرسی گئی بیان بازیاں، آج ہر بات پر ہمدردیاں، مذمت اور مگرمچھ کے آنسو ۔یہی لوگ آج ریاست کے تشخص کے دفاع کے دم بھر رہے ہیں لیکن جب یہ دونوں جماعتیں بھاجپا کیساتھ مخلوط اتحاد میں تھیں تو ان جماعتوں نے نہ صرف ریاست پر جی ایس ٹی، فوڈ ایکٹ اور سرفیسی ایکٹ جیسے قوانین لاگو کروانے میں بھر پور تعاون دیا۔اس سے بڑی موقعہ پرستی کی اور کیا مثالیں ہوسکیں ہیں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی اور پی سی نے بھاجپا کیساتھ حکومت کی اور یہاں این آئی اے کو تمام سختیاں کرنے کی اجازت دی اور ان کیلئے مقامی پولیس کی خدمات بھی میسر رکھیں، کل ہی ہماری ریاست کے سب سے بڑی مذہبی لیڈر میرواعظ عمر فاروق کو دلی طلب کیا گیا اور 9گھنٹے تک اُن سے پوچھ تاچھ کی گئی اور آج دوبارہ حاضری دینے کیلئے کہا گیا تھا۔ اس سب کی اجازت کس نے دی۔اگر اُس وقت حکومت میں رہ کر ان دونوں جماعتوں نے این کو روکا ہوتا تو آج حالات یہاں تک نہیں پہنچ گئے ہوتے۔
این سی نائب صدر نے کہا کہ پی ڈی پی نے بھاجپا کیساتھ اتحاد کرتے ہوئے یہاں کے لوگوں کو ایجنڈا آف الائنس کے نام پر گمراہ کیا لیکن ایک بھی وعدے کو پورا نہیں کیا گیا، اُلٹا یہاں کے حالات کو بدتر بنادیا گیا اور خصوصی پوزیشن پر حملے کروانے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہماری شناخت، ہماری پہنچان، ہماری خصوصی پوزیشن کو خطرہ لاحق ہے تو ہم غلط نہیں کہتے کیونکہ پی ڈی پی اور پی سی جیسے اندرونی لوگ آر ایس ایس اور بھاجپا کے مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ دفعہ370اور دفعہ35اے صرف ہماری پہچان اور ہماری شناخت کا مسئلہ نہیں بلکہ ان دفعات کیساتھ ہمارا مستقبل جڑا ہو اہے۔ انہوں نے کہا کہ 35اے کے ذریعے ہمارا سٹیٹ سبجیکٹ قانون محفوظ ہے اور سٹیٹ سبجیکٹ قانون کی بدولت ہی شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کا زرعی اصلاحات کا تاریخی اور انقلابی اقدام ممکن ہوپایا اور ساری زمین مقامی باشندوں کو ملی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہوتا تو آج یہاں بھی باقی ریاستوں کی طرح کسان قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوتے اور وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوتے۔ باقی ریاستوں میں ایسے واقعات اس لئے رونما ہورہے ہیں کیونکہ وہاں کے کسان اُس زمین کے مالک نہیں ہوتے ہے جس پر وہ فصل کی کاشت کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے ہم اس دفعہ35اے کی رکھوالی کریں ،یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے ،ہم آخری سانس تک اس کو بچا کے رکھیں گے اور ہم کوئی بھی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
