تازہ ترین
نیشنل کانفرنس کشمیر میں موت و تباہی کی ذمہ دار : سجاد لون
خبراردو:
کنگن میں کئی انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے پاس چناوی دھاندلیوں،کشمیر میں دلّی کے نمائندوں اور ہزاروں لاشوںکے سوا دکھانے کیلئے کچھ نہیں ہے۔
سجاد لون نے کہا”1975سے کشمیری قوم پر ڈھائے گئے ہر ستم اور ہر استحصال کی جڑ کی کڑیاں عبداللہ خانوادے سے جا کر ملتی ہیں۔بے اختیار وزیراعلیٰ کی کرسی کیلئے ہمارے وزیراعظم اور صدر ریاست کے عہدوںکا سودا کرنے سے لیکر اپنے مخالفین خاص کر جماعت اسلامی کو دبانے کے ایک حربہ کے طور پبلک سیفٹی ایکٹ کا قانون بنانے تک نیشنل کانفرنس نے تاریخ کے ہر نازک موقعہ پر کشمیری عوام سے دھوکہ کیاہے“۔انہوںنے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی جانب سے1987کے انتخابات میں ریکارڈ توڑ دھاندلیاں تشدد کیلئے فوری محرک ثابت ہوئیں جس سے تاحال ریاست کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ہے اور ایک لاکھ سے زیادہ انسانی جانوں کو نگل چکا ہے۔ اُن کا کہناتھا”اگر وہ کافی نہیں تھا تو ایک اور خونی معاہدہ کے تحت1996میں عبداللہ خانوادے نے کشمیریوںکی ایک اور نسل کے خون کی قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کیلئے اخوانیوں کے ساتھ شراکت کی۔عبداللہ خاندان کیلئے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کےلئے انعام کے طور پر سیٹ شیئرنگ معاہدہ کے تحت خونخوار اخوانیوں کو قانون ساز کونسل کے عہدے عطا کئے “۔
سرینگر بڈگام پارلیمانی حلقہ کے عوام سے پیپلز کانفرنس امیدوار عرفان رضا انصاری کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ تبدیلی نہ ہونے کی لعنت کو اب جانا پڑے گااور اس کیلئے لوگوں کو اب فیصلہ لینا ہی پڑے گا۔ سجاد نے کہا کہ پیپلز کانفرنس ایک انقلابی تبدیلی لائے گی اور حکمرانی کا ایک ایسا نظام متعارف کرے گی جو آج کی حقیقتوں اور چیلنجوں سے مطابقت رکھتا ہو۔انہوںنے کہا”نیشنل کانفرنس نے1975سے دہائیوںتک حکومت کی ہے ۔وہ اپنی منفرد حصولیابی یا کامیابی کے طور کیا دکھا سکتے ہیں؟ چوری اوردھاندلی شدہ الیکشنوں،کشمیر میں دلّی کے نمائندوں یا سفیر وں اور ہزاروں لاشوں کے سوا وہ کچھ نہیں دکھاسکتے ۔ازمنہ قدیم کا نظام ہمیں موجودہ دور کے چیلنجوں سے نمٹنے میںمدد نہیں کرسکتا“۔
پیپلز کانفرنس چیئرمین نے کہا کہ اپنے مایوس کن ٹریک ریکارڈ کیلئے معروف آزمائے ہوئے ناکام لیڈران ہی کشمیر میںموت و تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ اُن کا کہناتھا”میں تب سکول میں ہی تھا جب فاروق صاحب ممبر پارلیمنٹ تھے اور اس کے بعد وزیراعلیٰ بنے تو یہی راتھر صاحب وزیر خزانہ تھے ،یہی مبارک گل ،یہی شفیع اوڑی صاحب ،یہی اکبر لون صاحب۔تب میں سکولی طالب علم تھا اور آج ادھیڑ عمر کا آدمی ہوں۔انہی لوگوں نے ڈل جھیل کی خاموش موت ہوتے دیکھی ،انہی لوگوں کی سربراہی میں جنگلات کی تباہی ہوئی ۔انہی لوگوںنے ہمارا تعلیمی نظام تباہ کیا،انہی لوگوںنے ہمارا طبی سیکٹر برباد کیا،انہیں لوگوںنے فرسودہ قوانین کے تحت حکمرانی یقینی بنائی ،انہی لوگوںنے چناوی دھاندلیا کیں،انہی لوگوں نے پر امن کشمیریوں کے ہاتھوں میں بندوق تھمادی ،انہی لوگوں نے ہم نے ہمارا خصوصی مقام چھنوا لیااور اب انہی لوگوں کی ایسی جرا ¿ت ہے کہ وہ آکر ہم سے ووٹ مانگ رہے ہیں“۔
تبدیلی پرزور دیتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ یہ الیکشن سیاستدانوں کا نہیں بلکہ عام عوام کا امتحان ہے۔پی سی چیئرمین کا کہناتھا”کیا یہی لوگ ہمیں حکمرانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ ۔صحیح فیصلہ کرنا بالکل آسان ہے ۔یا تو اُس فرسودہ نظام سے تعلق رکھنے والے فرسودہ ذہنیت کے حامل لوگوں کو جانا ہے یا ہمیں ہی بحیثیت عوام فرسودہ اور بے کار بنایا جائے گا۔ہم سب تبدیلی کے مستحق ہیںاور لوگ ہی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ہمیں ایک موقعہ ملنا چاہئے ۔فاروق صاحب ایک شاندار نابکار رہے ہیں اور اگر ہم ایسے بے کار لوگوں کو اپنی نمائندگی کا اعزاز بخشیں گے تو پھر کچھ کرنے والے لوگوں کیلئے کیا انعام ہوگا؟“۔
انہوںنے کہا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آتی ہے تو وہ چھ ماہ کے اندر اندر ساری سرکاری اسامیوں پُر کریں گے۔اُن کا کہناتھا”ہمیں ایک موقعہ دیجئے ۔ہم نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہم ناقابل حصول چیزوں کا وعدہ نہیں کرتے ۔اگر ہم اقتدار میںآئے تو ہم چھ ماہ کے اندر اندر ساری سرکاری نوکریوں پر بھرتی عمل میں لائیں گے۔کیا کشمیری نوجوانوں کو معلوم ہے کہ 40ہزار کے قریب سرکاری نوکریاں خالی پڑی ہیں؟ اور بھرتیوں ایجنسیوں کو یہ اسامیاں پُر کرنے میں دہائیاں لگ جائیںگی ۔ہمارے پاس نئے آئیڈیاز ہیں۔ہمارے پاس سال میں دو یا تین جنرل امتحانات کرنے کی تجویز ہے اور درجنوں امتحانات کی بجائے ان دو یا تین امتحانات میں ساری اسامیوں کے امتحانات ہونگے اور میرٹ کی بنیاد پراہل امیدوار وںکو نوکریاں ملیں گی“۔
فاروق عبداللہ کی جانب سے انہیں بی جے پی کے ساتھ ملنے کا مشورہ دینے کے دعویٰ پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے سجاد غنی لون نے کہا کہ انہوںنے وہ گزشتہ ایک دہائی میں فاروق عبداللہ سے کبھی ملے ہیں اور نہ ہی ان سے کبھی فون پر بات کی ہے۔پی سی چیئرمین کا کہناتھا”فاروق صاحب خدا کیلئے ہمیں بتائیں کہ گزشتہ ایک دہائی میں کب میں نے انہیں فون کیا یا اُن سے ملا؟۔یا تو وہ جھوٹ بول رہے ہیں یا ان پر بڑھاپا غالب آچکا ہے ۔میں غیر مبہم الفاظ میں اس کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میں کبھی بھی فاروق صاحب سے نہیں ملا ہوںاور نہ ہی انہیں کبھی فون کیا ہے ۔بے شک ہم جہاز میں ایک ساتھ تھے لیکن ایک ہی سیٹ پر نہیں اور وہ بھی تک جب مفتی صاحب کا انتقال ہوا تھا۔جہاز سے اترنے کے بعد ائرپورٹ لانج تک چلنے کے دوران صاحب نے کچھ میرے کان میں کہا۔یہ یکطرفہ مکالمہ تھا۔انہوںنے کہا اور میں نے سنااور چونکہ وہ نجی گفتگو تھی تو میں اس گفتگو کو منظر عام پر لا کر انہیں شرمندہ نہیںکرنا چاہتاہوں“۔
2014اسمبلی چناﺅ کے بعد بی جے پی قیادت کے ساتھ ہونے والی میٹنگوں پرعمر عبداللہ کی مسلسل خاموشی پر سجاد لون نے ایک بار پھر عمر عبداللہ سے کہا کہ وہ صاف جواب دیں۔اُنہوںنے کہا”بی جے پی قیادت کے ساتھ ملنے پر عمر عبداللہ کی مسلسل خاموشی شرمناک ہے ۔جہاں اُنہیں ہر چیز پر تبصرہ کرنے کی عادت ہے ،ایک جواب ،جو کشمیری عوام اُن سے مطالبہ کررہے ہیں ،اُنکی طرف سے نہیں آرہا ہے۔عمر عبداللہ خاموشی کا لبادہ کیوں اوڑھے ہوئے ہیں؟۔اگر اُ ن کے پاس چھپانے کو کچھ نہیںہے تو انہیں2014اسمبلی چناﺅ کے بعد ہوئے والے واقعات سے پردہ ہٹا لینا چاہئے اور کشمیری لوگوں کو یہ فیصلہ لینے کا موقعہ فراہم کرنا چاہئے کہ کیا وہ بی جے پی کے خلاف تنہا سپاہی ہیں یا بی جے پی کے مسترد شدہ ہیں اور ’انگورکھٹے ہیں‘ کی ایک بہترین مثال ہیں“۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
