تازہ ترین
کراس ایل او سی تجارت کی معطلی، تاجروں کا پرتاپ پارک میں احتجاجی مظاہرہ
خبراردو:
مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے آر پار تجارت کی معطلی کے خلاف متعلقہ تاجروں نے سوموار کو سرینگر میں پرامن احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے تجارت کو بلاتاخیر بحال کرنے پر زور دیا۔ کراس ایل او سی ٹریڈیونین کے چیئرمین ہلال ترکی نے بتایا کہ ہم آرپارتجارت کیلئے بہتراورموثرمیکانزم بنانے کیخلاف نہیں ہیں لیکن یہ سب کچھ ہمارے روزگاراورہمارے اہل خانہ کے مستقبل کومخدوش بناکرنہ کیاجائے۔یونین ھٰذاکے جنرل سیکرٹری حاجی محمدشفیع کاکہناتھاکہ تجارت کومعطل کئے جانے سے سینکڑوں تاجروں،ٹرانسپوٹروں ،دکانداروں اورمزدوروں کی روزی روٹی خطرے میں پڑگئی ہے۔خیال رہے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے رواں ماہ کی 19تاریخ کوایک اچانک آرڈرجاری کرکے یہ بتایاگیاکہ آرپارتجارت کوعارضی بنیادوں پرتب تک کیلئے معطل کیاجاتاہے ،جب تک اس کیلئے ایک موثرمیکانزم تیارنہ کیاجائے کیونکہ بمطابق حکمنامہ اس تجارت کی آڑمیں پاکستان میں بیٹھے کچھ عناصرہتھیار،نقلی کرنسی نوٹ اورمنشیات کی اسمگلنگ کررہے ہیں۔
سوموارکی صبح پریس کالونی سری نگرکے متصل پرتاپ پارک میں جمع ہوئے درجنوں تاجروں نے ہاتھوں میں بینراورپلے کارڈس اْٹھارکھے تھے ،جن پرآرپارتجارت کی معطلی کیخلاف نعرے لکھے تھے۔کراس ایل اوسی ٹریڈیونین کے چیئرمین ہلال ترکی ، جنرل سیکرٹری حاجی محمدشفیع اوردیگرکئی ذمہ داروں کی قیادت میں جمع تاجروں نے کہاکہ آرپارتجارت پربندش لگاکرمرکزی سرکارنے ہمارے ذریعہ معاش پربریک لگادی ہے۔انہوں نے کہاکہ چیزوں کے بدلے چیزوں کایہ کاروبارہی ہماراواحدذریعہ معاش ہے اوراگراس میں بھی رکاوٹ ڈالی جائیگی توہماری معاشی اورمالی حالت ابترہوجائیگی۔آرپارتجارت سے جڑے تاجروں اوردیگرمتعلقین نے ہاتھوں میں جوبینراورپلے کارڈس اْٹھائے تھے ،اْن پر’ہمیں انصاف دو،ٹریڈچلاؤہماراکاروبارلوٹاؤ،تجارت بحال کرواورہمارے مستقبل سے کھلواڑمت کرو‘جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔
اس موقعہ پرکراس ایل اوسی ٹریڈیونین کے چیئرمین ہلال ترکی اور جنرل سیکرٹری حاجی محمدشفیع کاکہناتھاکہ ہم آرپارتجارت کیلئے بہترمیکانزم بنانے کیخلاف نہیں ہیں بلکہ ہماراتویہ دیرینہ مطالبہ رہاہے کہ درکارمیکانزم کیساتھ ساتھ اس تجارت سے جڑے تاجروں کوتمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہاکہ ہماراپہلے دن سے ہی یہ مؤقف رہاہے کہ اس تجارت کی شفافیت کیلئے بہترطریقہ کارمرتب کیاجائے تاکہ اس تجارتی رابطے پرکوئی اْنگلی نہ اْٹھا سکے نیزاس تجارت کی آڑمیں کسی بھی طرح کی کوئی غیرقانونی سرگرمی نہ ہونے پائے۔خیال رہے مرکزی سرکارنے لگ بھگ10سال سے جاری آرپارتجارتی سرگرمیوں کوغیرمعینہ عرصہ کیلئے معطل کردیا ،اوراس حوالے سے باضابطہ طورپرایک آرڈربھی جاری کردیاگیا۔مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک آرڈر18اپریل2019کونارتھ بلاک نئی دہلی سے جاری کیاگیا۔مرکزی وزارت داخلہ کے محکمہ برائے امورجموں وکشمیرکی خاتون ڈائریکٹرمس سلیکھاکا دستخط شدہ یہ اہم آرڈرایک عنوان کے علاوہ2پیراگرافوں پرمشتمل ہے۔
سرکاری حکمنامے کاعنوان ہے’سلام آباداوڑی اورچکنداباغ کے راستے آرپارتجارت کی معطلی‘۔وزارت داخلہ کے جاری کردہ اس آرڈرمیں بتایاگیاتھا کہ حکومت ہندکویہ اطلاعات ملی ہیں کہ کراس ایل اوسی ٹریڈکوپاکستان میں بیٹھے کچھ عناصرغلط طورپراستعمال کررہے ہیں ،جسکے تحت ایسے عناصراس تجارت کی آڑمیں ہتھیار،نقلی کرنسی اورمنشیات کواسمگل کرکے جموں وکشمیرپہنچادیتے ہیں۔آرڈرکے دوسرے حصے یاپیراگراف میں بتایاگیاہے کہ ان وجوہات کی بناء پرجموں وکشمیرمیں آرپارتجارت کی معطلی عمل میں لائی جاتی ہے تاہم اس تجارت کوعارضی بنیادوں پرمعطل رکھے جانے کااشارہ دیتے ہوئے آگے بتایاگیاہے کہ آرپارتجارت کیلئے سخت یاموثر’ریگولیٹری نظام‘بنایاجائیگا۔بیان کے مطابق سخت ریگولیٹری نظام لانے کی ضرورت اس لئے پائی گئی تاکہ تجارت کوچیزوں کے بدلے چیزوں تک ہی محدودرکھاجائے تاکہ ریاست جموں وکشمیرکے لوگو ں کواس سے فائدہ پہنچ سکے۔
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
کھیل
قومی یومِ کھیل پر جموں و کشمیر کی کھیل برادری نے میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا
جموں، جموں و کشمیر کے کھلاڑیوں، سابق کھلاڑیوں، کوچز اور کھیلوں سے وابستہ دیگر افراد نے ہفتہ کے روز قومی یومِ کھیل کے موقع پر کھیل برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے عظیم ہاکی کھلاڑی میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
قومی یومِ کھیل ہر سال 29 اگست کو میجر دھیان چند کی یومِ پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ وہ ہندوستان کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ہندوستانی ہاکی کے لیے ان کی خدمات نسلوں کے لیے آج بھی تحریک کا ذریعہ ہیں۔
جموں و کشمیر کی کھیل شخصیات نے اس موقع پر ایک صحت مند اور نظم و ضبط والی معاشرہ تشکیل دینے میں کھیلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے مزید تعاون اور مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، کوچنگ کی بہتر سہولیات فراہم کرنے اور نوجوانوں کی مختلف کھیلوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کئی سابق کھلاڑیوں اور کوچز نے کہا کہ قومی یومِ کھیل کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے اور نئی نسل کو لگن اور عزم کے ساتھ کھیلوں کو اپنانے کی ترغیب دینے کا ایک اہم موقع ہے۔
دریں اثنا، اس موقع کی مناسبت سے جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل، محکمہ یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس، مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور کھیلوں کی متعدد انجمنوں کی جانب سے کئی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
نئی تشکیل دی گئی جموں اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے بھی اس موقع پر کھیل برادری کو مبارکباد پیش کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
نیپال میں سیلاب اور لرزشِ اراضی سے اموات کی تعداد 623 تک ہو گئی، 1,100 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں
کٹھمنڈو، شدید سیلابوں اور لینڈ سلائیڈز کے باعث نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد ہفتہ کو 623 تک پہنچ گئی، جب کہ ریسکیو ٹیمیں تیز بہاؤ والے دریاؤں کے ذریعے بہنے والی لاشوں کی تلاش کر رہی ہے۔
نیپال پولیس نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے 616 لاشیں برآمد کی ہیں، جن میں 233 چتّوان اور 158 نوالپاراسی مشرقی میں ملی ہیں، جو ان علاقوں کو آفت سے سب سے زیادہ متاثرہ بناتی ہیں۔ اس ہلاکت خیز صورتحال میں بھوتیکوشی اور ٹرِشُلی دریاؤں کے طغیانی کے بعد گورکھا، دھادِنگ اور نوواکوت میں ملنے والے درجنوں افراد بھی شامل ہیں۔
لاشیں حتیٰ کہ ہندوستان کی سرحد تک بھی ملی ہیں۔
کم از کم 638 افراد نیپال کے حصے میں لاپتہ ہیں، جن میں 511 غیر ملکی شامل ہیں۔
دریں اثنا، ریاستی خبر رساں ایجنسی شِنخوا کے مطابق چین میں سات افراد ہلاک اور 554 لاپتہ ہیں۔
نیپالی حکام نے بتایا کہ 2,301 افراد کو بچایا گیا اور زخمیوں کا علاج کیا گیا ہے، نوواکوت اور راسووا اضلاع میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 27 پولیس اہلکاروں سے رابطہ نہیں ہو سکا جبکہ متاثرہ علاقوں میں بازیابی کے امور کے لیے 4,811 اہلکار تعینات ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
