تازہ ترین
با برکت ماہ رمضان المبارک کیسے گزاریں؟
الطاف جمیل ندوی 
آمد رمضان کے ساتھ ہی لوگ یا تو خوشی و مسرت محسوس کررہے ہیں یا پھر اداس ہو رہے ہیں ،کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اس وجہ سے خوش ہورہے ہیں کہ رمضان کی سعادت نصیب ہوگی اور ہم رب کے حضور اپنا تعلق مزید مستحکم کرکے دارین کی سعادت حاصل کرنے کی سعی کریں گئے اسی طرح کتنے ایسے بھی برائی کے خوگر لوگ ہیں جو اس وجہ سے غمزدہ ہونا شروع ہوچکے ہیں کہ بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرنی پڑے گی اور مختلف طریقے اختیار کرکے اس سعادت سے فرار اختیار کرنے پر اپنی صلاحیت استعمال کرتے ہیں .
بعض لوگ اس طرح کے کام اختیار کرتے ہیں کہ اس میں روزہ رکھنا دشوار ہوتا ہے اور وہ دل ہی دل میں جھوم جاتے ہیں
پر کتنے ایسے بھی بدنصیب ملیں گے جو اس وجہ سے خوشی منارہے ہیں کہ انہیں روزہ داروں کے سامنے کھانے کو ملے گا اور وہ روزہ داروں کو چڑھاتے ہیں کہ کیا فائدہ تمہاری بھوک پیاس کا دیکھ لیں ہم کیسے زندگی کو مختلف لذیذ کھانے سےسنوار رہے ہیں
سوچنے کی بات ہے کہ ہم میں سے ہر کسی کو جائزہ لینا ہے کہ مذکورہ بالا کس قسم میں ہمارا شمار ہورہا ہے .
اگر ہم پہلی قسم سے تعلق رکھتے ہیں تو قابل مبارک باد ہیں ، دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو رمضان المبارک کی ہرسعادت اور ہرخیر و برکت سے نوازے اور ہمیں بھی ان لوگوں میں سے بنائے جن کے منہ سے نکل رہی بو رب الکریم کو بہت پسندیدہ ہے
دوسری قسم کے لوگوں کے لئے صرف اور صرف محرومی ہے ، دنیا میں بربادی ہے اور آخرت میں رسواکن عذاب ہے یہ مسلم معاشرے میں رہ کر بھی رب الکریم کی رحمتوں سے محروم رہ جاتے ہیں ایسے لوگ از خود رب الکریم کے غضب کو دعوت دیتے ہیں
اس لئے ایسے لوگوں کو اللہ تعالی سے سچی توبہ کرنی چاہئے اور رب الکریم
کے حکموں پہ چلنا چاہئے تاکہ ان کی دنیا و آخرت سنور جائے
تیسری قسم کے لوگوں کو چاہئے کہ ایسا پیشہ اختیار کریں جس سے روزہ پر اثر نہ پڑے، یا کم از کم رمضان میں اپنے اس عمل سے رک جائیں جس سے روزہ پر اثر پڑتا ہو اور اللہ سے امید وابستہ رکھنی چاہئے ، کہ وہی روزی دینے والا ہے اور ممکن ہے کہ رب آپ کی تلاش حق کی راہ میں ایسی دستگیری فرمائے کہ آپ بے نیاز ہوجائیں اس رزق کی تلاش سے یہ سب اسی رب کے ہاتھ میں ہے
چوتھی قسم کے لوگ پرلے درجے کے بدنصیب ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو کفار کی روش اختیار کرتے ہیں اور ان کی تقلید میں اہل ایمان کو کوستے اور ان کی استہزاء کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنی گھناؤنی حرکتوں سے باز آنا چاہئے اور قہر الہی سے پناہ مانگنی چاہئے رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں کا کیا کہنا جن کے آنے پے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم اپنی عبادات میں لذت و چاشنی کے شوق میں اضافہ کرتے اور شوق محبت میں رب کے حضور اپنا تعلق بناتے رب کی بارگاہ میں راز و نیاز کی باتیں کرتے رحمتوں کو سمیٹنے کے لئے اپنے مبارک ہاتھ بلند کرتے سحر ہو کہ افطار رب سے فریاد کرتے ہیں.
ارشاد باری تعالی ہے کہ مومنوں پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے سابقہ امتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی شعار بن جاؤ
سوچنے کی بات ہے کہ رمضان المبارک اس سے پہلی امتوں پر بھی فرض ہی تھا اب جو ہم پر فرض کیا گیا تسلی بھی دی گئی کہ یہ صرف آپ کا امتحان نہیں ہورہا ہے بلکہ ایسا سابقہ امتوں سے بھی معاملہ کیا گیا تاکہ کھرے کھوٹے کو پرکھا جائے کہ تم میں سے رب سے کس کا کیا تعلق ہے کتنا مستحکم ہے اس میں کتنی اللہ کی محبت و اطاعت موجود ہے دنیا کی مختلف اقوام ایسا کرتے ہیں کہ مختلف دن مقرر کر کے دن میں کھانے پینے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں پر ان کے اس عمل پر ان کے لئے کوئی پابندی نہیں کہ یہ کس طرح کی بھوک پیاس کی شدت کو سہہ لیتے ہیں پر مومنین پر قوانین نافذ ہیں کہ ایسا کرے ایسا نہ کریں یہ روزہ میں بہتر کام ہے پر اس کام سے روزے برباد ہوجاتے ہیں مطلب یہ کوئی اچانک والا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ الہی حکم ہے اور اس کے کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں جسے اب رب کی رضا مطلوب ہے وہ بڑا حساس بن کر پورے دن اپنے جسم کے اعضاء کی رکھوالے بھی کریں کہ کہیں کوئی حصہ یا عضو کسی غلطی کا ارتکاب نہ کر بھیٹے اور میری دن کی مشقت برباد ہو جاۓ یہ اخلاقیات کی تعلیم بھی دیتا ہے تو وہیں درس مساوات بھی یہ اتحاد و اتفاق کی ترغیب بھی دیتا ہے تو وہیں محبت و خلوص کا درس بھی انسان دوستی کا سبق بھی دیتا ہے.
کچھ کام کی باتیں
۱۔۔۔ روزہ دار کو افطار کرانا چاہئے ایک کجھور ہو کہ پانی کا ایک گھونٹ
اس سے آپسی میں محبت و اخوت کا تعلق بنے گا اصل یہی ہے ورنہ ایک گھونٹ پانی سے کیا ہوتا بس اسلام چاہتا ہے کہ امت مسلمہ آپس میں بھائی چارے کی مثالیں قائم کریں اور اسے فروغ دینے کا سنہری موقعہ رمضان المبارک کے مبارک ایام ہیں
۲۔۔ گالی گلوچ سے پرہیز
یہ بھی ایک ایسا کام ہے جس کو اب ہم مذاق مذاق میں مختلف بہانے بنا کر صحیح بنانے کی تک و دو میں رہتے ہیں پر ہے یہ ایک غلیظ عادت جس سے پرہیز کی تعلیم دی گئی ہے پر رمضان المبارک میں آسانی سے اپنی زبان کو بدی کی باتوں سے روکا جا سکتا ہے
۳۔۔ صبر کرنے کا کام یہ بھی ہے کہ بھوک پیاس کی شدت کا شکوہ بہ کریں کسی بھی سے کیونکہ یہ بھوک پیاس جس محبت و عقیدت کے لئے آپ سہہ رہے ہیں اس کی تا قیامت بدر میں اصحاب نبوی علیہ السلام نے مثال پیش کی انہوں نے کسی سے اپنی بے بسی بیان نہ کی سوائے رب الکریم کے .
۴۔۔۔ ذکر الہی
گر چہ پورے سال کرنے کا کام ہے پر رمضان المبارک میں اس کی لذت و چاشنی کا الگ ہی لطف ہے کہ آپ بھوک محسوس کر رہے ہیں اپنی بھوک کی شدت سے بچنے کے لئے آپ قرآن مجید اٹھا کر اس کی تلاوت شروع کرکے خود کو رب سے جوڑ رہے ہیں تو رب بھی آپ کو راندہ درگاہ نہ کرے گا بلکہ آپ کی بھوک جنت کے باغیچوں میں مٹانے کا وعدہ دے کر نوید فلاح سنائے گا پورے سال گر چہ کم قلیل تلاوت ہوتی رہتی ہے اب پر رمضان المبارک میں اس کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے کی کوشش کریں بیشک قرآن مجید آپ کے دلوں کو منور کرے گا
۵۔۔ آپسی رنجش یا حسد بغض سے حتی الامکان بچیں نفرت و کدورت بھرے قلب کی صدائیں ضائع ہوا کرتی ہیں
۶۔۔ مساجد میں شور غل مچانے سے احتیاط کرنی لازم ہے فضول کے مسائل اٹھا کر ضد نہ کریں کہ یہ صحیح پے یہ غلط ہے بلکہ اپنے معاملات اللہ تعالی و رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کریں نہ کہ اپنی ضد اور انا کو بچانے کے لئے جگڑا کریں اعتدال کی راہ کا انتخاب سب سے بہتر طریقہ ہے اصلاح کا
آئے میرے عزیزان گرامی یہ چند گزارشات آپ کے لئے لکھ دی ہیں امید ہے کہ یہ رمضان ہمارے لئے رحمت ربی کا پیغام بن کر ہماری زندگیوں کو منور کریں شعبان کے آخری ہفتہ میں کیسا بہترین پیغام ہمارے لئے کتب احادیث میں موجود ہے آئے اس کا مطالعہ بھی کریں کہ ہم کیسے اس ماہ میں اپنے اوقات کو صرف کریں کیسے اپنی ایمانی لذت و چاشنی میں مزید اضافہ کرائیں کتب احادیث بتاتی ہیں کہ شعبان کا آخری دن ہوتا تو آپﷺ مسجد نبوی میں صحابہ کرام کو جمع فرما کر خطبہ ارشاد فرماتے جس میں رمضان المبارک کے فضائل و وظائف اور اہمیت کو اجاگر فرماتے تاکہ اس کے شب و روز سے خوب فائدہ اٹھایا جائے اور اس میں غفلت ہرگز نہ برتی جائے، اس کے ایک ایک لمحہ کو غنیمت جانا جائے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے فرمودہ خطبہ کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم کو شعبان کے آخری دن خطبہ دیا، فرمایا: اے لوگو! ایک بہت ہی مبارک ماہ تم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض اور رات کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔
جو شخص کسی نیکی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف قرب چاہے اس کو اس قدر ثواب ہوتا ہے گویا اس نے دوسرے ماہ میں فرض ادا کیا۔
جس نے رمضان میں فرض ادا کیا اس کا ثواب اس قدر ہے گویا اس نے رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں ستر فرض ادا کئے۔
وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے،وہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کا مہینہ ہے۔
اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔
جو اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جاتی ہے اور اس کو بھی اسی قدر ثواب ملتا ہے اس سے روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی نہیں آتی۔ اس پر صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیک و سلم ! ہم میں سے ہر ایک میں یہ طاقت کہاں کہ روزہ دار کو سیر کر کے کھلائے۔ اس پر آپ نے فرمایا: یہ ثواب تو اللہ اسے بھی عطا فرمائے گا جو ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ پلا دے. جس نے کسی روزہ دار کو افطاری کے وقت پانی پلایا اللہ تعالیٰ (روزِ قیامت) میرے حوضِ کوثر سے اسے وہ پانی پلائے گا جس کے بعد دخولِ جنت تک پیاس نہیں لگے گی۔
یہ ایسا مہینہ ہے جس کا اول رحمت ہے، اس کے درمیان میں بخشش ہے اور اس کے آخر میں آگ سے آزادی ہے۔ جو شخص اس میں اپنے غلام کا بوجھ ہلکا کرے اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے اور آگ سے آزاد کر دیتا ہے .
یہ وہ تعلیمات نبوی علیہ السلام ہیں جنہیں گر ہم رمضان المبارک کے مبارک ایام میں عمل میں لائیں تو یقینا رب الکریم کی رحمتیں ہمارے لئے وا ہوں گئیں آئے امت مسلمہ کے عظیم کارواں کے ساتھیو آو مل کر اپنی زندگیوں کے ان مبارک اوقات کو اپنے لئے رحمتوں کا سایہ تلاش کریں میں صرف کریں اور بقاء امت کے لئے اپنی دعاؤں میں امت کے کرب کا رب سے خاموشی سے اظہار کریں.
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
