تازہ ترین
’ٹائم‘ میگزین نے پی ایم مودی کو بتایا ہندوستان کو تقسیم کرنے والا اہم شخص
خبراردو: لوک سبھا الیکشن اپنے آخری مرحلے میں ہے اور میگزین ’ٹائم‘ میگزین نے اپنے نئے ایڈیشن میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک ایسی ہیڈ لائن کے ساتھ صفحہ اول پر جگہ دی ہے جس سے بی جے پی کا پارا چڑھ سکتا ہے۔ ’ٹائم‘ میگزین نے پی ایم مودی کو بتایا ہندوستان کو تقسیم کرنے والا اہم شخص قرارد یا ہے
اس سال کے عام انتخابات کے آخری دو مرحلے کی ووٹنگ باقی ہے، لیکن برسراقتدار بی جے پی اور پی ایم نریندر مودی نے شاید ایک بار بھی اپنے 5 سال کے دور کی بنیاد پر لوگوں سے ووٹ نہیں مانگے ہیں۔ بی جے پی اور مودی کی تقریروں کا مآخذ اپوزیشن اور خاص طور سے کانگریس کو نشانہ بنانا ہی رہا ہے۔ ایسے وقت میں بین الاقوامی ٹائم میگزین نے اپنے تازہ شمارہ میں پی ایم مودی اور ان کے پانچ سال کے دور اقتدار کا آڈٹ پیش کرتے ہوئے کور اسٹوری شائع کی ہے۔
میگزین نے اپنے 20 مئی کے شمارے میں کور پر پی ایم مودی کی تصویر کے ساتھ ہیڈلائن میں لکھا ہے ’انڈیاز ڈیوائیڈر اِن چیف‘، یعنی ہندوستان کو تقسیم کرنے والا اہم شخص۔ کور اسٹوری میں موجودہ لوک سبھا انتخاب کا جوڑ گھٹاؤ اور مودی حکومت کے پانچ سال کی تفصیل پیش کی ہے۔ اندر جو کور اسٹوری ہے اس کا عنوان ہے ’کین دی ورلڈس لارجیسٹ ڈیموکریسی انڈیور اَنَدر فائیو ائیرس آف مودی گورنمنٹ؟‘ یعنی کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مودی حکومت کے مزید پانچ سال برداشت کر پائے گی؟
TIME’s new international cover: Can the world’s largest democracy endure another five years of a Modi government? https://t.co/oIbmacH9MS pic.twitter.com/IqJFeEaaNW
— TIME (@TIME) 9 مئی، 2019
’ٹائم‘ میگزین کے اپنے ایشیا ایڈیشن میں شائع اس کور اسٹوری میں پی ایم نریندر مودی کے کام پر سخت تنقیدی تبصرہ کیا ہے۔ میگزین نے مضمون میں پنڈت جواہر لال نہرو کے سماجواد اور ہندوستان کی موجودہ سماجی حالت کا موازنہ کیا ہے۔ اس کور اسٹوری کو آتش تاثیر نے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’نریندر مودی نے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کے جذبہ کو بڑھانے سے متعلق کوئی خواہش ظاہر نہیں کی۔‘‘
مضمون میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’نریندر مودی نے اپنی تقریروں اور بیانوں میں ہندوستان کی عظیم شخصیتوں پر سیاسی حملے کیے، جن میں نہرو تک شامل ہیں۔ وہ ’کانگریس مُکت‘ ہندوستان کی بات کرتے ہیں، انھوں نے کبھی بھی ہندو-مسلم کے درمیان بھائی چارے کے جذبہ کو مضبوط کرنے کے لیے کوئی خواہش ظاہر نہیں کی۔‘‘ آگے لکھا گیا ہے کہ ’’نریندر مودی کا اقتدار میں آنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان میں جس لبرل کلچر کا تذکرہ مبینہ طور پر کیا جاتا تھا، وہاں پر دراصل مذہبی راشٹرواد، مسلمانوں کے خلاف جذبات اور ذات پر مبنی شدت پسندی پنپ رہی تھی۔‘‘
’ٹائم‘ میگزین کی اس اسٹوری میں 1984 سکھ فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات کا بھی تذکرہ ہے۔ کہا گیا ہے کہ کانگریس کی قیادت بھی 1984 کے فسادات کو لے کر الزام سے آزاد نہیں ہے، لیکن پھر بھی اس نے فسادات کے دوران پرتشدد بھیڑ کو خود سے الگ رکھا، لیکن نریندر مودی 2002 کے فسادات کے دوران اپنی خاموشی سے ’فسادیوں کے لیے دوست‘ ثابت ہوئے۔
کور اسٹوری میں آگے بتایا گیا ہے کہ ’’2014 میں لوگوں کے درمیان پنپ رہے غصے کو نریندر مودی نے معاشی وعدے میں بدل دیا تھا۔ انھوں نے ملازمت اور ترقی کی بات کی، لیکن اب یہ یقین کرنا مشکل لگتا ہے کہ یہ امیدوں کا انتخاب تھا۔‘‘ اس اسٹوری میں آتش تاثیر آگے کہتے ہیں کہ ’’مودی کے ذریعہ معاشی چمتکار لانے کا وعدہ فیل ہو چکا ہے۔ یہی نہیں، انھوں نے ملک میں زہریلا مذہبی نیشنلزم کا ماحول تیار کرنے میں ضرور مدد کی ہے۔‘‘
اسٹوری میں موب لنچنگ اور گئو رکشکوں کے ہاتھوں کیے گئے تشدد کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ کور اسٹوری بتاتی ہے کہ ’’گائے کو لے کر مسلمانوں پر بار بار حملے ہوئے اور انھیں مارا گیا۔ ایک بھی ایسا مہینہ نہیں گزرا جب لوگوں کے اسمارٹ فون پر وہ تصویریں نہ آئی ہوں جس میں ناراض ہندو بھیڑ ایک مسلم کو پیٹ نہ رہی ہو۔‘‘
’ٹائم‘ میگزین نے اپنی کور اسٹوری میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اسٹوری میں لکھا گیا ہے کہ ’’2017 میں اتر پردیش میں جب بی جے پی الیکشن جیتی تو بھگوا پہننے اور نفرت پھیلانے والے ایک مہنت کو وزیر اعلیٰ بنا دیا۔‘‘
غور طلب ہے کہ یہ وہی ’ٹائم‘ میگزین ہے جس نے 15-2014 میں نریندر مودی کو دنیا کے 100 بااثر لوگوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
