تازہ ترین
سمبل عصمت ریزی: 47فورسز اہلکاروں سمیت 60افراد زخمی، ایک کی حالت نازک
خبراردو:ملک پورہ ترہگام بانڈی پورہ میں گزشتہ ہفتے ایک درندرہ صفت انسان کی جانب سے تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کئے جانے کے خلاف سوموار کو وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے اس شرمناک واقعے میں ملوث عناصر کو غیر معمولی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق تین سالہ معصوم بنت حوا کے ساتھ ہوئی جنسی زیادتی کے خلاف شمالی کشمیر کے پٹن علاقے میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس دوران یہاں دن بھر افرا تفری کا ماحول بپا رہا۔ نمائندے کے مطابق پٹن کے ژین بل نامی علاقے میں سوموار کی صبح لوگوں کی ایک بڑی تعداد مجتمع ہوئی جنہوں نے تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ ہوئی شرمناک زیادتی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملوث شخص کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھڑک اُٹھے احتجاج میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی جس کے بعد یہاں امن و قانون کو نافذ کرنے والے ادارے جائے موقعہ پر پہنچ گئے جنہوں نے احتجاج کررہے لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کی راہ لینے کی اپیل کی۔ اس موقعے پر احتجاج کررہے لوگوں نے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ کرتے ہوئے زور دار نعرے بازی کی۔ انہوں نے اس موقعے پر پلے کارڈ اور بینر اُٹھارکھے تھے جن پر بچی کو انصاف فراہم کرنے اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے جیسے نعرے تحریر کئے گئے تھے۔ اس موقعے پر جونہی پولیس اور سی آر پی ایف نے احتجاج کررہے لوگوں کو پیچھے دھکیلنے اور احتجاج کو ختم کرنے کی اپیل کی تو احتجاج میں شامل نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر شدید سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں حالات نے سنگین رخ اختیار کرلیا۔
معلوم ہوا کہ فورسز نے احتجاج کررہے لوگوں کو شاہراہ کی جانب پیش قدمی کرنے سے روکتے ہوئے آنسو گیس کے درجنوں گولوں کےساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ بھی کی جس کے بعد علاقے میں ہر سو سنسنی پھیل گئی۔ ادھر مظاہرین نے بھی احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے نعرے بازی کےساتھ ساتھ سنگ باری کا سلسلہ تیز کردیا تاہم فورسز نے احتجاجیوں کو کچلنے کی خاطر شلنگ کا سلسلہ شروع کردیا جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے ۔ معلوم ہوا کہ زخمیوں میں سے ارشد احمد ڈار سر میں ٹیر گیس شل لگنے کے نتیجے میں بری طرح سے زخمی ہوا جسے بعد میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اُن کا علاج و معالجہ جاری ہے۔ادھر شمالی کشمیر کو ملانے والی شاہراہ پر بھی سوموار کو دن بھر کئی مقامات پر جن میں ناربل، میر گنڈ، لاوے پورہ شامل ہیں میں لوگوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کے نتیجے میں شاہراہ پر گاڑیوں کی نقل و حمل بری طرح سے مسدود ہوکے رہ گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ میر گنڈ ، ناربل اور لاوے پورہ علاقوں میں لوگوں جن میں مرد و خواتین اور نوجوان شامل تھے نے سوموار کی دوپہر کو شاہراہ پر نکل کر شرمناک واقعے کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاج کررہے لوگوں نے واقعے میں ملوث عناصر کو سخت سزا دینے اور متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی بھی مانگ کی۔ اس موقعے پر احتجاج سے شاہراہ پر ٹریفک کی آواجاہی بری طرح سے متاثر ہوکر رہ گئی جبکہ مظاہرین نے جگہ جگہ ٹیر جلانے کےساتھ ساتھ شاہراہ پر موٹے موٹے درختوں کےساتھ ساتھ بھاری بھرکم پتھر بھی رکاوٹ کے طور پر نصب کئے تھے۔اس دوران گورنمنٹ گرلز ہائر اسیکنڈی اسکول بانڈی پورہ میںزیر تعلیم طالبات نے بھی واقعے کے خلاف پرامن احتجاج کرتے ہوئے ملوث عناصر کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی۔ گورنمنٹ گرلز ہائر اسکینڈری اسکول کی طالبات نے سوموار کی صبح پلان بانڈی پورہ سے نوپورہ چوک تک ایک احتجاجی مارچ نکالا جس دوران انہوں نے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ کی۔طالبات نے میڈیا کےساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی قریب میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہے جنہیں بعد میں سیاسی اثر ورسوخ کی پاداش میں گول کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس شرمناک واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہیے اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ واقعے کی تحقیقات غیر جانبدارانہ طریقے پر انجام دے اور سیاسی اثر و رسوخ سے کیس کو مستثنیٰ رکھا جائے۔ طالبات کا یہ احتجاجی مارچ بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوا۔
اس دوران ٹریڈرس فیڈریشن سمبل کےساتھ ساتھ اندرکوٹ، حاجن، گاڑ کھڈ اور تلارزو سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مشترکہ طور پر اس دلدوز اور شرمناک واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا وہ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔ معلوم ہوا کہ ٹریڈرس فیڈریشن سمبل کے زعما نے سمبل چوک میںپرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران انہوں نے واقعے کے خلاف جم کر نعرے بازی کرنے کےساتھ ساتھ متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ادھر سنٹرل یونیورٹی کشمیر کے گاندربل کیمپس اور گورنمنٹ ڈگری کالج گاندربل کے طلبا و طالبات نے گزشتہ ہفتے پیش آنے شرم ناک سانحے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مانگ کی کہ وہ واقعے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ طلبا و طالبات نے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا کہ سمبل کیس کا حشر ماضی کے مقدمات کی طرح نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو سر عام پھانسی پر لٹکایا جانا چاہیے تاکہ مستقل میں ایسا کوئی سانحہ دوبارہ رونما نہ ہو۔
ادھر واقعے کے خلاف گاندربل کے بیہامہ، ددرہامہ، قمریہ چوک میں سوموار کو مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں معمول کی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ نمائندے کے مطابق تین سالہ بچی کےساتھ ہوئی جنسی زیادتی کے خلاف گاندربل کے کئی علاقوں میں سوموار کو احتجاجی ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں آبادی نے ملوث افراد کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا۔ ہڑتال کی وجہ سے یہاں تجارتی، کاروباری اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر بند رہی۔ادھر تین سالہ بچی کی آبرو ریزی کے دل دہلانے والے واقعہ کے خلاف وادی کے بیشتر ضلع ہیڈکواٹرس میں احتجاجوں اور ہڑتالوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔
حریت کانفرنس کی(ع) ایک اکائی جموں وکشمیر اتحاد المسلمین کی کال پر پیر کے روز وادی کے بیشتر علاقوں میں مکمل ہڑتال کے بیچ احتجاجوں کا سلسلہ بھی جاری رہاجہاں سینکڑوں مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر آکر پ±رامن احتجاج کیا وہیں ضلع کپوارہ اور ہندوارہ کے ڈگری کالج طلبا وطالبات نے بھی سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کیے اور ملزم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ۔ادھر ایمز اسکول نے بھی ایک پر امن احتجاجی ریلی نکالی اور یہاں زیر تعلیم طلاب نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڑس اٹھا رکھے تھے جن پر ”ایمن کو انصاف دو“ اور ”مجرم کو سزائے موت دو“ جیسے نعرے درج تھے۔ادھر احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریلوے حکام نے سوموار کو سرینگر بارہمولہ کو جانے والی ریل گاڑیوں کو سفر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ریلوے حکام کے مطابق سمبل سانحہ کے پیش نظر ریلوے جائیداد اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی خاطر ریلوے کے اعلیٰ حکام نے سوموار کو سرینگر سے بارہمولہ چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سرینگر سے بانہال ٹریک پر چلنے والی ریل گاڑیاں معمول کے مطابق اپنا سفر جاری رکھیں گے۔اس دوران ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس برائے شمالی کشمیر محمدسلیمان چودھری نے سمبل علاقے کا دورہ کرتے ہوئے یہاں مقامی لوگوں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی شمالی کشمیر محمد سلیمان چودھری نے سوموار کو واقعے کے حوالے سے دورہ کرتے ہوئے یہاں مقامی لوگوں کےساتھ تبادلہ خیال کیا۔
معلوم ہوا کہ ڈی آئی جی نے یہاں لوگوں کے ساتھ کئی میٹنگیں منعقد کیں جس دوران انہوں نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ واقعے کی ٹھوس اور اعلیٰ سطحی انکوائری عمل میں لائی جائےگی اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائےگا۔انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پولیس کی طرف سے جاری تحقیقات پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کا اظہار کریں۔ یہاں میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران ڈی آئی جی نے بتایا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ پولیس کی طرف سے شروع کی گئی تحقیقاتی عمل پر مکمل بھروسہ کریں۔ہم نے پہلے ہی واقعے سے متعلق خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو تشکیل دیا ہے جس میں پولیس کے سینئر افسران کام پر لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خصوصی ٹیم میں شامل سینئر پولیس افسران واقعے سے متعلق ثبوت و شواہد کو حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی سطح پر مصلحت اندیشی سے کام نہیں لیا جائےگا۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات پیشہ ورانہ بنیادوں پر عمل میں لائی جارہی ہے، میں آج یہاں ذاتی طور پر آگیا اور یہاں زمینی صورتحال کا جائزہ لے کر لوگوں کے ساتھ بات چیت کی۔ واقعے پر گہرائی سے نظر گزر رکھنے کے لیے ایس ایس پی بانڈی پورہ کو گزشتہ کئی دنوں سے بانڈی پورہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے سمبل اور متصل علاقوں میں واقعے کے خلاف لوگوں نے جم کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا کیوں کہ واقعے میں ملوث نوجوان کی تاریخ پیدائش سرٹیفکیٹ سے متعلق کئی شبہات نے جنم لیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اسکول پرنسپل کی طرف سے تاریخ پیدائش جاری کی گئی اور جسے بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا وہ اصل میں صحیح نہیں ہے۔ پولیس نے اس معاملے کا بھی علیحدہ سے نوٹس لے لیا ہے اور سرٹیفکیٹ کی اجرائی میں ملوث اسکولی پرنسپل اور دیگر عملے سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ڈی جی پی کے بقول واقعے سے متعلق جونہی پولیس کو 8مئی کو جونہی شکایت موصول ہوئی تو اس کے فوراً بعد ہی مبینہ طور پر ملوث نوجوان کو گرفتار کیا گیا اور جو فی الحال پرلیس حراست میں ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کہ وہ کسی بھی تشدد آمیز کارروائی کا حصہ نہ بنے اور انکوائری کے حوالے صبر و تحمل کا مظاہر ہ کریں۔
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
