تازہ ترین
اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کی فکر کریں …
ندیم احمد خان:
آج معاشرے میں ہر طرف بے دینی کا سیلاب ہے، مسلمانوں کے بچوں کے عقائد بگڑ رہے ہیں، ان کے اعمال واخلاق تباہ ہورہے ہیں اور ہم کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔
انسان کو اللّٰہ تعالیٰ نے بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں سے ایک عظیم نعمت اولاد بھی ہے، نکاح کے بعد مرد و عورت ہر ایک کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے، اس کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں، اللّٰہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے، اسے اس نعمت سے نواز دیتا ہے، کسی کو لڑکا، کسی کو لڑکی اور کسی کو دونوں، جبکہ بعض کو اپنی کسی حکمت کی بنا پر اولاد نہیں دیتا۔
جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: “جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے۔ بیٹے عطا فرماتا ہے یا ان کو جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جس کو چاہے بے اولاد رکھتا ہے”۔ (الشوریٰ: 49۰50)
اولاد کے متعلق شریعت نے ماں باپ پر کئی ذمہ داریاں عائد کی ہیں، ارشاد الہٰی ہے: “اے ایمان والوں تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی)اس آگ سے بچاؤ”۔ (التحریم:6)
اس آیت میں اسی کی طرف اللّٰہ تعالیٰ نے توجہ دلائی اور بڑے پیار بھرے انداز میں انسان کو خطاب کیا:” اے ایمان والو!” یعنی اللہ نے انسان کو اس رشتہ سے پکارا جو بندے اور اس کے رب کے درمیان قائم ہے، اور وہ رشتہ ایمانی ہے، پھر فرمایا کہ:” تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنّم کی آگ سے بچاؤ” وہ کیسی آگ ہے، اس کی صفت بیان کی ہے کہ” جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، اور اس پر ایسے نگران فرشتے مقرر ہیں جو بڑے طاقتور اور سخت ہیں، اللّٰہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے جو حکم ملتا ہے، اسے وہ پورا کرتے ہیں۔”اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اخروی کامیابی کے حصول کے لئے محض اپنی اصلاح کی فکر کرنا اور خود نیک عمل کرتے رہنا کافی نہیں ہے، کیونکہ اگر یہی کافی ہوتا تو پھر اتنا فرمایا جاتا کہ اپنے آپ کو جہنّم کی آگ سے بچاؤ، لیکن آگے”واھلیکم” بھی فرمایا کہ: اپنے اہل و عیال کو بھی اس آگ سے بچاؤ۔
ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہوچکی ہے اور ہر آدمی یہ کہتا ہے کہ مجھے اپنی قبر میں جانا ہے، میری بیوی کو اپنی قبر میں جانا ہے، بچوں کو اپنی قبر میں جانا ہے، ان کو سمجھانے کے لئے کون دماغ خراشی کرتا پھرے، اپنی فکر کرو، خود صحیح ہوجاؤ، یہی کافی ہے، اور اس کے لئے اپنے تئیں بظاہر دینداری کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے کہ خود نماز، روزہ کا پابند، نوافل کا عادی اور اپنے طور پر منکرات سے بچنے والا، لیکن گھر کا ماحول اور اولاد کا طرز عمل گھر کے سربراہ سے بالکل مختلف ہوتا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ گھر کے سربراہ نے اپنی ذمہ داری مکمل طور پر نہیں نبھائی، جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ والدین اور اولاد دونوں کی سمتیں مختلف ہیں، لہٰذا اس معاملہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، لوگوں کا یہ کہنا کہ ہم نے کوشش تو بہت کی،مگر بچے نہیں مانتے،ہم کیا کریں؟ قرآن کریم نے “نار” (آگ) کا لفظ ذکر کرکے ایسے لوگوں کو لاجواب کردیا کہ ذرا سوچو: اگر بہت بڑی آگ دہک رہی ہو اور تمہارے بچے اس آگ میں کودنا چاہیں تو کیا ان کے اصرار اور ضد پر ان کو اس آگ میں جانے دوگے؟ اور اس وقت یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم نے بہت سمجھا لیا، کیا تم ان کا آگ میں کودنا برداشت کرلو گے؟جبکہ جہنّم کی آگ تو اس دنیا کی آگ سے ستر گناہ زیادہ سخت ہے۔ تب کیا کرو گے؟ ٹھیک ہے اگر والدین یا سربراہ نے حتی المقدور کوشش کرکے اپنا فرض ادا کردیا ہے تو وہ عنداللہ برء الذمہ ہوجائیں گے، لیکن کہا تک اپنی ذمہ داری نبھائی ہے؟ اور کس حد تک کوشش کی ہے؟ یہ ہر شخص اپنے بارے میں بخوبی جانتا ہے۔
اولاد کے عقیدہ، اعمال،اخلاق اور تعلیم وتربیت کی فکر بہت ضروری ہے، عقائد کا تعلق ایمان سے ہے، اعمال کا تعلق اسلام سے ہے جبکہ اخلاق کا تعلق دین سے ہے، قرآن کریم میں ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی اپنی اپنی اولاد کی فکر کی، حضرت یعقوب علیہ السلام نے دینی فکر کرتے ہوئے اپنی اولاد سے سوالیہ انداز میں استفسار کیا کہ:” ما تعبدون من بعدی”۔(البقرہ:۳۳۱)( میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے؟) یہ اولاد کے ایمان کی فکر ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اپنی اولاد کو وصیت کی: ” میرے بیٹو اللّٰہ تعالیٰ نے اس دین (اسلام) کو تمہارے لئے منتخب فرمایا “۔(البقرہ:۲۳۱)
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اپنی اولاد کے متعلق یہ ارشاد ہے: ” اور اپنے متعلقین کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے رہے”۔(مریم:۵۵)
جبکہ آج کا اکثر مسلمان طبقہ اپنی اولاد کو اچھی باتوں کا حکم نہیں دیتا، اپنی اولاد اور بیوی بچوں کو خوش کرنے کے لئے دین وشریعت کی پرواہ نہیں کرتا، بلکہ الٹا ان کی ناجائز خواہشات کو پورا کر کے اللّٰہ اور اس کے رسولؐ کو ناراض کردیتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ السلام نے ہر انسان پر کسی نہ کسی درجہ میں ایک ذمہ داری عائد کی ہے، اور فرمایا:” تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا”۔
آج معاشرے میں ہر طرف بے دینی کا سیلاب ہے، مسلمانوں کے بچوں کے عقائد بگڑ رہے ہیں، ان کے اعمال واخلاق تباہ ہورہے ہیں اور ہم کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو جنم سے ہی اچھی باتوں کی طرف راغب کریں، تاکہ بچوں کا دل و دماغ اچھی اور نیک کاموں کی طرف لگا رہے، اپنے بچوں کو آلہ سے آلہ تعلیم حاصل کرایے ساتھ میں دینی تعلیم بھی دیں، تاکہ بچہ دینی اور دنیاوی دونوں علوم باخبر رہیں۔
بچوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ نماز کی تلقین کرنا اچھے کاموں کی طرف راغب کرنا برے کاموں سے روکنا، یہی والدین کی ذمہ داری ہونی چاہیے، تاکہ والدین کو جب آخرت میں اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا تو وہ وہاں بری ہوسکے.
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
