تازہ ترین
اسلامی بینکاری نظام :اہمیت اور ضرورت
ندیم احمدخان
اسلامی بینک یا اسلامی مالیاتی نظام آج وقت کی عین ضرورت ہے، یہ صحیح ہے کہ اسلام اور سود یکجا نہیں ہو سکتے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے سارے مسلمان اور خاصکر 57اسلامی ممالک (OIC)بین الاقوامی سعودی بنک نظام سے مربوط ہیں جس پر یہودیوں کا کنٹرول ہے
خلیفہ دوم حضرت عمر کے دور میں اسلامی مالیاتی نظام کی ابتداء ہوئی جب فتوحات سے کافی مال واسباب جمع ہوئے تھے.قرآن کریم نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا،سرمایہ کاری نظام جسکو اسلام میں مضاربہ یا متارکہ کہا جاتا ہے، اللّٰہ کے رسول نے نبوت سے قبل اسکو انجام دیا اور حضرت خدیجہ کے مال سے تجارت فرمائی ،آج بھی ضرورت ہے اس نظام کو رواج دیا جائے،نفع و نقصان کے اساس پر ملائیشیا،برطانیہ اور پاکستان میں کامیاب تجربات ہوئے ہیں لیکن عمومی طور پر عمل اقدامات کی ضرورت ہے،حیدرآباد میں بھی اسلامی بنک کاری نظام پر تجربہ کیا جاسکتا ہے،ہمارا سارا معاشرہ سودی لین دین میں بری طرح مبتلا ہوچکا ہے،بیشتر لوگوں کو نہ سود لیتے ہوئے اور نہ دیتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی ہے،مزدور پیشہ سے لیکر سرمایہ دار تک سھبی اس لعنت میں مبتلا ہیں ،نہ ہماری دعائیں قبول ہوتی ہیں، نہ گھروں میں برکت ہے نہ کاروبار میں ترقی اور نہ ہی ہماری عاقبت سدھرتی ہے، بنگلہ دیش میں ماٹکروفینانس کے کاروبار میں کافی ترقی ہوئی ،چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے والے گرامین بنک سے قرض آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں ،اسکی ابتداء کرنے والے محمد یونس کو نوبل انعام سے بھی نوازا گیا،انکے مطابق ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ جو غریب بنک سے قرض لیکر پابندی سے واپس کرتے ہیں وہ %98فیصد ہیں اور صرف %2 نادہندہ ہوتے ہیں جبکہ سرمایہ داروں میں نادہندگان کا اوسط بہت زیادہ ہے.
ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں غریب کسان قرض لیکر مختلف وجوہات کی بناء پر واپس نہ کرسکنے کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں اقدام خودکشی کرتے ہیں، اللّٰہ سے ڈرنا ایمان کی علامت ہے،اللّٰہ کے رسول نے سود کے خلاف جنگ کا علان کیاآج سارے مسلم ممالک میں سود کا چلن عام ہے اسطرح سارے مسلمان حالت جنگ میں ہیں, مومن کیلئے ربوا(سود)سے بچنا ضروری ہے,تجارت میں یا مخصوص حالات میں بھی سود کا استعمال جائز نہیں. اگر قرض لے اور وقت پر ادا نہ کرسکے تو بہتر ہے کہ مہلت دی جائے,قرآن میں قرض کو مفصل بیان کیا ہے جس سے اسکی اہمیت اور انسانی زندگی کی ضرورت آشکارا ہوتی ہے.
اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کے درجات مختلف رکھے ہیں, مالدار, متوسط, غرباء,مساکین لیکن احتیاج میں سب برابر ہیں,حاجت اور پریشانی کے عالم میں سب ایک ہی زمرہ میں آجاتے ہیں,اسی لئے آپسی معاملات اور ایک دوسرے سے ہمدردی وشرائط مبتلاکر دنیاوی زندگی میں اسکے فوائد کی بشارت سنائی گئی, صاحب اسطاعت ہی حج پر آتے ہیں لیکن یہ دیکھا گیا ہے جیب کٹ سارا سامان جل گیا یا چوری ہوگیا تو دولت مند بھی حاجت مند ہوجاتے ہیں. ایام جاہلیت میں ربوا اس حد تک تو بہتر تھا کہ مدت پر لیا ہوا قرض ادا نہ کرسکے تو زائد رقم کا مطالبہ کیا جاتا تھا موجودہ حالات میں تو قرض کی ابتداء ہی سود کے تعین سے ہوئی ہے,بعض لوگ کاروبار میں نقصان کے اندیشے سے صرف بنک کے سود پر گزارا کرتے ہیں,سعودی نظام سے امت مسئلہ کئی ایک مسائل میں مبتلا دکھائی دیتی ہے, نئے نئے بیماریوں کی تشخیص ہوتی ہے,مہنگائی بڑھتی ہے, بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے اور برکتیں ختم ہوجاتی ہیں, بعض اوقات لوگ قرض حسنہ کا غلط استعمال کرنے سے اسکی لزتوں اور ثواب سے محروم ہوجاتے ہیں جسکی وجہ سے سودی نظام فروغ پارہا ہے،تجارت میں قرض کی ضرورت پڑتی ہی رہتی ہے اور اگر بلا سود قرض کے طریقہ کار کا انتظام کیا جائے تو باہمی مفاد کے طور پر تاجر بھی فاضل پیسہ جمع کرواتے رہیں تو اس میں دونوں کا فائدہ ہوگا.
سنت پر عمل نہ کرتے ہوئے ہم بیشمار مسائل میں بری طرح الجھتے جارہے ہیں, جیسے ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ نکاح آسان کرو، شادی بیاہ میں بےجا رسوم اور سماجی روایتوں کے معیار کو قائم رکھنے میں بیشتر افراد مقروض ہوجاتے ہیں اور قرض وسود ادا کرتے ہوئے بیشتر مسائل میں الجھ کر رہ جاتے ہیں,قرض لینا کوئی بری بات نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے،صدقہ دینے میں دس گنااجر ملتا ہے لیکن قرض دیکر کسی کی ضرورت پوری کرنے پر اٹھارہ گنا ثواب ملتا ہے،طرفہ تماشہ یہ کہ بیشتر بنک انہی لوگوں کو قرض دیتے ہیں جو سرمایہ دار ہوتے ہیں تاہم واپسی کی ضمانت ہو,بعض لوگ جیب میں پیسے ہونے کے باوجود صدقہ لیتے ہیں لیکن جن کے پاس نہیں ہوتے وہ قرض مانگتے ہیں, قرض لینا انسان کی ایک ناگزیر ضرورت ہے اور ایک جائز ضرورت بھی ہے.
1975ء میں اسلامی بنک قائم ہوا اور دیگر ممالک میں بھی بے شمار بنک قائم ہوئے لیکن قرض کوئی بھی نہیں دیتے،آپکو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ سرحد کے پاس جب زلزلہ آیا تھا تو اسلامی بنک نے سود پر قرض دیا تھا بنکی ایس ایف کے نام پر,خلیجی ممالک کے بعض ادارے اسلامی بنک کاری میں پیش رفت کررہے ہیں چنانچہ الابراج سرمایہ کا ہندوستان میں 300ملین ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا ہے اور اب سلطنت عمان کی بنک مسقط نے تقریباً 250-300ملین ڈالر کا شریعت بنک قائم کرنے کا جائزہ لے رہا ہے,،سعودی عرب کے بعض سرمایہ کار اب تک 150ملین ڈالر کی سرمایہ کاری اس خصوص میں کر چکے ہیں،اور مسقط بنک پنجاب نے سنچورین بنک میں اپنی سرگرمیاں شروع کر چکا ہے،ایک مناسب نظریہ یہ ہوسکتا ہے کہ آپکو بالغرض ایک ماہ کیلئے دس لاکھ روپئے کی ضرورت ہے،اسلامی بنک آپ کی یہ ضرورت پوری کردے اور ایک ماہ بعد رقم واپس کردیں اور اسکے بعد آپ ایک لاکھ روپے دس ماہ تک بنک میں رکھدیں،اسطرح باہمی تعاون کے اساس پر اسلامی بنکی نظام ترتیب دیا جاسکتا ہے اور سود کی لعنت سے بچا جا سکتا ہے،اسلامی حکومتیں بھی عالمی مالیاتی اداروں سے سود پر قرض حاصل کرتی ہیں.
بعض مسلم ممالک کی مالی حالت مستحکم ہے اور بعض ممالک انتہائی غریب ہیں,اگر آپس میں سود کے بغیر لین دین کریں تو بیشمار فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جس سے کساد بازاری میں کمی آسکتی ہے, روزگار کےمواقع بڑھیں گے صنعتی ترقی ہوگی اور جرائم کم ہونگےیہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ اسلامی بنک کا فاضل پیسہ سرمایہ کاری کے طور پر مغربی ممالک میں لگایا جاتا ہے.اسلامی نقط نظر سے سرمایہ کاری نظام کو مضاربہ متارکہ کے اساس پر ترتیب دینے کی ضرورت ہے،چونکہ اسلام میں رہن کو جائز قرار دیا گیا ہے,قرض کو جائز اور سود کو ناجائز قرار دیا ہے.
بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ سودی نظام کو یکسر ختم کرنا ناممکن نہیں بلکہ دھیرے دھیرے ختم کیا جاسکتا ہے. ہندوستان کے مسلمان حیدر آباد کو ایک مرکز کے طور پر امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں چونکہ تعلیم اور صحت کے میدان میں امید افزاء کام ہوئے اور صنعتی ومعاشی ترقی کیلئے مالیاتی استحکام نہایت ضروری ہےآپسی اختلاف کو فراموش کر کے متحدہ طور پر کام کریں تو کامیابی یقینی ہے…
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
