تازہ ترین
ذاکر موسیٰ ہلاکت: وادی سمیت خطہ چناب کے کئی علاقے محصور:مکمل رپورٹ
خبراردو: جمعرات کی شام جنوبی ضلع پلوامہ کے ڈاڈسرہ ترال علاقہ میں انتہائی مطلوب اورمعروف کمانڈرذاکرموسیٰ کے جاں بحق ہوجانے کے بعدممکنہ احتجاجی مظاہروں کوروکنے کیلئے حکام نے فوری نوعیت کے کچھ سخت اقدامات اُٹھائے ۔
جمعہ کوسحری کے وقت شہرخاص اورسیول لائنز سمیت سری نگر کے کئی حساس علاقوںمیں پولیس وفورسزکے دستے تعینات کرکے لوگوں کو گھروں سے باہرآنے پرپابندی عائدکردی گئی جبکہ صبح کے وقت راجباغ سمیت کئی علاقوں میں پولیس کی گاڑیوں کے ذریعے کرفیونافذکئے جانے کااعلان بھی کیاگیاجبکہ شہرخاص میں واقع مرکزی جامع مسجدکوسیل رکھ کریہاں نمازجمعہ کی اجازت نہیں دی گئی۔
تشدد کے واقعات رونماہونے کابھی اندیشہ تھا،اسلئے فوری نوعیت کے کچھ سیکورٹی اقدامات احتیاطی طورپرروبہ عمل لاکرپولیس اورفورسزکوحساس علاقوں میں تعینات کرنے کافیصلہ لیاگیا۔ذرائع نے بتایاکہ سری نگراورپلوامہ اضلاع کے ضلعی مجسٹریٹوں نے دفعہ144کے تحت حاصل اختیارات کے تحت فوری نوعیت کے احتیاطی سیکورٹی اقدامات اُٹھانے کے احکامات متعلقہ پولیس حکام کودئیے ۔ادھرجمعہ کوعلی الصبح سے ہی شہرسری نگراورجنوبی ضلع پلوامہ کے سبھی حساس علاقوں اورمقامات پرکرفیوجیسی بندشیں عائدکرنے کیلئے پولیس وفورسزاہلکاربڑی تعدادمیں تعینات کئے گئے ۔نمازجمعہ سے پہلے اوربعدنمازجمعہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشات کوملحوظ نظررکھتے ہوئے شہرخاص اورسیول لائنزمیں سخت بندشیں عائدرکھی گئیں جبکہ شہرخاص کوسیول لائنزاوردیگرنواحی علاقوں سے ملانے والی سڑکوں اورچوراہوں پرخاردارتاریں بچھانے کیساتھ ساتھ دیگررکاﺅٹیں بھی ڈال دی گئیں ،جس وجہ سے ان سبھی علاقوں میں گاڑیوں کی آمدورفت ناممکن ہوگئی اورلوگوں کو پیدل عبورومرورمیں بھی مشکلات کاسامناکرناپڑا۔
شہرخاص کے علاوہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کوروکنے کیلئے مائسمہ ،پرے پورہ اورحیدرپورہ میں بھی پولیس وفورسزاہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی جبکہ حیرت انگیزطورپرراجباغ اوراسکے نزدیکی علاقوں میں جمعہ کوصبح کے وقت پولیس گاڑی کے ذریعے کرفیوکے نفاذکااعلان بھی کروایاگیاتاہم بعدازاں کسی بھی علاقہ میں کرفیوجیسی کوئی بندش عائدنہیں کی گئی ،اورنہ یہاں کسی سڑک یاچوراہے پرکوئی خاردارتاربچھائی گئی ۔اس دوران شہرخاص میں واقع مرکزی جامع مسجدکوسیل رکھ کریہاں نمازجمعہ اداکرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔جامع مسجدکے گردونواح میں واقع علاقوں بشمول نوہٹہ ،ملارٹہ ،گوجوارہ ،صراف کدل ،بہوری کدل ،راجوری کدل اوردیگرنزدیکی بستیوں ے لوگوں نے بتایاکہ اُنھیں گھروں سے باہرآکرایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ا ُدھرجنوبی ضلع پلوامہ میں بھی اسی نوعیت کے پیشگی سیکورٹی اقدامات اُٹھائے گئے ۔پلوامہ ،ترال اوراونتی پورہ سمیت کچھ علاقوں اورقصبہ جات میں دفعہ 144کے تحت سخت بندشیں عائدرکھی گئیں جبکہ ممکنہ مظاہروں کوروکنے کیلئے جنوبی کشمیرکے ان قصبوں اورعلاقوں میں پولیس وفورسزکے اضافی دستے سریع الحرکت رکھے گئے۔ پوری کشمیروادی میں بغیرکسی کال کے مکمل ہڑتال رہی ۔شہروقصبہ جات سمیت بیشترعلاقوں میں سبھی چھوٹے بڑے بازار،دیگرکاروباری مراکز،کارخانے اورفیکٹریاں بھی بندرہیں جبکہ ٹرانسپورٹ سہولیات نہ ہونے کے باعث ہزاروں کی تعدادمیں مزدوراوردیگرمحنت کش بھی دن بھرکام کاج سے محروم رہے ۔اس دوران حکام نے ممکنہ احتجاجی مظاہروں اورگڑبڑکے پیش نظرپوری وادی میں تمام تعلیمی اداروں کوبندرکھنے کے احکامات صادرکردئیے ۔صوبائی انتظامیہ کی جانب سے جمعرات کوشام دیرگئے ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے یہ اعلان کیاگیاکہ جمعرات کوکشمیروادی میں سبھی اسکول اورکالج بندرہیں گے ۔حکام نے بتایاکہ تعلیمی اداروں کوبطوراحتیاطی اقدام کے بندرکھنے کافیصلہ لیاگیاتاکہ امن وقانون کی صورتحال کوقائم رکھاجاسکے ۔
انتظامی نوعیت کی اس ہدایت کے پیش نظرجمعہ کے روزشہرسری نگرسمیت پوری کشمیروادی میں ہزاروں کی تعدادمیں پرائمری تاہائراسکنڈری اسکولوں ،50سے زیادہ کالجوں اورتینوں یونیورسٹیوںمیں درس وتدریس کاعمل معطل رہاجبکہ لاکھوں کی تعدادمیں چھوٹے بڑے طلباءاور طالبات کاایک اورقیمتی دن ضائع ہوگیا۔اس دوران کشمیریونیورسٹی ،اسلامک یونیورسٹی اورسنٹرل یونیورسٹی کی جانب سے جمعہ کولئے جانے والے سبھی امتحانات اورانٹرنس ٹیسٹ بھی ملتوی کئے گئے ۔یونیورسٹیوں کے حکام نے بتایاکہ 24مئی کولئے جانے والے امتحانات کی نئی تاریخوں کااعلان جلدکیاجائیگا۔کشمیریونیورسٹی کے کنٹرولرامتحانات پروفیسر فاروق احمدمیر نے بتایاکہ 24مئی کولیاجانے والابی ایڈامتحان اب 26مئی کولیاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی میں لئے جانے والے پوسٹ گریجویشن کے کچھ امتحانات بھی ملتوی کئے گئے ،اورانکی نئی تاریخوںکااعلان بعدازاں کیاجائیگا۔اُدھراسلامک یونیورسٹی کی جانب سے 24مئی کولئے جانے والے امتحانات بھی ملتوی کئے گئے ۔مذکورہ یونیورسٹی کے ذرائع نے بتایاکہ 24مئی کولئے جانے والے امتحانات کی نئی تاریخوں کااعلان جلدکیاجائیگا۔
اُدھرجنگجوکمانڈرذاکرموسیٰ کی ہلاکت کے بعدممکنہ افواہوں کی روکتھام کیلئے حکام نے جمعرات کوشام8بجے سے ہی پوری وادی میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کرادی ،اوراس موبائل انٹرنیٹ بریک ڈاﺅن کیلئے متعلقہ مواصلاتی کمپنیوں کوشام کے وقت فوری احکامات دئیے گئے ۔بی ایس این ایل ،ائرٹیل ،جیواوردیگرمواصلاتی کمپنیوں کے ذرائع نے بتایاکہ جمعرات کی شام اُنھیں انتظامیہ کی جانب سے یہ ہدایت دی گئی کہ سری نگرشہرسمیت پوری کشمیروادی میں غیرمعینہ عرصہ کیلئے موبائل انٹرنیٹ سروس کومعطل رکھاجائے ،اورہم نے سرکاری احکامات کی تکمیل کرتے ہوئے یہ انٹرنیٹ سروس تاحکم ثانی روک دی ۔ادھرموبائل انٹرنیٹ بریک ڈاﺅن کی وجہ سے میڈیااورسما ج کے دیگرکئی طبقوں سے وابستہ افرادکوجمعرات کی شا م سے پیشہ وارانہ خدمات وغیرہ انجام دینے میں سخت دقعتوں کاسامناکرناپڑا۔دریں اثنا ءچناب کے بھدرواہ قصبہ سمیت کچھ علاقوں میں بھی ممکنہ احتجاجی جلوسوں اورمظاہروں کوروکنے کیلئے دفعہ144کانفاذعمل میں لاکرپولیس وفورسزاہلکاروں کی حساس مقامات پرتعیناتی عمل میں لائی گئی ۔
اس دوران بھدرواہ اوربانہال سمیت کچھ علاقوں میں ہڑتال رہی ۔معلوم ہواکہ سری نگرجموں شاہراہ پرواقع بانہال قصبہ میں ہڑتال کے باعث بازار،کاروباری مراکزاورتعلیمی ادارے بھی بندرہے ۔اُدھربھدرواہ قصبہ اوراسکے نواحی علاقوں میں دفعہ144کے تحت بندشیں عائدکرنے کیساتھ ساتھ یہاں بھی موبائل انٹرنیٹ سروس کومعطل رکھاگیا۔حکام نے بتایاکہ بھدرواہ اوربھالاسمیت کچھ علاقوں میں احتیاطی اقدام کے بطوردفعہ144نافذرکھاگیااوریہاں اس دفعہ کے تحت ممکنہ احتجاجی جلوسوں اورمظاہروںپرروک لگائی گئی ۔
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے رہنماؤں کا جنگ کے معاشی نقصانات کا اعتراف، سفارت کاری اور دفاع جاری رکھنے کا عزم
تہران، ایران کے رہنماؤں نے امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے بڑھتے ہوئے معاشی نقصانات کا اعتراف کیا ہے۔ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث ملک کی غیر ملکی تجارت ایک تہائی سے زیادہ کم ہوگئی ہے۔
ایرانی قیادت نے ہفتے کے روز اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ تہران امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، سفارت کاری جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز پر اپنے بقول کنٹرول برقرار رکھے گا۔
حکومت نے کہا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنا اب اس کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے، جن میں مہنگائی پر قابو پانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بتدریج ڈالر پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث برآمدات اور درآمدات تقریباً 35 فیصد کم ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود جون میں واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے مختصر مدت کے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے دوران، جب محدود مدت کے لیے تیل کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی، ایران تقریباً 9 کروڑ بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔
سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے منظرعام پر نہیں آئے ہیں، نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کو درپیش مشکلات سے نمٹے۔ اس حملے میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوگئے تھے۔
خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری بیان میں کہا گیا، ’’مہنگائی، بے روزگاری، قیمتوں کے انتظام اور اشیا و خدمات کی منڈی جیسے معاشی اور عوامی زندگی سے متعلق مسائل کے سلسلے سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔‘‘
گزشتہ ماہ ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ تہران کے رہائشیوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ جنگ نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
مریم نامی ایک خاتون نے کہا، ’’جنگ سے پہلے میں کام نہیں کرتی تھی۔ جنگ شروع ہونے کے بعد مجھے اپنے گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے ملازمت تلاش کرنا پڑی۔ ہر چیز بہت مہنگی ہوگئی ہے۔‘‘
کھانے پینے کا کاروبار چلانے والے امید نے بتایا کہ کرایوں میں اضافے کے باعث کاروبار تقریباً ختم ہوگیا ہے۔
ان کے بقول، ’’ہم بمشکل اپنے کارکنوں کی اجرت ادا کرپاتے ہیں۔‘‘
ایرانی حکومت نے ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں سفارت کاری اور دفاع کو قومی مفادات اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے ’’دو تکمیلی، مربوط اور ناقابلِ تقسیم بازو‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ دونوں محاذوں پر متوازن انداز میں کام جاری رکھے گی۔
تہران سے الجزیرہ کی نمائندہ سینم کوسے اوغلو نے بتایا کہ حکومت قومی اتحاد کا پیغام اجاگر کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر پزشکیان مذاکرات اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کم محاذ آرائی پر مبنی تعلقات کے خواہاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خطے کا کوئی ملک دوسرے پر حکمرانی نہیں کرتا۔ دوسری جانب سپریم لیڈر نے اندرونی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت دوبارہ کھولنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کو ’’تخلیقی‘‘ قرار دیا۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گی۔
ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اگرچہ ’’دشمن‘‘ نے ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ایران نے اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے ذخیرے کو ’’آخری لمحے تک انتہائی شدت‘‘ کے ساتھ استعمال کیا۔
قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن رضا نے جمعہ کو کہا کہ ایران کے پاس مزید ’’حیرت انگیز اقدامات‘‘ موجود ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا، ’’ہر شخص، خصوصاً دشمنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مناسب وقت پر ایران کے ان حیرت انگیز اقدامات سے آگاہ ہوجائیں گے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کیف کے قریب گودام پر روسی حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک
کیف، یوکرین کے دارالحکومت کیف کے باہر بوچا ضلع میں ایک گودام پر رات گئے روسی حملے کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ حملے کے بعد گودام میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر دھماکے ہوئے۔
کیف کے علاقائی گورنر تیمور تکاچینکو نے ہفتے کے روز بتایا کہ ’’بدقسمتی سے، موجودہ صورتحال کے مطابق 27 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ تعداد حتمی نہیں بھی ہوسکتی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دمتریوسکا گاؤں کے میئر تاراس دیدیچ بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق کیف کے مغربی مضافات کے قریب واقع ایک گودام کو روسی ڈرون نے نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے۔
تکاچینکو نے بتایا کہ حملے میں کم از کم 50 رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ گھروں اور ایک ریستوران تک پھیل گئی۔
یوکرینی پراسیکیوٹرز کے مطابق گودام میں ’’دھماکہ خیز مواد‘‘ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مجرمانہ غفلت کے امکان کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کاروباری ادارے کے احاطے میں دھماکہ خیز مواد اور دیگر اشیا ذخیرہ کرنے کی قانونی اجازت تھی یا نہیں، اور متعلقہ کمپنی، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کے پاس ضروری اجازت نامے اور منظوری موجود تھی یا نہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ میلا گاؤں میں ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا جس کے ’’بعد دھماکہ ہوا‘‘۔ انہوں نے مقام کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم تصدیق کی کہ اس واقعے پر فوجداری کارروائی کی جائے گی۔
زیلنسکی نے کہا، ’’اس حوالے سے ضوابط موجود ہیں، گولہ بارود گھروں یا دیگر رہائشی علاقوں کے قریب ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
دونوں ممالک نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایک دوسرے پر طویل فاصلے تک حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ اور شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کیف کے علاقائی گورنر نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ حملے میں 42 افراد زخمی ہوئے جبکہ بوچا ضلع سے 380 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم سرہی کوریٹسکی نے کہا کہ جولائی میں کیف کے قریب ویشنِیوے میں گولہ بارود کے ایک ڈپو پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد بھی سبق نہیں سیکھا گیا۔
اس حملے کی تحقیقات میں سرکاری ملکیت والی ایک کمپنی کی جانب سے گولہ بارود کو رہائشی عمارتوں سے مناسب فاصلے پر ذخیرہ کرنے کے حفاظتی معیار پر عمل نہ کرنے کی سنگین خامیاں سامنے آئی تھیں۔
کوریٹسکی نے ٹیلی گرام پر کہا، ’’مکمل پیمانے پر حملے کے پانچویں سال میں بار بار وہی غلطیاں دہرانا مجرمانہ غفلت ہے۔ ذمہ دار ہر شخص کو، کسی استثنا کے بغیر، سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ کبھی پیش نہ آئیں۔‘‘
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے جمعہ کی رات سے ہفتے کی صبح تک یوکرین پر کم از کم دو میزائل اور 267 ڈرون داغے۔
گودام پر حملے کے علاوہ ہفتے کی صبح روسی حملوں میں جنوبی اودیسا خطے میں ایک شخص اور کیف کے مضافاتی علاقے بوریسپِل میں ایک 14 سالہ لڑکی بھی ہلاک ہوگئی۔
دوسری جانب روس کے بیلگورود خطے میں یوکرینی ڈرون حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔ مقامی حکام کے مطابق زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔
روس کے زیرانتظام جزیرہ نما کریمیا کے شہر سیواستوپول میں بھی یوکرینی ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔ شہر کے روسی مقرر کردہ گورنر میخائل راز ووزایف نے یہ اطلاع دی۔
روس اور یوکرین گزشتہ کئی ماہ سے ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک حملوں میں شدت لا رہے ہیں اور ان حملوں میں لاجسٹکس گوداموں، تیل تنصیبات اور بندرگاہوں سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
