تازہ ترین
ذاکر موسیٰ ہلاکت : دوسرے روز حریت (گ) کی کال پر مکمل ہڑتال:مکمل رپورٹ
خبراردو: سید علی گیلانی کی قیادت والی حریت کانفرنس (گ) کی طرف سے انصار غزوة الہند کے مقامی جنگجو کمانڈر ذاکر موسیٰ اور نائرہ پلوامہ میں گزشتہ دنوں مارے گئے جنگجو کمانڈر کے بھائی ظہور احمد کو جاں بحق کئے جانے کےخلاف وادی بھر میں مکمل ہڑتال سے معمولات کی زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی جبکہ اس دوران انتظامیہ نے وادی بھر میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر سرینگر، پلوامہ اور کولگام کے کئی علاقوں میں اعلانیہ کرفیونافذ رکھا۔
جمعرات کی شام دیر گئے ڈاڈسرہ ترال میں فورسز اور جنگجوﺅں کے مابین مسلح تصادم آرائی کے نتیجے میں انصار غزوة الہند کے مقامی جنگجو کمانڈر ذاکر موسیٰ اور نائرہ پلوامہ میں جنگجو کمانڈر کے بھائی ظہور احمد کی گزشتہ دنوں ہلاکت کےخلاف دی گئی ہڑتالی کال کے نتیجے میں وادی بھر میں معمولات زندگی بری طرح سے متاثر رہے۔ ہڑتالی کال سے سرینگر سمیت شمال و جنوب میں عوامی، تجارتی، کاروباری، اسکولی اور غیر سرکاری سرگرمیاں ٹھپ رہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر بند رہی جس کے نتیجے میں وادی کے مختلف حصوں سے ہسپتالوں اور طبی مراکز تک پہنچنے والے مریضوں اور تیمارداروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اس دوران انتظامیہ نے بھی جنگجو کمانڈر کی ہلاکت کے بعد ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر سنیچر وار کو دوسرے روز بھی وادی بھر بندشیں عائد رکھیں جبکہ سرینگر، پلوامہ اور کولگام کے کئی علاقوں میں اعلانیہ طور پر کرفیونافذ رہا۔ تفصیلات کے مطابق انتظامیہ نے وادی کے بیشتر مقامات پر دوسرے روز بھی کرفیو جاری رکھا جس کے نتیجے میں شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر حصوں میں بھی لوگوں کو دوسرے روز بھی گھروں کے اندر ہی رہنا پڑا۔
معلوم ہوا کہ انتظامیہ نے پائین شہر کے کئی پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دوسرے روز بھی اعلانیہ کرفیو نافذ رکھا جبکہ پلوامہ اور کولگام میں بھی کرفیو کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔انتظامیہ نے جنگجو کمانڈر ذاکر موسیٰ کی ہلاکت کے مابعد وادی کے شمال و جنوب میں ممکنہ عوامی احتجاج سے نمٹنے کی خاطرسنیچر وار کو دوسرے روز بھی تمام تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔صوبائی انتظامیہ نے اس سلسلے میں جمعہ کی شام دیر گئے حالات و واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور سیکورٹی ایجنسیوں سے صلاح و مشورہ کے بعد سنیچر وار کو وادی بھر کے تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل معطل رکھنے کا فیصلہ صادر کیا۔ اس دوران امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور بے لگام افواہ بازی پر روک لگانے کی خاطر صوبائی انتظامیہ نے ٹیلی کام آپریٹروں کو ہدایت کی کہ وہ سنیچر کو دوسرے روز بھی وادی بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل رکھیں جبکہ انتظامیہ کے حکم پر اہم اور حساس موصلاتی نظام براڈبینڈ کی رفتار پر بھی لگام کسی لی گئی ۔ معلوم ہوا کہ سیکورٹی وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو قدغن براڈ بینڈ سسٹم پر بھی عائد رہی اُس کے نتیجے میں وادی سے شائع ہونے والے اخبارات کے کام کاج پر بھی منفی اثرات پڑے ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ معمول کے مطابق موبائل انٹرنیٹ سروس پر پابندی عائد کرتی تھی تاہم اب کی بار براڈ بینڈ سروس کی رفتار کو کم کرنے سے میڈیائی اداروں، تجارت پیشہ افراد کےساتھ ساتھ طلبہ برادری کو بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اس دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریلوے حکام نے بھی سنیچر کو دوسرے روز بھی وادی بھر میں ریل خدمات کو بند رکھا۔ ریلوے حکام کے بقول پلوامہ کے ڈاڈسرہ علاقے میں جنگجو کمانڈر کی ہلاکت کے بعد عوامی احتجاج کا خدشہ برقرار تھا جس کے بعد ریلوے کے اعلیٰ حکام نے سیکورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریل سروس کو دوسرے روز بھی معطل رکھنے کافیصلہ کیا۔ادھر ذرائع نے بتایا کہ انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر وادی کے کئی حصوں میں سنیچر کو دوسرے روز بھی سخت بندشیں عائد رکھیں تاکہ امن و قانون کی صورتحال کو زک نہ پہنچے۔انہوں نے بتایا کہ شہرسرینگر کے نوہٹہ، رعناواری، خانیار، صفاکدل اور مہارج گنج پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں پولیس نے سخت بندشیں عائدکی تھیں جبکہ مائسمہ اور کراکہ کھڈ پولیس تھانہ کے تحت آنے والے علاقوں میں جزوی طور پر بندشیں عائد کی گئی تھیں۔عینی شاہدین کے مطابق انتظامیہ نے سنیچر کو دوسرے روز بھی شہر خاص کے کئی علاقوں میں فورسز کی اضافی ٹکڑیوں کو تعینات کرتے ہوئے سخت بندشیں عائد کیں جس دوران لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ شہر خاص کے کئی علاقوں میں لوگوں کو ضروریات زندگی کا سامنا بھی مہیا نہیں ہوا کیوں کہ فورسز اہلکاروں نے صبح سویرے سے ہی لاٹھیوں اور بندقوں سے لوگوں کو باہر آنے سے منع کیا۔ اس دوران ذرائع کے مطابق وادی کے دیگر حصوں جن میں پلوامہ اور کولگام شامل ہیں ، میں بھی انتظامیہ کے احکامات پر سخت بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا۔انتظامیہ نے یہاں کسی بھی گڑبڑ سے نمٹنے اور حالات کوقابو میں رکھنے کےلئے فورسز کی بھاری نفری کو حساس مقامات پر تعینات کیا ہوا تھا۔خیال رہے انصار غزوة الہند کے مقامی جنگجو کمانڈر ذاکرموسیٰ کو فورسز نے ایک جھڑپ کے دوران جمعرات کی شام ترال کے ڈاڈسرہ علاقے میں جاں بحق کیاجس کے بعد وادی بھر میں انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے پیش نظر سخت بندشیں عائد کرنے کےساتھ ساتھ پوری وادی میں انٹرنیٹ بریک ڈاﺅن کا نفاذ عمل میں لایا ۔دفاعی ذرائع کا کہناتھا کہ ڈاڈسرہ علاقے میں جونہی کارڈن اینڈ سرچ آپریشن عمل میں لایا گیا اور مشتبہ مکان کے ارد گرد جب فورسز اہلکاروں نے گھیراﺅ سخت کیا تو اندر چھپے بیٹھے انصار غزوة الہند کے کمانڈر ذاکر موسیٰ کو خود سپردگی کی پیش کش کی گئی تاہم انہوں نے سرینڈر کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے فورسز اہلکاروں پر ہتھ گولہ داغا جس کےساتھ ہی علاقے میں جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق مکان میں چھپے بیٹھے جنگجو کمانڈر کو جمعہ کی علی الصبح مار اگیا ۔اس دوران جنگجو کی ہلاکت کے خلاف پلوامہ سمیت پائین شہر کے چند ایک علاقوں میں معمولی نوعیت کے پتھراﺅ پر مبنی واقعات رونما ہوئے تاہم فورسز نے یہاں جوابی کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کیا۔ ادھر پولیس ذرائع نے دن بھر کی صورتحال کو مجموعی طور پر پرامن قرار دیا ہے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
