تازہ ترین
چین میں مسلمانوں کی نسل کشی پر گیلانی کا اظہار تشویش
خبراردو: حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے میانمار میں منصوبہ بند مسلمانوں کی نسل کشی کے بعد اب چین میں ویگھور مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھانے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی اداروں خاص کر اقوامِ متحدہ اور مسلم ممالک کے فورم او آئی سی کے ذمہ داروں سے دردمندانہ اپیل کی کہ چین سے آرہی ان گھمبیر اور پریشان کُن اطلاعات پر سنجیدگی سے غور کریں۔
حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے میانمار میں منصوبہ بند مسلم کشی کے بعد اب چین میںویگھور مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھانے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام جو ایک جسدواحد کی طرح متحد اور یکجا ہونا چاہیے تھا آج فرقوں، مسلکوں اور جغرافیائی حدبندیوں میں تقسیم ہوکر اسلام دشمن قوتوں کے لیے تباہ کُن اور مہلک ہتھیار اور گولہ بارود کے لیے ایک آزمائشی مخلوق بن کے رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بین الاقوامی میڈیا میں چینی مسلمانوں کی حالت زار پر زیادہ تفصیلات نہیں آرہی ہیں، لیکن سوشل میڈیا اور چند ایک خبر رساں ایجنسیوں کے ذریعے جو اطلاعات مل رہی ہیں وہ پریشان کُن ہی نہیں، بلکہ تشویشناک بھی ہیں۔ وہاں کے مسلمانوں کو ہزاروں کی تعداد میں کیمپوں اور گوداموں میں برس ہا برس سے قید کردیا جاتا ہے۔ قید خانوں میں اُن کے ساتھ جسمانی اذیتوں کے ساتھ ساتھ ذہنی طور بھی پریشان کیا جارہا ہے۔ انہیں زبردستی اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباو ڈالا جارہا ہے۔ اُن کے عزیز واقارب اور خاص کر معصوم بچوں کو قید کئے ہوئے افراد سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی اُن کو یہ بتایا جارہا ہے کہ اُن کے افراد خانہ کو کس جرم میں جیل کی کال کوٹھریوں میں سڑایا جارہا ہے۔ مردوں کی داڑھی منڈوائی جاتی ہے۔ عورتوں کو حجاب پہننے کی اجازت نہیں ہے۔ مسجدوں کو مسمار کیا جاتا ہے۔ شہروں کو سی سی ٹی وی کے ذریعے مانیٹر کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تازہ اطلاعات کے مطابق رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی ان نہتے اور بدنصیب مسلمانوں کو چین سے روزہ افطار کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔
حتیٰ کہ اکثر دفتروں، کارخانوں اور دیگر جگہوں پر مسلمانوں کو دن میں زبردستی کھلایا پلایا جاتا ہے اور انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ کھانے پینے کی دکانیں اور ہوٹل عام دنوں کی طرح کھلے رکھیں۔ یہ مذہبی منافرت اور تعصب کی بدترین مثالیں ہیں جس سے ہر ذی حس مسلمان کے قلب وجگر میں تشویش اور فکرمندی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آزادی پسند راہنما نے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف ایک منصوبہ بند ماحول تیار کرکے ہر ایک ملک میں انہیں دیس نکالا کرنے کی سازشیں رچائی جارہی ہیں، مائمار میں دل دہلانے والے خونین واقعات انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما کلنک کی طرح تاریخ میں رقم ہوئے ہیں۔ زندگی بھر جمہوریت اور انصاف کے لیے لڑنے والے وہاں کے حکمرانوں کو ایک خاص مذہب کے ماننے والوں پر شب وخون مارنے کے رونگھٹے کھڑا کرنے کے واقعات پر کوئی لب کُشائی تک گوارا نہیں ہوئی۔ اس طوفان بدتمیزی کو روکنا تو دور کی بات، اس کے خلاف آواز اٹھانا بھی وہاں کے نوبل انعام یافتہ حکمرانوں نے ضروری نہیں سمجھا۔ مسلمانوں کی اس کسمپرسی اور ناگفتہ بہہ حالات کی یاد ابھی ذہنوں میں تازہ ہی تھی کہ چین کے ویگھورعلاقے سے یہ دلدوز اور دلخراش اطلاعات صیام کے مقدس ایام میں بھی ذہنی ارتعاش اور تذبذب میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم خود کئی دہائیوں سے بھارت کی بدترین غلامی کے شکار ہیں۔ اکثریتی طبقے کی من مانیاں، اُن کا رعب اور دبدبہ اور ان کی چودراہٹ ایک نہتی اور مجبور ومحکوم اقلیت کے لیے کس قدر تکلیف دہ ہے۔
اس کا درد ہم سے زیادہ کون جان سکتا ہے؟ کوئی بھی شخص اسلام اور آزادی یا اپنے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کی طرف ادنیٰ سا میلان بھی ظاہر کرتا ہے تو اسے طعن وملامت، جسمانی اذیت اور معاشی مقاطعہ کا ہدف بننا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے جہاں کہیں بھی کوئی قوم یا فرد چاہے وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو یا دنیا کے کسی کونے میں رہ رہا ہو، جب بھی ظلم وبربریت کا شکار ہوتا ہے تو ہم اُن کی چیخ وپکار اور آہ وفغان میں اپنی کمزور آواز ملاکر کم سے کم اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کی مقدور بھر کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہماری آواز ریزوں سے ٹکرا کر واپس ہی آئے گی، ہماری کراہ فضاوں میں ہی تحلیل ہوکر رہے گی، لیکن ہم خاموش رہنا بھی اپنی غیرت اور ملی جذبے کے خلاف تصور کرتے ہیں۔کشمیرنیو زسروس کو موصولہ بیان کے مطابق حریت راہنما نے عالمی اداروں کاص کر اقوامِ متحدہ اور مسلم ممالک کے فورم او آئی سی کے ذمہ داروں سے دردمندانہ اپیل کی کہ چین سے آرہی ان گھمبیر اور پریشان کُن اطلاعات پر سنجیدگی سے غور کریں۔ انہوں نے زوردیکر یہ بات کہی کہ ان ہی ایام میں او آئی سی کا اجلاس منعقد ہورہا ہے۔
تمام مسلمان ممالک خاص کر پاکستان اور ترکی کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس معاشرتی ناانصافی اور عقیدے کے نام پر اس ناروا سلوک کے خلاف ایک مشترکہ اور موثر حکمت عملی تیار کرکے کچھ عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ کاغذی گھوڑے دوڑانے اور علامیہ جاری کرنے سے ظالم کے آہنی ہاتھ روکے نہیں جاسکتے اور اگر ایسا کرنے سے یہ عالمی ادارے قاصر ہیں تو اجلاسوں اور سیمیناروں کے نام پر ملی مسائل پر گفت وشنید کرکے انہیں حل کرنے کی مجبوروں اور محکوموں کو امید دلانے کے کھوکھلے دعوے کرنا بند کردیں تاکہ مظلوم اور بے بس اقوام اپنے قوتِ بازو پر ہی بھروسہ کرکے اپنے دکھوں کا مداوا کرنے کی خود ہی فکر کریں۔
انہوں نے پاکستان کے ارباب اقتدار، حزب اختلاف اور عوام سے اپیل کی کہ پاک چین دوستی کے ناطے چین کے حکام سے بات کرکے اس ظلم وستم اور مذہبی منافرت کے شکار اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لیے آگے آئیں، ورنہ اسلام دشمن قوتیں ہر کلمہ گو کو اپنی تعصب اور نفرت کا شکار بناکر تہہ تیغ کرنے کی ظالمانہ روش پر عمل پیرا ہوں گے اور ہم مسلکی موشگافیوں اور آپسی سر پٹھول میں اُن کا کام آسان کرنے میں مشغول رہیں گے۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
