تازہ ترین
شرمناک واقعات: کیسے ہو گی روکتھا م؟
غازی سہیل خان :
گزشتہ کچھ ماہ سے مسلسل انسانیت کو شرم سار کر دینے والی ایسی خبریں سننے اور پڑھنے کو مل رہی ہیں کہ ایک عام انسان کا سر شرم سے جھک جانا فطری بات ہے۔ابھی اس واقعہ کو چند ہی دن گزرگئے تھے کہ ایسی ہی ایک اور خبر سوشل ویب سائٹس پر گردش کرنے لگی جس میں گاندربل سے تعلق رکھنے والے ایک کنبہ کو روتے اور بلکتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا،جس میں ایسے ہی شرم ناک سانحہ کی کہانی سُنائی جا رہی تھی۔
فی الوقت اس طرح کے شرمناک واقعات کا رونما ہونا ہمارے سماج کا اب حصہ بنتے جا رہے ہیں، جو کہ انتہائی تشویش ناک امر ہے۔انسانیت کو شرم سار کر دینے والے اس جیسے واقعات کے بعد ان درندہ صفت مجرموں کے خلاف ابھی تک قانون کوئی کارروائی نہیں کر پاتا، جس کی وجہ سے اس طرح کی ذہنیت رکھنے والے جسمانی لذت کے پُجاریوں کے گھناونے عزائم کو اور زیادہ تقویت ملتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ قانون ایسے مجرموں کو عبرتناک سزا دینے میں اب تک مکمل طور سے ناکام ہو چکاہے ۔بلکہ آنکھ کھول کر بلا کسی تعصب کے اگر دیکھا جائے تو ایسے مجرموں کے لئے قران مجید نے جو سزا مقرر کی ہے وہ قابل عمل ہی نہیں مانی جاتی، حالانکہ اس شرمناک وبا کا واحد علاج قانون قرآن ہی ہے۔ ”زانیہ عورت اور زانیہ مرد ،دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارواو ران پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخرپر ایمان رکھتے ہواور اُن کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے“۔(النور:۲)
اگر یہی قانون عمل آور بنا کر ان زانیوں اور حوس کے پُجارئیوں،کنن پوشپورہ میں درجنوں ماوں اور بہنوں کی عصمتوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں ،آسیہ اور نیلوفرکی عزت کو تار تار کرنے والوں،رسانہ کی آصفہ جیسی ہزاروں بیٹیوں اوربہنوں کی عصمتوں کو لوٹنے والوں کو سزائیں دی جاتیں تو آج ایسی خبریں دیکھنے کو نہیں ملتی ۔حال یہ ہے کہ اب ہم بھی ایسے دردناک واقعات پر جذباتی ہو کر وقتی ردعمل دکھا کر خاموشی اختیار کر کے روزانہ معمولات میں مست ومگن ہو جاتے ہیں۔ اس جیسے واقعات پر ہمارا وقتی شوروغل کرنا اگرچہ غیرت کی ہی نشانی ہے تاہم ہم نے اخلاقی تعلیم اور اسلام سے اپنی نئی نسل کو نابلد و نا آشنا رکھا ہے، ہم نے اپنے سماج میں اسلام پسندوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں،ہم مسلکی اور گروہی جھگڑوں میں اُلجھ گئے ہیں،آٹھ اور بیس پر مناظرہ بازیاں اور فتویٰ دینا اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا ہے ، اسلام کو بحیثیت مکمل نظامِ زندگی تسلیم کرنا تو دور کی بات اس پر رہی سہی موجودہ ہماری خود کی بنائی ہوئی عمارت بھی ہمیں عملاً قبول نہیںہے۔ ہمارے معاشرے میں جدیدیت کے نام پرایسی آوازیں اُٹھنی شروع ہو گئی ہیںجن پر بلا جھجھک کہہ سکتے ہیں کہ وہ ”اصل“ کو ”خراب“ کرنے کے لیے کافی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ:”بچوں کو سیکس ایجوکیشن بھی دی جانی چاہیے،گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کا علم بھی ان معصوم نونہالوں کے ذہنوں میں اُتار دیا جانا چاہے۔وا حسرتا….!
ہمارے سماج کا مایوس کن دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات کو ہمارے سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر بیٹھے جانبازوں نے بغیر حقائق کے پیش کرنے کی جیسے قسم کھا رکھی ہو۔چند نے تو مبینہ طور زیادتی کی شکار تین سالہ بچی کے بدلے فلسطین کی زخمی حالت میں ایک بچی کی تصویر کو سوشل میڈیا پر اتنی وائرل کر دی کہ لوگوں نے اپنے جسموں پر کفن باندھنے جیسے شروع کر دئے تھے ۔اسکولی طلبہ وطالبات نے اسکولوں سے نکل کر توڑ پھوڑ شروع کر دی اس توڑ پھوڑ میں وردی پوش اہلکار بھی عادتاً پیچھے نہیں رہے۔بلکہ اس احتجاجی وقتی جذباتی سلسلے کے دوران کئی نوجوان پلٹ وغیرہ لگنے سے شدید زحمی ہو گئے، جن میں سے ایک ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں رہ کر آخر کار زندگی کی جنگ ہار گیا۔ ۔“
کشمیر ی عوام کا کیا کہنا پر امن احتجاج کے دوران چند سر پھروں نے آو دیکھا نہ تاﺅ ،نہ صرف عام گاڑیوں بلکہ ایمبولینسوں و دیگر گاڑیوں پرسنگباری کر کے ان کے شیشے وغیرہ چکنا چور کر دیے جس سے کئی مسافر، بیمار اور تیمارداروں کو سیدھا ہسپتال کا رخ لینا پڑا۔ ایک اور ستم ہمارے کچھ ”نہاد صحافیوں“ کا ہے جو نہ تو صحافتی اُصول مدنظر رکھتے ہیں اور نہ ہی قانون کی پاسداری…. گاندربل کامذکورہ بالادوسرے واقعے میں ایک جرنلسٹ صاحب نے رپورٹنگ کی آڑ میں متاثرہ لڑکی سے اس کا نام و پتہ اور زیادتی کی ساری تفصیل عوام الناس تک حرفاً حرفاً پہنچا دی ۔یہ صاحب ایسے اس کی تفصیل حاصل کر رہے تھے جیسے اس خبر کو اس صحافی کے علاوہ اور کوئی نہیں دیکھ رہا تھا، حالاں کہ اگر دیکھا جائے تو کسی جسمانی زیادتی کی شکار لڑکی کا نام ظاہر کرنا اخلاقا و قاًنوناً جُرم ہے ۔ یوں توآج کشمیر میں صحافی بننا کوئی بڑی بات نہیں کیوں کہ ہر گلی اور محلے والے دکاندار اور مزدور نے یوٹیوب چنلیں اور نیوز پورٹلزبنا ئے رکھے ہیں ۔کوئی روک ٹوک نہیں جس کے بس میں جو آئے وہی کرتا ہے۔صحافت ہے کیا ؟زبان و قلم کا کیسے استعمال کرنا ہے؟ اس کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی کوئی روک ٹوک۔ آج کل سوشل میڈیا یعنی فیس بک اور یوٹیوب وغیرہ پر ایسے نامی گرامی رپورٹرس کی خبریں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں جن میں وہ زبان و ادب کا ستیاناس کر دیتے کے ساتھ ساتھ حقائق کو توڑ مڑوڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔
اس نام نہاد صحافتی یلغار کو روکنے کے لیے ہمارے یہاں کی صحافتی برادری کو اس طرح کے معیار کو ختم کر کے اصل معیار پر واپس لانے کے حوالے سے اقدامات اٹھانے کے ضرورت ہے تاکہ معیاری اور حقیقی صحافت کے ساتھ ساتھ عوام کے سامنے حقائق صحیح معنوں میں پہنچ سکیں ۔سما جی رابطہ کی ویب گاہوں پر بیٹھے نوجوانوں کو اپنے حدود میں رہ کر ہی اپنی رائے دینی چاہیے ،اشتعال انگریزی سے اجتناب کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے کوششیں ہونی چاہئیں۔
بہر حال اس تین سالہ بچی سے زیادتی اگر ثابت ہوتی ہے تو بحیثیت مسلمان ہمارا یہ مطالبہ ہونا چاہیے کہ اس درندہ صفت شیطان کو ایسی دردناک سزا دی جانی چاہیے کہ جس سے دوسرے لوگوں کے دل کانپ اٹھیں اور آئندہ کوئی ماں،بہن اور بیٹی اس درندگی کا شکار نہ ہو ۔
رابطہ : ghazisuhail09@gmail.com
٭٭٭
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
