تازہ ترین
جانئے : جموں کشمیر میں نئی حد بندی معاملہ کیا ہے ؟
مشتاق شمیم ، بڈگام 
چناچہ حالیہ الیکشن مہم کے دوران امت شاہ این ڈی اے کے فرنٹ کمپینر رہ چکے ہیں۔آپ ہر جگہ اپنی چناوی ریلیوں جلسوں یہاں تک کہ پریس کانفرنسوں میں زور وشور سے دفعات (370) اور (35۔اے) کو آئین ہند سے حذف کرانے کا دعویٰ کرتے رہے بشرطیکہ بی جے پی اقتدار میں واپس آگئی تو۔اس دوران اپوزیشن پارٹیاں خاص طور سے کانگریس این سی اور پی ڈی پی امت شاہ کے اس دعوے کو مسترد کرتے رہے ۔کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے ایک پریس کانفر نس میں یہاں تک کہہ دیا تھاکہ امت شاہ احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔مودی کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت ریاست جموں وکشمیر کو آئین ہند کے تحت حاصل شدہ خصوصی پوزیشن کو ہٹانا تو دور اسکے ہاتھ تک نہیں لگا سکتی ہے۔ عمر عبدااللہ نے کہا جس دن دفعہ (370)کو آئین ہند سے ہٹایا گیا مانو اُسی دن جموںو کشمیر ریاست کا ہندوستان کے ساتھ جوڑا گیارشتہ خود بخودٹوٹ کے رہ جائیگا۔محبوبہ مفتی نے اس مدعے پر امت شاہ کو جواب دیتے ہوئے خبر دار کیا کہ شاہ کو ایسی بےکار باتیں کہنے سے اجتناب کردینا چاہئے جن باتوں سے اہلیان کشمیر کے دلوں میں موجود ہندوستان کے خلاف نفرت اور بیگانگی کی آگ کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ شاہ اپوزیشن پارٹیوں کے رد عمل پر کان نہ دھر تے ہوئے اپنی بات پر چٹان کی طرح ڈٹے رہے اور ہر ایک چناوی ریلی میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ دہراتے رہے ۔
اب چناچہ بی جے پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ ہندوستان کے اقتدار اعلیٰ پر دوبارہ قابض ہونے میں کامیاب ہوگئی اور امت شاہ ملک کے وزیر داخلہ بن گئے۔اُن کے سامنے اب مذکورہ بالا دفعات کو آئین ہند سے حذف کرنے کا معاملہ ایک چلینج کی صورت میں کھڑا ہوگیا ہے۔حالانکہ ان دفعات کو آئین ہند سے حذف کرنا امت شاہ کا صرف ایک کھوکھلاالیکشن نعرہ ہی نہیں تھابلکہ ایسا کرنا بی جے پی کے تنظیمی دستور میں تب سے سرفہرست رہا جب سے اس تنظیم کی بنیاد ڈاکٹر شیاما پرساد مکرجی نے بھارتیہ جن سنگ کی شکل میں 1952ءمیں ڈالی تھی۔اگرچہ2014ءکے عام چناﺅ میں بھی یہ مدعا بی جے پی کے الیکشن منشور میں سر فہرست رہا تھا لیکن نا معلوم وجوہات کی بناءپر سابقہ مودی سرکار ایوان پارلیمان میں اسکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی ہمت جُٹا نہیں پائی البتہ سرکار ھٰذا اپنے بعض سیاسی حواریوں اور پسر پروردہ سماجی تنظیموں کی وساطت سے دفعہ 35۔اے کو عدالت عالیہ میں بڑی شدت کے ساتھ چلینج کرواتی رہی حتاکہ اس معاملے پر آنریبل سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنا حتمی فیصلہ بھی تیار کر رکھا ہوا ہے جس کو منظر عام پر لانے کیلئے بینچ ھٰذا موزون موقع و محل کے انتظار میں تیار بیٹھا ہے۔
بہر حال اب کی بار اس معاملے سے نپٹنے کیلئے مودی نے بھی اپنے وزیر خاص اور دست راست امت شاہ کو مکمل چھوٹ دیکے رکھی ہوئی ہے اور شاہ اس حوالے سے مودی کی امیدوں پر کھرا اُتر نے کیلئے ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنے کی راہ پر گامزن ہوچکے ہیں جس راستے پر چل کر سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مصداق وہ اس معاملے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بغیرکسی شور و شرابے کے دفن کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔ چونکہ ریاست جموں و کشمیرکوفی الوقت خصوصی درجہ حاصل ہے ۔یہاں پراپنا ایک آئین بھی نافذ العمل ہے ۔پارلیمنٹ ہاوس میں منظور ہوچکی کوئی بھی حتمی بل یا کوئی بھی ترمیمی مسودہ ریاست جموں و کشمیر میں لاگو نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس بل یا ترمیمی مسودے کو ریاستی قانون ساز اسمبلی توثیق نہیں کرتی۔ اس پیچیدگی اور ایسی ہی دوسری قسم کی آئینی وقانونی پیچیدگیوں سے نپٹنے کیلئے امت شاہ اپنی پہلی ہی فرصت میں جموں کشمیر ریاست کی طرف اپنی خاص توجہ مبذول کرچکے ہیں۔امورداخلہ کا قلمدان سنبھالتے ہی انہوں نے کشمیر ایشو کو لیکر صرف ایک ہفتے میںچار میٹنگیں لیں جو اس بات کا غماز ہے کہ شاہ ریاست جموں و کشمیر کے معاملات میں کتنی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
بہر کیف امت شاہ کا پلان جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ اس وقت زبردست سرگرم عمل ہیں وہ یہ کہ ریاست کا اقتدار اعلیٰ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں آجا نا چاہئے اور ریاست کا وزیر اعلیٰ اب کی بار جموں خطے سے تعلق رکھنے والا کوئی ہندو انتہا پسندلیڈر ہی منتخب ہوجانا چاہئے تاکہ ایوان اسمبلی میں آئینی حدود کے اندرہی دفعات (370) اور (35۔اے) کو آئین ہند سے حذف کرنے کا آرڈینینس پاس ہوکر مرکزی سرکار کے دربار اعلی میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔چناچہ ریاست میں بی جے پی سرکار کا معرض وجود آنافی الحال مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی لگ رہاہے کیونکہ وادی کشمیر کے (46)۔اسمبلی حلقوں میں سے بی جے پی کو کسی بھی حلقے پر کامیابی ملنے کے آثار دُور دُور تک کہیں نظر نہیں آرہے ہیں البتہ اس بات میں بھی دورائے نہیں کہ بی جے پی کی اتحادی جماعت پیپلز کانفرنس وادی میں اس مرتبہ چار پانچ نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن اسکے باوجود بھی (44) اسیٹوں کا جادوئی آنکڑا پار کرنا امت شاہ کو مشکل نظر آرہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جموں اور لداخ خطوں میں نئے سرے سے حد بندی کرانے کا سیاسی کارڑ کھیلنا شروع کردیا ۔امت شاہ کاخیال ہے کہ ان دو خطوں میں بی جے پی کی پوزیشن اس وقت مستحکم ہے اسلئے اگر یہاں پر چار پانچ نئے اسمبلی حلقے وجود میں آجاتے تو جادوئی آنکڑے تک پہنچنابھاجپا کیلئے آسان ہوسکے ۔اس کارڑ کو جواز بخشنے کیلئے بی جے پی دعویٰ کر رہی ہے کہ جموں اور لداخ خطے رقبہ کے لحاظ سے ریاست کے دوبڑے خطے ہیں اور ان دونوں خطوں کو ایوان اسمبلی میں اب تک بھر پور نمائندگی نہیں دی جاچکی ہے اسلئے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ان دونوں خطوں کے اسمبلی حلقوں کی تعداد میں مناسب اضافہ کرانے کی غرض سے نئے سرے سے حد بندی کرائی جائے۔ اس حوالے سے 7 جون کو نئی دلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد ہوا جس میں وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے علاوہ ملک کے بعض ماہرین قانون اور اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔میٹنگ میں اور باتوں کے علاوہ ریاست جموں و کشمیرمیں فاروق سرکار کی طرف سے2002ءمیں نئی حد بندی عمل میں لانے کے پروگرام پر 2026ءتک لگائی جاچکی پابندی کو ہٹانے اور نیا حد بندی کمیشن قائم کرانے پربھی غور و خوض کیا گیا۔ اس حوالے سے ریاست کے ایک نامور ماہر قانون اور رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے واضح کردیا کہ مرکزی سرکار اورریاستی گورنر انتظامیہ کے پاس ایسے اختیارات بلکل بھی نہیں ہیں کہ وہ کسی منتخبہ سرکار کی طرف سے لئے گئے کسی بھی فیصلے کو بدل سکیں۔
چناچہ مودی سرکار کا الزام ہے کہ شیخ محمد عبداللہ سے لیکر محبوبہ مفتی تک جتنے بھی وزیر اعلیٰ آج تک ریاست جموں و کشمیر میں منتخب ہوتے آئے وہ سب اپنے ذاتی سیاسی مقاصد اور مفاد ات کو ملحوظ نظر رکھ کرہمیشہ جموں اور لداخ خطوں کے ساتھ استحصالی پالیسی اختیار کر تے رہے۔اسی استحصالی پالیسی کو دوام بخشنے کیلئے فاروق سرکار نے 2002ءمیں ریاست میں نئے سرے سے حد بندی کرانے کے پروگرام پر 2026ءتک روک لگاکے رکھ دی ہے۔حالانکہ پنتھر پارٹی کے سربراہ پروفیسربھیم سنگھ نے فاروق سرکار کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیکر اس کو کالعدم کرانے کی غرض سے ریاستی ہائی کورٹ میں چلینج کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ جب ریاستی ہائی کورٹ نے پٹیشن ھٰذا کوشنوائی کیلئے ایڈمٹ کرنے سے انکار کردیا تب جاکے بھیم سنگھ یہ معاملہ لیکر سپریم کورٹ میں چلے گئے۔اگرچہ سپریم کورٹ میں اس ایشو پر کئی برس تک شنوائی ہوتی رہی تاہم 2010ءمیں عدالت نے پٹیشن ھٰذا کو سرے سے ہی خارج کردیا ۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے فاروق سرکار کی طرف سے حد بندی کی عمل آوری پر روک لگانے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 2001ءمیں مرکزی سرکار نے آئین ہندکی دفعات (82)اور( 170 )کے تحت ملک میں نئے سرے سے مردم شماری کرانے تک نئی حد بندی کی عمل آوری پر روک لگادی تھی۔مرکزی سرکار کی طرف سے لئے گئے اسی فیصلے کی فاروق سرکار نے جموں و کشمیر رپرزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ (57)کے سیکشن (3)47 کے تحت توثیق کردی تھی کیونکہ مرکزی سرکار کے کسی بھی فیصلے کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر میں تب تک نہیں ہوپا تا جب تک کہ ریاستی سرکار اسکی توثیق نہیں کرتی ہے۔ ادھر این سی اور پی ڈی پی کے ساتھ ساتھ محمد یوسف تاریگامی حکیم محمد یاسین غلام حسن میراور انجینئر رشید کا ماننا ہے کہ بھلے ہی کشمیر خطہ رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ہے لیکن یہ خطہ آبادی کے لحاظ سے ریاست کا سب سے بڑا خطہ ہے اور اسمبلی و پارلیمانی نشستوں کا تعین رقبے کے اعتبار سے نہیں بلکہ آبادی کے تباسب سے ہی کیا جاتا ہے ۔حکیم محمد یاسین نے مودی سرکار کی طرف سے روا رکھی جارہی جارہانہ پالسیوں پر زبردست تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میرا بھی یہی ماننا ہے کہ پارلیمانی و اسمبلی حلقوں کا تعین آبادی کے لحاظ سے ہی کیا جارہا ہے۔ہندوستان کی جملہ ریاستوں میں بھی آبادی کا تناسب مد نظر رکھتے ہی پارلیمانی و اسمبلی حلقوں کا تعین کیا جاچکا ہے۔چناچہ رقبے کے لحاظ سے راجستھان بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے جبکہ آبادی کے اعتبار سے اُتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے۔راجستھان میں کل (28)پارلیمانی حلقے ہیں جبکہ اُتر پردیش میں پارلیمانی حلقوں کی تعداد (80 )ہے۔اس طرح سے یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان ریاستوں میں پارلیمانی حلقوں کا تعین رقبہ نہیں بلکہ آبادی کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کیا جاچکاہے۔
یہاں پر ریاست کے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے حوالے سے قارئین کرام کو واقف کرانا میں ضروری سمجھتا ہوں ۔ہندوستان کے ساتھ الحاق کے بعد صدر ریاست ڈاکٹر کرن سنگھ کی ہداہت پر شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی والی سرکار نے اسمبلی سیگمنٹوں کا تعین عمل میں لانے کیلئے یکم مئی 1951ءکو(75) ممبران پر مشتمل ایک با اختیار کمیٹی تشکیل دی تھی۔کمیٹی کی سربراہی ریاستی وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ از خود کر رہے تھے۔ صدر موصوف کی ہدایت پر ہر ایک اسمبلی سیگمنٹ کو کم و بیش چالیس ہزار ووٹوں پر مشتمل رکھا گیا۔ اس طرح سے پہلی حد بندی کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کیلئے (75) نشستیں قائم کی گئیں جن میں آبادی کا تناسب ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کشمیر خطے کے حصے میں (43) جموں خطے کے حصے میں (30) جبکہ لداخ صوبہ کے حصے میں (2 ) حلقے آئے ۔ 1993ءکے دوران ریاست میں نئی حد بندی عمل میں لائی گئی جس دوران اسمبلی حلقوں کی تعداد (87) تک بڑھادی گئی۔اس نئی حد بندی میں صوبہ جموں کو مزید (7) حلقے ملے صوبہ کشمیر کو صرف(3) جبکہ صوبہ لداخ میں مزید (2) اسمبلی حلقوں کا اضافہ کیاگیا۔
یہاں ایک اوربات میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اگر ریاست جموں کشمیر میں نئے سرے سے حد بندی کرانا ناگزیر بن چکا ہے تو تینوں صوبوں میں آبادی کے تناسب سے ہی یہ عمل شروع کردینا چاہئے نہ کہ صرف دو خطوں جموں اور لداخ میں۔اگر ایسا کیا گیا تو وادی کشمیر میں حالات بد سے بدتر ین ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔یہاں کے بچوں کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے کیلئے جواز مل سکتا ہے۔ یہاں کے علیحدگی پسند جماعتوں اور حریت پسند عوام کو آزاد ی کی جنگ جاری رکھنے کیلئے میدان ہموار ہوسکتا ہے۔ اسلئے طاقت کے نشے میں نریندر مودی اور امت شاہ کو کوئی ایسا قدم اُٹھانے سے گریز کردینا چاہئے جس سے خرمن امن کو آگ لگنے کا احتمال پیدا ہوسکے۔ان دونوں رہنماﺅں کو ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی قدم اُٹھانے سے قبل سو بار سوچنا اپنے اوپر لازم کردینا چاہئے۔
رابطہ: mushtaqshameem47@gmail.com
نوٹ : مضمون نگار سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں .
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
