تازہ ترین
جانئے : جموں کشمیر میں نئی حد بندی معاملہ کیا ہے ؟
مشتاق شمیم ، بڈگام 
چناچہ حالیہ الیکشن مہم کے دوران امت شاہ این ڈی اے کے فرنٹ کمپینر رہ چکے ہیں۔آپ ہر جگہ اپنی چناوی ریلیوں جلسوں یہاں تک کہ پریس کانفرنسوں میں زور وشور سے دفعات (370) اور (35۔اے) کو آئین ہند سے حذف کرانے کا دعویٰ کرتے رہے بشرطیکہ بی جے پی اقتدار میں واپس آگئی تو۔اس دوران اپوزیشن پارٹیاں خاص طور سے کانگریس این سی اور پی ڈی پی امت شاہ کے اس دعوے کو مسترد کرتے رہے ۔کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے ایک پریس کانفر نس میں یہاں تک کہہ دیا تھاکہ امت شاہ احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔مودی کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت ریاست جموں وکشمیر کو آئین ہند کے تحت حاصل شدہ خصوصی پوزیشن کو ہٹانا تو دور اسکے ہاتھ تک نہیں لگا سکتی ہے۔ عمر عبدااللہ نے کہا جس دن دفعہ (370)کو آئین ہند سے ہٹایا گیا مانو اُسی دن جموںو کشمیر ریاست کا ہندوستان کے ساتھ جوڑا گیارشتہ خود بخودٹوٹ کے رہ جائیگا۔محبوبہ مفتی نے اس مدعے پر امت شاہ کو جواب دیتے ہوئے خبر دار کیا کہ شاہ کو ایسی بےکار باتیں کہنے سے اجتناب کردینا چاہئے جن باتوں سے اہلیان کشمیر کے دلوں میں موجود ہندوستان کے خلاف نفرت اور بیگانگی کی آگ کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ شاہ اپوزیشن پارٹیوں کے رد عمل پر کان نہ دھر تے ہوئے اپنی بات پر چٹان کی طرح ڈٹے رہے اور ہر ایک چناوی ریلی میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ دہراتے رہے ۔
اب چناچہ بی جے پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ ہندوستان کے اقتدار اعلیٰ پر دوبارہ قابض ہونے میں کامیاب ہوگئی اور امت شاہ ملک کے وزیر داخلہ بن گئے۔اُن کے سامنے اب مذکورہ بالا دفعات کو آئین ہند سے حذف کرنے کا معاملہ ایک چلینج کی صورت میں کھڑا ہوگیا ہے۔حالانکہ ان دفعات کو آئین ہند سے حذف کرنا امت شاہ کا صرف ایک کھوکھلاالیکشن نعرہ ہی نہیں تھابلکہ ایسا کرنا بی جے پی کے تنظیمی دستور میں تب سے سرفہرست رہا جب سے اس تنظیم کی بنیاد ڈاکٹر شیاما پرساد مکرجی نے بھارتیہ جن سنگ کی شکل میں 1952ءمیں ڈالی تھی۔اگرچہ2014ءکے عام چناﺅ میں بھی یہ مدعا بی جے پی کے الیکشن منشور میں سر فہرست رہا تھا لیکن نا معلوم وجوہات کی بناءپر سابقہ مودی سرکار ایوان پارلیمان میں اسکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی ہمت جُٹا نہیں پائی البتہ سرکار ھٰذا اپنے بعض سیاسی حواریوں اور پسر پروردہ سماجی تنظیموں کی وساطت سے دفعہ 35۔اے کو عدالت عالیہ میں بڑی شدت کے ساتھ چلینج کرواتی رہی حتاکہ اس معاملے پر آنریبل سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنا حتمی فیصلہ بھی تیار کر رکھا ہوا ہے جس کو منظر عام پر لانے کیلئے بینچ ھٰذا موزون موقع و محل کے انتظار میں تیار بیٹھا ہے۔
بہر حال اب کی بار اس معاملے سے نپٹنے کیلئے مودی نے بھی اپنے وزیر خاص اور دست راست امت شاہ کو مکمل چھوٹ دیکے رکھی ہوئی ہے اور شاہ اس حوالے سے مودی کی امیدوں پر کھرا اُتر نے کیلئے ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنے کی راہ پر گامزن ہوچکے ہیں جس راستے پر چل کر سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مصداق وہ اس معاملے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بغیرکسی شور و شرابے کے دفن کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔ چونکہ ریاست جموں و کشمیرکوفی الوقت خصوصی درجہ حاصل ہے ۔یہاں پراپنا ایک آئین بھی نافذ العمل ہے ۔پارلیمنٹ ہاوس میں منظور ہوچکی کوئی بھی حتمی بل یا کوئی بھی ترمیمی مسودہ ریاست جموں و کشمیر میں لاگو نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس بل یا ترمیمی مسودے کو ریاستی قانون ساز اسمبلی توثیق نہیں کرتی۔ اس پیچیدگی اور ایسی ہی دوسری قسم کی آئینی وقانونی پیچیدگیوں سے نپٹنے کیلئے امت شاہ اپنی پہلی ہی فرصت میں جموں کشمیر ریاست کی طرف اپنی خاص توجہ مبذول کرچکے ہیں۔امورداخلہ کا قلمدان سنبھالتے ہی انہوں نے کشمیر ایشو کو لیکر صرف ایک ہفتے میںچار میٹنگیں لیں جو اس بات کا غماز ہے کہ شاہ ریاست جموں و کشمیر کے معاملات میں کتنی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
بہر کیف امت شاہ کا پلان جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ اس وقت زبردست سرگرم عمل ہیں وہ یہ کہ ریاست کا اقتدار اعلیٰ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں آجا نا چاہئے اور ریاست کا وزیر اعلیٰ اب کی بار جموں خطے سے تعلق رکھنے والا کوئی ہندو انتہا پسندلیڈر ہی منتخب ہوجانا چاہئے تاکہ ایوان اسمبلی میں آئینی حدود کے اندرہی دفعات (370) اور (35۔اے) کو آئین ہند سے حذف کرنے کا آرڈینینس پاس ہوکر مرکزی سرکار کے دربار اعلی میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔چناچہ ریاست میں بی جے پی سرکار کا معرض وجود آنافی الحال مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی لگ رہاہے کیونکہ وادی کشمیر کے (46)۔اسمبلی حلقوں میں سے بی جے پی کو کسی بھی حلقے پر کامیابی ملنے کے آثار دُور دُور تک کہیں نظر نہیں آرہے ہیں البتہ اس بات میں بھی دورائے نہیں کہ بی جے پی کی اتحادی جماعت پیپلز کانفرنس وادی میں اس مرتبہ چار پانچ نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن اسکے باوجود بھی (44) اسیٹوں کا جادوئی آنکڑا پار کرنا امت شاہ کو مشکل نظر آرہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جموں اور لداخ خطوں میں نئے سرے سے حد بندی کرانے کا سیاسی کارڑ کھیلنا شروع کردیا ۔امت شاہ کاخیال ہے کہ ان دو خطوں میں بی جے پی کی پوزیشن اس وقت مستحکم ہے اسلئے اگر یہاں پر چار پانچ نئے اسمبلی حلقے وجود میں آجاتے تو جادوئی آنکڑے تک پہنچنابھاجپا کیلئے آسان ہوسکے ۔اس کارڑ کو جواز بخشنے کیلئے بی جے پی دعویٰ کر رہی ہے کہ جموں اور لداخ خطے رقبہ کے لحاظ سے ریاست کے دوبڑے خطے ہیں اور ان دونوں خطوں کو ایوان اسمبلی میں اب تک بھر پور نمائندگی نہیں دی جاچکی ہے اسلئے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ان دونوں خطوں کے اسمبلی حلقوں کی تعداد میں مناسب اضافہ کرانے کی غرض سے نئے سرے سے حد بندی کرائی جائے۔ اس حوالے سے 7 جون کو نئی دلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد ہوا جس میں وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے علاوہ ملک کے بعض ماہرین قانون اور اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔میٹنگ میں اور باتوں کے علاوہ ریاست جموں و کشمیرمیں فاروق سرکار کی طرف سے2002ءمیں نئی حد بندی عمل میں لانے کے پروگرام پر 2026ءتک لگائی جاچکی پابندی کو ہٹانے اور نیا حد بندی کمیشن قائم کرانے پربھی غور و خوض کیا گیا۔ اس حوالے سے ریاست کے ایک نامور ماہر قانون اور رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے واضح کردیا کہ مرکزی سرکار اورریاستی گورنر انتظامیہ کے پاس ایسے اختیارات بلکل بھی نہیں ہیں کہ وہ کسی منتخبہ سرکار کی طرف سے لئے گئے کسی بھی فیصلے کو بدل سکیں۔
چناچہ مودی سرکار کا الزام ہے کہ شیخ محمد عبداللہ سے لیکر محبوبہ مفتی تک جتنے بھی وزیر اعلیٰ آج تک ریاست جموں و کشمیر میں منتخب ہوتے آئے وہ سب اپنے ذاتی سیاسی مقاصد اور مفاد ات کو ملحوظ نظر رکھ کرہمیشہ جموں اور لداخ خطوں کے ساتھ استحصالی پالیسی اختیار کر تے رہے۔اسی استحصالی پالیسی کو دوام بخشنے کیلئے فاروق سرکار نے 2002ءمیں ریاست میں نئے سرے سے حد بندی کرانے کے پروگرام پر 2026ءتک روک لگاکے رکھ دی ہے۔حالانکہ پنتھر پارٹی کے سربراہ پروفیسربھیم سنگھ نے فاروق سرکار کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیکر اس کو کالعدم کرانے کی غرض سے ریاستی ہائی کورٹ میں چلینج کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ جب ریاستی ہائی کورٹ نے پٹیشن ھٰذا کوشنوائی کیلئے ایڈمٹ کرنے سے انکار کردیا تب جاکے بھیم سنگھ یہ معاملہ لیکر سپریم کورٹ میں چلے گئے۔اگرچہ سپریم کورٹ میں اس ایشو پر کئی برس تک شنوائی ہوتی رہی تاہم 2010ءمیں عدالت نے پٹیشن ھٰذا کو سرے سے ہی خارج کردیا ۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے فاروق سرکار کی طرف سے حد بندی کی عمل آوری پر روک لگانے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 2001ءمیں مرکزی سرکار نے آئین ہندکی دفعات (82)اور( 170 )کے تحت ملک میں نئے سرے سے مردم شماری کرانے تک نئی حد بندی کی عمل آوری پر روک لگادی تھی۔مرکزی سرکار کی طرف سے لئے گئے اسی فیصلے کی فاروق سرکار نے جموں و کشمیر رپرزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ (57)کے سیکشن (3)47 کے تحت توثیق کردی تھی کیونکہ مرکزی سرکار کے کسی بھی فیصلے کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر میں تب تک نہیں ہوپا تا جب تک کہ ریاستی سرکار اسکی توثیق نہیں کرتی ہے۔ ادھر این سی اور پی ڈی پی کے ساتھ ساتھ محمد یوسف تاریگامی حکیم محمد یاسین غلام حسن میراور انجینئر رشید کا ماننا ہے کہ بھلے ہی کشمیر خطہ رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ہے لیکن یہ خطہ آبادی کے لحاظ سے ریاست کا سب سے بڑا خطہ ہے اور اسمبلی و پارلیمانی نشستوں کا تعین رقبے کے اعتبار سے نہیں بلکہ آبادی کے تباسب سے ہی کیا جاتا ہے ۔حکیم محمد یاسین نے مودی سرکار کی طرف سے روا رکھی جارہی جارہانہ پالسیوں پر زبردست تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میرا بھی یہی ماننا ہے کہ پارلیمانی و اسمبلی حلقوں کا تعین آبادی کے لحاظ سے ہی کیا جارہا ہے۔ہندوستان کی جملہ ریاستوں میں بھی آبادی کا تناسب مد نظر رکھتے ہی پارلیمانی و اسمبلی حلقوں کا تعین کیا جاچکا ہے۔چناچہ رقبے کے لحاظ سے راجستھان بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے جبکہ آبادی کے اعتبار سے اُتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے۔راجستھان میں کل (28)پارلیمانی حلقے ہیں جبکہ اُتر پردیش میں پارلیمانی حلقوں کی تعداد (80 )ہے۔اس طرح سے یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان ریاستوں میں پارلیمانی حلقوں کا تعین رقبہ نہیں بلکہ آبادی کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کیا جاچکاہے۔
یہاں پر ریاست کے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے حوالے سے قارئین کرام کو واقف کرانا میں ضروری سمجھتا ہوں ۔ہندوستان کے ساتھ الحاق کے بعد صدر ریاست ڈاکٹر کرن سنگھ کی ہداہت پر شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی والی سرکار نے اسمبلی سیگمنٹوں کا تعین عمل میں لانے کیلئے یکم مئی 1951ءکو(75) ممبران پر مشتمل ایک با اختیار کمیٹی تشکیل دی تھی۔کمیٹی کی سربراہی ریاستی وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ از خود کر رہے تھے۔ صدر موصوف کی ہدایت پر ہر ایک اسمبلی سیگمنٹ کو کم و بیش چالیس ہزار ووٹوں پر مشتمل رکھا گیا۔ اس طرح سے پہلی حد بندی کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کیلئے (75) نشستیں قائم کی گئیں جن میں آبادی کا تناسب ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کشمیر خطے کے حصے میں (43) جموں خطے کے حصے میں (30) جبکہ لداخ صوبہ کے حصے میں (2 ) حلقے آئے ۔ 1993ءکے دوران ریاست میں نئی حد بندی عمل میں لائی گئی جس دوران اسمبلی حلقوں کی تعداد (87) تک بڑھادی گئی۔اس نئی حد بندی میں صوبہ جموں کو مزید (7) حلقے ملے صوبہ کشمیر کو صرف(3) جبکہ صوبہ لداخ میں مزید (2) اسمبلی حلقوں کا اضافہ کیاگیا۔
یہاں ایک اوربات میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اگر ریاست جموں کشمیر میں نئے سرے سے حد بندی کرانا ناگزیر بن چکا ہے تو تینوں صوبوں میں آبادی کے تناسب سے ہی یہ عمل شروع کردینا چاہئے نہ کہ صرف دو خطوں جموں اور لداخ میں۔اگر ایسا کیا گیا تو وادی کشمیر میں حالات بد سے بدتر ین ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔یہاں کے بچوں کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے کیلئے جواز مل سکتا ہے۔ یہاں کے علیحدگی پسند جماعتوں اور حریت پسند عوام کو آزاد ی کی جنگ جاری رکھنے کیلئے میدان ہموار ہوسکتا ہے۔ اسلئے طاقت کے نشے میں نریندر مودی اور امت شاہ کو کوئی ایسا قدم اُٹھانے سے گریز کردینا چاہئے جس سے خرمن امن کو آگ لگنے کا احتمال پیدا ہوسکے۔ان دونوں رہنماﺅں کو ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی قدم اُٹھانے سے قبل سو بار سوچنا اپنے اوپر لازم کردینا چاہئے۔
رابطہ: mushtaqshameem47@gmail.com
نوٹ : مضمون نگار سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں .
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
