تازہ ترین
کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس سے متعلق عدالت کا تاریخی فیصلہ: مکمل رپورٹ
خبراردو: صوبہ جموں کے کٹھوعہ ضلع میں سال 2018کے اوائل میں پیش آئے عصمت دری و قتل معاملے سے متعلق پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت میں 7ملزموں میں سے6کو مجرم قرار دیا گیا جس میں سے 3کو عمر قید جبکہ دیگر 3پولیس اہلکاروں کو ساڑھے پانچ پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔ ادھر عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے موقعے پر پٹھانکوٹ عدالت کے ارد گرد سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے جبکہ جبکہ کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کےلئے فورسز اور نیم فورسز دستوں کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا۔
جموں کے کٹھوعہ ضلع میں جنوری 2018میں پیش آئے عصمت دری و قتل معاملے سے متعلق پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت میں واقعے میں ملوث 7ملزمان میں سے 6کو مجرم قرار دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ پٹھانکوٹ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تجویندر سنگھ نے سوموار کو گزشتہ برس سے جاری کیس کی سماعت کے آخری دن تاریخ ساز فیصلے میں 8میں سے 7افراد کو ٹھوس شہادتوں اور شواہد کی بنیاد پر مجرم قرار دیا۔ عدالت نے 3ملزمان ماسٹر مائینڈ سانجھی رام، پرویش اور دیپک کھجوریہ کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ واقعے میں ملوث مزید 3پولیس اہلکاروں کو پانچ پانچ سال کی سزا سنائی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق عدالتی فیصلے کے وقت پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت اور مضافات میں سیکورٹی کے کڑے بندوبست کئے گئے تھے تاکہ کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے بروقت نمٹا جاسکے۔اس دوران واقعے میں مبینہ طور پر ملزم قرار دئے گئے وشال جنگوترا کو عدالت نے بری قرار دیا۔کٹھوعہ کیس میں چھ ملزمان کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔سزا کا اعلان دوپہر دو بجے سنایا گیا۔ کیس کے ملزمان میں عصمت دری و قتل واقعہ کے منصوبہ ساز سانجی رام، اس کا بیٹا وشال جنگوترا، سانجی رام کا بھتیجا (نابالغ ملزم)، نابالغ ملزم کا دوست پرویش کمار عرف منو، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران آنند دتا اور تلک راج شامل تھے۔ سانجی رام، پرویش کمار، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران آنند دتا اور تلک راج کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔ سانجی رام کے بیٹے وشال جنگوترا کو بری کیا گیا ہے۔معلوم ہوا کہ چارج شیٹ میں سانجی رام پر عصمت دری و قتل کی سازش رچنے، وشال، نابالغ ملزم، پرویش اور ایس پی او دیپک کھجوریہ پر عصمت دری و قتل اور ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج و آنند دتا پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزامات لگے تھے۔چارج شیٹ میں سانجی رام پر عصمت دری و قتل کی سازش رچنے، وشال، نابالغ ملزم، پرویش اور ایس پی او دیپک کھجوریہ پر عصمت دری و قتل اور ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج و آنند دتا پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزامات لگے تھے۔قبل ازیں3جون کو جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے استغاثہ اور وکلاءصفائی کی طرف سے پیش کئے گئے حتمی دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ رکھا تھا اور 10جون 2019کو کیس میں ملوث پائے گئے مجرموں کے تئیں سزا کا اعلان کیا گیا۔8سالہ بچی کے ریپ اور قتل کے معاملے میں پٹھان کوٹ کی خصوصی عدالت نے کل 7 ملزموں میں سے 6 کو مجرم قرار دیا ہے۔ ان میں سے تین مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ماسٹر مائنڈ سانجھی رام، پرویش اور دیپک کجھوریہ ککو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ تین پولیس والوں کو 5۔5 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ادھر خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے موقعے پر پٹھانکوٹ کورٹ اور ارد گرد کے علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات عمل میں لائے گئے تھے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھی کہ عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے ساتھ ہی یہاں امن و قانون کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے تاہم انتظامیہ نے سیکورٹی کو کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کےلئے تیاری کی حالت میں رکھا تھا۔ اس دوران عدالتی فیصلے کی بڑے پیمانے پر سراہنا کی جارہی ہے جبکہ سماج کے مختلف طبقوں نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی کے علاوہ پیپلز کانفرنس چیرمین سجاد غنی لون، پیپلز مومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر شاہ فیصل ، گوجر بکروال کانفرنس کے صدر حاجی محمد یوسف ، جنرل سیکرٹری محمد یاسین پوسوال، یوتھ لیڈر زاہد پرواز چودھری، سماجی کارکن ایڈوکیٹ طالب حسین نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف اور قانون کی فتح قرار دیا۔
خیال رہے صوبہ جموں کے کٹھوعہ ضلع کے رسانہ نامی گاﺅں میں 10جنوری 2018کو گجر طبقے سے وابستہ 8سالہ بچی مویشیوں کو چرانے کے دوران لاپتہ ہوگئی تاہم 17جنوری2019کو مذکورہ بچی کی لاش نزدیکی جنگلات سے برآمد کی گئی جس کے بعد واقعے کے حوالے سے ایک انکوائری ٹیم بٹھائی گئی جس نے واقعے کے حوالے سے تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات کئے۔ تحقیقات کے دوران اس بات کاخلاصہ کیا گیا کہ معصوم بچی کے ساتھ اجتماعی طور پر زیادتی کرنے کے بعد قتل کیا گیا۔اس سلسلے میں واقعے کے حوالے سے عوامی سطح پر ریاست اور بیرون ریاست سخت غم و غصہ پایا گیا اور ملوث عناصر کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔
عدالتی فیصلہ انصاف اور قانون کی جیت: محبوبہ/عمر
جموں کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشز کورٹ پٹھان کوٹ کی طرف سے پیر کے روز کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس کے بارے میں سنائے گئے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس کے بارے میں سنائے گئے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سیاست کرنے سے احتراز کیا جانا چاہئے۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، موزوں ترین وقت ہے کہ ہم آٹھ سالہ بچی کے ساتھ پیش آئے بہیمانہ جرم جس میں عصمت دری کے بعد اس کو قتل کیا گیا، پر سیاست نہ کریں۔
محبوبہ مفتی نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہاکہ کٹھوعہ فیصلہ سے راحت نصیب ہوئی، اس کا کریڈٹ آئی جی پی افہادالمجتبیٰ کی سربراہی والی کرائم برانچ کی ٹیم، ایس ایس پی جالا، ایڈیشنل ایس پی نوید، ڈپٹی ایس پی شیو تامبری اور طالب کو جاتا ہے جنہوں نے رکاوٹوں کے باوجود حقائق کو سامنے لایا اور ملک بھر کے لوگ متاثرہ بچی کی حمایت کےلئے کھڑے رہے۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ آمین، قصوروار وں کو تحت قانون سخت ترین سزا ملنی چاہئے اور ان سیاست دانوں جنہوں نے قصورواروں کا دفاع کیا، متاثرہ کو بدنام کیا اور قانونی سسٹم کو دھمکایا کے بارے میں مذمت کے لئے الفاظ ہی نہیں ہیں۔
فیصلہ سچائی کی فتح: ایڈوکیٹ مبین فاروقی
سانحہ کٹھوعہ کے ستم زدگان کے قانونی صلاح کار ایڈوکیٹ مبین فاروقی نے عدالتی فیصلے کو سچائی کی فتح قرار دیا ہے۔
سانحہ کٹھوعہ کے ستم ززدگان کے قانونی صلاح کارایڈوﺅکیٹ مبین فاروقی نے پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت کے فیصلے کو’سچائی کی فتح‘سے تعبیرکرتے ہوئے واضح کیاہے کہ ملزمان کومجرمین مان کراُن کیخلاف خصوصی عدالت کی جانب سے سنایاگیافیصلہ کسی ایک برادری یافرقہ کی نہیں بلکہ سبھی فرقوں یعنی ہندوﺅں،مسلمانوں ،سکھوں اورعیسائیوں کی کامیابی ہے ۔ایڈوﺅکیٹ مبین فاروقی نے پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ صادرکئے جانے کے بعدکہاکہ خصوصی عدالت کے فیصلے کوہم صدق دلی ،کھلے ذہن اورحوصلے کیساتھ قبول کرتے ہیں کیونکہ اس فیصلے میں عدل وانصاف کے اصولوں اورقانون کی حکمرانی کوملحوظ نظررکھاگیاہے ۔ایڈوﺅکیٹ فاروقی نے کہاکہ ہم مجرمین کوسزائے موت دینے کی اپیل کریں گے۔
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
