تازہ ترین
ٹنل کے آر پار طوفانی بارشیں اور تیز آندھی کے بعد سیلابی صورت حال :مکمل رپورٹ
خبراردو: ریاست جموں کشمیر میں ٹنل کے آر پا رایک رات کی شدید بارشوںاور تیز آندھی کے بعد سیلابی صورت حال پیدا ہوئی ہے جس کے نتیجے میں بانڈی پورہ اور گاندر بل میں درخت گر آنے کے نتیجے میں2خواتین سمیت3افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ خطہ چناب کے ڈوڈہ ضلع میں انتظامیہ نے موسم کی ابتر حالت دیکھ کر ہائی ا لرٹ جاری کر کے تمام تعلیمی اداروں کو بند کر دیاہے ۔اس دوران سیاحتی مقام سونہ مرگ میںتازہ برف باری ہوئی ہے جبکہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ ،بڈگام ،اور سوپور کے علاوہ شمالی جنوب میں متعدد رابطہ پل ڈہہ جانے کے علاوہ سڑکیں زیر آب آگئیں ہیںجبکہ کئی مقامات پر رہائشی مکانوں میں پانی داخل ہوا ہے ۔
وادی کشمیر میں منگل کی شام دیر گئے سے شدید بارشوں اور کئی علاقوں میں تیز آندھی کا سلسلہ شروع ہوا جو بدھ کے صبح6بجے تک جاری رہا ہے جس نتیجے میںوسطی ضلع گاندر بل اور ش،الی کششمیر کے گاندربل میں 2خواتین سمیت 3افراد لقمہ اجل بن گئے۔اس سلسلے میں بانڈی پورہ سے کے این ایس کے نامہ نگار نے جو اطلاع دی ہے کہ ضلع کے چندا جی نامی جنگلاتی علاقے میں بدھ کے صبح تیز آندھی چلنے کے نتیجے میں ایک بھاری بھرکم درخت جڑ سے اکھڑ کر عارف حسین نامی ایک شہری کے مکان پر گرآیا جس کے نتیجے میں مکان میں موجود2 جواں سال خواتین بری طرح زخمی ہوئیں اس دوران اگر چہ دونوں خواتین کو اسپتال منتقل کرنے کے کوشش کی گئی تاہم دونوں خواتین اسے سے قبل ہی دم توڑ چکے تھے ۔پولیس نے جاں بحق خواتین کی شناخت مبینہ بانو دختر ذاکر حسین اور شریفہ زوجہ عارف حسین نامی دو خواتین لقمہ اجل بن گئیں۔اس دوران دونوں خواتین کی ہلاکت کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی علاقے میں کہرام مچ گیا ہے ۔ ایس ایس پی بانڈی پور نہ بتایا پولیس نے واقعے کے حوالے سے ایک کیس درج کر کر تفصیلات جمع کئے ہیں ۔
ادھر وسطی ضلع گاندر بل سے نامہ نگار غلام نبی رینہ نے اطلاع دی ہے کہ ضلع رامواری علاقے میں عارضی طر ایک ٹینٹ میں رہائش پزیر محمد یوسف کلاڑا ولد عبدلغنی کلاڑا ساکن راجوری کے ٹنٹ پرصبح سویرے تیز آندھی کے دوران ایک درخت جڑ سے اکھڑ گیا جو ٹنٹ میںبھی اسی طرح کے ایک واقعے میں تیز ہواﺅں سے ایک درخت اکھڑ کر ایک ٹینٹ پر گر آیاپولیس کے مطابق جس کے نتیجے میں ٹینٹ میں موجود ایک شہری محمد یوسف کلاڈا ولد عبدالغنی کلاڈا ساکنہ راجوری بری طرح زخمی ہوا سا دوران اگر چہ مزکورہ شہری کو اسپتال منتقل کیاگیا ہے جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا ہے ۔ جبکہ اس حادثے میں مہلوک کے دو رشتہ دار غلام حیدر ولد داﺅد اور عبد الطیف ولد محمود ساکنان راجوری بری طرح زخمی ہوئے ڈی سی گاندربل حشمت علی خان نے کے این ایس کو بتایا کہ رامواری گنڈ میں تیز ہواو¿ں کے نتیجے میں بکر والوں کے ٹینٹ پر درخت گرآئی جس کی وجہ سے 37 برس کا محمد یوسف کلاڈا ولد عبدل غنی کلاڈا ساکن راجوری موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ 33 برس کا غلام حیدر ولد داود 30 برس کا عبدل لطیف ولد محمود ساکن راجوری شدید طور پر زخمی ہوگ? جن کو علاج معالجہ کے لئے سرینگر ریفر کیا گیا ھے ایس ایس پی گاندربل خلیل احمد پوسوال نے بتایا کہ شتکڑی سونہ مرگ سے تین کلو میٹر کی دوری پر واقع پہاڑی کے نزدیک پولیس نے چار خاندانوں کے 22افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ھے.
ادھر کرگل میں شدید بارشوں اور ہلکی برفباری کی وجہ سے ضلع انتظامیہ نے تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کی ہدایت دی ھے ضلع ترقیاتی کمشنر کرگل بصیرالحق چودھری نے بتایا کہ ہلکی برفباری اور شدید بارشوں کی وجہ سے کرگل اور دراس میں بدھوار کو تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ادھر وادی کشمیر میں تیز آندھی کے ساتھ ساتھ تیز بارشیں بھی ہوئیں جس کے نتیجے میں ندی نالوں میں تغیانی آنے کے ساتھ ہی اکژعلاقوں کی رابطہ سڑکیں زیر آب آگئیں جبکہ بیشتر بستیوں میں پانی داخل ہونے کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و ہشت کا ماحول پیدا ہوا ۔ بڈگام سے کشمیر نیوز سروس کے نامہ نگار اعجاز احمد نے اطلاع دی ہے کہ ضلع دودھ گنگا نالے کے بیچوں بیچ سوگام پل کے نذدیک2کنبے اپنا مال مویشی کے ساتھ پھنس گیا تھا جس دوران مقامی لوگوں نے بدھ کے صبح دونوں کنبوں کے550بھیڑ بکریوں اور انسانی جانوںکو بہہ جانے سے بچالیا۔اس نالے میں گذشتہ شب کی موسلادھار بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔نمائندے کے مطابق علاقے میں نالے میں پانی کے تیز بہاو کے بعد مزکورہ کنبے اسے پار نہیں کر سکے جس کی اطلاع مقامی لوگوں لو ملی ہے جنہوں نے بر وقت پر متحرک ہوکر ایک عارضی پل تعمیر کر کے بچاﺅ کارروائیاں عمل میں لاتے ہوئے گڈریوں اور ان کے مال و اسباب سمیت بچالیا گیا۔
نمائندے کے مطابق ضلع کے سکھ ناگ نالے میں تغیانی آنے کے نتیجے میں ضلع کے کھاگن بیرہ وہ ،ماگام ، گوری پورہ ،سیل،آورہ،کانہامہ ،قمر پورہ،زنگام ،گنہ گنڈ،دوغیرہ علاقوں میں پانی داخل ہوا جس کے نتیجے میں مزکورہ علاقوں کی اکثر رابطہ سڑکیں ناقابل آمد رفت بن چکے ہیں ۔ادھر جبکہ کئی علاقوںمیں بارشوں کا پانی ندی نالوں کا پانی رہائشی مکانوں میں داخل ہوا ۔ ادھرشمالی کشمیر کے سوپور علاقے میں بھی متعدد سڑکیں زیر آب آگئیں جبکہ کئی مقامات پر مکانوں میں بھی پانی داخل ہوا ۔سوپور سے کے این ایس کے نامہ نگار سید فیاض بخاری نے اطلاع دی ہے گزشتہ رات کی تیز بارشوں کے بعد علاقے کے تازو،شیر کالونی ،میرپورہ اور ڈگری کالج بستیوں میں پانی داخل ہوا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں میںزبردست خوف و دشت کا ماحول پیدا ہوا ہے اس دوران ایس ڈی ایم سوپور نے علاقے کا دورہ کر کے مشینری کو متحر ک کر دیا ہے ۔ ادھر صوبہ جموں کے خطہ چناب کے ڈوڈہ علاقے میں تیز بارشوں کے بعدضلع انتظامیہ نے بدھ کو موسلادھار بارشوں سے پیدا صورتحال کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے سکولوں کو بند رکھنے کے احکامات صادر کرلئے۔اس دوران چیف ایجو کیشن آفیسر،طارق حسین خوجہ کے مطابق محکمہ موسمیات نے مزید موسلادھار بارشوں اور پسیاں گر آنے کی پیش گوئی کر رکھی ہے جس کے پیش نظر آج کیلئے سکولوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے لوگوں کو احتیاط کے طور پسیاں گر آنے والے علاقوں سے دور رہنے کی صلاح دے رکھی ہے جس دوران لوگوں کو احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے ۔ ادھر میدانی علاقوں میں شدید بارشیں ہوئیں وہی سیاحتی مقام سونہ مرگ میں برفباریہونے کے بعد سرینگر۔لیہہ شاہراہ کو ٹریفک کی آمد رفت کے لئے بند کر دیا گیا ۔سونہ مرگ سے نمائندے نےسرکاری ذرائر سکے حوالے سے اطلاع دی ہے سیاحتی مقام سونہ مرگ اور اس کے آس پاس کے علاقے میں بدھ کوتازہ برفباری ہوئی ہے جبکہ وادی بھر میں شدید بارشوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔حکام کے مطابق سونہ مرگ، ناراناگ اور گرد و نواح میں آج صبح تازہ برفباری ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ زوجیلا پاس اور بالہ تل علاقوں سے بھی تازہ برفباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیںجس کے بعدپولیس نے سرینگر۔لیہہ شاہراہ پر ٹریفک کو روک دیا گیا ہے۔ادھر ضلع میںنالہ سندھ پر ٹنگہ چھتر نامی مقام پر بنا پل پانی کے تیز بہاﺅ میں ڈھ گیا ہے۔ٹنگمرگ سے کے این ایس کے نمائندے مشتاق الحسن نے اطلاع دی ہے کہ علاقے میں تیز بارشوں کے علاقے میں تیز بہاو والے پانی کے بہاﺅ سے پ±ل ڈھ گیا۔نمائندے کے مطابق گذشتہ رات کی موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں شمالی کشمیر کے ٹنگمرگ میں چاندل۔وانیگام روڑ پر بنا ،نالہ فیروزپورہ کا پل پانی کے تیز بہاﺅ میں آکر ڈھ گیا جس سے درجنوں دیہات کٹ کر رہ گئے ہیں۔جبکہ پٹن کے کھورو ، شیرا باد اور ہانجی ویرا گاﺅں میں مسلسل بارشوں کے نتیجے میں بہت پانی جمع ہوا ہے جس سے لوگوں کی نقل و حمل محدود ہوکر رہ گئی ہے۔خیال رہے کہ وادی بھر میں گذشتہ رات کے دوران زور دار بارشیں ہوئیں اور تیز ہوائیں چلیں جس کی وجہ سے بیسیوں علاقے زیر آب آگئے ہیں اور کئی راستے مسدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ادھر صوبائی انتظامیہ نے علاقے میں تمام سرکاری مشینری کو متحرک کر دیا ہے ۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
