تازہ ترین
بھارت میں بڑھتی گرمی : پیڑ کہاں سا یہ کہاں پانی کہاں؟
حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی
خا لق کا ئنات نے اپنی مخلوق کے لیے ہر ضرورت کی چیز پیدا فر مائی، سب کی ضروریات الگ الگ ہیں کچھ ضروریات تو تمام مخلوق کی ایک ہی طرح کی ہیں جیسے ہوا، پانی اور آکسیجن(ہوا اور پانی کا وہ جز جس پر روشنی اورزندگی موقوف ہے۔) انسان ہو یا جانور ہر جاندار کو اس کی ضرورت ہے ،یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بلا آکسیجن کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا، اس کے بغیر موت واقع ہو جاتی ہے۔ اور یہ انمول شئے(نایاب چیز) اللہ رب العزت نے درختوں، پو دوں میں رکھی ہے یاد رہے آکسیجن درختوں اور پو دوں کے سوا اور کہیں سے نہیں ملتی ہے۔ اتنے ترقی یافتہ دور میں بھی انسان کتنا نادان اور ظالم ہے جو چیز اسے درختوں اور پودوں کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتی اسی کو ختم کرتے جارہاہے( اسی کو کہتے ہیں آ بیل مجھے مار ، نہیں بلکہ دوڑ کے مار) پیڑ ، پودے انسان کی اہم ضرو ریات میں شامل رہے ہیں اور رہیں گے جب سے دنیا میں انسان نے آنکھ کھو لی ہے، درخت اس کی بنیادی ضرو یات میں شا مل رہے ہیں۔انسان کی یہ بڑی بھول ہے کہ ہم ہر چیز کے مالک ہیں، یہ صفت صرف خالق کائنات کی ہے۔ *اَ للَّہُ خَا لِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ وّ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ*( القرآن،سورہ39،آیت62) تر جمہ: اللہ ہر چیز کا پیدا کر نے والا ہے، اور وہ ہر چیز کا مختار ہے۔
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق و مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے آسما نوں زمین کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جو اس کی ملکیت کا انکار کرتا ہے اور اپنا قبضہ جماکر کسی چیز کو بے دریغ استعمال کرتا ہے وہی نقصان اور گھا ٹا اٹھا تا ہے۔درختوں کو پیدا فر مانے کی بہت سی ضرورت و حکمت قرآن مجید میں مطا لعہ فر مائیں۔تر جمہ: وہ کون ہے جس نے آ سمانوں اور ز مینوں کو پیدا فر مایا اور تمھا رے لیے آسمانی فضا سے پانی اتا را، پھر ہم نے اس پانی سے تازہ اور خوشنما باغات اگا ئے؟ تمھارے لیے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغات کے درخت اگا سکتے۔ کیا اللہ کے ساتھ کو ئی(اور بھی) معبود ہے؟ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو( راہ حق سے)پرے ہٹ رہے ہیں۔( القرآن، سورہ نمل27،آیت60) کل کائنات کو پیدا کر نے والا سب کو روزی دینے والا تمام جہان کی تد بیر کر نے والا، صرف اللہ تعا لیٰ ہے، کھیتیاں، باغات، پھل ،پھول، دریا ،سمندر،حیوانات،خشکی،تری کے تمام جاندار اللہ نے پیدا کئے۔آسما نوں سے پانی برسا کر اپنی مخلوق کو روزی دینے کا ذریعہ کھیتیاں ،باغات سب وہی اگاتا ہے جو خو بصورت منظر ہونے کے علا وہ بہت کار آمداور مفید ہوتے ہیں خوش ذائقہ ہو نے کے ساتھ زندگی کو قا ئم رکھنے والے ہیں۔ انسانوں اور دوسری مخلوق کی روزی اور زندگی کی دوسری ضرو ریات کے لیے خالق کائنات نے کھیتاں باغات پیدا فرمائے۔ لیکن انسان ایسا جا ہل اور ظا لم ہے کہ اپنی بر باد ی کا سامان خود کر رہا ہے ۔ قرآن کریم نے انسان کی اس فطرت کا ذکر کیا ہے۔سورہ احزاب آیت 72، بیشک انسان اپنی جان پر بڑی زیا دتی کر نے والا ہے۔ بے تحا شہ جنگلوں کی کٹا ئی نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ اللہ کی دوسری مخلوق کے لیے پریشانی باعث ہے۔
*شجر کاری کے فوائد:
قرآن کریم نے شجر کاری کےساتھ معیشت اور خوش حالی کے گہرے تعلق کاذکر بڑے خوبصورت لفظوں میں کیا ہے۔حسن فطرت کی رعنا ئیاں، دلکش منا ظر جس سے آنکھوں کو ٹھنڈ ک اور دل ودماغ کو قوت ملتی ہے، باغات کا ذکر فر ما کر قرآن نے پیڑ پو دوں کی اہمیت بتائی۔روئے زمین پرجا بجا پھیلے پیڑ پودے بنی نوع انسان کے لیے قدرت کا انمول تحفہ ہیں۔درخت نہ صرف سایہ دیتے ہیں بلکہ ماحو لیاتی آلود گی کو کم کرتے ہیں، سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا تے ہیں،زمین کے کٹا ئو کو روکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کسی بھی ملک کی آبادی اور رقبے کے لحاظ سے کم ازکم 25 فیصدجنگلات کا ہو نا بہت ضروری ہے ور نہ ماحول کی آلود گی انسانوں کے لیے بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے۔بد قسمتی سے ہما رے ملک ہندوستان میں جنگلوں کی کٹائی بہت ہو رہی ہے،اور جنگل مافیا ویرپن سے لیکرآج تک سینکڑوں ویرپن جنگلوں کو ویران بنا رہے ہیں اور اس بہتی گنگا میں نیچے سے لیکر اوپرتک سب رین کوٹ پہن کر نہا رہے ہیں کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔انسان اپنے تعیش کے لیے قدرتی نظام کو بر باد کررہا ہے یہ بہت بڑی بھول ہے، نظام الٰہی نے خود انسانوں کوآرام پہچانے کا بندو بست کردیا ہے جس کا کو ئی نعم ا لبدل نہیں-
درخت جس رفتار سے کاٹے جارہے ہیں اس کے نتا ئج میں آج فضا میں آکسیجن کم اور کار بن ڈائی آکسائیڈ (CARBON DIOXIDE) زیا دہ ہور ہی ہے،قدرت کا اعلیٰ نظام دیکھئے درخت کار بن ڈا ئی آکسائیڈ بطور خو راک استعمال کرتے ہیں اگر درخت کاٹ دیئے جائیں تو ظاہر ہے کہ فضا میں اس کی مقدار زیادہ ہو جائے گی اور گلوبل وار منگ یعنی زمینی تپش میں اضا فہ ہوجائے گااور اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔آکسیجن پیدا کر نے کے لیے قا بل ذکرکوئی ٹکنا لوجی مو جود نہیں ہے۔ اور جو قدرتی آکسیجن مو جود ہے جس کی ضرورت سب کو ہے،اسی کو بچانے کے لیے قابل قدر کوئی کام نہیں ہے بہت لمحہ فکریہ ہے عوام حکو مت پر نظریں لگائے ہو ئے ہیں حکو متوں کا حال سب کو معلوم ہے بھینس کے آ گے بین بجائے، بھینس کھڑ ی پگور ائے و الی مثال ہے۔درختوں سے انسانوں کو بے شمار فوائد ہیں زندگی سے لیکر معاشی فوائد بھی ہیں، معاشی فوائد میں درختوں سے حاصل ہونے والی لکڑی انسا نوں کو قدم قدم پر کام آتی ہے، فر نیچر بنا نے سے لیکر، جلانے کے کا م آتی ہے ، یہاں تک کہ بعد مرنے کے قبر کے استعمال میں بھی لکڑی کام آتی ہے۔ درختوں کی شاخیں پتے جانوروں کی خوراک کے کام آتے ہیں، سوکھے پتوں سے کھاد بنتی ہے، پھلوں سے لیکر پھو لوں، بچوں کے کھیلنے کے لیے سایہ دار جگہ کی ضرورت کے لیے درختوں کی ضرورت پڑ تی ہے، درختوں سے طرح طرح کی لکڑیاں ملتی ہیں جو مختلف کاموںمیں کام آتی ہیں درختوں سے ہمیں شہد، پھل،، روغنیات،اور دوائوں کے لیے جڑی بو ٹیاں اور مختلف قسم کے ریشے، لاکھ، گوند، گندہ بروزہ،ابریشم، کاغذ بنا نا کرنسی نوٹ( رو پیے) بھی انھیں درختوں کی دین ہیں،شدید دھوپ میں انسا نوں ،جانوروں کو سایہ انھیں درختوں سے نصیب ہو تا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ہر معاشرے میں درختوں کی بہت قدرو قیمت اور ضرورت ہوتی ہے۔
*نبوی تعلیمات:
احا دیث طیبہ میں بھی پیڑپو دوں کی اہمیت کو بتایا گیا ہے ۔آقا ﷺ نے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے اور دوران جنگ میں بھی پھل دار اور سایہ دار درختوں کو کاٹنے سے سخت منع فر مایا ہے۔ہم اور آپ زرا( تھوڑا) غور کریں کہ ہم کس در جہ میں ہیں۔شجر کاری کر نے وا لوں سے اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے،رحمت عا لم ﷺ نے فر مایا: کہ مسلمان کوئی درخت لگا ئے یا کھیتی لگا ئے اور اس میں سے انسان، درندہ، پرندہ یا چو پا یا کھائے تو وہ اس کے لیے صد قہ ہو جاتاے۔( مسلم ) اس حدیث پاک سے شجر کاری کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے اور یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ شجر کاری میں بہت خیر ہے،ایک اور حدیث پاک میں اس طرح سے ہے آپ ﷺ فر ماتے ہیں جس کے پاس زمین ہو اسے اس ز مین میں کاشتکاری کر نی چا ہیے،اگر وہ خود کا شت نہ کر سکتا ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے دے،تاکہ وہ کاشت کاری کرے۔( مسلم ،حدیث:1536)
*اللہ تعالیٰ کی نعمتیں:
اللہ نے اپنے بندوںکو بے شمار نعمتوں سے نوازہ ہے ،اعلان الٰہی ہے۔(القرآن،سورہ14،آیت34) تر جمہ:اور اللہ نے تمھیں ہر وہ چیز عطا فر مادی جو تم نے اس سے مانگی،اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کر نا چاہو(تو) پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان بڑا ہی ظالم بڑا ہی نا شکر گزارہے،راحت وآرام والی نعمتوں کا اظہار بطور خاص فر مارہاہے اور یادد لا رہاہے۔سبھی جانتے ہیںدرختوں سے ہی سایہ نصیب ہو تا ہے اور فرحت بخش ہوا نصیب ہو تی ہے،ایک مقام پر زیتون کے درخت کے فوائد کا ذکر قرآن کریم اس طرح فر مارہا ہے۔وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِسَیْنَآ ئَ تَنْبُتُ بِا لدُّہْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰ کِلِیْنَ ۔(القرآن،سورہ مومنون23،آیت20) تر جمہ:اور (پیداکیا) وہ درخت جو طور سینا پہاڑپر نکلتا ہے جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن ہے۔ زیتون کے درخت کو مبا رک درخت قرار دیا گیا، سورہ نور آیت 35۔اسلام کی پاکیزہ تعلیمات میں شجر کاری کے بہت فوائدو اہمیت بتا ئی گئی ہے۔
*گلو بل وار منگ کے نقصانات:
مو جودہ حالات میں ماحو لیات کی آلود گی سے سینکڑوں پریشانیاں لاحق ہیں خطر ناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں کینسر، ہیپا ٹا ئٹس،ٹی بی، کھانسی،اور سانس کی بہت سی موذی بیماریاں پھیل رہی ہیںآلودگی کی وجوہات میں سے انڈ سٹر یوں سے زہریلا دھواں اور پانی کا نکلنا، بے تحاشا جنگلات کی کٹائی سے جنگلات کی کمی اور پلاسٹک بیگیز کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔گلوبل وار منگ یعنی عالمی درجہ حرارت میں اضا فہ موجو دہ دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے اس کے بہت سے نقصانات ہیں۔
*زمینی تپش کے نقصانات:
زمینی حرارت(گرمی) زیادہ ہونے کے باعث بر فانی تودے اور گلیشیرز بھی تیزی سے پگھل رہے ہیںاور سب سے بڑا خطرہ اوزون لیئر (O Zone Layer)کو خطرہ بڑھتے جارہاہے،اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے فضا میں ایک گیس پیدا کیاہے۔جو زمین سے دس کیلو میٹر کی اونچائی سے شروع ہو کر پچاس کیلو میٹر تک جو حصہ ہے اس میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ایک باریک سبز رنگ کی گیس ہے جسے اوزون تہہ یا لیئر کہتے ہیں یہی تہہ ہے،جو زمین کو سورج کی خطر ناک زہریلی شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہے، ماحولیاتی آلود گی میں بڑھتے ہوئے اضافے سے اوزون پرت کو بہت نقصان پہنچا ہے اس سے بھی بہت بیماریاں بڑھ رہی ہیں خاص کر جلدی بیماریاں،اسی وجہ کر سخت گر می بڑھ رہی ہے جس سے ان گنت مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اللہ رب ا لعزت نے اس کرہ ارض میں کوئی ایسی چیز نہیں پیدا فر مائی جو انسانوں وتما م مخلوق کے فائدے و فلاح کے لیے نہ ہو، لیکن اس کے باوجود انسان رب کے بنائے ہوئے قوانین اور طریقوں میں تبدیلی کا مر تکب ہو رہا ہے جس کے چلتے موسم میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور انسانوں کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ گذشتہ چند برسو ں میں سیلابوں کی وجہ کر دنیا کا برا حال رہاہے ہندوستان، نیپال، بنگلہ دیش، پا کستان،جاپان، امریکہ، ابھی حال ہی میں امریکہ میں شدید طوفان وبارش سے سیلاب نے زبر دست تباہی مچائی تھی اور جاپان میں بھی،خود کر دہ را علاج/ علاجے نیست ۔خود کے کئے کا کوئی علاج نہیں-
*حکیمانہ نظام:
رب کائنات نے اس عظیم کائنات میں ہر چیز کو ایک خاص نظام وتر تیب کے تحت بنایا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(القرآن،سورہ انبیاء21،آیت16)تر جمہ: اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر(بے کار) نہیں بنایا۔ اگر نظام الٰہی میں بگاڑ پیدا کر نے کی کو شش کی گئی تو اس سے خود ہمیں اور ہمارے ماحول کو نقصان ہوگا،اور ہم دیکھ رہے ہیں بلکہ بھوگ بھی رہے ہیں، ارشاد الٰہی ہے کہ۔تر جمہ:اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ زمین پر فساد مت پھیلائو،تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اصلاح کر تے ہیں۔ اور جو لوگ فساد پھیلانے وا لے ہیں ایسے لو گوں پر خدا کی لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔(القرآن)اسلام کی پا کیزہ تعلیم انسا ن و کو دین ودنیا کا سکون دیتی ہے اور دین ودنیا کی کامیابی کی بھی ضامن ہے –
*ذمہ داری:
اسلام صفائی وستھرائی کا حکم دیتا ہے تاکہ ماحول آلودہ نہ ہو اور آب و (پانی) ہوا خراب نہ ہو تاکہ انسان صحت مند و تندرست رہے، تندرست مو من اللہ کو پسند ہے۔(حدیث)گلو بل وار منگ سے جو زمینی گر می بڑھ رہی ہے اس سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ہم سب کوچا ہیے اس پر غور کریں ہر انسان کم از کم پانچ درخت لگائے،ہر انسان اپنے حصے کا کام کرے دوسرے پر انحصار نہ کرے،اپنے لیے اوراپنے آنے والے نو نہالوں(نسلوں) کے لیے کچھ تو کریں پرانے پیڑکی کٹا ئی سے حتی الا مکان پر ہیز کریں۔دنیا میں کئی ایسی چیزیںہیں جن کی وجہ سے دنیا قا ئم ہے ان میں سے شجر کا ری بھی ہے۔شجر کاری ہر دور کے انسان کے لیے اہم رہی ہے اور موجودہ دور میں تو اس کی اہمیت ہزاروں گنا بڑھ گئی ہے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگا ئے جا ئیں۔ ان کی دیکھ بھال کی جائے اورآنے والی نسل کو بھی شجر کاری کے فوائد اور اہمیت سے واقف کرایا جائے۔
رابطہ:hhmhashim786@gmail.com
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
