تازہ ترین
جنوبی کشمیر خونین جھڑپیں : مکمل رپورٹ
خبراردو:
بڈورہ جھڑپ کے 24گھنٹوں بعد ہی فوج و فورسز نے واگہامہ مرہامہ میں جنگجو مخالف آپریشن عمل میں لاکر یہاں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا جس دوران یہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے فورسز پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں لیت پورہ خود کش حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کا مالک جو جیش محمد نامی جنگجو تنظیم کے ساتھ وابستہ تھا، ساتھی سمیت جاں بحق ہوا جبکہ جنگجوﺅں کی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 2دیگر گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئے۔ اس دوران فورسز نے جائے جھڑپ سے مارے گئے جنگجوﺅں کی تحویل سے قابل اعتراض مواد کے ساتھ ساتھ اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیا۔ انتظامیہ نے ضلع بھر میں امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ادھر جھڑپ میں مارے گئے جنگجووئں کی لاشوں کو طبی و قانونی لوازمات کے بعدہی لواحقین کے حوالے کیا جس کے بعد انہیں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا۔
بڈورہ اننت ناگ جھڑپ کے 24گھنٹوں کے بعد ہی واگہامہ مرہامہ علاقے میں فوج اور جنگجوﺅں کے بیچ خونریز معرکہ آرائی ہوئی جس کے نتیجے میں جیش محمد کے 2جنگجوﺅں سمیت ایک فوجی اہلکار از جان ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق فوج کی 3آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد بجبہاڑہ اننت ناگ کے واگہامہ علاقے کو منگلوار کی علی الصبح محاصرے میں لے لیا جس کے بعد فورسز کی تلاشی پارٹی نے یہاں گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز کواطلاع ملی تھی کہ گاﺅں میں 2سے 3جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جو فورسز کو کافی عرصے سے مطلوب تھے۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے واگہامہ مرہامہ علاقے کوآنے اور جانے والے تمام راستوں کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لیتے ہوئے یہاں جگہ جگہ فورسز اہلکاروں کو تعینات کردیا۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ منگلوار کی صبح فورسز کے چاک و چوبند دستوں نے واگہامہ مرہامہ بستی کا محاصرہ کرنے کے بعد یہاں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے اس دوران رہائشی مکانات کی باریک بینی سے تلاشی لینے کےساتھ ساتھ یہاں موجود افراد خانہ سے پوچھ تاچھ کی۔ ادھر پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ فورسز اہلکاروں نے جونہی بستی کے اندر داخل ہوکر یہاں تلاشی کارروائی شروع کی تو اسی اثنا میں یہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی جس کا فورسز پارٹی نے بھی بھرپور جواب دیا۔
انہوں نے بتایا کہ بستی میں طرفین کے درمیان گولیوں کی گن گرج شروع ہونے کے ساتھ ہی یہاں فورسز کی بھاری کمک کو طلب کیا گیا تاکہ فرار کے تمام ممکنہ راستوںپر کڑے پہرے بٹھائے جائیں۔ معلوم ہوا کہ فورسز نے گاﺅں میں جگہ جگہ موبائل بنکروں کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی بڑے حادثے کو ٹالنے کی خاطر جائے جھڑپ کی جانب جانے والے راستوں پر خار دار تاریں نصب کیں۔ اس دوران فورسز اہلکاروں نے یہاں جنگجوﺅں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے شدید فائرنگ کی جس کے بعد یہاں تلاشی کارروائی عمل میں لانے کے بعد 2جنگجوﺅں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق جائے جھڑپ پر 2جنگجوﺅں کی نعشیں برآمد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جنگجوﺅں کا تعلق جیش محمد نامی تنظیم سے ہے جن کی تحویل سے قابل اعتراض مواد اور اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا گیا۔ پولیس ترجمان کے بقول طرفین کی فائرنگ کے نتیجے میں فوج کا ایک اہلکار انیل جسوال بھی ہلاک ہوا جبکہ مزید 2فوجی اہلکا ر گولیاں لگنے کے نتیجے میں فوجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ہوئے اہلکاروں کو سرینگر کے بادامی باغ فوجی ہسپتال منتقل کردیا گیا تاہم یہاں انیل جسوال نامی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ پولیس نے بتایا کہ جھڑپ میں دیگر زخمی اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
پولیس ترجمان نے جھڑپ میں مارئے گئے جنگجوﺅں میں سے ایک کی شناخت سجاد احمد بٹ عرف افضل گورو ولد محمد مقبول بٹ ساکن مرہامہ سنگم اننت ناگ اور توصیف احمد بٹ ساکن مرہامہ بجبہاڑہ کے بطور کی ہے ۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سجاد احمد نامی جنگجو کا تعلق جیش محمدسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14فروری 2019کو لیت پورہ اونتی پورہ میں سی آر پی ایف کانوائے پر جنگجوﺅں کی طرف سے فدائین حملے میں جو گاڑی استعمال کی گئی اُس کا مالک سجاد احمد ہی تھا جنہوں نے حملے سے قبل چند روز ہی جیش محمد کے فدائین اسکوارڑ میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔پولیس نے جاری اپنے بیان میں کہا کہ لیت پورہ حملے میں استعمال کی گئی گاڑی کا مالک سجاد احمد اپنے ساتھی سمیت واگہامہ جھڑپ میں مارا گیا۔انہوں نے بتایا جھڑپ میں مارے گئے دوسرے جنگجو کو سجاد احمد ساکن مرہامہ نے ہی شامل کروایا تھا۔پولیس کے بقول مارے گئے جنگجو پولیس کو کافی عرصے سے مطلوب تھے جو پولیس، سی آر پی ایف، سیکورٹی تنصیبات اور عام شہریوں پر حملوں اور زیادتیوں میں ملوث تھے۔انہوں نے کہا کہ جھڑپ میں مارا گیا جنگجو سجاد احمد پولیس کو لیت پورہ حملے میں مطلوب تھا جس میں سی آر پی ایف کے 40اہلکار موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ لیت پورہ حملے کی تحقیقات کے دوران کاس بات کا خلاصہ ہوا کہ حملے میں جو ماروتی ایکو گاڑی بارود سے بھری استعمال کی گئی تھی ، کا مالک سجاد احمد ساکن مرہامہ تھا۔ تحقیقات کے دوران جونہی سجاد کا نام سامنے آگیا اور اس کی اطلاع میڈیا میں شائع کی گئی تو سجادعین اُسی وقت انڈر گراﺅنڈ ہوگیا اور اس طرح انہوں نے جیش محمد نامی جنگجو تنظیم میں شمولیٹ اختیار کرلی۔
پولیس کے بقول سجاد کی اے کے 47رائفل سمیت تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس پر یہ تحریر درج تھی کہ انہوں نے جیش میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔انہوںنے بتایا کہ جھڑپ میں مار اگیا دوسرا جنگجو توصیف احمد ساکن مرہامہ نے سجاد کو جنگجوﺅں کی صف میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔دونوں جنگجو اُس گروپ سے منسلک تھے جو پولیس، سی آر پی ایف، آرمی، سیکورٹی تنصیبات اور عام شہریوں پر حملوں میں زیادتوں میں ملوث تھے۔ مارے گئے دونوں جنگجوﺅں کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں جن میںایف آئی آر نمبر 16/2018 اور 28/2019 شامل ہیں جو لیت پورہ حملے سے متعلق ہیں۔ ادھرفورسز کی جانب سے محاصرہ عمل میں لائے جانے کے بعد انتظامیہ نے ضلع بھر میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کےلئے موبائل انٹرنیٹ سروس کو منقطع کردیا ہے۔ معلوم ہوا کہ منگلوار کی صبح ضلع کے حدود میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا گیا۔ ادھر جاں بحق جنگجوﺅں کی یاد میں ضلع کے مختلف علاقوں میں مکمل ہڑتال سے معمولات کی زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی جس دوران یہاں تجارتی، کاروباری، نجی اور غیر سرکاری سرگرمیاں مانند پڑگئیں۔
عینی شاہدین کے بقول ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ادھر جھڑپ میں مارے گئے جنگجوﺅں کو پولیس نے طبی و قانونی لوازمات کی ادائیگی کے بعد ہی لواحقین کے حوالے کردیا جس کے بعد انہیں آبادئی علاقوں میں پہنچاکر یہاں لوگوں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں سپرد لحد کیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ واگہامہ جھڑپ میں جارے گئے دونوں جنگجوﺅں کو جوہی آبائی علاقوں کو پہنچایا گیا تو یہاں مرد و خواتین کےساتھ ساتھ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کےخلاف جم کر نعرے بازی کی۔ اس موقعے پرلوگوں کا بھاری رش دیکھتے ہوئے جاں بحق جنگجوﺅں کا کئی مرتبہ جنازہ پڑھایا گیا جس کے بعد انہیں اسلام و آزادی کے فلک شگاف نعروں کے بیچ سپرد لحد کیا گیا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
