تازہ ترین
دلوں کا بادشاہ ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ علیہ
الطاف جمیل ندوی 
میں 17 جون کے دن شدید دکھ میں بار بار کی پیڈ کھول کر بیٹھا مگر تکلیف نے ذہن خالی کر دیا پھر تکیہ پر سر ٹکا کر آنکھین موند لیں مگر کچھ دیر بعددونوں آنکھوں کے کناروں سے ڈھلکتے گرم قطروں نے مجھےا ٹھا دیاآخر ہم جیسے بیکار لوگ اس جیسے انسان کے لئے کیا لکھ سکتے ہیں پر محبت نے جذبہ کو تحریک دی تو یہ حقیر سی کوشش کی تا آنکہ مولا کریم سے یہ کہہ سکیں کہ مولا میرا دل بھی تڑپتا تھا تیرے بندوں کے مصائب و مشکلات کو سن سن کر
میرے حضور دیکھئے پھر آگیامقام غم ،کنارے نیل چھا گئی پھر ایک بار شام غم
پھر ایک حادثہ ہوا پھر ایک کارواں لٹا ،وہ اس کے پاسبان تھے یہ جن کےدرمیاں لٹا
وفا کا پیکر وہ ایک سال اپنی ملت کو آزادی سے آشنا کرنے والا وہ امت مسلمہ کے فراق میں تڑپتا ہوا اب جیل کی اذیتیں سہہ سہہ کر اپنی آزادی کو پانے کے لیے سفر آخرت کا راہی ہوگیا ہے .ہائے یہ جو سالار قافلہ تھا 17 جون کو کس طرح خاموشی سے آخرت کی منزل کا مسافر ہوگیا اس پر کیا بیتی ہوگئی کال کوٹھڑی میں یہ اس کا مولا ہی جانتا ہے یا یہ اسی کو خبر ہوگئی پر اس کے اہل خانہ کہہ رہے ہیں پانچ سال کے عرصے میں ہم نے صرف تین بار ہی اسے دیکھا اس سے بات کی ویسے ایسا تو کسی خطرناک قاتل سے بھی سلوک نہیں کیا جاتا پر کیا کہئے یہ تو وہ مصر ہے جہاں کی تاریخ کی ایسی رہی ہے یہاں ہمیشہ حق و باطل کا تصادم رہا ہے قدیم زمانے سے تا این دم جو اب بھی جاری و ساری ہے پر قدیم تاریخ سے ہم واقف ہی ہیں کہ کیا کیا ہوتا رہا کیسے مظالم کی داستانین اس سرزمین سے وابستہ ہیں کیوں کہ ہم صاحبان علم و دانش ہیں تھوڑے ہی نہیں جانتے پر جس کی اب شھادت ہوئی اس کو نہیں جانتے اس کی تحریکی فکر سے واقف نہیں یہ جیالوں سرفروشوں کی ایک داستان الم ہے ان کے گناہ گننے سے ہم گن ہی نہیں سکتے .
پہلی خطا جو اس تحریک کے متوالوں نے کی وہ غیروں کے تسلط کے خلاف ان کا آواز بلند کرنا تھی کہ ہماری سرزمین اسلام کی آبیاری کے لئے ہے پر یہاں کسی اور کی اجارہ داری ہو یہ گوارہ نہیں اس کے لئے سب سے زیادہ قوی آواز حسن البناء شھید نے اٹھائی اور برطانوی سامراج کو اپنے ملک سے نکلنے کے لئے رات دن مگن رہے وہ چلے گئے اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھی یہی سرفروش میدان عمل میں آئے اپنی حکومت سے وفا کی اور اپنے ملک کی حفاظت کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادی فتح نے قدم چومے بہار عرب میں بھی اس قافلے سخت جان نے کوشش کی تو اسلامیان مصر کو منزل ملی یہ اپنے کرب کے بجائے اپنی ملت و قوم کے لئے ہر ستم کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے رہے پورے مصر کی تاریخ اٹھا کر دیکھا جائے تو اس قافلہ نے صرف یہی نہیں کہ ملائیت کو فروغ دیا بلکہ یہ ہر شعبہ میں چلتے رہے وہ میدان عمل ہو کہ میدان کارزار ڈاکٹر انجینر پروفیسر اس قافلہ نے تیار کئے مفسر علماء کی ایک ایسی جماعت تیار کی جو پوری دنیا میں عزت و احترام سے دیکھئے جانے لگئے پر وہاں جو باطل کے بچاری تھے انہیں ان کا اخلاص ذرا بھی راس نہ آیا ہمیشہ ان کی قربانیوں کا صلہ دیا کہ جسے پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے اول اس کے قائد کو اس حال میں شھید کیا کہ وہ اپنے گھر جارہے تھے کہ اچانک کچھ لوگوں نے ان پر ہاتھ صاف کردیا جس کے لئے حکومت نے کام کیا کیونکہ اسی لئے قائد اول حسن البناء شھید کی تجہیز و تدفین کے لئے کسی کو اجازت نہ ملی صرف گھر کے افراد نے تجہیز و تدفین کی خواتین نے کاندھا دے کر اس قوم و ملت کے بہی خواہ کو آخری آرام گاہ تک پہنچایا بس یہیں نہیں ہوا سید قطب شہید مفسر القرآن کو پھانسی گھاٹ پر لا کھڑا کیا جرم بے گناہی میں جن کے اقوال و افکار سے ہزار اختلاف کے باوجود ان کی استقامت ان کا اسلام پر قربان ہونے سے انکار ممکن نہیں جو آخری سانس تک ایسے ثابت قدم رہے حق پر کہ میدان حق کے اس قافلے کا جومر بن گئے اس کے کارکنان پر کیا ستم بیتے ان متوالوں نے وہ سپرد قلم کردیا پڑھ پانا جس کا دل گردے کا کام ہے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ان کی آب بیتیاں پڑھ کر یا سن کر کہ یہ قافلہ کس قدر غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتا ہے انہیں جیل کی کال کوٹھڑیوں میں کتوں کے ذریعہ نوچنے کے لئے کھڑا کیا گیا انہیں الٹا لٹکا کر پیٹا گیا آپا زینب الغزالی کہتی ہیں مجھے اتنا پیٹا گیا کہ میں بیہوشی ہوگئی میرے لباس کی چیر پھاڑ کی گئی میرے انگ انگ سے زخم رستے رہے پر یہ مسافران منزل انتہائی عزیمت کے ساتھ باوقار کھڑے رہے ان کی داستان الم پڑھ کر کوئی بھی دل پھٹنے کو آتا گیا صرف جو شقی القلب ہو وہ کیا جانے انسانیت کا کرب کیا ہوتا ہے خیر چھوڑے سابقہ کرب کو اب بھی کوئی سکون نہیں.
یہ نئے مصائب تب شروع ہوئے جب عرب انقلاب کے بعد محمد مرسی بحیثیت صدر حلف اٹھانے کے بعد اسلام کی آبیاری کے لئے کھڑے ہونے لگئے کچھ یادیں جو یاد ہوں تو تازہ کریں
1. القران دستورنا۔ والرسول زعیمنا۔ والجھاد سبیلنا ۔والموت فی سبیل اللہ امانینا اپنے حلف اٹھانے کے وقت کہتے رہے اور لوگوں کی کثیر تعداد میں ان سے بھی کہلوایا
2. عرب بہار کی ٹھنڈی ہوا جب شام میں بلند ہوئی تو وہاں پر حکومت نے اس میں شامل ہوئے لوگوں کو کچلنے کا من بنا لیا مظالم دیکھ کر ڈاکٹر محمد مرسی کہہ اٹھے لبیک یا سیریا لبیک یا سیریا لبیک
3. غزہ پٹی میں مصائب کے شکار امت مسلمہ کے لئے اپنی سرحد کھول دیں اور ان کے درد کے لئے تڑپ اٹھے ان کی مدد کی ٹھان لی
4. اقوم متحدہ کے اجلاس میں ڈاکٹر محمد مرسی کا خطاب مصر کے آئینی طور پر منتحب قانونی صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا خطاب کہ محمدﷺ ۔۔۔ ( اگر کوئی نبی کریمﷺ کے خاکے بنائے گا احترام نہیں کرے گا تو اس کا بھی نہیں کیا جائے گا اسکے گھر تک پیچھا کیا جائے گا.
اب سازشیں شروع ہوئیں اس کے تانے بانے تیار کئے جانے لگئے ڈاکٹر محمد مرسی نے نیک نیتی کی بناء پر ڈکٹیٹر سیسی کو چیف بنا کر اپنی نیک نیتی کا مظاہرہ کیا المختصر یہی ان کے لئے سوہان روح بن گیا ایک سالہ مختصر عرصہ میں سازشیں کامیاب ہوگئیں اور فوج نے منتخب صدر محمد مرسی کو اقتدار سے بے دخل کرکے قید کردیا اب وہ ذلت و رسوائی کا دور شروع ہوا جس کی مثال صرف چنگیزی بربادی کے زمانے میں میسر ہے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اخوان المسلمون کے قائدین و کارکنان کو تختہ مشق بنانے کے لئے اٹھایا جانے لگا ماہ رمضان المبارک کے مبارک ایام میں اخوان المسلمون کی اپیل پر عوام نے رابعہ میدان میں ڈھیرےجمائے اور انتہائی وقار کے ساتھ اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جن کے ہاتھوں میں قرآن مجید کے نسخے تھے یہ دنیا کا ایک ایسا احتجاج تھا جہاں بجائے نعرے بازی کے صرف تلاوت قرآن اور نماز کا سہارا لیا گیا پھر پوری دنیا نے ڈکٹیٹر جنرل سیسی کی حیوانیت کا ننگا ناچ دیکھ لیا جب یہاں ان نہتے معصوم لوگوں پر فوج چڑھ دوڑی ان پر ایسا شدید تشدد کیا گیا کہ میڈیا کے افراد اس خبر کو نشر کرتے ہوئے روتے بلکتے دنیا نے دیکھئے ہاتھ کم پڑھ گئے تو بلڈوزر چڑھائے گئے پر یہ قافلہ سخت جان کے مسافر ڈٹے رہے جب تک زندگی کی سانسوں نے ساتھ دیا اس کرب کے بعد وہ ظالمانہ وطیرہ اختیار کیا گیا کہ انسانیت شرم سار ہوگئی اخوان المسلمون پر مختلف حربے استعمال کئے گئے کہ یہ اپنے آئینی موقف سے دستبردار ہو جائیں پر انہوں نے دستبردار ہونا سیکھا ہی نہ تھا نتیجہ پھانسی گھاٹ جیل تشدد پر یہ قافلہ کھڑا رہا ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ پر الزامت لگا کر ان پر مقدمہ دائر ہوا پانچ سالہ عرصہ تک انتہائی ہمت و عظیمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ اپنے موقف کا دفاع کرتے رہے جہاں ان پر مصائب و مشکلات کا دور انتہائی کٹھن اور صبر آزما تھا اپنوں سے ملنے نہ دیا گیا انہوں نے جیل کے حکام سے قرآن مجید کا نسخہ مانگا جب نہ ملا تو فرمایا میں تو حافظ قرآن ہوں بس میں اس مصحف مبارک کو چھونا چاہتا تھا .
بی بی سی کی تازہ رپورٹ کے مطابق ان کی بیماری کا علاج تو دور انہیں دوائی تک سے محروم رکھا گیا جس کا محمد مرسی نے اپنے دور اسیری کے دوران عدالت میں اظہار بھی کیا پر ستم گر نے قسم کھا رکھی تھی کہ اسے اس حد تک پہنچانا ہے جہاں لگئے کہ یہ اپنی موت مر گئے ہیں پوری دنیا میں سکتے سی کیفیت تب پیدا ہوئی جب یہ خبر عام ہوئی کہ دوران سماعت ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ کا انتقال ہوا یقینا یہ اس ظلم و ستم کے سودا گر کے لئے دنیا میں باعث فخر و مسرت ہے پر وہ کیا جانے کہ دنیا کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے جب حربے اس نے استعمال کئے تو ڈاکٹر محمد مرسی رحمہ اللہ نے سہرگاہی میں اسی مولا کے حضور اپنا تعلق بنائے رکھا جس مولا کی رضا کے لئے ان پر یہ ستم ڈھائے جارہے تھے تو مولا نے اس بندہ مومن کی لاج رکھ لی اور دنیا کی عدالت سے اٹھا کر اس پر ستم کرنے والوں کا مقدمہ انصاف کی اعلی عدالت آخرت میں پہنچا دیا گرچہ وقتی طور پر اس ظلم و ستم کے سوداگر نے اطمنان کا سانس لیا ہوگا پر وہ کیا جانے کہ کامیابی کا مزہ کا ہوتا ہے اور اخروی رسوائی کتنی سخت ہے اب وہ سلسلہ شروع ہوا کہ جو دلوں کو تباہ کرے اس ظالم و جابر کو محمد مرسی رحمہ اللہ کی میت سے خوف آنے لگا اس نے اسے غم نامی سے دفن کرنے کے لئے صرف اہل خانہ اور اس کے وکیل کو تجہیز و تدفین کے عمل میں شریک ہونے کی اجازت دی پر باوقار بیوی نے یہ کہہ کر اس کا منہ چڑھایا کہ میں میت کو ظالم سے مانگ کر اپنے عظیم شھید شوہر کی توہین نہ کروں گی لئے جگر نے یہ کہہ کر دلون کو تڑپا دیا کہ أبي عند الله نلتقي ابا اللہ کے پاس ملیں گے کوئی جذباتیت کا مظاہرہ نہیں استقلال کا وہ طریقہ کہ دشمن بھی داد دے پر کیا کرے ان ستم گروں کا جو عاقل ہوکر سمجھنے کو آمادہ ہی نہیں یہ اس تربیت کا شاخسانہ ہے جس کا استاد کہتا ہے کمرہ عدالت میں جب کہتا ہے کہ میں 60ﮐﯽ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﮞ، ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ مرشد انتہائی استقلال سے کہتا ہے کہ ﻣﯿﮟ 60 ﮐﯽ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﭩﮩﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻇﻠﻢ ﮐﯿﺎﮨﮯ یہی اول اولعزمی جس نے محمد مرسی رحمہ اللہ سے کہلوایا آخری لمحات میں جج صاحب مجھے کچھ بولنے کی اجازت دیں، مجھے قتل کیا جا رہا ہے، میری صحت بہت خراب ہے، ایک ہفتے کے دوران میں دو دفعہ بے ہوش ہوا، لیکن مجھے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جایا گیا۔ میرے سینے میں راز ہیں، جنہیں اگر ظاہر کروں، میں جیل سے تو چھوٹ جاؤں گا، لیکن میرے وطن میں ایک طوفان آئے گا، ملک کو نقصان سے بچانے کیلئے میں ان رازوں سے پردہ نہیں ہٹا رہا۔ میرے وکیل کو مقدمہ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں اور نہ مجھے پتہ ہے کہ عدالت میں کیا چل رہا ہے۔‘‘ (اے پی)
20 سیکنڈ کی اس گفتگو پر غور کیجئے کہ اک ستم رسیدہ شخص اپنی قوم و ملت سے کس درجہ والہانہ محبت کرتا ہے
اپنی قوم و ملت سے کہتا ہے کون اِس قوم کو سمجھائے:اپنے شیروں کو مت مارو، کہیں ایسا نہ ہو تم اپنے دشمن کے کُتوں کے نرغے میں آ جاؤ
دلوں_کا_حکمران شہید حافظ محمد مرسی
مسجد اقصیٰ میں ہوا جنازہ اور اس میں شامل امت مسلمہ کے لوگوں کی سسکیاں امیر قطر کی ہچکیاں عالم اسلام کی غیور علمی و ادبی شخصیات کے المناک تبصرے پتہ دیتے ہیں کہ مسلم قلوب میں آپ کہاں کہاں تک جابسے تھےاور نبیؐ کی یہ امت آپ سے کیسی کیسی امیدیں باندھنے لگی تھیں زنداں سے اٹھنے والا آپ کا جنازہ گواہی دے گا کہ آپ نے اپنے فرض کی جانب کبھی پشت نہیں کی۔ میرے مظلوم دنیا تو آنی جانی ہے لیکن ظلم کی ایک وادی میں آپ کا سر اٹھا کر چلنا اِس جہان کو بڑی دیر تک یاد رہے گا۔خدا آپ کو غریق رحمت کرے
جنازہ
امت کا ایک مظلوم جسے دفن کےلیے”دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں”
(آبائی قبرستان میں دفنانے، گھر کی خواتین کو چہرہ دیکھنےاور سوائے بیٹے اور بھائی کسی کو جنازہ پڑھنےکی اجازت نہ ملی)
مگر خدا نے اِسی جہان میں اس کی تلافی یوں کروائی کہ اقصیٰ تا ملیشیا امت کی مساجد نے اس کا جنازہ پڑھا اور براعظموں نے اس کےلیے استغفار کیا
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
