تازہ ترین
سیکورٹی خامیاں ناقابل برداشت: مرکزی سرکار
خبراردو: اُوڑی ہیڈکوارٹر ، سنجونی ملٹری کیمپ اور نگروٹہ آرمی بیس کیمپ پر گزشتہ برسوں کے دوران ہوئے جنگجوانہ حملوں کے تناظر میں نئی دہلی نے فوج کی اعلیٰ کمانڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذکورہ یونٹوں کے افسران کو گھر روانہ کریں۔معلوم ہوا ہے کہ نئی دہلی سیکورٹی کے حوالے سے غفلت برتنے کی پاداش میں ایسے افسران کو گھر بھیجنے کی تیاریاں کررہی ہے۔
ہندوستان ٹائمز میں چھپی رپورٹ کے مطابق اس بات کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ نئی دہلی نے فوج کی مرکزی کمانڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اُوڑی ہیڈکوارٹر ، سنجونی ملٹری کیمپ اور نگروٹہ آرمی بیس پر گزشتہ برسوں کے دوران ہوئے حملوں کے تناظر میں متعلقہ یونٹوں کے ذمہ دار افسران کو گھر روانہ کریں۔معلوم ہوا ہے کہ مرکزی سرکار نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے افسران کو گھر روانہ کرنے کے علاوہ اُن کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ رپورٹ کے مطابق جنگجوﺅں کی طرف سے مذکورہ فوجی کیمپوں پر حملوں میں یہاں کے ذمہ دار افسران کی غفلت شعاری کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے فوج کی مرکزی کمانڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے افسران کےخلاف نہ صرف گھروں کو روانہ کیا جائے بلکہ اُن کے خلاف ضابطہ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ یونٹوں کے افسران کی غفلت شعاری کے نتیجے میں ہی جنگجو حملے کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔معلوم ہوا کہ مرکزی سرکار نے فوج کی اعلیٰ کمانڈ سے اس معاملے پر رابطہ کیا ہے اور معاملے کے حوالے سے حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ غفلت شعار فوجی افسران کےخلاف ضابطہ کے تحت کارروائی عمل میں لاکر انہیں قبل از وقت ہی اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا جائے۔رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ متعلقہ یونٹوں کے افسران جبری سبکدوشی کے بعد بھی تمام مراعات حاصل کرنے کے حقدار ہوں گے جو محکمہ دفاع کے قواعد و ضوابط میں مقرر کئے گئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ فوج کی اعلیٰ کمانڈ کو سرکار نے اس حوالے سے اعتماد میں لیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ جونہی مرکز میں نئی سرکار وجود میں آئیگی تو عین اُسی وقت متعلقہ یونٹوں کے افسران کےخلاف کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔خیال رہے مرکزی سر کار کی طرف سے اس نوعیت کا کڑا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی قومی جمہوریہ اتحاد نے دوسری مرتبہ عمومی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے حکومت تشکیل دی۔رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ شمالی کشمیر کے سرحدی علاقے اُوڑی میں قائم فوج کے برگیڈئر کیمپ پر جنگجوﺅں کی جانب سے کئے گئے حملے کی تحقیقات میںسیکورٹی خامیوں کا سنسنی خیز خلاصہ کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ فوج کو قبل از وقت ہی جنگجوﺅں کے حملے سے متعلق ٹھوس اور مصدقہ اطلاعات موصول ہوچکی تھیں تاہم پھر بھی اوڑی ہیڈکوارٹر کے ذمہ دار فوجی افسران نے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی۔اسی طرح تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نگروٹہ اور سنجونی آرمی کیمپوں پر سیکورٹی خامیوں کو حملے کی وجہ قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں اس بات کا حوالہ دیا گیا ہے کہ نگروٹہ اور سنجونی کیمپ سے وابستہ ذمہ دار افسران کو جنگجوﺅں کی طرف سے ممکنہ حملوں کی پہلے سے اطلاعات موصول ہوچکی تھیں تاہم یہاں پر بھی متعلقہ فوجی افسران نے کوئی ٹھوس کارروائی کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرلی جس کے نتیجے میں کئی فوجی اہلکاروں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی سرکار نے اس معاملے پر سخت رویہ اپناتے ہوئے فوج کی اعلیٰ قیادت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کی خامیوں پر انہیں ذمہ دارٹھہرایا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی سرکار نے دوسری مرتبہ حلف اُٹھانے کے بعد متعلقہ فوجی یونٹوں پر سرزد ہوئی کوتاہیوں اور خامیوں کو دور کرنے کی خاطر یہاںتعینات ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تاہم اندرون ذرائع نے بتایا کہ فوج کی اعلیٰ قیادت ایسے افسران کو قبل از وقت سبکدوش کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ فوج کی مرکزی قیادت نے اُوڑی ہیڈکوارٹر، سنجونی ملٹری کیمپ اور نگروٹہ آرمی بیس کیمپ کے ذمہ دار افسروں کو قبل از وقت سبکدوش کرنے سے انکار کیا ہے۔ فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ آپریشنل معاملات کے تناظر میں ایسے افسران کو قبل از وقت سبکدوش کرنا مناسب نہیں رہےگا۔ فوج کا کہنا ہے کہ کہیں پر سرد ہوچکی خامیوں کی انکوائری کی جائےگی اور اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔خیال رہے اُوڑی اور نگروٹہ بیس کیمپ پر سال 2016میں جنگجوﺅں نے دھاوا بولا تھا جبکہ سال 2018میں عسکریت پسندوں نے سنجونی کیمپ کو نشانہ بنایا جس دوران کل ملاکر یہاں ہوئے حملوں میں مجموعی طور پر 36فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
