تازہ ترین
عرس شریف حضرت سید صالح خانصاحبؒ : مذہبی تہذیبی اورتاریخی اہمیت کے پس منظر میں
مشتاق شمیم، خانصاحب بڈگام 
حضرت سید صالح خانصاحبؒ کا عرس شریف حسب روایت 17 جون سے قصبہ خانصاحب میں مذہبی عقیدت اور ثقافتی رواداری کے ساتھ منایا جارہا ہے۔اس دوران ہزاروں عقیدت مند حضرت صالح ؒ کے آستان عالیہ پر حاضری دینے اور درود و اذکار سے آراستہ مجلسوںں میں شرکت کرنے میں مشغول ہیں۔جمعہ تالمبارک کو بعد از نماز جمعہ حضرت ولی کاملؒ کے تبرکات جن میں اُن کا جامہ مبارک نعلان ِمبارک تسبیح شریف اور آپ ؒ کے دست پاک سے تحریر فرمایا گیا قرآن مجید کا قلمی نسخہ شامل ہے کی نشاندہی کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔مقامی اوقاف ٹرسٹ سے وابسطہ اراکین اورسب ضلع انتظامیہ خانصاحب زائرین کی سہولت کیلئے خاطر خواہ انتظامات دستیاب رکھنے میں اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں۔ عرس شریف کے متبرک ایام کے دوران خانصاحب ٹاون میں عارضی بازار سجائے جاتے ہیں دمبالی اور کوشتی جیسے ثقافتی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں اور بچوں کی دلجوئی کیلئے جھولے وغیرہ دستیاب رکھے جاتے ہیں۔
جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے کہ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں واقع خانصاحب نامی مشہور و معروف قصبہ مذہبی اورتاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ آبادی کے اعتبار سے قدرے چھوٹا یہ قصبہ لگ بھگ چار سو برس قبل کاترشی نامی ایک چھوٹی سی پہاڑی کے دامن میںآباد ہوا۔قصبہ ھٰذا کا نام جس قدرخوبصورت ہے یہاں کے بسکین بھی اُسی طرح سے نہایت ہی خوش اخلاق اور خوش گفتار مانے جاتے ہیں۔یہ قصبہ زمانہ قدیم سے ہی علم و ادب اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہ چکا ہے۔دینداری یہاں کی مٹی پر بود و باش کررہے خوش بختوں کو وراثت میں مل چکی ہے ۔یہاں کے مکین بڑے ہی مہمان نواز مہذب ا ور ملنسار تصور کئے جاتے ہیں۔یہ قصبہ مانو جنت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جس کوشاید کسی خدا دوست بزرگ نے اللہ پاک سے مانگ کر یہاں زمین پر بسا دیا ہے۔ شاید کیا بلکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک عالم دین اور بلند پایہ بزرگؒ سترہ ویں صدی عیسوی میں مغل دور سلطنت کے دوران اپنا وراثتی تخت و تاج چھوڑ کر پکھلی نامی راجواڑے سے یہاں تشریف لائے تھے۔مذکورہ راجواڑہ فی الوقت پاکستان کے سندھ صوبے میں واقعہ بتایا جاتا ہے۔
برف پوش پہاڑوں خار زار بیا بانوں اور گہرے خوف ناک جنگلوں کو روندتے ہوئے یہ بزرگؒ دین حق کی تشہیر اوردین اسلام کا دعوتی مشن لیکر وادی کشمیر کے اندر تشریف آور ہوگئے۔کئی برس واتل کدل سرینگر اور کئی برس کرالہ سنگری پہاڑیوں میں گزارنے کے بعد بالآخر اس عالم دین اور پابند شریعت ولی کامل ؒنے کاترشی نامی پہاڑی کے اوپر جوکہ اُس زمانے میں ایک گھنے اور گہرے جنگل کی مانند تھی ایک گنی جھاڑی کے نیچے اپنا ڈیرا سنبھال لیا۔کاترشی ڈھلوان پر اس وقت بھی کائرو کا ایک قدآور درخت موجود ہے جو اس بات کا غمازہے کہ یہ پورا علاقہ ماضی بعید میں ایک بہت ہی گھنا جنگل رہ چکا تھا جس کے اندر جنگلی جانوروں کی ایک بڑی تعداد رہائش پزیر ہوا کرتی تھی۔یہ کائرودرخت آج بھی (کوتر یار) نام سے دور دور تک مشہور و معروف ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس درخت کے سائے میں بھی یہ درویش صفت بزرگ ؒ کئی ماہ و سال گزارچکے تھے ۔جب تک یہ بزرگ ؒ اس درخت کے نیچے تشریف فرما رہے تب تک سینکڑوں کبوتر بھی اس پر اپنا بسیرا سجاکر بیٹھا کرتے تھے۔ شاید اسی لئے اس درخت کو ”کوتر یار“ نام سے لوگ پکارا کرتے تھے اور آج بھی کائرو کے اس وشال درخت کو” کوتر یار“ نام سے ہی جانا اور پکارا جاتا ہے۔جس گنی جھاڑی کے نیچے بارہ برس تک یہ خدا دوست بزرگؒ دنیاوی لذتوں اور نفسانی خواہشات سے کنارہ کش ہوکر اپنے مالک حقیقی کی بندگی ادا کرنے میں محو رہے وہ جھاڑی آج بھی اپنی جگہ پر قائم راہ چلتے لوگوں کو اُس زمانے کی پُر کیف یاد یں فخر سے یاد دلاتی رہتی ہے۔ اس جھاڑی کے اندرقبلہ رو ایک بہت بڑا پتھر جائے نماز کی شکل میں موجود تھا جس کو بد قسمتی سے چند برس قبل نامعلوم افراد نے غائب کردیا ۔یہ جائے نماز نماءپتھراس بزرگ ؒکی دین داری اور خدا پرستی کی دلیل اپنی خاموش زبان سے پیش کیا کرتا تھا۔بارہ برس کے بعد درویش کاملؒ پہاڑی سے نیچے تشریف لائے اور اسی پہاڑی کے دامن کے اندر چھوٹے چھوٹے سات کمروں پر مشتمل ایک گھپا پارنیوہ نامی گاﺅں سے تعلق رکھنے والے کمہار بھائیوں سے کھو د وا ڈالی۔ اسی گھپا کے اندر آپ ؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام اللہ پاک کی عبادت و ریاضت اور دین اسلام کی تشہیر میں گزار دئے۔یہ تاریخی گھپا اب بہت زیادہ خستہ ہوچکی ہے جس کو مرمت کرنے کی ضرورت اشد کے ساتھ محسوس کی جارہی ہے۔
کیچ رازگیر سے تعلق رکھنے والے ایک استاد ضیاوالدین اندرابی نے بیس ویں صدی کے وسط میں کافی تحقیق کے بعد ایک کتابچہ (سوانح حیات خان صاحبؒ )نام سے تصنیف کر رکھی ہوئی ہے جس میں انہوں نے اس بزرگ محترم و مکرم حستی کا اسم مبارک حضرت سید صالح خان ؒ بتایاہے ۔کتاب ھٰذا کے مطابق حضرت صالح ؒ صوم و صلواة کے پابند شریعت کے علم بردار عالم دین اور ولی کامل تھے۔آپ ؒ کو علوم قرآن اور علوم حدیث پر کافی دست و رست حاصل تھا۔آپؒ کاتب قرآن بھی تھے ۔آپ ؒ کے دست پاک سے تحریر کیا جاچکا قرآن مجید کا ایک نادرقلمی نسخہ اس وقت بھی آپ ؒ کے آستان عالیہ میںموجود ہے جس کی زیارت سے ہر برس آپؒ کے عرس پاک کے موقع پر عقیدت مندوں کو فیض یاب کیا جاتا ہے۔
مرحوم ضیاو الدین کے مطابق صالحؒ کے دور حیات میں دور دراز علاقوں سے عقیدت مند دینی تعلیم اور شرعی تربیت حاصل کرنے کی غرض سے آپ حضرت ؒسے روز ملنے آجایا کرتے تھے۔علم دین سیکھنے میں لوگوں کی بڑی دلچسپی دیکھ کر صالح ؒ ہفتے کی ہر ویروار کو اپنی گھپا کے صحن پاک میں دینی اجتماع منعقد کیا کرتے تھے۔اجتماع میں شرکت کرنے کیلئے چناچہ لوگوں کو دور دراز گاﺅں دیہات سے پیدل آنا پڑتا تھا اسلئے وہ کھانے کیلئے روٹی یا تہری ساتھ لایا کرتے تھے ۔یہ کھانا وہ خود بھی طناول کرتے تھے اور اپنے دوسرے ساتھوں کو بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ صدیوں پرانی روایت آج بھی یہاں پر برابر قائم و دائم ہے ۔ عقیدت مند آج بھی روٹیاں اور تہری وغیرہ یہاں لاتے ہیں اور صالح ؒ کے آستان عالیہ کے صحن پاک میںعقیدت مندوں اور راہ چلتے مسافروں میں تقسیم کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
صاحب کتاب کے مطابق سید صالح خان صاحبؒ کو آپ کے عقیدت مند اور مرید حضرات پیار سے خان صاب یا خانہ مول نام سے یاد کیاکرتے تھے۔علم دین کی تشہیر میں بہت زیادہ مصروف رہنے کی وجہ سے آپؒ کو نکاح کرنے کی فرصت ملی نہ ہی کبھی آپ ؒ نے نکاح کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ کتاب کے مطابق خان صاب ؒکے مریدوں اور عقیدت مندوں کی تعداد بہت بڑی تھی لیکن قلندرشاہ نامی ایک بزرگ دین دار مسلمان آپ ؒ کے مرید خاص رہے تھے جو زندگی کے آخری ایام میں خان صاحب ؒ کے ساتھ ہی رہ کر آپ ؒ کی خدمت گزاری بجا لاتے رہے۔ قلندر شاہ، صاحب نکاح بھی تھے اور صاحب اولاد بھی۔خان صابؒ کے وصال کے بعد قلندر شاہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ خان صابؒ کے مزار کے پاس ہی رہنے بسنے لگے۔اس طرح سے یہاں پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک بستی قائم ہوتی گئی۔ خان صاحب قصبے کی لگ بھگ اسی فیصد آبادی کو اسی قلندرشاہ کی اولادیں اور ذریعت تصور کیا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کے اکثر لوگوں کی ذات” شاہ “ ہے۔ خان صابؒ کے مرید اور عقیدت مند خانصاحبؒ کے وصال کے بعد بھی قلندرشاہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔وہ ایک دوسرے سے کہا کرتے تھے کہ چلو خان صابن یا خانہ مالین جائیں گے اس طرح سے اس جگہ کا نام خانصاحب پڑگیا۔
صاحب کتاب خان صاحب ؒ کے روحانی کمالات کا تذکرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ اُس زمانے میں مغل خانوادے کی چھٹی پیڑی کے سلطان عالم گیر شاہ ہندوستان کے بعض علاقوں پر راج تاج کررہے تھے۔ اُن کی ملکہ ان دنوں چمڑے کی ایک خطرناک بیماری (ہیطری)میں مبتلا تھیں۔کافی علاج و معالجہ کرانے کے با وجود بھی ملکہ کا مر ض ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ایک دن بادشاہ اپنے لاﺅ و لشکر اور اہل و عیال کے ہمراہ وادی کشمیر کی سیر پر آئے ہوئے تھے ۔یہاںسرینگر میں کسی ہمدرد خادم نے اُن کو صالح خان ؒ کے روحانی کمالات اور کرامات کے بارے میں بتایا۔آپ فوراََ اپنی ملکہ کو ساتھ لیکر خان صاحب ؒ کے دربار میں حاضر ہوگئے۔یہ جمعہ تالمبارک کا دن تھا۔ عالم گیر نے خانصاحبؒ کی خدمت میں اپنی روداد بیان کی۔ گھپا کے بلکل سامنے (کرالہ بٹھو) نامی ایک چھوٹی سے پہاڑی ہے جس میں سے ایک چشمہ پھوٹ رہا تھاجو آج بھی برابر جاری ہے۔ خانصاحبؒ نے ملکہ کو اسی چشمے کے پانی سے نہانے کی صلاح دی۔بتایا جاتا ہے کہ بس نہانے کی دیر تھی کہ ملکہ کایہ دیرینہ روگ بالکل ٹھیک ہوگیا اور وہ شفایاب ہوگئیں۔خانصاحب ؒ کے عقیدت مندوں نے اسی وقت سے اس چشمے کو ”بادشاہ ناگ “ نام سے پکارنا شروع کردیا۔ آج صدیوں بعد بھی لوگ اس چشمے کو ”بادشاہ ناگ“ نام سے ہی جانتے اور پکار تے ہیں۔ بادشاہ عالم گیر نے اپنے ہاتھوں سے اسی دن گھپا کے سامنے بطور یاداشت ایک چنار کا بوٹا لگوا دیا۔یہ چنار کا بوٹا گھپا کے بلکل سامنے آج ایک وشال درخت کی صورت میں اپنا جلوہ بکھیر رہا ہے۔
چناچہ جمعہ تالمبارک کامبارک دن تھا،حضرت صالح ؒ نے تمام حاضر مریدوںکو جمعہ کی نماز قائم کرنے کا حکم دیا۔گھپا کے اوپر پاس میں ہی ایک چھوٹا ساسرسبزمیدان تھا۔یہیں پر حضرت خان صاحب ؒ کے حکم پر بادشاہ عالم گیر نے جمعہ نماز کی پیشوائی کی ۔اس جگہ پر بعد میں ایک مسجد تعمیر کی گئی ۔بتایا جاتا ہے کہ وہ تاریخی مسجد آگ کی ایک ہولناک واردات میں شہید ہوگئی۔بعد میں اسی جگہ پر گاﺅں والوں نے خواجہ خضر وانی نامی ایک مقامی صاحب ثروت شخص کی سربراہی میں ایک نئی شاندار مسجد تعمیر کی ۔مسجد ھٰذا کا مقامی اوقاف ٹرسٹ ضرورت کے مطابق وقت وقت پر تجدید و مرمت کرتا رہا۔حال حال ہی میں ۵۱۰۲ءمیں مقامی اوقاف ٹرسٹ جس کی سربراہی حکیم محمد یاسین کر رہے ہیں نے اس تاریخی مسجد کے سامنے قائم پارک میں ایک عالی شان جامع مسجد تعمیر کی۔اس مسجد شریف کی تعمیر قریب قریب ۵۹ فیصد مکمل ہوچکی ہے اور اس کی تعمیرپر لگ بھگ ایک کروڑ روپئے کی لاگت آئی ہے۔قدیم مسجد کو شہید کیا گیا اور وہاں پر بھی ٹرسٹ ھٰذا نے ایک یک منزلہ عارضی مسجد تعمیر کر رکھی ۔بتایا جاتا ہے کہ حضرت سید صالح خان صاحب ؒ کا آستان بھی ایک بار آگ کی ہولناک واردات میں شہیدہوچکا تھا۔مقامی آبادی نے آستان ھٰذا کو بھی کئی بار نئے سرے سے تعمیر کیا تھا۔حال ہی میں حکیم محمد یاسین نے سرکاری امداد اور مقامی اوقاف ٹرسٹ کے تعاون سے اس آستان عالیہ کی نئے تقاضوں کے عین مطابق تعمیرو تجدید کرادی۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
