تازہ ترین
عرس شریف حضرت سید صالح خانصاحبؒ : مذہبی تہذیبی اورتاریخی اہمیت کے پس منظر میں
مشتاق شمیم، خانصاحب بڈگام 
حضرت سید صالح خانصاحبؒ کا عرس شریف حسب روایت 17 جون سے قصبہ خانصاحب میں مذہبی عقیدت اور ثقافتی رواداری کے ساتھ منایا جارہا ہے۔اس دوران ہزاروں عقیدت مند حضرت صالح ؒ کے آستان عالیہ پر حاضری دینے اور درود و اذکار سے آراستہ مجلسوںں میں شرکت کرنے میں مشغول ہیں۔جمعہ تالمبارک کو بعد از نماز جمعہ حضرت ولی کاملؒ کے تبرکات جن میں اُن کا جامہ مبارک نعلان ِمبارک تسبیح شریف اور آپ ؒ کے دست پاک سے تحریر فرمایا گیا قرآن مجید کا قلمی نسخہ شامل ہے کی نشاندہی کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔مقامی اوقاف ٹرسٹ سے وابسطہ اراکین اورسب ضلع انتظامیہ خانصاحب زائرین کی سہولت کیلئے خاطر خواہ انتظامات دستیاب رکھنے میں اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں۔ عرس شریف کے متبرک ایام کے دوران خانصاحب ٹاون میں عارضی بازار سجائے جاتے ہیں دمبالی اور کوشتی جیسے ثقافتی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں اور بچوں کی دلجوئی کیلئے جھولے وغیرہ دستیاب رکھے جاتے ہیں۔
جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے کہ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں واقع خانصاحب نامی مشہور و معروف قصبہ مذہبی اورتاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ آبادی کے اعتبار سے قدرے چھوٹا یہ قصبہ لگ بھگ چار سو برس قبل کاترشی نامی ایک چھوٹی سی پہاڑی کے دامن میںآباد ہوا۔قصبہ ھٰذا کا نام جس قدرخوبصورت ہے یہاں کے بسکین بھی اُسی طرح سے نہایت ہی خوش اخلاق اور خوش گفتار مانے جاتے ہیں۔یہ قصبہ زمانہ قدیم سے ہی علم و ادب اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہ چکا ہے۔دینداری یہاں کی مٹی پر بود و باش کررہے خوش بختوں کو وراثت میں مل چکی ہے ۔یہاں کے مکین بڑے ہی مہمان نواز مہذب ا ور ملنسار تصور کئے جاتے ہیں۔یہ قصبہ مانو جنت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جس کوشاید کسی خدا دوست بزرگ نے اللہ پاک سے مانگ کر یہاں زمین پر بسا دیا ہے۔ شاید کیا بلکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک عالم دین اور بلند پایہ بزرگؒ سترہ ویں صدی عیسوی میں مغل دور سلطنت کے دوران اپنا وراثتی تخت و تاج چھوڑ کر پکھلی نامی راجواڑے سے یہاں تشریف لائے تھے۔مذکورہ راجواڑہ فی الوقت پاکستان کے سندھ صوبے میں واقعہ بتایا جاتا ہے۔
برف پوش پہاڑوں خار زار بیا بانوں اور گہرے خوف ناک جنگلوں کو روندتے ہوئے یہ بزرگؒ دین حق کی تشہیر اوردین اسلام کا دعوتی مشن لیکر وادی کشمیر کے اندر تشریف آور ہوگئے۔کئی برس واتل کدل سرینگر اور کئی برس کرالہ سنگری پہاڑیوں میں گزارنے کے بعد بالآخر اس عالم دین اور پابند شریعت ولی کامل ؒنے کاترشی نامی پہاڑی کے اوپر جوکہ اُس زمانے میں ایک گھنے اور گہرے جنگل کی مانند تھی ایک گنی جھاڑی کے نیچے اپنا ڈیرا سنبھال لیا۔کاترشی ڈھلوان پر اس وقت بھی کائرو کا ایک قدآور درخت موجود ہے جو اس بات کا غمازہے کہ یہ پورا علاقہ ماضی بعید میں ایک بہت ہی گھنا جنگل رہ چکا تھا جس کے اندر جنگلی جانوروں کی ایک بڑی تعداد رہائش پزیر ہوا کرتی تھی۔یہ کائرودرخت آج بھی (کوتر یار) نام سے دور دور تک مشہور و معروف ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس درخت کے سائے میں بھی یہ درویش صفت بزرگ ؒ کئی ماہ و سال گزارچکے تھے ۔جب تک یہ بزرگ ؒ اس درخت کے نیچے تشریف فرما رہے تب تک سینکڑوں کبوتر بھی اس پر اپنا بسیرا سجاکر بیٹھا کرتے تھے۔ شاید اسی لئے اس درخت کو ”کوتر یار“ نام سے لوگ پکارا کرتے تھے اور آج بھی کائرو کے اس وشال درخت کو” کوتر یار“ نام سے ہی جانا اور پکارا جاتا ہے۔جس گنی جھاڑی کے نیچے بارہ برس تک یہ خدا دوست بزرگؒ دنیاوی لذتوں اور نفسانی خواہشات سے کنارہ کش ہوکر اپنے مالک حقیقی کی بندگی ادا کرنے میں محو رہے وہ جھاڑی آج بھی اپنی جگہ پر قائم راہ چلتے لوگوں کو اُس زمانے کی پُر کیف یاد یں فخر سے یاد دلاتی رہتی ہے۔ اس جھاڑی کے اندرقبلہ رو ایک بہت بڑا پتھر جائے نماز کی شکل میں موجود تھا جس کو بد قسمتی سے چند برس قبل نامعلوم افراد نے غائب کردیا ۔یہ جائے نماز نماءپتھراس بزرگ ؒکی دین داری اور خدا پرستی کی دلیل اپنی خاموش زبان سے پیش کیا کرتا تھا۔بارہ برس کے بعد درویش کاملؒ پہاڑی سے نیچے تشریف لائے اور اسی پہاڑی کے دامن کے اندر چھوٹے چھوٹے سات کمروں پر مشتمل ایک گھپا پارنیوہ نامی گاﺅں سے تعلق رکھنے والے کمہار بھائیوں سے کھو د وا ڈالی۔ اسی گھپا کے اندر آپ ؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام اللہ پاک کی عبادت و ریاضت اور دین اسلام کی تشہیر میں گزار دئے۔یہ تاریخی گھپا اب بہت زیادہ خستہ ہوچکی ہے جس کو مرمت کرنے کی ضرورت اشد کے ساتھ محسوس کی جارہی ہے۔
کیچ رازگیر سے تعلق رکھنے والے ایک استاد ضیاوالدین اندرابی نے بیس ویں صدی کے وسط میں کافی تحقیق کے بعد ایک کتابچہ (سوانح حیات خان صاحبؒ )نام سے تصنیف کر رکھی ہوئی ہے جس میں انہوں نے اس بزرگ محترم و مکرم حستی کا اسم مبارک حضرت سید صالح خان ؒ بتایاہے ۔کتاب ھٰذا کے مطابق حضرت صالح ؒ صوم و صلواة کے پابند شریعت کے علم بردار عالم دین اور ولی کامل تھے۔آپ ؒ کو علوم قرآن اور علوم حدیث پر کافی دست و رست حاصل تھا۔آپؒ کاتب قرآن بھی تھے ۔آپ ؒ کے دست پاک سے تحریر کیا جاچکا قرآن مجید کا ایک نادرقلمی نسخہ اس وقت بھی آپ ؒ کے آستان عالیہ میںموجود ہے جس کی زیارت سے ہر برس آپؒ کے عرس پاک کے موقع پر عقیدت مندوں کو فیض یاب کیا جاتا ہے۔
مرحوم ضیاو الدین کے مطابق صالحؒ کے دور حیات میں دور دراز علاقوں سے عقیدت مند دینی تعلیم اور شرعی تربیت حاصل کرنے کی غرض سے آپ حضرت ؒسے روز ملنے آجایا کرتے تھے۔علم دین سیکھنے میں لوگوں کی بڑی دلچسپی دیکھ کر صالح ؒ ہفتے کی ہر ویروار کو اپنی گھپا کے صحن پاک میں دینی اجتماع منعقد کیا کرتے تھے۔اجتماع میں شرکت کرنے کیلئے چناچہ لوگوں کو دور دراز گاﺅں دیہات سے پیدل آنا پڑتا تھا اسلئے وہ کھانے کیلئے روٹی یا تہری ساتھ لایا کرتے تھے ۔یہ کھانا وہ خود بھی طناول کرتے تھے اور اپنے دوسرے ساتھوں کو بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ صدیوں پرانی روایت آج بھی یہاں پر برابر قائم و دائم ہے ۔ عقیدت مند آج بھی روٹیاں اور تہری وغیرہ یہاں لاتے ہیں اور صالح ؒ کے آستان عالیہ کے صحن پاک میںعقیدت مندوں اور راہ چلتے مسافروں میں تقسیم کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
صاحب کتاب کے مطابق سید صالح خان صاحبؒ کو آپ کے عقیدت مند اور مرید حضرات پیار سے خان صاب یا خانہ مول نام سے یاد کیاکرتے تھے۔علم دین کی تشہیر میں بہت زیادہ مصروف رہنے کی وجہ سے آپؒ کو نکاح کرنے کی فرصت ملی نہ ہی کبھی آپ ؒ نے نکاح کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ کتاب کے مطابق خان صاب ؒکے مریدوں اور عقیدت مندوں کی تعداد بہت بڑی تھی لیکن قلندرشاہ نامی ایک بزرگ دین دار مسلمان آپ ؒ کے مرید خاص رہے تھے جو زندگی کے آخری ایام میں خان صاحب ؒ کے ساتھ ہی رہ کر آپ ؒ کی خدمت گزاری بجا لاتے رہے۔ قلندر شاہ، صاحب نکاح بھی تھے اور صاحب اولاد بھی۔خان صابؒ کے وصال کے بعد قلندر شاہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ خان صابؒ کے مزار کے پاس ہی رہنے بسنے لگے۔اس طرح سے یہاں پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک بستی قائم ہوتی گئی۔ خان صاحب قصبے کی لگ بھگ اسی فیصد آبادی کو اسی قلندرشاہ کی اولادیں اور ذریعت تصور کیا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کے اکثر لوگوں کی ذات” شاہ “ ہے۔ خان صابؒ کے مرید اور عقیدت مند خانصاحبؒ کے وصال کے بعد بھی قلندرشاہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔وہ ایک دوسرے سے کہا کرتے تھے کہ چلو خان صابن یا خانہ مالین جائیں گے اس طرح سے اس جگہ کا نام خانصاحب پڑگیا۔
صاحب کتاب خان صاحب ؒ کے روحانی کمالات کا تذکرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ اُس زمانے میں مغل خانوادے کی چھٹی پیڑی کے سلطان عالم گیر شاہ ہندوستان کے بعض علاقوں پر راج تاج کررہے تھے۔ اُن کی ملکہ ان دنوں چمڑے کی ایک خطرناک بیماری (ہیطری)میں مبتلا تھیں۔کافی علاج و معالجہ کرانے کے با وجود بھی ملکہ کا مر ض ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ایک دن بادشاہ اپنے لاﺅ و لشکر اور اہل و عیال کے ہمراہ وادی کشمیر کی سیر پر آئے ہوئے تھے ۔یہاںسرینگر میں کسی ہمدرد خادم نے اُن کو صالح خان ؒ کے روحانی کمالات اور کرامات کے بارے میں بتایا۔آپ فوراََ اپنی ملکہ کو ساتھ لیکر خان صاحب ؒ کے دربار میں حاضر ہوگئے۔یہ جمعہ تالمبارک کا دن تھا۔ عالم گیر نے خانصاحبؒ کی خدمت میں اپنی روداد بیان کی۔ گھپا کے بلکل سامنے (کرالہ بٹھو) نامی ایک چھوٹی سے پہاڑی ہے جس میں سے ایک چشمہ پھوٹ رہا تھاجو آج بھی برابر جاری ہے۔ خانصاحبؒ نے ملکہ کو اسی چشمے کے پانی سے نہانے کی صلاح دی۔بتایا جاتا ہے کہ بس نہانے کی دیر تھی کہ ملکہ کایہ دیرینہ روگ بالکل ٹھیک ہوگیا اور وہ شفایاب ہوگئیں۔خانصاحب ؒ کے عقیدت مندوں نے اسی وقت سے اس چشمے کو ”بادشاہ ناگ “ نام سے پکارنا شروع کردیا۔ آج صدیوں بعد بھی لوگ اس چشمے کو ”بادشاہ ناگ“ نام سے ہی جانتے اور پکار تے ہیں۔ بادشاہ عالم گیر نے اپنے ہاتھوں سے اسی دن گھپا کے سامنے بطور یاداشت ایک چنار کا بوٹا لگوا دیا۔یہ چنار کا بوٹا گھپا کے بلکل سامنے آج ایک وشال درخت کی صورت میں اپنا جلوہ بکھیر رہا ہے۔
چناچہ جمعہ تالمبارک کامبارک دن تھا،حضرت صالح ؒ نے تمام حاضر مریدوںکو جمعہ کی نماز قائم کرنے کا حکم دیا۔گھپا کے اوپر پاس میں ہی ایک چھوٹا ساسرسبزمیدان تھا۔یہیں پر حضرت خان صاحب ؒ کے حکم پر بادشاہ عالم گیر نے جمعہ نماز کی پیشوائی کی ۔اس جگہ پر بعد میں ایک مسجد تعمیر کی گئی ۔بتایا جاتا ہے کہ وہ تاریخی مسجد آگ کی ایک ہولناک واردات میں شہید ہوگئی۔بعد میں اسی جگہ پر گاﺅں والوں نے خواجہ خضر وانی نامی ایک مقامی صاحب ثروت شخص کی سربراہی میں ایک نئی شاندار مسجد تعمیر کی ۔مسجد ھٰذا کا مقامی اوقاف ٹرسٹ ضرورت کے مطابق وقت وقت پر تجدید و مرمت کرتا رہا۔حال حال ہی میں ۵۱۰۲ءمیں مقامی اوقاف ٹرسٹ جس کی سربراہی حکیم محمد یاسین کر رہے ہیں نے اس تاریخی مسجد کے سامنے قائم پارک میں ایک عالی شان جامع مسجد تعمیر کی۔اس مسجد شریف کی تعمیر قریب قریب ۵۹ فیصد مکمل ہوچکی ہے اور اس کی تعمیرپر لگ بھگ ایک کروڑ روپئے کی لاگت آئی ہے۔قدیم مسجد کو شہید کیا گیا اور وہاں پر بھی ٹرسٹ ھٰذا نے ایک یک منزلہ عارضی مسجد تعمیر کر رکھی ۔بتایا جاتا ہے کہ حضرت سید صالح خان صاحب ؒ کا آستان بھی ایک بار آگ کی ہولناک واردات میں شہیدہوچکا تھا۔مقامی آبادی نے آستان ھٰذا کو بھی کئی بار نئے سرے سے تعمیر کیا تھا۔حال ہی میں حکیم محمد یاسین نے سرکاری امداد اور مقامی اوقاف ٹرسٹ کے تعاون سے اس آستان عالیہ کی نئے تقاضوں کے عین مطابق تعمیرو تجدید کرادی۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
