تازہ ترین
حضرت شمس فقیرؒ کی سماجی و شاعرانہ زندگی پرایک مختصر جائزہ
مشتاق شمیم ،خانصاحب بڈگام

24۔ماہ جون کو شاعر معرفت و شریعت حضرت شمس فقیر ؒ کا عرس آپ کے آستان عالیہ بمقام باغ شمس کلشی پورہ خانصاحب میں نہایت ہی عقیدت اور تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا ۔ عرس کے موقع پر حسب روایت ذائرین کی طرف سے درود و اذکار اور نعت و مناجات کی مجلسیں آراستہ کی گئیں۔ ساز و سماع کی محفلیں سجائی گئیں۔سجادہ نشین و متولی خاص پیر محمد الطاف اور آستان عالیہ سے وابستہ منتظمین کی طرف سے عقیدت مندوں کیلئے قیام و طعام کا اعلیٰ انتظام کیا گیا تھا۔اس بار ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند شمس فقیرؒ کے آستان پراس روحانی و صوفی بزرگ کو عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کیلئے حاضر ہوگئے جن میں خواتین و حضرات کے ساتھ ساتھ ایک اچھی خاصی تعداد میں نوجوان پیڑی کے لوگ بھی شامل تھے۔ آج کے کالم میں راقم نے اسی صوفی شاعر کی سماجی و شاعرانہ زندگی کا ایک مختصر جائزہ عوام الناس کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔امید ہے کہ سامعین کرام کو میری یہ کوشش پسند آجائیگی انشااللہ۔
شاعر معرفت و شریعت حضرت شمس فقیر ؒ صوفیانہ شعر و ادب کے اُفق پر ایک ایسے درخشندہ ستارے کی مانند جلوہ افروز ہیں جو تا قیام قیامت اپنے نور سے وادی کشمیر کے چپہ چپہ اور صوفیانہ مزاج رکھنے والے خواتین و حضرات کے دلوںکو روشن اور منور کرتے رہیں گے۔انہوں نے جوعارفانہ کلام فرمایا ہے اُس کلام میں اللہ پاک کی تعریف و تمحید اور رسول پاک ﷺ کے عشق و محبت کا عکس اس طرح سے آشکارہ کیا جاچکا ہے کہ اصحاب ایمان کے قلوب و اذہان کو یہ پُر مغزکلام سکون اور راحت بخش احساس فراہم کرتا رہتا ہے ۔عبادت گزاری دین داری خدا پرستی اورعشق نبوی ﷺ سے اُن کا کلام اس قدر مالا مال ہے کہ اس کا مطالعہ و سماعت کرنے والے حضرات کسی بھی صورت میں متاثر ہوئے بنا نہیں رہ پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر شریعت حضرت شیخ نورالدین نورانی ؒ کے بعد جس کشمیری صوفی شاعر نے اپنے الہامی کلام سے سب سے زیادہ دین اسلام کا باغ رحمت سینچا سنوارا ہے آپ ہیں حضرت شمس فقیر ؒ ۔
شمس فقیرؒ کا تعلق صوفی سلسلہ قادریہ کے ساتھ بتایا جاتا ہے۔آپؒ میںبچپن سے ہی شعر و ادب کے ساتھ زبردست عقیدت اور دلی وابستگی پائی جاتی تھی۔دوران حیات برگزیدہ صوفی شاعروں کا کلام سماعت فرمانا حضرت شمس فقیر ؒکے اہم ترین مشاغل میں شامل رہا کرتاتھا۔سب سے زیادہ آپ ؒ انیس ویں صدی کے معروف صوفی شاعرحضرت نعمہ صابؒ کے کلام سے فیض حاصل کیا کرتے تھے۔ نعمہ صابؒ کو شمس فقیرؒ اپنا رہبر مانا کرتے تھے ۔اُن کا کلام سماعت کرنے کیلئے شمس فقیرؒ میلوں کا سفر پیدل طے کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا کرتے تھے۔ مانا جاتا ہے کہ نعمہ صابؒ کی شخصیت اور اُن کے عارفانہ کلام نے ہی شمس فقیر کو شعرو سخن کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔شعر و شاعری کے میدان میں قدم رکھنے سے قبل شمس فقیرؒ نے وقت کے بعض کئی اہم صوفی بزرگوں کی صحبت اختیار کررکھی ہوئی تھی جن میں سوچھ ملیاری عبدالرحمان صاحب برزلہ عطیق اللہ صاحب گلاب باغ محمد جمال صاحب و غلام رسول صاحب سرینگر شامل ہیں۔ان بزرگان دین کو شمس فقیر ؒاپنا رہبرمانا کرتے تھے۔ان ہی بزرگوں کی پاک صحبت میں رہ کر شمس فقیر ؒ شعر و شاعری کے میدان میں ایک منفرد اور اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
شمس فقیر ؒ کا اسم شریف اصل میںمحمد صدیق بٹ صاحب تھا اور آپ کی ولادت باسعادت شہر سرینگر کے چینکرال محلہ علاقے میں رہائش پزیر ایک غریب اور ناخواندہ خانوادے میں 1843 ءمیں ہو چکی تھی ۔گھر کی ابترتعلیمی و مالی حالات کے پیش نظر آپ ؒ کوکبھی ژاٹہ ہال یا درسگاہ جانے کا موقع نصیب نہیں ہو پایا اسلئے آپؒ کو ظاہری صورت میں تعلیم و تربیت کی دولت سے بہرہ ور ہونے کا موقع نہیں مل سکا ۔ اپنے گھرپریوار کی مالی حالت سدھارنے اور رزق حلال کا انتظام کرنے کی غرض سے آپؒ کو محنت و مشقت کا راستہ اختیار کرنا پڑا ۔ مزدوری کا پیشہ اختیار کرنے کے سوااُن کے پاس کوئی دوسرا چارہ باقی نہیں تھا۔ مزدوری کے سلسلے میں آپ کو لگ بھگ 25 سال کی عمر میں ہی اپنا گھر بار اور وطن عزیز چھوڑ کرمتحدہ ہندوستان کے شمالی علاقہ جات کا رُخ کرنا پڑا کیونکہ کشمیر میں اُس زمانے میں ڈوگرہ راجا مہاراجاﺅں کی متعلق العنان حکومت کا دور دورہ تھااوریہ حکمران یہاں کے نوجوانوں یہاں تک کہ بزرگوں اور مستورات کو بھی بے گار پر لے جانے میں کوئی شرم یا حیامحسوس نہیں کیا کرتے تھے۔وہ ظالم حکمران کشمیری نوجوانوں سے جانوروں کی طرح مشقت کروانے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے ۔وہ جابر حاکم یہاں کے بد نصیب لوگوں سے بے حد و حساب کام تو کرواتے تھے لیکن بدلے میں پیٹ کی آگ مٹانے کیلئے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی ان بیچاروں کو فراہم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کیا کرتے تھے۔اسی وجہ سے یہاں کے نوجوان پڑوسی ملک ہندوستان کے مختلف شہروں خاص طور سے پنجاب کے امرتسرچندی گڑھ اور لاہور نامی زرعی طور آباد و خوشحال بستیوں کی طرف چار پیسہ کمانے اور پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر جوق در جوق جانے کیلئے بےتاب رہا کرتے تھے۔شمالی ہندوستان کے بعض شہروں میں ہمارے جدو اجداد کو بہ آسانی کام بھی ملا کرتا تھا اور مزدوری بھی اچھی خاصی ملاکرتی تھی۔
جانکار حلقوں اور تاریخ دانوںکے مطابق محمد صدیق بٹ(شمس فقیرؒ) کی حرکتیں تو بچپن سے ہی باقی بچوں کی حرکات سے بہت حد تک مختلف ہوا کرتی تھیں۔آپ ؒ کے خیالات احساسات اور جذبات باقی بچوں سے بلکل الگ تھلگ اور جُداگانہ نظر آتے تھے۔آپ تو زیادہ ترگُم سُم اور کھوئے کھوئے سے رہا کرتے تھے۔آپ کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیال کرنے کے دوران ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ کا من خوابوں اور خیالوں کے ایک ایسے سمندر میں غوطہ زن ہوتا تھا جس سمندر کی سرحدیں آسمان کی گود میں سرَ رکھ کر کسی خاص دوست کی کھوج میں بے قرار سی رہا کرتی ہیں۔چونکہ جوانی کی د ہلیز پر قدم رکھتے ہی آپؒ کو معاش کی تلاش میںامرتسر کی راہ لینی پڑی لیکن وہاں پر بھی آپؒ نے بعض بزرگان دین کو اپنا دوست اور رہبربنا کے رکھ دیااور اُن کی نیک صحبت میں رہ کر گھیان دھیان حاصل کرتا رہا۔
امرتسر سے واپس لوٹ آنے کے بعد شمس فقیرؒ نے جنوبی کشمیر کے انت ناگ ضلع میں عارضی سکونت اختیار کی۔وہیں پر آپ ؒ نے اپنے آپ کو شادی کے پاک بندھن میں باندھ لیا ۔لیکن نہ جانے کیوں انت ناگ کا آب و ہواشمس فقیر ؒ کو زیادہ دیر تک راس نہیں آیا ۔آپ ؒ اپنی رفیق حیات کو ساتھ لیکر اپنے آبائی گھر واقع چینکرال محلہ حبہ کدل واپس تشریف لے کے آئے۔اس دوران ان کے پشت سے دو فرزندان ارجمند اور ایک دختر نیک اختر نے تولت ہونے کا شرف بھی حاصل کرلیا تھا۔اپنے آبائی گھر میں تشریف اشرف رکھنے کے دوران حضرت شمس فقیر ؒ فقیری اوردرویشی کے اعلیٰ مقام پر براجمان ہو گئے۔ آپ ؒ کے وجود میں تو اب دنیا اور دنیاداری کی کوئی رغبت باقی نہیں رہی۔آپ نے گھر گرہستی کی پریشانیوں اور مادی دنیا کی لذتوں سے ناطہ توڑ کر اپنے معبود برحق کی تلاش اوررضا حاصل کرنے کا مسمم اور مکمل ارادہ باندھ لیا۔اس اعلیٰ مقصد کی حصول یابی کیلئے آپ ؒ نے بڈگام ضلع کے قاضی باغ نامی گاﺅں میں موجود ایک قدیم ترین گھپا میں تشریف رکھ کرمکمل تنہا ئی اختیار کرلی۔مسلسل چھ ماہ تک اس تنگ وتاریک غار میں تن تنہارہتے ہوئے حضرت شمس فقیر ؒ کو اپنے خالق حقیقی کو قریب سے جاننے اور پہنچاننے کا موقع نصیب ہوااور آپ ؒ کوروحانیت کا اعلیٰ منصب حاصل ہوگیا۔روحانیت کے عالم میںآپ ؒ شاعری کی صورت میں علم و عرفان کے ایسے میٹھے دریا بہانے لگے جن دریاﺅں کے شیریں آب رواں نے آج تک نہ جانے کتنے مردہ دلوں کو حیات جاودانی سے سرفراز اور سرشار کرکے رکھ دیا ہے۔گھپا سے نکل کر آپؒ خانصاحب علاقے کے کلشی پورہ نامی ایک چھوٹے سے گاﺅں میں تشریف لے کے گئے اور وہیں پر اپنی زندگی کے آخری لمحات گزارنے کا فیصلہ کیا۔۱۰۹۱ءمیں ۸۵ برس کی عمر شریف میں آپؒ کلشی پورہ گاﺅں میں اللہ کو پیارے ہوگئے اور اسی گاﺅں میں ان کی آخری آرام گاہ فی الوقت موجود ہے۔ شمس فقیرؒ کے مرید اور عقیدت مندسال بھر کلشی پورہ میں واقع ان کے مزار پر حاضری دیتے رہتے ہیں اور وہاں پر اپنے پیر و مرشد کے ایصال ِثواب کیلئے قرآن خوانی ونعت خوانی کی محفلیں آراستہ کرتے رہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شمس صاحب ؒکے دونوں فرزند لا ولد گزر چکے ہیں البتہ اُن کا نسب ان کی دختر نیک اخترکے راستے ہی آگے بڑتا چلا جارہا ہے۔مرحوم پیر محی الدین صاحب شمس فقیر ؒ کے گھر داماد تھے جبکہ مرحوم پیر مبارک صاحب مرحوم پیر محی الدین صاحب کے گھر داماد رہے۔ پیر محمد الطاف پیر محی الدین صاحب کے دوسرے فرزند ہیں جو فی الوقت شمس فقیرؒ کے آستان عالیہ پر سجادہ نشین کی حثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
حضرت شمس فقیر ؒ کا لگ بھگ دو تہائی کلام کلیات شمس فقیر میں موجود ہے۔اگر چہ ادارہ جموں و کشمیر کلچرل اکادمی آف آرٹ کلچر اینڈ لنگویجز ابھی تک کلیات شمس فقیر ترتیب دینے اور شائع کرنے میں کامیاب نہیں ہوپایاتاہم یہ نیک کام وادی کے مایہ ناز ادباءڈاکٹر عزیز آفاق صاحب اور ڈاکٹر محفوظہ جان صاحبہ نے سر انجام دیکرعوامی و ادبی حلقوں سے داد تحسین حاصل کی ہے۔نند ریشی کلچرل سوسائٹی کو کلیات شمس فقیر شائع کرنے کا اعزازحاصل ہے۔
بہر حال شمس فقیر ؒ کا کلام وادی کے مشہور و معروف گلکار اپنی مدر لئے میں گانے میں فخر محسوس کر رہے ہیں۔آپ کا کافی کلام ریڈیو کشمیر اور دور درشن کیندر سرینگر کی میوزک لائبرریوں میں معروف گلو کاروں کی مُدر آوازوں میں موجود ہے جس کو یہ دونوں ادارے عوام کی دلچسپی کو ملحوظ نظر رکھ کر روزانہ اپنی نشریاتی سروسز سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہتے ہیں۔عصر حاضرکے نئے گلو کار حضرات بھی شمس فقیر کا کلام موسیقی کے نئے اور جدید سانچوں میں ڈالکر گانے میں خاص دلچسپی دکھا رہے ہیں۔بالی وُڑ کی مایہ ناز گلو کارہ آشا بھونسلے جی نے 60 کی دہائی میں شمس فقیر کا ایک مشہور کلام” ہا عشقہ ژھورو رشکہ کر?تھس دیوانہ تے ۔۔۔۔۔ پنُن ا<سِتھ چھوکھ ژ? لاگان بیگانہ تے “ریڈیو کشمیر کے سٹیڈیوز میں ریکارڑ کروا کے اس عالمی شہرت یافتہ شاعر کے تئیںاپنے خراج عقیدت کا اظہار کیا۔ بہر حال ہر برس 24۔ جون کو حضرت شمس فقیر کا عرس(یوم وصال) اُ ن کی آرام گاہ پر مذہبی عقیدے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔جموں کشمیر کلچرل اکادمی محکمہ انفارمیشن سانگ اینڈ ڈرامہ ڈیویژن ریڈیو کشمیر سرینگر دور درشن کیندر سرینگراور دیگر ادبی و ثقافتی تنظیمیں باہمی اشتراک سے اس روز شمس فقیرؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے محفل سماع و محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ وادی کی معروف موسیقی پارٹیاں اس موقع پرشمس فقیرؒ کا کلام اُن کے عقیدت مندوں کے سامنے پیش کرکے اس برگزیدہ شاعر کواپنا والہانہ خراج پیش کرنے میں اظہار مسرت کرتے ہیں۔ امسال کی تقریب پر ثقافتی مرکز بڈگام کی طرف سے تین شاعری مجموعوں کی رسم رونمائی انجام دی گئی اور شعر و ادب سے وابسطہ بعض قلم کار حضرات کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ مکہ مدینس بر چھ وتھئے نیری لتئے روف کران دُورِ چھی ہران نورہ پھتئے نیری لتئے روف کران
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
