تازہ ترین
حضرت شمس فقیرؒ کی سماجی و شاعرانہ زندگی پرایک مختصر جائزہ
مشتاق شمیم ،خانصاحب بڈگام

24۔ماہ جون کو شاعر معرفت و شریعت حضرت شمس فقیر ؒ کا عرس آپ کے آستان عالیہ بمقام باغ شمس کلشی پورہ خانصاحب میں نہایت ہی عقیدت اور تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا ۔ عرس کے موقع پر حسب روایت ذائرین کی طرف سے درود و اذکار اور نعت و مناجات کی مجلسیں آراستہ کی گئیں۔ ساز و سماع کی محفلیں سجائی گئیں۔سجادہ نشین و متولی خاص پیر محمد الطاف اور آستان عالیہ سے وابستہ منتظمین کی طرف سے عقیدت مندوں کیلئے قیام و طعام کا اعلیٰ انتظام کیا گیا تھا۔اس بار ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند شمس فقیرؒ کے آستان پراس روحانی و صوفی بزرگ کو عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کیلئے حاضر ہوگئے جن میں خواتین و حضرات کے ساتھ ساتھ ایک اچھی خاصی تعداد میں نوجوان پیڑی کے لوگ بھی شامل تھے۔ آج کے کالم میں راقم نے اسی صوفی شاعر کی سماجی و شاعرانہ زندگی کا ایک مختصر جائزہ عوام الناس کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔امید ہے کہ سامعین کرام کو میری یہ کوشش پسند آجائیگی انشااللہ۔
شاعر معرفت و شریعت حضرت شمس فقیر ؒ صوفیانہ شعر و ادب کے اُفق پر ایک ایسے درخشندہ ستارے کی مانند جلوہ افروز ہیں جو تا قیام قیامت اپنے نور سے وادی کشمیر کے چپہ چپہ اور صوفیانہ مزاج رکھنے والے خواتین و حضرات کے دلوںکو روشن اور منور کرتے رہیں گے۔انہوں نے جوعارفانہ کلام فرمایا ہے اُس کلام میں اللہ پاک کی تعریف و تمحید اور رسول پاک ﷺ کے عشق و محبت کا عکس اس طرح سے آشکارہ کیا جاچکا ہے کہ اصحاب ایمان کے قلوب و اذہان کو یہ پُر مغزکلام سکون اور راحت بخش احساس فراہم کرتا رہتا ہے ۔عبادت گزاری دین داری خدا پرستی اورعشق نبوی ﷺ سے اُن کا کلام اس قدر مالا مال ہے کہ اس کا مطالعہ و سماعت کرنے والے حضرات کسی بھی صورت میں متاثر ہوئے بنا نہیں رہ پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر شریعت حضرت شیخ نورالدین نورانی ؒ کے بعد جس کشمیری صوفی شاعر نے اپنے الہامی کلام سے سب سے زیادہ دین اسلام کا باغ رحمت سینچا سنوارا ہے آپ ہیں حضرت شمس فقیر ؒ ۔
شمس فقیرؒ کا تعلق صوفی سلسلہ قادریہ کے ساتھ بتایا جاتا ہے۔آپؒ میںبچپن سے ہی شعر و ادب کے ساتھ زبردست عقیدت اور دلی وابستگی پائی جاتی تھی۔دوران حیات برگزیدہ صوفی شاعروں کا کلام سماعت فرمانا حضرت شمس فقیر ؒکے اہم ترین مشاغل میں شامل رہا کرتاتھا۔سب سے زیادہ آپ ؒ انیس ویں صدی کے معروف صوفی شاعرحضرت نعمہ صابؒ کے کلام سے فیض حاصل کیا کرتے تھے۔ نعمہ صابؒ کو شمس فقیرؒ اپنا رہبر مانا کرتے تھے ۔اُن کا کلام سماعت کرنے کیلئے شمس فقیرؒ میلوں کا سفر پیدل طے کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا کرتے تھے۔ مانا جاتا ہے کہ نعمہ صابؒ کی شخصیت اور اُن کے عارفانہ کلام نے ہی شمس فقیر کو شعرو سخن کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔شعر و شاعری کے میدان میں قدم رکھنے سے قبل شمس فقیرؒ نے وقت کے بعض کئی اہم صوفی بزرگوں کی صحبت اختیار کررکھی ہوئی تھی جن میں سوچھ ملیاری عبدالرحمان صاحب برزلہ عطیق اللہ صاحب گلاب باغ محمد جمال صاحب و غلام رسول صاحب سرینگر شامل ہیں۔ان بزرگان دین کو شمس فقیر ؒاپنا رہبرمانا کرتے تھے۔ان ہی بزرگوں کی پاک صحبت میں رہ کر شمس فقیر ؒ شعر و شاعری کے میدان میں ایک منفرد اور اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
شمس فقیر ؒ کا اسم شریف اصل میںمحمد صدیق بٹ صاحب تھا اور آپ کی ولادت باسعادت شہر سرینگر کے چینکرال محلہ علاقے میں رہائش پزیر ایک غریب اور ناخواندہ خانوادے میں 1843 ءمیں ہو چکی تھی ۔گھر کی ابترتعلیمی و مالی حالات کے پیش نظر آپ ؒ کوکبھی ژاٹہ ہال یا درسگاہ جانے کا موقع نصیب نہیں ہو پایا اسلئے آپؒ کو ظاہری صورت میں تعلیم و تربیت کی دولت سے بہرہ ور ہونے کا موقع نہیں مل سکا ۔ اپنے گھرپریوار کی مالی حالت سدھارنے اور رزق حلال کا انتظام کرنے کی غرض سے آپؒ کو محنت و مشقت کا راستہ اختیار کرنا پڑا ۔ مزدوری کا پیشہ اختیار کرنے کے سوااُن کے پاس کوئی دوسرا چارہ باقی نہیں تھا۔ مزدوری کے سلسلے میں آپ کو لگ بھگ 25 سال کی عمر میں ہی اپنا گھر بار اور وطن عزیز چھوڑ کرمتحدہ ہندوستان کے شمالی علاقہ جات کا رُخ کرنا پڑا کیونکہ کشمیر میں اُس زمانے میں ڈوگرہ راجا مہاراجاﺅں کی متعلق العنان حکومت کا دور دورہ تھااوریہ حکمران یہاں کے نوجوانوں یہاں تک کہ بزرگوں اور مستورات کو بھی بے گار پر لے جانے میں کوئی شرم یا حیامحسوس نہیں کیا کرتے تھے۔وہ ظالم حکمران کشمیری نوجوانوں سے جانوروں کی طرح مشقت کروانے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے ۔وہ جابر حاکم یہاں کے بد نصیب لوگوں سے بے حد و حساب کام تو کرواتے تھے لیکن بدلے میں پیٹ کی آگ مٹانے کیلئے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی ان بیچاروں کو فراہم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کیا کرتے تھے۔اسی وجہ سے یہاں کے نوجوان پڑوسی ملک ہندوستان کے مختلف شہروں خاص طور سے پنجاب کے امرتسرچندی گڑھ اور لاہور نامی زرعی طور آباد و خوشحال بستیوں کی طرف چار پیسہ کمانے اور پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر جوق در جوق جانے کیلئے بےتاب رہا کرتے تھے۔شمالی ہندوستان کے بعض شہروں میں ہمارے جدو اجداد کو بہ آسانی کام بھی ملا کرتا تھا اور مزدوری بھی اچھی خاصی ملاکرتی تھی۔
جانکار حلقوں اور تاریخ دانوںکے مطابق محمد صدیق بٹ(شمس فقیرؒ) کی حرکتیں تو بچپن سے ہی باقی بچوں کی حرکات سے بہت حد تک مختلف ہوا کرتی تھیں۔آپ ؒ کے خیالات احساسات اور جذبات باقی بچوں سے بلکل الگ تھلگ اور جُداگانہ نظر آتے تھے۔آپ تو زیادہ ترگُم سُم اور کھوئے کھوئے سے رہا کرتے تھے۔آپ کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیال کرنے کے دوران ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ کا من خوابوں اور خیالوں کے ایک ایسے سمندر میں غوطہ زن ہوتا تھا جس سمندر کی سرحدیں آسمان کی گود میں سرَ رکھ کر کسی خاص دوست کی کھوج میں بے قرار سی رہا کرتی ہیں۔چونکہ جوانی کی د ہلیز پر قدم رکھتے ہی آپؒ کو معاش کی تلاش میںامرتسر کی راہ لینی پڑی لیکن وہاں پر بھی آپؒ نے بعض بزرگان دین کو اپنا دوست اور رہبربنا کے رکھ دیااور اُن کی نیک صحبت میں رہ کر گھیان دھیان حاصل کرتا رہا۔
امرتسر سے واپس لوٹ آنے کے بعد شمس فقیرؒ نے جنوبی کشمیر کے انت ناگ ضلع میں عارضی سکونت اختیار کی۔وہیں پر آپ ؒ نے اپنے آپ کو شادی کے پاک بندھن میں باندھ لیا ۔لیکن نہ جانے کیوں انت ناگ کا آب و ہواشمس فقیر ؒ کو زیادہ دیر تک راس نہیں آیا ۔آپ ؒ اپنی رفیق حیات کو ساتھ لیکر اپنے آبائی گھر واقع چینکرال محلہ حبہ کدل واپس تشریف لے کے آئے۔اس دوران ان کے پشت سے دو فرزندان ارجمند اور ایک دختر نیک اختر نے تولت ہونے کا شرف بھی حاصل کرلیا تھا۔اپنے آبائی گھر میں تشریف اشرف رکھنے کے دوران حضرت شمس فقیر ؒ فقیری اوردرویشی کے اعلیٰ مقام پر براجمان ہو گئے۔ آپ ؒ کے وجود میں تو اب دنیا اور دنیاداری کی کوئی رغبت باقی نہیں رہی۔آپ نے گھر گرہستی کی پریشانیوں اور مادی دنیا کی لذتوں سے ناطہ توڑ کر اپنے معبود برحق کی تلاش اوررضا حاصل کرنے کا مسمم اور مکمل ارادہ باندھ لیا۔اس اعلیٰ مقصد کی حصول یابی کیلئے آپ ؒ نے بڈگام ضلع کے قاضی باغ نامی گاﺅں میں موجود ایک قدیم ترین گھپا میں تشریف رکھ کرمکمل تنہا ئی اختیار کرلی۔مسلسل چھ ماہ تک اس تنگ وتاریک غار میں تن تنہارہتے ہوئے حضرت شمس فقیر ؒ کو اپنے خالق حقیقی کو قریب سے جاننے اور پہنچاننے کا موقع نصیب ہوااور آپ ؒ کوروحانیت کا اعلیٰ منصب حاصل ہوگیا۔روحانیت کے عالم میںآپ ؒ شاعری کی صورت میں علم و عرفان کے ایسے میٹھے دریا بہانے لگے جن دریاﺅں کے شیریں آب رواں نے آج تک نہ جانے کتنے مردہ دلوں کو حیات جاودانی سے سرفراز اور سرشار کرکے رکھ دیا ہے۔گھپا سے نکل کر آپؒ خانصاحب علاقے کے کلشی پورہ نامی ایک چھوٹے سے گاﺅں میں تشریف لے کے گئے اور وہیں پر اپنی زندگی کے آخری لمحات گزارنے کا فیصلہ کیا۔۱۰۹۱ءمیں ۸۵ برس کی عمر شریف میں آپؒ کلشی پورہ گاﺅں میں اللہ کو پیارے ہوگئے اور اسی گاﺅں میں ان کی آخری آرام گاہ فی الوقت موجود ہے۔ شمس فقیرؒ کے مرید اور عقیدت مندسال بھر کلشی پورہ میں واقع ان کے مزار پر حاضری دیتے رہتے ہیں اور وہاں پر اپنے پیر و مرشد کے ایصال ِثواب کیلئے قرآن خوانی ونعت خوانی کی محفلیں آراستہ کرتے رہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شمس صاحب ؒکے دونوں فرزند لا ولد گزر چکے ہیں البتہ اُن کا نسب ان کی دختر نیک اخترکے راستے ہی آگے بڑتا چلا جارہا ہے۔مرحوم پیر محی الدین صاحب شمس فقیر ؒ کے گھر داماد تھے جبکہ مرحوم پیر مبارک صاحب مرحوم پیر محی الدین صاحب کے گھر داماد رہے۔ پیر محمد الطاف پیر محی الدین صاحب کے دوسرے فرزند ہیں جو فی الوقت شمس فقیرؒ کے آستان عالیہ پر سجادہ نشین کی حثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
حضرت شمس فقیر ؒ کا لگ بھگ دو تہائی کلام کلیات شمس فقیر میں موجود ہے۔اگر چہ ادارہ جموں و کشمیر کلچرل اکادمی آف آرٹ کلچر اینڈ لنگویجز ابھی تک کلیات شمس فقیر ترتیب دینے اور شائع کرنے میں کامیاب نہیں ہوپایاتاہم یہ نیک کام وادی کے مایہ ناز ادباءڈاکٹر عزیز آفاق صاحب اور ڈاکٹر محفوظہ جان صاحبہ نے سر انجام دیکرعوامی و ادبی حلقوں سے داد تحسین حاصل کی ہے۔نند ریشی کلچرل سوسائٹی کو کلیات شمس فقیر شائع کرنے کا اعزازحاصل ہے۔
بہر حال شمس فقیر ؒ کا کلام وادی کے مشہور و معروف گلکار اپنی مدر لئے میں گانے میں فخر محسوس کر رہے ہیں۔آپ کا کافی کلام ریڈیو کشمیر اور دور درشن کیندر سرینگر کی میوزک لائبرریوں میں معروف گلو کاروں کی مُدر آوازوں میں موجود ہے جس کو یہ دونوں ادارے عوام کی دلچسپی کو ملحوظ نظر رکھ کر روزانہ اپنی نشریاتی سروسز سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہتے ہیں۔عصر حاضرکے نئے گلو کار حضرات بھی شمس فقیر کا کلام موسیقی کے نئے اور جدید سانچوں میں ڈالکر گانے میں خاص دلچسپی دکھا رہے ہیں۔بالی وُڑ کی مایہ ناز گلو کارہ آشا بھونسلے جی نے 60 کی دہائی میں شمس فقیر کا ایک مشہور کلام” ہا عشقہ ژھورو رشکہ کر?تھس دیوانہ تے ۔۔۔۔۔ پنُن ا<سِتھ چھوکھ ژ? لاگان بیگانہ تے “ریڈیو کشمیر کے سٹیڈیوز میں ریکارڑ کروا کے اس عالمی شہرت یافتہ شاعر کے تئیںاپنے خراج عقیدت کا اظہار کیا۔ بہر حال ہر برس 24۔ جون کو حضرت شمس فقیر کا عرس(یوم وصال) اُ ن کی آرام گاہ پر مذہبی عقیدے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔جموں کشمیر کلچرل اکادمی محکمہ انفارمیشن سانگ اینڈ ڈرامہ ڈیویژن ریڈیو کشمیر سرینگر دور درشن کیندر سرینگراور دیگر ادبی و ثقافتی تنظیمیں باہمی اشتراک سے اس روز شمس فقیرؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے محفل سماع و محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ وادی کی معروف موسیقی پارٹیاں اس موقع پرشمس فقیرؒ کا کلام اُن کے عقیدت مندوں کے سامنے پیش کرکے اس برگزیدہ شاعر کواپنا والہانہ خراج پیش کرنے میں اظہار مسرت کرتے ہیں۔ امسال کی تقریب پر ثقافتی مرکز بڈگام کی طرف سے تین شاعری مجموعوں کی رسم رونمائی انجام دی گئی اور شعر و ادب سے وابسطہ بعض قلم کار حضرات کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ مکہ مدینس بر چھ وتھئے نیری لتئے روف کران دُورِ چھی ہران نورہ پھتئے نیری لتئے روف کران
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
