تازہ ترین
ڈاکٹر محمد مرسی ؒ کاحراستی قتل۔۔۔عالم اسلام خاموش کیوں؟
غازی سہیل خان
تاریخ کے مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ حق،باطل کے خلاف روزِ اول سے ہی بر سر پیکار ہے۔کبھی حضرت ابراہیم ؑ کو حق کے پیغام کی خاطر دہکتی آگ میں جھونک دیاگیا تو کبھی موسی ؑکو فرعونیت کے انکارکی وجہ سے ستایا گیا، اسی طرح نبی مہربان حضرت محمد مصطفیﷺکو اسی دین کی خاطر کبھی طائف کی وادیوں میں پتھروں کی بارش سے لہو لہان کیا گیا،تو کبھی میدان اُحد میں دندانِ مبارک شہید گئے گئے اور کبھی شعب ابی طالب میں قید کیا گیا۔ اس سب کے بعد بھی جب عرب کے مشرکین کا جی نہیں بھرا تو محسنِ انسانیتﷺ کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا، تاہم اس قدر مظالم کے باوجود بھی رحمت للعاللمین ﷺکسی طرح کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرتے،ٹھیک اسی طرح جس طرح سے حضرت ابراہیم ؑاور حضرت موسٰی ؑنے بغیر کسی کمزوری کے مصائب و مشکلات جھیلنے برداشت کئے مگر دعوت حق سے دست بردار نہیں ہوئے۔چوں کہ اللہ تعالیٰ کو تمام ادیان ومذاہب پر اسلام کو غالب کرنا ہے جس کے لئے وہ چند پاک نفوس کا بار بار انتخاب عمل میں لاتا آرہا ہے، جن کا مقصد صرف ”اللہ کی زمین پر بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات دلانا رہا ہے۔جو بھی پاک نفوس اس مشن کے لئے آج تک اُٹھے اُن کو وقت کے فرعونوں،نمرودوں،بو جہلوں سے سامنا ہونا اس مشن عظیم کا جُز ولاینفک ہے۔ وقت کے فرعون ہٹ دھرمی اور اپنی ظاہری کامیابی کے لیے ہر ایک حربہ آزماتے رہے ہیں تا کہ یہ پاک نفوس حق کی دعوت سے منحرف ہوں، اُنہوں نے کبھی مظلوم کو ”ملک دشمن“ قرار دیا تو کبھی بغل میں چھری لیے ہوئے رام رام کہنے والے کو حاکم بنا کر قتل عام کی روش اختیار کرنے کی جوا زیت پیش کی۔کبھی خفیہ طریقے سے ٹارگٹ کلنگ کی تو کبھی با ضابطہ عدالتوں کے ذریعے سے بے گناہوں کا قتل عام کرنے میں پہل۔اس پر بھی طرہ یہ کہ ان پاک نفوس پر مظالم اور ان کے قتل کے بعد لواحقین سے درد و غم کا اظہار کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا۔
فی الوقت ہم ان کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح عالمی سطح پر اسلام پسندوں کو کُچلا جا رہا ہے۔ کبھی بنگلہ دیش میں نام نہاد ٹربونل بنا کر مخصوص جماعتِ مومنین کو تختہ دار پر لٹکایا جارہا ہے تو کبھی مصر میں نبی ﷺ کے محبوں کو بڑی ہی بے دردی کے ساتھ احتجاج کے دوران لاشوں کے انبار لگا دئے گئے۔گزشتہ ہفتہ بھی عالم اسلام کو ایک کربناک خبر ملی جس میں مصر کے پہلے منتخب صدرڈاکٹر محمد مرسی ؒکو طاغوت اور اپنوں کی سازش کے ذریعے ہم سے چھین لیا۔محمد مرسی ؒ عالم اسلام کے ایک ایسے قائد و رہنما تھے جس نے بغیر کسی کمزوری اور لچک کے وقت کے فرعونوں اور نمرودوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ دیا کہ ”جو کوئی بھی محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت کرے گا میں اس کے ساتھ محبت کروں گا اور جو کوئی نبی مہربان کے ساتھ نفرت کرے گا میں بھی اُس کے ساتھ نفرت کروں گا۔“ اُمت کے اسی غمخوار کو وقت کے فرعونوں نے عشق نبیﷺ کی پادائش میں گزشتہ چھے سالوں سے اپنے دیگر ساتھوں سمیت زینت زنداں بنایا۔محمد مرسیؒ ان پاک نفوس کی جماعت میں شامل تھا جنہوں نے مغرب اور سعودی بادشاہوں کو دکھا دیاکہ ہم دہشت گرد نہیں بلکہ ہم بھی پر امن ذرائع اور جمہوری طریقے سے دنیا کو امن دے سکتے ہیں،مظلوموں کی مدد،بے کسوں کا سہارا،یتیموں اور بچھڑے ہوئے مظلوموں کے غموں کا مداوا کر سکتے ہیں،لیکن ان کو یہ راس نہ آیا اور منتخب حکومت کو پلک جھپکتے ہی ختم کر دیا۔
محمد مرسی ؒ مشرق وسطی کی ایک ایسی تحریک کے ساتھ وابستہ ہو کر عرصے دراز سے مظلوم انسانیت کے لئے لڑ رہے تھے جس تحریک کے حصے میں عزیمت کی لازوال تاریخ درج ہے۔ ”اخواان المسلمون“ کے قیام کے بعد ہی سے اس سے وابستہ سرفروشوں پر بے انتہا مظالم ڈھائے گئے،کبھی جمال عبدالناصر جیسے نمرود کے ساتھ اخوان کی پنجہ آزمائی ہوئی تو کبھی انوارسادات جیسے لوگوں کو انہوں نے للکارا،اسی طرح سے مسلسل 30 سال تک مصر کی عوام حُسنی مبارک کے مظالم میں پستی رہی۔ٹھیک انبیاء علیہ السلام کی سُنت کے مطابق ان اخوانیوں نے دردناک مظالم سہنے برداشت کئے لیکن اسلام کی عظمت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔حُسنی مبارک کی استعماری حکومت سے مصر کی عوام کو یہ اللہ کے چہیتے بندے بیدار کرتے رہے کہ اسلام امن کا دین ہے، اسلام کا اپنا سیاسی،معاشی اور سماجی نظا م ہے جس کی نتیجے میں2011 ء میں مصر کی تاریخ میں پہلی بار جمہوری طریقے سے اخوانی رہنما ڈاکٹر محمد مرسی کو عوام کی بھاری اکثریت نے صدارت کی کرسی کے لئے منتخب کیا۔دنیا میں مظلوم مسلمانوں کی جان میں جان آگئی، فلسطین میں خوشیوں کے ترانے بجائے گئے، عراق کی لُٹی انسانیت کو سہارا مل گیا،شام میں بشارالسد کے درناک مظام سے عوام نے بچنے کا سہارا پایا،افغانستان پر امریکی بم اور بارودسے زخمی عوام کو نویدِ سحر کی خشبو آنے لگی، غرض مصر کے ساتھ ساتھ دنیا میں مظلوم ومحکوم انسانوں کے دلوں میں جینے کی تمنا جاگ اُٹھی جس کے لیے وقت کے فرعونوں نے اپنوں کی شکل میں ایسے مہرے تیار کیے کہ ایک مختصر مدت کے بعد ہی اخوان سے یہ حکومت جبراً چھین لی گئی۔ اپنوں کے ساتھ مل کر عالم کفر نے اخوان المسلمون کی حکومت کا تختہ اُلٹ کراس سے وابستہ رہنماؤں اور کارکنوں کو کال کوٹھریوں میں ڈال دیا۔
مصر میں جمہوری حکومت کو گرانے میں سب سے زیادہ اہم کردار تین ممالک امریکہ،اسرائیل اور سعودی عرب کے علاوہ حُسنی مبارک کے ٹکڑوں پر پلنے والی وہاں کی مقامی جماعت ”النور پارٹی“ اس سازش کا حصہ رہی۔چونکہ اخوان نے 1948ء میں سب سے پہلے فلسطین کی آزادی کی جنگ لڑی،محمد مرسی نے صدارت کی کرسی کے بعد حماس کی ہمت بندھائی اور یہ وعدہ کیا کہ ہم ان کی بھر پور مدد کریں گے۔غرض اخوان کی حکومت اسرائیل کے وجود کے لئے موت تھی۔ یہ امریکہ کو کیسے برداشت ہوتا، اسی طرح شام میں بشار السد کی بدترین ڈکٹیٹر شپ اور انسانوں کے قتل عام کا اب حساب لگنا تھا،سب سے اہم جو سعودی عرب کے حکمرانوں کو اپنے باپ دادا کی وراستی کرسی کے چھن جانے کا ڈر بھی ستانے لگاتھی، کیوں کہ سعودی عرب میں خلافت کے نام پر بدترین قسم کی خاندانی بادشاہی یعنی ڈکٹیٹر شپ کا نظام رائج ہے اور اس نظام کے خلاف کسی کو بات کرنے تک کی اجازت نہیں، جہاں صحافیوں کی بے باکی پر اُن کو قتل کیا جاتا ہے، اسلامی نظام حکومت سے وابستہ افراد کو پھانسی پر لٹکایا جا رہا ہے۔
اسی طرح جسے اس وقت کے امریکی صد باراک اوبامہ نے اخوان کی جیت کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ”اگر اخوان سو فی صد ووٹ لے کر بھی حکومت بناتی ہے تو ہمیں پھر بھی ان کی حکومت قبول نہیں ہوگی۔“تجزیہ نگاروں کے مطابق جہاں مغرب کو جمہوری حکومت راس نہیں آتی وہاں وہ نام نہاد مسلم لیڈروں کی مدد سے ڈکٹیٹر شپ کو ہر حال میں نافظ کروا دیتے ہیں اور پھر دنیا کے سامنے یہ ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ مسلمان جمہورت پسند نہیں ہیں۔اس ساری صورتحال کے بیچ سعودی عرب،امریکہ اور اسرائیل نے آستین کے سانپ اور فرعونی صفت والے جنرل السیسی پر ڈالروں کی برسات کر دی، اسے تیارکیا کہ وہ کسی طریقے مصر کی اس حکومت کوختم کر دیں۔ 13جولائی 2013ء کو”السیسی“ نے النور پارٹی کی مدد سے جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ دیا،جس کے ردعمل میں رابعہ کے میدان میں پُرامن طور احتجاج کر رہی معصو م اور نہتی عوام کو طاقت کے نشے میں چور ہو کر بے دردی کے ساتھ ٹینکوں اور گاڑیوں کے نیچے روند کر موت کے گھاٹ اُتار دیاگیا اور ایک ایک کر کے اخوانی رہنماوں کو جیل میں ڈال کر من گھڑت مقدمات کی نذر کر دیا گیا۔گزشتہ چھے برسوں سے ڈاکٹر محمد مرسی کو قید تنہائی میں انتہائی اذیت ناک مراحل سے گُزارا گیا،بی،بی،سی کے ایک رپورٹ کے مطابق علاج تو دور کی بات محمد مرسی ؒ کو بُنیادی ادویات سے بھی محروم رکھا گیا۔قیدتنہائی کے چھے سالوں میں صرف چار بار اُن کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دی گئی،محمد مرسی کی شہادت سے قبل آٹھ ماہ اہل خانہ کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی تھی۔
محمد مرسی مصر کی تاریخ کے ابھی تک کے واحد رہنما تھے جو کہ جمہوری طریقے سے صدرمنتخب ہوئے،پیشے کے لحاظ سے میکنیکل انجینئر اور حافظ قرآن تھے۔جی ہاں یہ وہی مرسی تھے کہ جب کبھی بھی اپنی تقریر کے دوران اذان ہوتی تو وہ اذان کا جواب زور زور سے دیتے چوں کہ مصرمیں حکمرانوں کے لئے عالی شان محلات بنائے گئے ہیں مرسی وہ واحد صدر تھے جس نے ان محلات میں رہنا پسند نہیں کیا بلکہ ایک کرائے کے گھر میں رہتے تھے۔محمد مرسی کو lowest paid leaderکہا جاتا ہے جس میں محمد مرسی کوایک سال کی تنخواہ 10ہزار ڈالر تھی اور وہ بھی کبھی نہیں لی۔ اپنے دور اقتدار میں اکثر عوام میں رہتے تھے اور اکثر نمازیں عام لوگوں کے ساتھ مساجد میں ادا کرتے تھے۔اس دوران کبھی بھی نماز فجر قضا نہیں ہوئی۔صدارتی دفتر سے ساری تصویریں ہٹا دیں گئی اور ایک اللہ کا نام فریم میں لگا دیا گیا۔اپنے دور اقتدار میں ایک بار اُن کی بہن شدید بیمار ہو گئی،دوستوں نے اُن سے اصرار کیا کہ ان کو یورپ کے کسی بڑے ہسپتال میں لے جایا جائے تا کہ وہ صحتیاب ہو جائے، ان کی یہی بہن مقامی سرکاری ہسپتال میں انتقال کر گئیں حالاں کہ اگر محمد مرسی ؒ چاہتے تو بحیثیت صدر ایک دستخط پر کچھ بھی ہو سکتا تھا، الغرض اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی بھی اور کرسی کو اپنی ذاتی میراث نہ سمجھ کرمحمد مرسی ؒ عالم اسلام کے دلوں کی دھڑکن بن گئے۔
بھلا اس کردار کے مالک بے باک قائد کو عالم کفراور گدی نشین بادشاہ کیسے قبول کرتے؟محمد مرسی کی شہادت کو عالم اسلام ایک قتل مانتی ہے خاص طور سے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ صدر مرسی کی موت ایک سازشی قتل ہے اور میں اس کو عالمی عدالت میں لے جاوں گا۔یہ طاغوت بڑی سازشیں رچاکر اسلام پسندوں کا قافیہ حیات تنگ کرنے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں۔لیکن یہ جانتے نہیں اللہ تعالی سب چالوں کو جانتا ہے ”ومکروا ومکر اللہ،واللہ خیر المٰکرین““ (آل عمران:۴۵) یہود اپنے رسول عیسیٰؑ پر ایمان نہیں لائے، اس کے بجاے اُنہوں نے اُس کے خلاف لمبی چوڑی سازشیں کی۔ اُنہوں نے عیسیٰؑ پر تہمت لگائی،انہوں نے اُن کی ماں مریمؑ پرسنگین الزام لگائے۔اور اُسکے بعد ہمارے نبی مہربان ﷺ پر بھی مشرکین اور منافقین مکہ نے گھناؤنے انداز میں بہتان تراشیاں کی، اتنا ہی نہیں بلکہ مجنون اور جادو گرتک کہہ دیا۔انبیاؑ کی طرح حق پر چلنے والوں پربھی اسی طرح الزامات اور بہتان تراشی کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ محمد مرسیؒ اور اخوان کے کارکنوں پر الزام اوربھتان باندھے گئے مثلا محمد مرسی پر اایک الزام یہ لگایا گیا کہ وہ حماس سے ہمدردی رکھتے ہیں، کیا کسی مظلوم کی مدد کرنا جرم ہے؟
یہ ساری دُنیا بھی جانتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی کچھ نام نہاد مسلم حکمران اور اپنے آپ کو مولوی کہنے والے محمد مرسی کے مظلومانا قتل کو غلط نہیں سمجھتے بلکہ یہ مطالبہ کرتے رہتے ہیں کہ دیگر کارکنوں کو بھی اسی طرح قتل کیا جائے تاکہ یہ دین کی جدوجہد سے انحراف کریں۔ خاک ان کے منہ میں،کیا یہ جانتے نہیں کہ جس تحریک سے جڑے سرفروشوں نے دین اسلام کے شمع کو روشن رکھنے کے لیے اپنے دل جلائے ہیں، اپنے گھروں کو جلتے دیکھا ہے اپنے بچوں کو قربان ہوتے دیکھا ہے، جس تحریک سے جڑے افراد نے اپنا گرم گرم لہو دے کر اسلام کے باغ کو سینچا ہو، ایسی تحریک جس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لے چاہے کتنی ہی کوششیں طاغوت کریں ان کو ناکامی ہی ہاتھ آئے گی۔السیسی اس طرح کے مظلومانہ اقدام سے اخوانی عزائم کو ختم نہیں کر سکتا۔اور وہ دن بھی اب دور نہیں جب قابض جنرل السیسی بھی اپنے انجام کو پہنچ پائے گااور روز آخرت پر اس کو ہر ایک قتلِ ناحق کا حساب دینا پڑے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کو بغیر کسی تعصب کے اس پر غور کرنا چاہیئے کہ حق کیا ہے اور حق کو ہی مٹانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے اور اس حق کا ساتھ دینے کی کتنی ضرورت ہے۔اللہ تعالی محمد مرسی شہید ؒ کی مظلومانہ شہادت کو قبو ل فرما کر جنرل السیسی اور اس کے حواریوں کو اپنے انجام تک پہنچا دے۔
رابطہ: ghazisuhail09@gmail.com
نوٹ:ادارے کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں.
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
